Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل 2023 سینیٹ میں پیش کیا۔ بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئےپی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ لگتا ہے یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کا بل ہے اس بل کی تمام شقوں سے تحریک انصاف کے خلاف بو آ رہی ہے حکومتی اتحادی جماعتوں جے یو آئی ف اور نیشنل پارٹی نے بھی بل کی مخالفت کر دی-

    مسلم لیگ ن کے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام بل 2023 اہمیت کا حامل ہے، اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہیے تھا،کل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہوسکتا ہے،ابھی جلد بازی میں بل پاس ہورہا ہے،کل کہا جائے گا بل پاس ہورہا تھا تو آپ کہاں تھے،سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل کل ہمارے گلے پڑے گا-

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    سینیٹرکامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل کل ہم سب کیلئے مصیبت بنے گا، اعتماد میں لیے بنا قانون سازی نہیں کرنی چاہیے جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفورحیدری نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کیخلاف نعرہ بھی لگایا گیا تو کہا جائے گا عوام کو اکسایا گیا ہے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ بل پی ٹی آئی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، یہ بل جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،اس بل کی مخالفت کرتا ہوں۔

    سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کیخلاف ہے، یہ بل کل تمام جماعتوں کے گلے کا پھندہ بن جائے گا،یہ بل جمہوریت پر کھلا حملہ ہے، ہم اس بل کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اگر بل منظور کیا گیا تو ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کروں گا، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں، ن لیگ سے سخت گلہ ہے، کسی جماعت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا،وفاقی وزیرشیری رحمان نے کہا کہ بل عجلت میں پاس کرنے میں کوئی ممانعت نہیں، ہم اس بل میں اپنی ترامیم لائیں گے۔

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ یہ بل منظور کرنے کے لیے اجلاس نہیں بلایا ، حکومت کرے یا نہ کرے ، میں اس بل کو ڈراپ کررہا ہوں-

  • گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ نے زمین ہلا کر رکھ دی-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکن سیسمولوجسٹ نے زلزلے کی وجہ 2 روز سے جاری کانسرٹ کو قرار دے دیا امریکا کے شہر سیٹل میں کانسرٹ کے دوران 2.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا زلزلے کی کیفیت 22 اور 23 جولائی کے درمیان لیومین فیلڈ اسٹیڈیم میں ٹیلر سوئفٹ کی پرفارمنس کے دوران ریکارڈ کی گئی۔

    بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیلر سوئفٹ کے اس کانسرٹ کی دونوں راتوں میں ایک لاکھ 44 ہزار افراد نے شرکت کی اس حوالے سے امریکن سیسمولوجسٹ جیکی کیپلان اورباچ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ زلزلے کی وجہ کانسرٹ میں موجود شائقین اور کانسرٹ میں موجود ساؤنڈ سسٹم بنا،ٹیلر سوئفٹ کے اس کانسرٹ نے 2011 میں سیٹل میں ہونے والے ایک ایونٹ کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا جسے ‘بیسٹ کوئیک’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    انڈیا اور پاکستان کی عوام ایکدوسرے سے نہیں‌لڑنا چاہتی سنی دیول

    2011 میں امریکی فٹبال لیگ کے دوران فٹبال شائقین کی طرف سے جشن مناتے ہوئے ایسے ہی زلزلے کی لہریں پیدا کی گئی تھیں سیسمو لوجسٹ کے مطابق ٹیلر سوئفٹ کے اس کانسرٹ اور ‘بیسٹ کوئیک’ کے درمیان صرف 0.3 شدت کا فرق تھا۔

    نہیں عرفی جاوید کا ایموشنل انسٹاگرام نوٹ

  • زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہے

    سائنسدانوں نے زمین کا وہ مقام دریافت کیا ہے، جہاں سورج کی روشنی سب سے زیادہ پڑتی ہے، جہاں روشنی کی مقدار زہرہ جتنی ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: زہرہ نظام شمسی کا دوسرا اور ہماری زمین کا پڑوسی سیارہ ہے یہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ تصور کیا جاتا ہے اوراب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر سب سے زیادہ دھوپ والی جگہ صحرائے اٹاکاما کا الٹیپلانو ہے، جو چلی میں اینڈیس پہاڑوں کے قریب ایک بنجر سطح مرتفع ہے جو زہرہ کی طرح سورج کی روشنی حاصل کرتا ہے۔

    نیدرلینڈز کی خرونیگین یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایاگیاکہ براعظم جنوبی امریکا کےمغربی ساحل پر کوہ انڈیز کے قریب صحرائے ایٹا کاما کے سطح مرتفع جو تقریباً 13,120 فٹ (4,000 میٹر بلندی پر زہرہ جتنی سورج کی روشنی پڑتی ہےاس صحرا کو امریکا کی ڈیتھ ویلی سے 100 گنا زیادہ خشک اور بنجر تصور کیا جاتا ہے اور یہاں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں صدیوں سے بارش نہیں ہوئی-

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    صحرائے اٹاکاما متعدد وجوہات کی بناء پر خاص ہے یہ زمین کا قدیم ترین صحرا ہے، قطبوں سے پرے خشک ترین اور ممکنہ طور پر رات کے آسمان کو دیکھنے کے لیے صاف ترین جگہ ہے۔ اس صحرا کا بیشترحصہ چلی میں واقع ہے جبکہ کچھ حصے پیرو، بولیویا اور ارجنٹینا میں موجود ہیں، مگر سائنسدانوں نے چلی کے علاقے میں تحقیق کی تھی یہاں تبت کے بعد دنیا کا دوسرا بلند ترین سطح مرتفع موجود ہے اور وہاں موسم گرما (اس خطے میں موسم گرما جنوری سے مارچ تک ہوتا ہے) میں سورج کی روشنی کی توانائی یا ریڈی ایشن کی فی اسکوائر میٹر مقدار 2177 واٹس ریکارڈ کی گئی عموماً زمین کی فضا میں سورج کی روشنی کی ریڈی ایشن فی اسکوائر میٹر مقدار اوسطاً 1360 واٹس ہوتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ اس صحرا میں ریڈی ایشن کی شدت ایسی ہے جیسے آپ سیارہ زہرہ میں کھڑے ہوں ان کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف اس لیے حیران کن ہےکیونکہ زہرہ زمین کے مقابلے میں سورج سے 28 فیصد زیادہ قریب ہےاوسطاً اس سطح مرتفع میں 308 واٹس فی اسکوائر میٹر شمسی ریڈی ایشن موجود ہوتی ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز …

    محققین کے مطابق اس صحرا میں شمسی توانائی کے حصول کے مواقع وسطیٰ یورپ اور امریکا کے ایسٹ کوسٹ کے مقابلے میں اوسطاً دوگنا زیادہ ہیں اتنی زیادہ شمسی ریڈی ایشن خطرناک ہوتی ہےاورآپ کو جِلد کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہےماضی میں سیٹلائیٹ ڈیٹا سے عندیہ ملا تھا کہ زمین پر سورج کی سب سے زیادہ روشنی اسی صحرا پر پڑتی ہے مگر اس تحقیق میں اس کی شدت اور ریڈی ایشن کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    ناسا کے ایک ماحولیاتی سائنسدان سیجی کاٹو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ جب شمسی شعاعیں فضا کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، تو یہ پانی کے بخارات کے ذریعے جذب ہو جاتی ہے اور بادلوں اور ایروسولز کے ذریعے بکھر جاتی ہے تاہم، ایک بلندی وہ مقام جو پانی کے بخارات کی تہہ سے اوپر ہے اور اس میں کم بادل ہیں اور ایروسول لامحالہ زیادہ دھوپ حاصل کریں گے چلی کی دھوپ کی ایک اور وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ریڈی ایشن کی بہت زیادہ شدت کو اس علاقے کے اوپر موجود بادلوں میں دیکھا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ عموماً بادل سورج کی روشنی کو روک دیتے ہیں یا ان کو واپس خلا میں بھیج دیتے ہیں، مگر اس صحرا میں بادل بہت پتلے ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی پرکسی عدسے کی طرح کاکام کرتےہیں، یعنی سطح پرشمسی ریڈی ایشن کی شدت کو 80 فیصد بڑھا دیتے ہیں مگر محققین کا کہنا تھا کہ سورج کی بہت زیادہ روشنی، ریڈی ایشن اور شدید درجہ حرارت کےدرمیان فرق ہوتا ہےاس صحرا کاماحول کسی حد تک سرد ہے کیونکہ یہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر ہے جبکہ بحر الکاہل کے قریب ہونے کی وجہ سے بھی اس علاقے کا درجہ حرارت حد سے زیادہ نہیں بڑھتا۔

  • غیرملکی خاتون کی آمد کی فیک خبر شئیر کرنے پرنوجوان گرفتار

    غیرملکی خاتون کی آمد کی فیک خبر شئیر کرنے پرنوجوان گرفتار

    سوشل میڈیا پر غیر ملکی خاتون کی آمد کی فیک خبر چلانے پر باجوڑ میں پولیس نے نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں غیر ملکی خواتین کی آمد اور ان کی شادیاں کرنے کی خبریں عروج پر ہیں،حالیہ دنوں میں بھارت، چین اور چلی کی خواتین پاکستانی لڑکوں کی محبت میں پاکستان آچکی ہیں گزشتہ روز باجوڑ کی تحصیل سالار زئی کے علاقے تلی کے رہائشی محمد گلاب نے اپنے دوست کے بارے میں مذاق کے طور پر پوسٹ کی تھی کہ ایک برطانوی دوشیزہ ایلا اپنے محبوب محمد اسحاق سے ملنے کیلئے سلارزے خونہ پہنچ چکی ہے۔

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز …

    خبر وائرل ہونے کے بعد پولیس غیر ملکی دوشیزہ کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے ان کے گھر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں۔ جس کے بعد پولیس نے محمد گلاب کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اس کو فوری طور پر گرفتار کرلیا اہل علاقہ نے محمد گلاب کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، طنز و مزاح کی خبریں چلنا روز کا معمول بن چکا ہے پولیس پہلے با وثوق ذرائع سے تصدیق کرے اور اپنے افسران بالا سے ہدایات لیکر کارروائی کرے اگر آئندہ ایسا کوئی واقعہ ہو تو پولیس کو چاہیے کہ علاقے کے مشران سے بھی تصدیق کرے تاکہ اہل علاقہ کیلئے مسائل کھڑے نہ ہوں۔

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

  • سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    سعودی عرب یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

    سعودی عرب اگست کے شروع میں یوکرین جنگ کے حوالے سے مذاکرات کی میزبانی کرے گا –

    باغی ٹی وی: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کےمطابق مذاکرات میں مغربی ممالک، یوکرین، بھارت اوربرازیل سمیت ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کو مدعو کیا جائے گا 5 اور 6 اگست کو جدہ میں ہونے والے اس اجلاس میں انڈونیشیا، مصر، میکسیکو، چلی اور زیمبیا سمیت 30 ممالک کے سینیر حکام شرکت کریں گے، تاہم ان مذاکرات میں جنگ کا فریق روس شامل نہیں ہوگا۔


    یوکرین اورمغربی حکام کوامید ہےکہ یہ مذاکرات یوکرین کے حق میں امن شرائط کےلیے بین الاقوامی حمایت کا باعث بن سکتے ہیں یوکرین کے تقریباً چھٹے حصے پر قابض ہونے کا دعویٰ کرنے والے روس کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کو صرف اسی صورت میں ممکن سمجھتا ہے جب کیف ”نئی حقیقتوں“ کو قبول کرے کریملن کا اشارہ روسی فوج کے زیر قبضہ یوکرین کے علاقوں کی طرف تھا۔

    جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات صرف اس وقت ممکن ہوں گے جب ماسکو ملک سے اپنی افواج واپس بلا لے گا مدعو ممالک میں سے ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کتنے شرکت کریں گے البتہ جون میں کوپن ہیگن میں اسی طرح کے مذاکرات میں حصہ لینے والے ممالک کے نمائندوں کی جدہ میں آمد متوقع ہےبرطانیہ، جنوبی افریقا، پولینڈ اور یورپی یونین نے جدہ اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے اور امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کی شرکت بھی متوقع ہے۔

  • آئینۂ خیال تھا  عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا ،طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    مجال ترک محبت نہ ایک بار ہوئی
    خیال ترک محبت تو بار بار کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وحشت رضا کلکتوی

    اردو کے معروف شاعر رضا علی المعروف وحشت رضا کلکتوی 18 ؍نومبر 1881ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ میں تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ امپریل ریکارڈ ڈپارٹمنٹ میں چیف مولوی کے عہدے پر فائز رہے۔ بعدازاں کلکتہ میں اسلامیہ کالج میں اردو اور فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔ 1931ء میں حکومت وقت نے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ شمس فرید پوری سے تلمذ حاصل تھا جو حضرتِ داغؔ کے شاگرد تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وحشت کلکتہ سے ہجرت کر کے ڈھاکہ چلے گئےاور وہیں30؍ جولائی 1956ء کو وفات پا گئے۔ وحشتؔ نے غالب کا تتبع بڑی خوبی سے کیا ہے ۔ کلام کا پہلا مجموعہ ’’دیوانِ وحشت‘‘ 1911ء میں شائع ہوا جس میں کچھ فارسی کلام بھی شامل تھا۔ ’’ترانۂ وحشت‘‘ کے نام سے مکمل کلام کا مجموعہ 1950ء میں چھپا۔ ’’نقوش و آثار‘‘ بھی ان کی تصنیف ہے۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:288

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. . . . . . . .

    اے کاش مرے قتل ہی کا مژدہ وہ ہوتا
    آتا کسی صورت سے تو پیغام تمہارا

    دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا
    بیکسی میں کوئی تو پرسانِ حال آ ہی گیا

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا
    طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    میں نے مانا کام ہے نالۂ دل ناشاد کا
    ہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کا

    ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا
    جبینِ شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگا

    ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے
    کیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے

    رُخِ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہ
    کہ جیسے ہو طلوعِ آفتاب آہستہ آہستہ

    نہیں ممکن لبِ عاشق سے حرف مدعا نکلے
    جسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے

    وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی
    نہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسی

    مجال ترک محبت نہ ایک بار ہوئی
    خیال ترک محبت تو بار بار کیا

    کس طرح حسن زباں کی ہو ترقی وحشتؔ
    میں اگر خدمت اردوئے معلیٰ نہ کروں

    خیال تک نہ کیا اہل انجمن نے ذرا
    تمام رات جلی شمع انجمن کے لیے

    کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
    ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

    دونوں نے کیا ہے مجھ کو رسوا
    کچھ درد نے اور کچھ دوا نے

    ہوا ہے شوق سخن دل میں موجِ زن وحشتؔ
    کہ ہم صفیر مرا رعب سا سخنداں ہے

  • یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں ،غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں ،غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
    سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

    ماہر القادری

    اردو کے معروف شاعر ماہر القادری کا اصل نام نام منظور حسین اور تخلص ماہرؔ القادری ہے۔ وہ 30 جولائی 1906ء کو کیسر کلاں ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد بجنور سے نکلنے والے مشہور اخبار ’مدینہ‘ سے وابستہ ہو گئے۔ ’مدینہ‘ کے علاوہ اور بھی کئی اخباروں اور رسالوں کی ادارت کی۔ ممبئ میں قیام کے دوران فلموں کے لئے نغمے بھی لکھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان متقل ہو گئے۔ کراچی سے ماہنامہ ’فاران‘ جاری کیا جو بہت جلد اس وقت کے بہترین ادبی رسالوں میں شمار ہونے لگا۔ ماہر القادری نے تنقید ، تبصرہ ، سوانح ، ناول کے علاوہ اورکئی نثری اصناف میں لکھا ۔ ان کی نثری تحریریں اپنی شگفتگی اور رواں اسلوب بیان کی وجہ سے اب تک دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ ماہر القادری کی بیس سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کتابوں کے نام یہ ہیں: "آتشِ خاموش”، "شیرازہ” ، "محسوساتِ ِ ماہر”، "نغمات ِماہر” ، "جذباتِ ِ ماہر”، "کاروانِ حجاز” ، "زخم و مرہم” ، "یادِ رفتگاں” ، "فردوس” اور "طلسمِ حیات”۔ 12 مئی 1978ء کو جدہ میں ایک مشاعرے کے دوران حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہوا۔

    منتخب اشعار :

    یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
    غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

    عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے
    دل یہ کہتا ہے فریبِ دوست کھاتے جائیے

    اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
    سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

    ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میں
    انتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی

    یہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی
    کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی

    نقابِ رخ اٹھایا جا رہا ہے
    وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے

    پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق
    محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

    اگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے
    جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود

    یوں کر رہا ہوں ان کی محبت کے تذکرے
    جیسے کہ ان سے میری بڑی رسم و راہ تھی

    ساقی کی نوازش نے تو اور آگ لگا دی
    دنیا یہ سمجھتی ہے مری پیاس بجھا دی

    مرے شوقِ دیدار کا حال سن کر
    قیامت کے وعدے کیے جا رہے ہیں

    چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے
    آگ پانی میں لگا کر چل دیئے

  • سمندری طوفان ڈوکسوری کی چین میں تباہ کاریاں، دارالحکومت بیجنگ بھی شدید متاثر

    سمندری طوفان ڈوکسوری کی چین میں تباہ کاریاں، دارالحکومت بیجنگ بھی شدید متاثر

    سمندری طوفان ڈوکسوری کی چین میں تباہ کاریوں کی زد میں دارالحکومت بیجنگ بھی آگیا۔

    باغی ٹی وی:فوجیان کے بندرگاہی شہر میں ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔ ایک لاکھ بیس ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیافلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے مطابق شمالی چین میں دو لاکھ تیس ہزار سے زائد ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے حوالے سے بتایا گیا کہ طوفان فوجیان صوبے کے ساحل پر پہنچنے کے بعد 175 کلومیٹر فی گھنٹہ (110 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے ہوا کی رفتار ریکارڈ کی گئی چین کے موسمیاتی آبزرویٹری نے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے اور املاک کی تباہی کے خدشات کے سبب انتہائی شدید ’ریڈ الرٹ‘ جاری کردیا۔

    یورپین ائیر لائنز کو پاکستان کی فضائی حدود سے متعلق نئی ہدایات جاری

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی چین کے ساتھ دارالحکومت بیجنگ بھی سمندری طوفان کی زد میں آگیا بیجنگ میں مزید تین دن تک طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے سمندری طوفان سے ممکنہ طور پر ایک سو تیس ملین افراد متاثر ہوں گے سمندری طوفان کی وجہ سے کھیلوں کی تقریبات بھی معطل ہوکر رہ گئی ہیں۔ پارکوں اور سیاحتی مقامات کو بند کردیا گیا۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    تائیوان کے ایک بڑے شہر زیامین میں شدید موسم کے سبب ایک بس اسٹیشن کی چھت اڑ گئی توقع ہے کہ طاقتور طوفان ڈوکسوری وسطی چین کے اوپر شمال مغربی سمت میں بڑھتا رہے گا تاہم اس کی شدت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے قبل ازیں ژنہوا نے رپورٹ کیا تھا کہ طوفان کی سطح کی ہوائیں ہفتے کی صبح 8 بجے تک تائیوان، فوجیان، ژیجیانگ اور گوانگ ڈونگ کے ساحلی علاقوں کو متاثر کریں گی چین کے قومی موسمیاتی مرکز نے بھی ملک کے وسیع حصوں میں بارش اور طوفان کے لیے اورنج الرٹ کی تجدید کی ۔

    ورلڈ کپ 2023،ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کب سے شروع ہو گی؟

    طوفان ڈوکسوری نے بدھ کے روز شمالی فلپائن میں درختوں اور بجلی کے کھمبوں کو گرا دیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی منقع ہو گئی جبکہ یہ طوفان لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا باعث بنا، فلپائن میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جب کہ مزید 21 لاپتا ہیں-

    انگلینڈ کے فاسٹ بولراسٹیورٹ براڈ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

  • ریڈیو پاکستان کی ٹرانسمیشن اب 52 سے زائد ممالک میں پہنچ سکے گی،مریم اورنگزیب

    ریڈیو پاکستان کی ٹرانسمیشن اب 52 سے زائد ممالک میں پہنچ سکے گی،مریم اورنگزیب

    راولپنڈی : وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اینا لاگ اور شارٹ ویو ٹیکنالوجی کا دور ختم ہو چکا ہے، اب جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا روات میں ریڈیو پاکستان کے 1000 کلو واٹ ڈیجیٹل ڈی آر ایم میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو پاکستان آج انتہائی اہم سنگ میل عبور کرنے جا رہا ہے، ریڈیو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1000 کلو واٹ ڈیجیٹل ڈی آر ایم میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کا پہلی مرتبہ اجراءہو رہا ہے-

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ ریڈیو کے بیشتر ٹرانسمیٹرز اپنی طبعی مدت پوری کر چکے تھے،ریڈیو پاکستان کو ڈیجیٹل آر ایم میڈیم ویو ٹرانسمیٹرکی ضرورت تھی، وزیراعظم، وزیرخزانہ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی کےتعاون پر مشکورہوں،اینا لاگ اورشارٹ ویو ٹیکنالوجی کا دور ختم ہو چکا ہے، اب جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے-

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    وفاقی وزیر نےکہاکہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پرریڈیو پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا رہا ہے،ریڈیو پاکستان کی ٹرانسمیشن اب 52 سے زائد ممالک میں ڈیجیٹل میڈیم ویو کے ذریعے پہنچ سکے گی،ریڈیو کے میڈیم ویو کے 20 ٹرانسمیٹرز میں سے 14 ٹرانسمیٹرز اپنی طبعی عمر پوری کر چکے ہیں،نئی ٹیکنالوجی کی تنصیب سے بجلی کے استعمال میں بھی بچت ہوگی-

    پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہوگا، ایک گروہ نے حملہ آور ہو کر 9 مئی کو ریڈیو پاکستان کے آرکائیو کو جلایا، اسی گروہ نے 2014ءمیں پی ٹی وی پر حملہ کیا، ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی قومی اثاثہ ہیں ہم نے نہ صرف پشاور ریڈیو کی بحالی کا آغاز کیا بلکہ ریڈیو پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی سے استوار کیا جا رہا ہے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اوورسیز پاکستانیز تک ریڈیو کی آواز پہنچ سکے گی، ریڈیو پاکستان کا تمام آرکائیو ڈیجیٹل ہو گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف جلد اس کا افتتاح کریں گے-

    یورپین ائیر لائنز کو پاکستان کی فضائی حدود سے متعلق نئی ہدایات جاری

  • گاؤں جس نے خود کو جدید زندگی سے دور رکھا ہوا ہے

    گاؤں جس نے خود کو جدید زندگی سے دور رکھا ہوا ہے

    انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کی ہلچل سے دور ایک ”بدوئی دالم“ کمیونٹی رہتی ہے جس نے خود کو جدید زندگی سے دور رکھا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: بدوئی دالم کے لوگ پیسے، ٹیکنالوجی اور رسمی تعلیم سے دور رہتے ہیں اور سیاحوں کو پسند نہیں کرتے محدود کرتے ہیں، نہ ہی کسی بھی شخص کو ان کی زندگی فلمانے کی اجازت ہے اب یہ قبیلہ انٹرنیٹ سے بھی پریشان ہے اور علاقے میں اس کی بندش چاہتا ہے۔

    انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کی ہلچل سے چار گھنٹے کی مسافت پربدوئی ڈالم کی ویران کمیونٹی واقع ہےجہاں جدید زندگی کے پھندے سے پرہیز کیا جاتا ہے بدوئی دالم کے لوگ پیسے، ٹیکنالوجی اور رسمی تعلیم کو مسترد کرتے ہیں، اور سیاحوں کو محدود کرتے ہیں کسی بھی زائرین کو ان کی زندگی کی دستاویز کرنے پر پابندی لگاتے ہیں اب یہ قبیلہ انٹرنیٹ منقطع کرکے ایک قدم آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

    انڈونیشیا میں حکام اس گروپ کی طرف سے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی درخواست پر غور کر رہے ہیں، جب انہوں نے قبیلے کے اراکین پر منفی اثرات کے خدشات کا حوالہ دیالیبک، بانٹین صوبے میں بدوئی کمیونٹی دو گروپوں، بدوئی دلام اور بدوئی لوار پر مشتمل ہے، جن کی کل تعداد 26,000 ہے انڈونیشین حکام اس قبیلے کی طرف سے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی درخواست پر غور کر رہے ہیں، کیونکہ درخواست میں قبیلے کے اراکین پر منفی اثرات کے خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    بدوئی لوار نے موجودہ زمانے کے ساتھ چلتے ہوئے کچھ جدید طریقے اپنائے ہیں، اور ان میں سے کچھ سیاحوں کو راغب کرنے اور اپنے دستکاری کو فروغ دینے کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں لیکن بدوئی دالم کے نمائندوں کی طرف سے حکام کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اردگرد کے ٹاورز سے فراہم کردہ انٹرنیٹ سگنلز کو ہٹایا جائے یا ان کا رخ تبدیل کیا جائے۔

    بدوئی دالم کے نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ حکام ایسی درخواستوں کو محدود، کم یا بند کریں جو نوجوان نسل کے اخلاق کو متاثر کر سکتی ہیں لیباک کے ایک اہلکار انیک سکینہ نے کہا کہ ان کے دفتر نے یہ درخواست انڈونیشیا کی وزارت مواصلات اور اطلاعات کو بھیج دی ہے۔

    وزارت کے اہلکار عثمان کانسونگ نے کہا کہ ان کے دفتر نے بدوئی دالم کے ارد گرد ٹاور چلانے والے متعدد انٹرنیٹ فراہم کنندگان کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے، جو اس وقت فیلڈ سروے کر رہے ہیں انہوں نے علاقے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے سیاحوں کے خدشات کو بھی نوٹ کیا "یہ تکنیکی طور پر ممکن ہے، ظاہر ہے کہ کچھ علاج جیسے ٹاورز کو منتقل کرنا یا سگنل کی صلاحیت کو کم کرنا۔ ہم ابھی تک سروے کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں کہ آگے کیا کیا جا سکتا ہے-

    بدوئی لوار گاؤں کے ایک اہلکار اور ٹور گائیڈ، سرپین نے کہا کہ وہ بدوئی دالم کی روایت کو برقرار رکھنے کی درخواست سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن اس سے ملحقہ بدوئی لوار اور دیگر دیہات کو متاثر نہیں کرنا چاہیے سرپین نے کہا کہ کاروبار اور سیاحت کے ساتھ ساتھ ضروری سرکاری خدمات انٹرنیٹ پر انحصار کرتی ہیں ہم بہتر انٹرنیٹ سگنلزکی درخواست کر رہے ہیں۔ کچھ علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ یہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے-