Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • خفیہ رقم کی ادائیگی کا کیس: ڈونلڈ ٹرمپ آج عدالت میں پیش ہوں گے

    خفیہ رقم کی ادائیگی کا کیس: ڈونلڈ ٹرمپ آج عدالت میں پیش ہوں گے

    نیویارک: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران خفیہ رقم کی ادائیگی کے ایک کیس میں مجرمانہ فردِ جرم کا سامنا کریں گے۔

    باغی ٹی وی ” وائس آف امریکا ” کے مطابق امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیو یارک پہنچ گئے ہیں جہاں وہ منگل کو 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران خفیہ رقم کی ادائیگی کے ایک کیس میں مجرمانہ فردِ جرم کا سامنا کریں گے۔

    بھارتی فوج میں فضائی حادثے معمول،گزشتہ 30 برس کے دوران 534 چھوٹے بڑے طیارے حادثات …

    امریکہ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی سابق امریکی صدر کو مجرمانہ الزامات کا سامناہےٹرمپ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل پر عائد ہونے والے الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کریں گے۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں اپنی فتح سے قبل ایک پورن اداکارہ کو خاموش رہنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی تھی ٹرمپ نے یہ رقم اسٹارمی ڈینیلئز کو ان کے ٹرمپ کے ساتھ ایک دہائی قبل مبینہ تعلق کے دعوے پر خاموش رہنے کے لیے ادا کی تھی۔ البتہ ٹرمپ ہمیشہ اس دعوے کی تردید کرتے آئے ہیں۔

    فرد جرم سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ ایک گرینڈ جیوری نےگزشتہ ہفتے 76 سالہ سابق صدر پرمجرمانہ غلطیوں کے 30 سے زائد الزامات عائد کیے تھے۔ فرد جرم ابھی سرمہر ہے اور اصل الزامات اور ممکنہ طور پر معاون ثبوت اس وقت تک خفیہ رہ سکتے ہیں جب تک ٹرمپ پر منگل کو نیویارک اسٹیٹ سپریم کورٹ کے جج جوآن مرچن کے سامنے پیشی کے موقع پر انہیں عوامی سطح پر سامنے نہیں لایا جاتا۔

    مزید خالی چیک نہیں؛ سعودی حکام کا سخت پیغام

    عدالت میں پیشی کے دوران ٹرمپ کے کسی بھی مجرم مدعا علیہ کی طرح فنگر پرنٹ لیے جائیں گے اور ان کی مگ شاٹ تصویر بھی اتاری جائے گی۔لیکن حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے طور پر انہیں ہتھکڑیاں لگانے یا نام نہاد ‘پرپ واک’ میں فوٹوگرافرز کے سامنے پریڈ کا امکان نہیں ہے۔

    منگل کی عدالتی کارروائی سے قبل ٹرمپ ٹاور اور کورٹ ہاؤس کے قریب درجنوں پولیس اہلکار موجود ہیں۔کورٹ ہاؤس کے قریب ٹریفک کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

    سیکریٹ سروس نے عدالت میں ٹرمپ کے گزرنے کا نقشہ تیار کر لیا ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے حفاظتی انتظامات پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن کہا ہے کہ حکومت کسی بھی صورت حال کے لیے ‘ہمیشہ تیار’ ہے ۔

    عدالتی کارروائی کے بعد ٹرمپ واپس فلوریڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں وہ منگل کی شب اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے۔

    روس پاکستان کو خام تیل پرکتنی رعایت دے گا؟

    دوسری جانب ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور ٹرمپ کے اتحادی مارجوری ٹیلر گرین کا کہنا ہے کہ وہ منگل کی سہ پہر ایلون بریگ کے خلاف ‘پرامن احتجاج’ کا منصوبہ بنا رہے ہیں ٹرمپ پہلے ہی سوشل میڈیا پر بریگ کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

  • قوم نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،آصف علی زرداری

    قوم نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،آصف علی زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس 10 سال سے سپریم کورٹ میں سماعت کا منتظر ہے۔

    باغی ٹی وی : پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ قوم نے بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،10 سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے اب تک رائے نہیں دی-

    سندھ کے ضلع دادو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت

    آصف علی زرداری نے کہا کہ پھانسی کی سازش میں ملوث کردار تاریخ کے کوڑے دان میں سڑ رہے ہیں پاکستان اور 1973ء کا آئین بھٹو کی امانت ہے جس کی ہر صورت حفاظت کی جائے گی اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کیاجائے گا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی کو 44 برس بیت گئے ہیں پیپلزپارٹی کےبانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 44 ویں برسی کے موقع پر آج سندھ بھر میں عام تعطیل ہےذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں 1979 میں آج ہی کے دن پھانسی دی گئی تھی۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے کيلیفورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔

    بحیرہ عرب میں زلزلے کے جھٹکے

    1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جب کہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے

    ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں رات دو بجے راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گيا۔

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں …

    ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

  • سندھ کے ضلع دادو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت

    سندھ کے ضلع دادو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت

    سندھ کے ضلع دادو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں.

    باغی ٹی وی: پی پی ایل کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئےنوٹس کے مطابق ضلع دادو کے علاقے کیرتھر بلاک میں ریان ون کنویں سے گیس برآمد ہو ئی ہے ،یہ پولش کمپنی پی او جی سی اور پی پی ایل کا جانٹ ونچر ہے ابتدائی طور پر اس کنویں سے 7.8 ایم ایم ایس سی ایف روزانہ گیس حاصل ہو گی ۔

    ہم سےجومانگاگیاتھا اس پرہم نےالیکشن کمیشن کوجواب دےدیا ہے. خواجہ آصف

    پو لینڈ کی معروف ملٹی انرجی کمپنی پولش آئل اینڈگیش کمپنی (پی او جی سی) نے ضلع دادو سندھ میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے کا اعلا میہ جا ری کیا ہے۔ پی او جی سی 1997سے پاکستا ن پولینڈ اور وسطی یورپ کی سب سے انرجی کمپنی PKN ORLEN کے برانچ آفس کے طور پر کام کر ہی ہے جس کی سب سے بڑی حصص دا ر پولش گورنمنٹ ہے۔

    پاکستا ن میں یہ کمپنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے ساتھ شراکت داری پر اپنے امور سر انجا م دے رہی ہےاس شراکت دا ری میں ورک انٹرسٹ کا 70فیصدحصہ پی او جی سی جبکہ30فیصد حصہ پاکستا ن پیٹرولیم لمیٹڈ کے پاس ہےپاکستا ن میں اس کمپنی نے ضلع دادو میں واقع یرتھر بلاک میں قدرتی گیس کے 15کنو یں کھو دیں ہیں جہاں سے اب یو میہ 55ملین معیاری مکعب فٹ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی)گیس قومی گرڈ کو ارسا ل کی جا رہی ہے۔

    سعودی عرب اور پاکستان کے مابین بہت گہرے اور بہت مضبوط تعلقات ہیں۔ سعودی …

    قدرتی گیس کے اس نئے ذخیرے کی دریافت مذکوررہ بالا کیرتھر بلاک میں نئے کمپنی ہٰذا کے نئے کنویں ریان ون (Rayyan-1) کی کھو دائی کا نتیجہ ہے ریان ون پر کام کا آغاز 5دسمبر 2022میں ہو ا اور 11فروری 2023میں یہاں تقریباً 2446میٹر تک کھو دائی کی گئی اوریہاں کیے گئے ڈرل سٹیم ٹیسٹ (ڈی ایس ٹی) کے ابتدائی نتائج کے مطابق اس کنویں سے یو میہ 7.8ملین معیا ری مکعب فٹ گیس حاصل ہو گی جس کا 28/64″چوک سائز پر ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر (ڈبیلو ایچ ایف پی) 1920پاؤنڈ فی مربع (پی ایس آئی) ہےریان ون کا انٹر گریٹی ٹیسٹ بھی کامیا بی سے مکمل کر کیا گیا ہے۔

    روس پاکستان کو خام تیل پرکتنی رعایت دے گا؟

  • ماہ مہمان کی قدر کیجئے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ماہ مہمان کی قدر کیجئے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ماہ مہمان کی قدر کیجئے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    روزے کو عربی میں صوم، صیام کہتے ہیں جس کے لغوی معنی ہیں کہ کسی چیز سے اپنے آپ کو روکے رکھنا
    اگر ہم بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ صیام یعنی روزے کا اصل باشرع مقصد و مطلب ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے سحری سے نماز مغرب تک خود کو کھانے پینے و نکاح کے باوجود جماع جیسے جائز کام سے روکے رکھنا ہے

    روزوں کی فرضیت کا حکم سنہ 2 ہجری میں تحویل قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا

    آیت صیام شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

    البقرة
    رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) راہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے

    اسلام میں ہر عمل کا اجر بتایا گیا کے مگر رمضان کے روزے کا اجر ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالی ہی جانتے ہیں اس بارے یہ حدیث ہے

    ابن آدم کا ہر عمل دوگنا ہوتا ہے، نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک جاتا ہے، اللہ عزّوجل نے فرمایا،روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اسکی افطاری کے وقت اور دوسرے اپنے رب سے ملاقات کے وقت، اسکے ( روزہ دار) منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے (متفق علیہ )

    اس ماہ رمضان کی حرمت یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں

    اللہ رب العزت کی رحمت بہت وسیع ہے وہ تو اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے تاکہ خطاءکار حضرت انسان کی اصلاح کرکے اس کے گناہ معاف فرما کر اسے جنت کا راہی بنایا جائےاسی لئے اللہ رب العزت نے اس ماہ مقدس کو مہمان بنا کر بیجھا تاکہ ہم گناہوں سے بچ سکیں اور نیک اعمال کرکے جنت میں جائیں جس طرح ہم دنیا میں آنے والے مہمان کی خاطر اس کی تکریم کی خاطر اپنے گھر کو صاف کرتے اور گھر کی تزئین و آرائش کرتے ہیں بلکل اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس ماہ مہمان کی آمد سے پہلے اپنے دل کو صاف کرنا چائیے –

    ہر اس برائی سے بچنا چائیے جس سے ہمیں اسلام نے منع فرمایا ہے تاکہ آنے والا مہمان ماہ صیام کو پتہ چلے کہ ہم اسکا خوب شاندار استقبال اس کی عزت و تکریم میں کر رہے ہیں جس طرح ایک خوش اخلاق مہمان جاتے ہوئے گھر کے چھوٹے بچوں کو یاں پھر کسی اور کو تحفتاً کچھ نقدی جا اور چیز جا کر جاتے ہیں بلکل اسی طرح یہ ماہ مہمان ہمیں جاتے ہیں اپنی صحیح اسلامی خاطر تواضع کے عیوض متقی اور پرہیز گار بنا کر جاتا ہے اور عید الفطر جیسی خوشی و متقی بن جانے پہ جنت کی بشارت دے کر جاتا ہے اب آگے ہماری مرضی ہے کہ ہم ماہ مقدس ماہ رمضان کے جانے کے بعد بھی اسی عقیدے پہ چل کر جنت کے پکے حق دار رہتے ہیں کہ نہیں-

    ماہ رمضان کے اندر جس طرح ہم اپنے گھر والوں کے لئے عمدہ سے عمدہ کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ویسے ہی ہمیں چائیے کہ اپنے پڑوسیوں عزیزوں رشتہ داروں کا بھی خیال رکھیں جو مالی طور پہ کمزور ہیں ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ بھی اچھے طریقے سے سیر ہو کر روزہ رکھیں اور افطار کریں کیونکہ آپ کے صدقہ خیرات کے علاوہ عام مالی مدد کا سب سے پہلا مستحق آپکا اپنا بہن بھائی پھر اسے کے بعد آپکا ہمسایہ و گلی محلے والا اور رشتہ دار ہیں اس کے بعد دیگر جماعتیں و لوگ آتے ہیں اگر قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں تو صدقے خیرات کے اولین حقدار یہی لوگ ہیں مگر افسوس آج ہم لاکھوں روپیہ لگا کر افطار پارٹیاں تو کرتے ہیں مگر اصل حقدار ان افطار پارٹیوں کے قریب بھی نہیں دیکھے جاتے-

    میں افطار پارٹیوں کے خلاف نہیں مگر ایک بات یاد کرواتا چلو آپ نے اگر اپنے اصل حقدار تک اس کا حق نہیں پہنچایا اور اس کے بغیر آپ پہلے سے مالی مستحق دوستوں یاروں کی افطار پارٹیاں کر رہے ہیں تو یاد رکھیں روز قیامت اس پہ پوچھ ہو گی اور رب کی طرف سے پکڑ بھی ہو گی افطار پارٹیاں ضرور کیجئے مگر اس سے پہلے اصل حقداروں تک اس کا حق پہنچائیے-

    سوچیں اصل حقداروں کا حق مار کر کسی اور کو راضی کرکے ہم رب کو راضی کر سکیں گے؟ہر گز نہیں باقی روزہ دار کی افطاری کروانا بہت بڑا ثواب ہے اس بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے

    حضرت زید بن خالد رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یا کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا (بیہقی)

    آخر میں ایک بار پھر یاد کروا دو پہلے اپنے اصل حقدار راضی کرو ان کا حق ان تک پہنچاؤ پھر لاکھوں کروڑوں لگا کر افطار پارٹیاں کرو اور ان افطار پارٹیوں میں بھی غریب غرباء کو یاد رکھواللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمن

    اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمن

    پابہ جولاں اپنے شانوں پر ہے اپنی صلیب
    میں سفیر حق ہوں لیکن نرغہ باطل میں ہوں

    اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کارسروربارہ بنکوی کااصل نام سعید الرحمن تھاوہ 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی (یوپی،ہندستان) میں پیدا ہوئے تھے قیام پاکستان کے بعد پہلے کراچی اور پھر ڈھاکا میں سکونت اختیار کی۔جہاں انہوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اورپھرچندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل ، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو،آخری اسٹیشن،چاند اورچاندنی، احساس، سونے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ اسی دوران انھوں نے تین فلمیں آخری اسٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔

    آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم ’’کیمپ 333‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 03 اپریل 1980ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے۔ ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے سروربارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے ”سنگ آفتاب“ اور ”سوزگیتی“ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سراغِ جادہ
    یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
    یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
    کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
    میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
    ترے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
    سرِ انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
    وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ
    ہو برائے شامِ ہجراں لبِ ناز سے فروزاں
    کوئی ایک شمعِ پیماں کوئی اک چراغِ وعدہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔ا
    ●تو عروس شامِ خیال بھی تو جمال روئے سحر بھی ہے
    یہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ مرا اہتمام نظر بھی ہے
    یہ مرا نصیب ہے ہم نشیں سر راہ بھی نہ ملے کہیں
    وہی مرا جادۂ جستجو وہی ان کی راہ گزر بھی ہے
    نہ ہو مضمحل مرے ہم سفر تجھے شاید اس کی نہیں خبر
    انہیں ظلمتوں ہی کے دوش پر ابھی کاروانِ سحر بھی ہے
    ہمہ کشمکش مری زندگی کبھی آ کے دیکھ یہ بے بسی
    تری یاد وجہِ سکوں سہی وہی راز دیدۂ تر بھی ہے
    ترے قرب نے جو بڑھا دیئے کبھی مٹ سکے نہ وہ فاصلے
    وہی پاؤں ہیں وہی آبلے وہی اپنا ذوقِ سفر بھی ہے
    بہ ہزار دانش و آگہی مری مصلحت ہے ابھی یہی
    میں سرورؔ رہرو شب سہی مری دسترس میں سحر بھی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں
    ہوں جوار یار میں یا کوچۂ قاتل میں ہوں
    پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب
    میں سفیرِ حق ہوں لیکن نرغۂ باطل میں ہوں
    جشنِ فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے
    حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں
    دم بخود ہوں اب سرِ مقتل یہ منظر دیکھ کر
    میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صفِ قاتل میں ہوں
    اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوئے جس سے سرورؔ
    آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں

  • ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    افتخار امام صدیقی

    افتخار امام صدیقی، 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی یہیں رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انھوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اور ماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انھوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاؤ کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائی ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک تھے اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے تھے۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انھوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں 04 اپریل 2021ء کو افتخار امام صدیقی انتقال کر گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے

  • بحیرہ عرب میں زلزلے کے جھٹکے

    بحیرہ عرب میں زلزلے کے جھٹکے

    بحیرہ عرب زلزلے سے لرز اٹھا ،زلزلے کے 3 جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی : امریکی جیو لوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے 3 جھٹکے ڈھائی سے 3 بجے کے دوران محسوس کیے گئے، زلزلے کا پہلا جھٹکا 2 بج کر 34 منٹ پر محسوس کیا گیا، پہلے زلزلے کی شدت 5.1 اور گہرائی 40 کلو میٹر تھی۔

    امریکی جیو لوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا دوسرا جھٹکا 2 بج کر 44 منٹ پر آیا، دوسرے زلزلے کی شدت 5.5 اور گہرائی 10 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا تیسرا جھٹکا 3 بجے آیا، تیسرے زلزلے کی شدت 5.3 اور گہرائی 60 کلومیٹر تھی۔

  • دنیا کا پہلا کیس،بھارت میں  پودے کی پھپھوند سے ایک شخص متاثر

    دنیا کا پہلا کیس،بھارت میں پودے کی پھپھوند سے ایک شخص متاثر

    کلکتہ: بھارت میں پودے کی پھپھوند سے ایک شخص متاثر ہوگیا جس کا علاج معالجہ جاری ہے-

    باغی ٹی وی:پودوں کی وجہ سے ممکنہ طور پر مہلک فنگل انفیکشن کا پہلا کیس کولکتہ کے ایک شخص میں دریافت ہوا 61 سالہ شخص کو کھانسی، نگلنے میں دقت، کمزوری اور آواز کے بھاری پن کی شکایت ہے متعدد طبی ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک پودے پر اگنے والے فنجائی ’کونڈرو اسٹیریئم پرپیورئیم‘ کی انسانی منتقلی سے بیمار ہوا ہے طبی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ بھی ہے۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    اس کیس اسٹڈی کی پیروی کرنے والے ڈاکٹروں نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے جو میڈیکل مائکولوجی کیس رپورٹس جریدے میں شائع ہوئی تھی کہ نامعلوم متاثرہ شخص 61 سالہ شخص ہے اور وہ کھانسی، نگلنے میں دقت، کمزوری اورآوازکےبھاری پن کی شکایت پر کولکتہ کے ایک اسپتال میں داخل ہوا تھا۔مریض کو پچھلے تین مہینوں سے نگلنے میں دشواری کا سامنا تھا۔

    "اس کی ذیابیطس، ایچ آئی وی انفیکشن، گردوں کی بیماری، کسی بھی دائمی بیماری، مدافعتی ادویات کے استعمال، یا ڈپریشن کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔ مریض، پیشہ کے لحاظ سے ایک پودوں کے ماہر نفسیات، ایک طویل عرصے سے بوسیدہ مواد، مشروم اور مختلف پودوں کی فنگس کے ساتھ کام کر رہا تھا متعدد طبی ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک پودے پر اگنے والے فنجائی ’کونڈرو اسٹیریئم پرپیورئیم‘ کی انسانی منتقلی سے بیمار ہوا ہے۔

    ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    اس فنگس کی وجہ سے پودے متاثر ہوتے ہیں جنہیں ’پتے کی چاندی‘ (سلولیف ڈیزیز) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پھپھوند بالخصوص پھولوں کے خاندان کے پودوں میں مرض کی وجہ بنتی ہے۔ اب یہی کیفیت انسانوں پر بھی اثرانداز ہوئی ہے کرہِ ارض پر دسیوں لاکھوں اقسام کی فنجائی پائی جاتی ہیں اور انسانی خلیات پر ان کے حملے کا یہ پہلا واقعہ ہے اس میں پھپھوند خلیاتی سطح پر تباہی پھیلاتی ہے اس مرض کو اپالو اسپتال کی سوما دتہ اور اجوائنی رے نےتشخیص کیا ہےفنگل انفیکشن انسانی خلیات پر حملہ کرتا ہے اور ’فیگوسائٹوسِس‘ کے ذریعے خلیات کو نگلنا شروع کردیتا ہے۔

    ماہرین نے اپنی تحقیق میں مریض کا سی ٹی اسکین دکھایا ہے جس میں گلے کے اطرافی غدود کو متاثرہ دیکھا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سیاہ پھپھوند یا بلیک فنگس کی وبا بھی بھارت میں ہی سامنے آئی تھی جس سے اب تک 4500 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

    حکومت رواں سال 10 لاکھ پاکستانیوں کوبیرون ملک بھجوائے گی،ساجد حسین طوری

    ماہرین کا ابتدائی خیال ہے کہ آب وہوا میں تبدیلی اور بدلتے تناظر میں فنگس انسانوں پر حملہ آور ہورہی ہے جس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے-

  • ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    ماہ رمضان میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر طالبان نےخواتین کے زیرانتظام ریڈیواسٹیشن بند کردیا

    کابل: طالبان نے ماہ رمضان کے تقدس اور احترام کا خیال نہ رکھنے اور مملکت کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے پرخواتین کے زیرِ انتظام شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں ریڈیو اسٹیشن ’’صدائے بانوان‘‘(وائس آف وومن ریڈیو) کو بند کر دیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے اطلاعات اور ثقافت کے ڈائریکٹر معیز الدین احمدی نے بتایا کہ صوبہ بدخشاں میں خواتین کے زیرِ انتظام ریڈیو اسٹیشن کو رمضان کے مقدس مہینے میں موسیقی کا پروگرام نشر کرنے پر بند کر دیا گیا۔

    4 سالہ بچے نے کتاب لکھ کر دنیا کے سب سے کم عمر مصنف …

    احمدی نے کہا کہ مذکورہ ریڈیو نے رمضان المبارک کے دوران گانے اور موسیقی نشر کرکے امارت اسلامیہ کے قوانین و ضوابط کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہم نے انہیں بارہا کہا کہ موسیقی نشر کرنا حرام ہے اور آپ کو موسیقی نشر نہیں کرنی چاہیے بدقسمتی سے، رمضان کے مہینے میں، انہوں نے کئی انتباہات کو نظر انداز کیا اور موسیقی نشر کی۔

    معیز الدین احمدی نے بتایا کہ آخر کار کل مشاورت کے بعد، ہم نے ریڈیو اسٹیشن بند کر دیا ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بندش عارضی ہے، اور اگر ریڈیو حکام اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ موسیقی نشر نہیں کریں گے، تو ہم ریڈیو کو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت دیں گے۔

    حکومت رواں سال 10 لاکھ پاکستانیوں کوبیرون ملک بھجوائے گی،ساجد حسین طوری

    دوسری جانب صدائے بانواں اسٹیشن کی سربراہ ناجیہ سوروش نے کسی بھی قانون، اصول یا روایت کی خلاف ورزی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو کی بندش کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ اظہار رائے پر پابندی کی ایک سازش ہے۔

    خیال رہے کہ ریڈیو صدا بانوان ان چند افغان ریڈیو اسٹیشنوں میں سے ایک تھا جو خواتین چلاتے ہیں جو اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد سے کام کر رہا تھا صدائے بانواں جس کا دری میں مطلب خواتین کی آواز ہے، افغانستان میں خواتین کے زیر انتظام چلنے والا واحد ریڈیو اسٹیشن ہے جس کا آغاز 10 سال قبل ہوا تھا –

    دیگراضلاع اور صوبوں کے شہری بھی لاہور سے ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکیں گے

  • اربوں روپے کی کرپشن اور رشوت کا معاملہ،ڈاکٹر یاسمین راشد کیخلاف انکوائری شروع

    اربوں روپے کی کرپشن اور رشوت کا معاملہ،ڈاکٹر یاسمین راشد کیخلاف انکوائری شروع

    لاہور: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں اربوں روپے کی کرپشن اور رشوت کے معاملے پر ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اینٹی کرپشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے سابق صوبائی وزیراور پی ٹی آئی پنجاب سینٹرل کی صدر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف انکوائری کے سلسلے میں انہیں 4 اپریل کو دوپہر 12 بجے طلب کرلیا-

    دیگراضلاع اور صوبوں کے شہری بھی لاہور سے ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکیں گے

    پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد پر پارکنگ، کینٹین اور صفائی کے ٹھیکوں میں رشوت لینے کا الزام ہے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پی آئی سی اور ایم ایس پر ڈاکٹر یاسمین راشد کو کروڑوں روپے رشوت دینے اور ان کے خرچے اٹھانے کا الزام ہے۔

    اینٹی کرپشن نے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پی آئی سی ڈاکٹر بلال محی الدین، ایم ایس ڈاکٹر محمد تحسین، اے ایم ایس پرچیز ڈاکٹر شکیل ، اے ایم ایس اسٹور فارمیسی ڈاکٹر مسعود نواز کو بھی اینٹی کرپشن نے ڈاکٹر یاسمین راشد کےہمراہ طلب کیا ہےملزمان پر سینٹرل پرچیز میں مہنگے داموں اسٹنٹ خرید کر سرکاری خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

    امید ہے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے ،عطا تارڑ

    ملزمان پر رواں مالی سال پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرکے اسٹنٹس کی خریداری میں بھاری کمیشن لینے کا بھی الزام ہے علاوہ ازیں بائی پاس آپریشن میں استعمال ہونے والا سامان بھی مہنگے داموں خریدنے کا الزام ہے۔ پی آئی سی انتظامیہ پر دل کی بیٹریوں سمیت پی آئی سی کے اسٹور سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان چوری کروانے کا الزام بھی ہے-