Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پہلا ون ڈے، 256رنز کے ہدف میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    پہلا ون ڈے، 256رنز کے ہدف میں پاکستان کی بیٹنگ جاری

    کراچی: پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف 256 رنز کے تعاقب میں 9.1 اوورز میں 1 کھلاڑی کے نقصان پر 41 رنز بنالیے۔

    باغی ٹی وی: نیشنل بینک کرکٹ ارینا کراچی میں کھیلے جارہے ایک روزہ سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر رنز255 اسکور کیے۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے مائیکل بریسویل 43 اور وکٹ کیپر بیٹر ٹام لیتھم 42 رنز بنا کر نمایاں رہے گلین فلپس 37، ڈیرل مچل 36، فِن ایلن 29، کپتان کین ولیم سن 26، مچل سینٹنر 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئےٹِم ساؤتھی 15 جبکہ لوکی فرگوسن 1 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔

    پاکستان کی جانب سے نسیم شاہ نے 10 اوورز میں 57 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اسامہ میر 2 جبکہ محمد وسیم اور محمد نواز 1،1 وکٹ لے سکے۔

  • ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

    ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ وہ اس سوشل میڈیا ایپ میں گم ہوجاتے ہیں اور گھنٹوں تک اس پر اسکرولنگ کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی : صارفین کی شکایت پر کمپنی کی جانب سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا جارہا ہے جس کا مقصد مناسب وقت تک نیند کو یقینی بنانا ہے کمپنی کی جانب سے نئے فیچر سلیپ ریمائنڈرز کی آزمائش کی جارہی ہے۔

    نیا فیچر ایپ میں "اسکرین ٹائم” سیٹنگز کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ وہ صارفین جو ٹیسٹ کا حصہ ہیں انہیں ایک نیا "نیند کی یاد دہانی” کا اختیار نظر آئے گا۔

    اس فیچر کے تحت سونے کے وقت کے الرٹس لگانے جبکہ نیند کے دوران نوٹیفکیشنز کو میوٹ کرنے جیسے آپشنز دستیاب ہوں گے کمپنی کےمطابق اس نئےفیچرکی آزمائش دنیا بھر میں صارفین کی محدود تعداد میں کی جارہی ہےیہ نیا فیچراسکرین ٹائم سیٹنگزمیں سلیپ ریمائنڈرز کے نام سے موجود ہوگا۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    کمپنی نے بتایا کہ اس فیچر سے صارفین کو ٹک ٹاک پر اسکرولنگ کے دوران معلوم ہوسکے گا کہ اب ان کے سونے کا وقت ہوگیا ہے اس کے لیے صارفین کو سونے کے ایک وقت کو سلیکٹ کرنا ہوگا اور وہ وقت قریب آنے پر ایپ کی جانب سے یاد دلایا جائے گا کہ نیند کا وقت آگیا ہےاس کے ساتھ ساتھ پش نوٹیفکیشنز 7 گھنٹوں کے لیے میوٹ ہوجائیں گے تاکہ صارف کی نیند متاثر نہ ہوسکے۔

    ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہم صارفین کی بہتری کے لیے متعدد نئے ذرائع پر کام کررہے ہیں اور یہ نیا ٹول بھی اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ٹک ٹاک نے فروری 2020 میں اسکرین ٹائم منیجمنٹ ٹولز متعارف کرائے تھے اور اس کے بعد سے ایسے متعدد فیچرز کا اضافہ کیا گیا جو صارفین کو ایپ کے استعمال کے حوالے سے زیادہ اختیار فراہم کرسکیں۔

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

  • پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

    پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

    غیر ملکی جریدے بلومبرگ اکنامکس نے پیر کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ایسا لگتا ہے پاکستان آئندہ 6 ماہ میں ڈیفالٹ سے بچ جائے گا لیکن پاکستان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔

    باغی ٹی وی : بلومبرگ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی، پاکستان میں سرمایہ کاروں کو ڈالرز میں بڑے قرض کی واپسی کی فکر ہے اور یہ قرض کی واپسی اپریل 2024 میں ہونی ہے۔

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    "لیکن سرمایہ کار اب اپریل 2024 میں ایک بڑے ڈالر کے قرض کی واپسی کے بارے میں فکر مند ہیں، اور وہ ان بانڈز کی قیمتیں پریشان کن سطح پر رکھ رہے ہیں،رپورٹس بتاتی ہیں کہ بانڈ 46% ڈسکاؤنٹ پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مزید بیرونی امداد چاہیے ہوگی، آئی ایم ایف پاکستان کی باقی ماندہ قسط روک سکتا ہے تاہم سیلاب اور پاکستان کی ضروریات کے باعث ایسا نظر نہیں آتا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ضروریات میں اندازاً 8.8 ارب ڈالرز کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ شامل ہے، ان ضروریات میں 2.2 ارب ڈالرز کی غیرملکی قرضوں کی ادائیگی شامل ہے، ان میں اپریل 2024 میں ایک ارب ڈالرز بانڈکی میچورنگ بھی شامل ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ رسک اسسمنٹ کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف یا دیگر قرض دہندگان سے مزید بیرونی امداد کی ضرورت ہو گی-

    سال 2022ء میں 49,89833 لوگوں نے وائلڈ لائف پارکس اور چڑیا گھروں کی سیر کی

    پاکستان کے پاس اب 5.6 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کےذخائر ہیں، جو اگلے پانچ ماہ کی فنڈنگ ​​کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بیرونی امداد سے اس تعداد کو 14.9 بلین ڈالر تک بڑھانا چاہیے۔ یہ صرف مارچ 2024 تک ڈالر کی ادائیگیوں کا احاطہ کرے گا –

    پاکستان اس وقت تیزی سے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی کمزوری اور بگڑتے معاشی اشاریوں کے درمیان معاشی بدحالی سے دوچار ہے۔ اس نے ہفتے کے آخر میں تقریبا$ 1 بلین ڈالر کی ادائیگی کی، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کا امکان ہے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اس ہفتے اپنا ڈیٹا جاری کرے گا۔

    بلومبرگ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی 2.6 بلین ڈالر کی بقیہ قرض کی قسطیں روک سکتا ہے لیکن ہمارے خیال میں پچھلی موسم گرما کے سیلاب کے تناظر میں ملک کی اشد ضرورت کے پیش نظر اس کا امکان نہیں ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ تعطل کا شکار آئی ایم ایف پروگرام کا دوبارہ آغاز ملک کے لیے انتہائی اہم ہے آئی ایم ایف کی فنڈنگ ​​قرض دینے والے ممالک سے متوقع 5 بلین ڈالر اور ورلڈ بینک سے 1.7 بلین ڈالر کی امداد کو کھولنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

    چونیاں،الہ آباد،چھانگامانگا میں آٹا بحران شدت اختیار کر گیا

    یہ فنڈز جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام تک قرضوں کی ادائیگیوں اور تخمینہ شدہ کھاتوں کے خسارے میں $5.9 بلین کو پورا کرنے میں مدد کریں گے اور، ایک بار پھر، ہمارے خیال میں یہ فنڈز مکمل ہو جائیں گے۔

    لیکن اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس کے بعد 12 ماہ کیسے پورا کرے گا، جب اس کی ڈالر کی مالیاتی ضروریات کم از کم 11 بلین ڈالر ہوں گی۔”

    آئی ایم ایف کا وفد جنیوا کانفرنس کے موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کرے گا جس میں تصفیہ طلب امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    جنیوا کانفرنس، جو اس وقت جاری ہے، پاکستان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ممالک، تنظیموں اور کاروباری اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے طویل مدتی بحالی اور لچک کے منصوبے کی جانب مالی اور دیگر مدد کے ساتھ قدم بڑھائیں۔ ملک نے گزشتہ سال تباہ کن سیلاب دیکھا۔

    پاکستان کے ریسیلینٹ ریکوری، بحالی اور تعمیر نو کے فریم ورک کے مطابق، جسے وہ باضابطہ طور پر کانفرنس کے دوران پیش کرے گا، مجموعی طور پر 16.3 بلین ڈالر کی ضرورت ہوگی پاکستان کی حکومت اس نصف رقم کو "ملکی وسائل” سے پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، بشمول اس کے ترقیاتی بجٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے۔

    جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

  • پاکستان ڈالر کا ایکسچینج  ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے ریلیف کی درخواست کریں گے، وزیر خزانہ آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق جنیوا کانفرنس کی سائیڈلائن پرعالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) وفد سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ملاقات کریں گے جس میں آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے بات چیت ہوگی جبکہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے، ایکسچینج ریٹ پر مصنوعی پابندی ختم کرے۔

    عمران خان کی آنکھوں کے سامنے 3 ہزار ارب روپے کی چوری ہورہی. فیصل واوڈا

    ذرائع کے مطابق پاکستان کو 30 جون 2023 تک پیٹرولیم لیوی855 ارب روپے جمع کرنےکا پلان دینا ہوگا، جس کے لیے ڈیزل پر لیوی فوری 32.5 روپے بڑھا کر 50 روپے لیٹرکرنا ہوگی، گیس کے شعبے میں 1500 ارب روپےکا سرکلر ڈیٹ ختم کرنا ہوگا جس کے لیےگیس کے ریٹ بڑھانا ہوں گے۔

    ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا ہےکہ آئی ایم ایف سبسڈیز کا خاتمہ چاہتا ہے، آئی ایم ایف ٹیکس آمدن میں 300 ارب روپےکے اضافے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے، پاکستان کوبجلی کے نقصانات کم کرنےکے لیے بجلی کے ریٹ بڑھانے ہوں گے، آئی ایم ایف بجلی کا فی یونٹ ریٹ 3.5 روپے بڑھانےکا مطالبہ کرچکا ہے۔

    خیال رہے کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان طے شدہ بیل آؤٹ پیکج کے تحت پاکستان کو گزشتہ برس نومبر میں 1.1 بلین ڈالر کی قسط فراہم کی جانا تھی تاہم اس رقم کی فراہمی توثیق ابھی تک نہیں ہو سکی-

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    قبل ازیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار قبل ازیں آئی ایم ایف پر تنقید بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے عوامی سطح پر کہا تھا کہ قرض فراہم کرنے والا یہ عالمی ادارہ پاکستان کے ساتھ معاملات میں ‘ابنارمل‘ رویے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

    پاکستان 2019ء میں آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام کا حصہ بنا تھا جس میں اسے مجموعی طور پر سات بلین ڈالر بطور قرض فراہم کیے جانا ہیں۔ تاہم اس کے بعد سے قرض فراہم کرنے والا یہ بین الاقوامی ادارہ کئی مرتبہ پاکستان کو قسط کی ادائیگی مؤخر کر چکا ہے۔

    آئی ایم ایف کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ادارے کی سربراہ کرسٹالینا جیورجیوا نے جنیوا کانفرنس کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف پر ایک ‘مثبت‘ ٹیلی فونک بات چیت بھی کی ہے اور انہوں نے تعمیر نو کی پاکستانی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

    حکومت سے گلہ ہے زخمی ہونے والے مزدوروں کیلئے سہولت نہیں. محمد خان

  • روس سے گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

    روس سے گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

    کراچی: روس سے حکومتی سطح پر منگوائی جانیوالی گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :وزارت فوڈ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ روس سے گندم کے دو جہاز پہنچے ہیں روس سے مزید ساڑھے 4 لاکھ ٹن گندم بذریعہ گوادر پاکستان پہنچے گی۔

    نجی گندم مارکیٹ کریش ہوگئی، قیمت میں بڑی کمی

    حکومتی سطح پر مجموعی طور پرساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے 30 مارچ تک روس سےحکومتی سطح پر درآمد کی جانے والی گندم کے تمام جہاز پاکستان پہنچ جائیں گے۔

    مختلف ممالک سے بھی درآمدی گندم لے کر جہاز کراچی پورٹ پہنچ چکے ہیں اب تک ساڑھے تین لاکھ ٹن گندم کراچی پورٹ آچکی ہے۔

    دوسری جانب پنجاب کی نجی گندم مارکیٹ شدید مندی کے نتیجے میں کریش ہوگئی راولپنڈی میں نجی گندم کی قیمت میں 750 روپے فی من کمی ہوگئی جس کے نتیجے میں گندم کی قیمت 5250 سے کم ہو کر 4500 روپے ہو گئی۔

    پی ٹی آئی نے خونی مارچ کرکے دکھا دیا اب خونی الیکشن کی بات کررہی ہے،شرجیل میمن

    پنجاب میں نجی گندم کی قیمت 4500 تا4600 روہے فی من ہے مگر خریدار غائب ہیں سرکاری گندم کوٹہ بڑھ جانے کے بعد فلور ملز نے نجی گندم کی خریداری کم کر دی ذخیرہ اندوزوں نے فلور مل مالکان کو سستے داموں گندم فروخت کرنے کی پیشکش شروع کردی تاہم ملز نے انکار کردیا۔

    لاہور میں سرکاری آٹے کی دستیابی میں بہتری کا آغاز ہوگیا۔ مختلف علاقوں میں ٹرکنگ پوائنٹس پر بھیجے گئے آٹے کی فروخت کم ہوگئی تاہم شمالی لاہور میں سرکاری آٹے کی اضافی طلب اور فروخت برقرار ہےمحکمہ خوراک نے اسمگلنگ روکنے کےلیے سرحدی اضلاع کی چیک پوسٹوں پر اسپیشل ٹیمیں تعینات کر دیں۔

  • سینیگال میں مسافر بسوں میں خوفناک تصادم،40 افراد ہلاک اور 87 زخمی

    سینیگال میں مسافر بسوں میں خوفناک تصادم،40 افراد ہلاک اور 87 زخمی

    افریقی ملک سینیگال میں مخالف سمت سے آنے والی دو تیز رفتار مسافر بسیں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک اور 87 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خوفناک ٹریفک حادثہ سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار کے علاقے کافرین میں قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ بسوں کے پرخچے اُڑ گئے۔

    کراچی سے ایک بار پھر بوری بند لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع

    وسطی سینیگال میں کیفرین کے قریب دو بسوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 87 زخمی ہو گئے ہیں حادثہ نمبر 1 قومی سڑک پر اتوار کو صبح 3:15 بجے پر پیش آیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ رات سوا تین بجے پیش آیا۔ ممکنہ طور پر اندھیرے اور دھند کے باعث حادثہ پیش آیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    فائر بریگیڈ نے بتایا کہ 60 نشستوں کی گنجائش والی بس موریطانیہ کی سرحد کے قریب روسو کی طرف جارہی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ اس میں سوار افراد کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

    نیشنل فائر بریگیڈ کے آپریشنز کے سربراہ کرنل شیخ فال نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ "یہ ایک سنگین حادثہ تھا،” انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں 87 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے حامیوں نے نیشنل کانگریس کی عمارت پر حملہ کردیا

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو کیفرین میں ایک ہسپتال اور طبی مرکز لے جایا گیا۔ فال نے کہا کہ اس کے بعد سے ملبے اور منہدم بسوں کو صاف کر دیا گیا ہے اور عام ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    ریسکیو ٹیم کے انچارج نے بتایا کہ رات کی تاریکی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا رہا۔ زخمیوں میں سے 15 کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    پبلک پراسیکیوٹر شیخ ڈائینگ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب "مسافروں کی پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے تفویض کردہ ایک بس، ٹائر پھٹنے کے بعد، مخالف سمت سے آنے والی دوسری بس سے ٹکرانے سے پہلے اپنی رفتار پر قابو نا پاسکی-

    کچھ زخمیوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بسوں کی رفتار تیز تھی اور ڈرائیور کو اونگھ آجانے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا حکومت نے تین دن کے سوگ اعلان کیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی۔

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

    صدر سال نے ٹویٹر پر کہا کہ "میں اس المناک سڑک حادثے سے بہت افسردہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتا ہوں۔”

    ماہرین کے مطابق، یہ حالیہ برسوں میں کسی ایک ملک میں کسی ایک واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد میں سے ایک ہے جہاں ڈرائیوروں کے نظم و ضبط کی کمی، خراب سڑکوں اور خستہ حال گاڑیوں کی وجہ سے سڑک حادثات عام ہیں۔

    اکتوبر 2020 میں، مغربی سینیگال میں ایک بس کے ریفریجریٹڈ لاری سے ٹکرانے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔ مقامی میڈیا نے اس وقت کہا تھا کہ لاری مچھلیوں کو ڈاکار لے جا رہی تھی۔

    پشاور:پی ٹی آئی کے منحرف ایم این اے ناصر موسیٰ زئی کےحجرے پردستی بم حملہ

  • جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

    جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

    اسلامی ترقیاتی بینک نے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :پاکستان کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث ہونے والے نقصان کے ازالے اور مدد کے لیے کانفرنس جاری ہے۔

    اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر نے جنیوا میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو اور بحالی کے حوالے سے جاری کانفرنس کے دوران پاکستان کے لیے بڑا اعلان کیا۔

    اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 3 سال میں 4 ارب 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ عالمی بینک نے بھی متاثرہ علاقوں میں 2 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا جنیوا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے امداد کا اعلان کیا ۔

    انہوں نے کہا کہ ہم مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی حمایت کرناچاہیں گے، فرانس طویل مدت میں پاکستان کی ضرورت کے مطابق مہارت اور مالی امداد فراہم کرتارہےگا۔

    ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا فرانسیسی عوام اور حکومت کی جانب سے پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان کے عوام نے بہادری سے سیلاب سے ہونے والی تباہی کا مقابلہ کیا۔

    یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا میں نے خود پاکستان جا کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان میں سیلاب کے باعث بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا حال دیکھ کر دل ٹوٹ گیا لیکن مشکل حالات میں بھی پاکستانی عوام کا جذبہ دیکھ کر حیران ہوا۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں پرامید ہوں کہ کانفرنس کےانعقاد سےپاکستان کو سیلابی تباہی سے بحالی میں مدد ملے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے لیے امداد کا اعلان کرنے پر تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں تعاون کرنے والے ممالک کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور پاکستان کو فوری طور پر تعمیر نو اور بحالی کے لیے 16 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، پاکستان میں سیلاب نے متاثرین کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے، آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں یو این سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان کے عوام یو این سیکرٹری جنرل کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، عالمی برادری کے بھی تعاون پر مشکور ہیں، مشکل وقت میں مدد کرنے والے ممالک کو پاکستان نہیں بھولے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے کاشتکاری کو شدید نقصان پہنچا جس سے غذائی قلت نے جنم لیا، تعمیر نو کے ساتھ ملکی معیشت کی بحالی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، سیلاب سے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی، سیلاب سے مکانات، تعلیمی ادارے، زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں تاحال سیلاب کا پانی موجود ہے، سیلاب متاثرین کو دوبارہ بحال کر کے اچھا مستقبل دینا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کیا ہے، فریم ورک پر کام کرنے کے لیے 16.3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ برس تباہ کن سیلاب آیا، پاکستان میں سیلاب سے تباہ کاریوں کا حجم بہت بڑا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثرہ ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے 5 ماہ بعد بھی کئی علاقے زیر آب ہیں، سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں تعمیر نو کے اقدامات جاری ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لچکدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اولین ترجیح ہے، متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے اگلے کئی سالوں تک ہمیں اپنے شراکت داروں سے خاطر خواہ مدد کی ضرورت ہو گی۔

    اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے علاوہ وفاقی وزراء بھی شریک ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور دیگر عالمی رہنما بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • سیلاب متاثرین کیلئےعالمی کانفرنس کیلئے وزیراعظم جنیوا روانہ

    سیلاب متاثرین کیلئےعالمی کانفرنس کیلئے وزیراعظم جنیوا روانہ

    اسلام آباد: پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس کی میزبانی کے لیے وزیراعظم جنیوا روانہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم محمد شہبازشریف اعلی سطح وفد کےہمراہ اسلام آباد سے جنیوا چلے گئےوفد میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان اور وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب شامل ہیں۔


    وزیراعظم کل پیر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ مل کر پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی میں شراکت کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کریں گے۔

    پاکستان کانفرنس میں تعمیر نو اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا فریم ورک پیش کرے گا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کی اہمیت پر زور دے گا۔


    کانفرنس میں اعلی افتتاحی اجلاس کے بعد باضابطہ طور پر تعمیر نو اور سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی میں شراکت کی دستاویز کا آغاز کیا جائے گا، جس کے بعد پارٹنر سپورٹ کے اعلانات کیے جائیں گےوزیراعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مشترکہ پریس اسٹیک آؤٹ میں بھی شرکت کریں گے۔


    کانفرنس میں سربراہان مملکت و حکومت، وزراء اور متعدد ممالک کے اعلیٰ سطح نمائندے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، فاؤنڈیشنز اور فنڈز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور آئی این جی اوز کے نمائندے شرکت کریں گے۔

  • 2022 میں نیدرلینڈ میں’محمد ‘دوسرا مقبول نام رہا

    2022 میں نیدرلینڈ میں’محمد ‘دوسرا مقبول نام رہا

    2022 کے دوران نیدرلینڈ میں نام ’محمد ‘ نوزائیدہ لڑکوں میں دوسرا مقبول ترین نام رہا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈچ سوشل انشورنس بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے دوران نیدر لینڈ میں لڑکوں کے لیے مذہب کی بنیاد پر نام رکھنے کا رجحان زیادہ دیکھنے میں آیا۔

    کراچی اور حیدار آباد میں بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہوں گے،تیاریاں مکمل

    ڈچ سوشل انشورنس بینک کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق 2022 میں، نیدرلینڈ میں نوزائیدہ لڑکوں میں نام نوح 871 مرتبہ جبکہ نام محمد 671 مرتبہ رکھا گیا۔

    اسی طرح سال بھر کے دوران لڑکیوں کے لیے نام ایما 677 بار رکھا گیا۔

    بینظیر کفالت کی پہلی سہ ماہی قسط 9 جنوری سےجاری کی جائے گی

  • ریاست اتراکھنڈ‌ کےقصبے میں مندرزمین میں دھنسنےکیوجہ سے 600 سےزیادہ گھروں میں دراڑیں پڑگئیں

    ریاست اتراکھنڈ‌ کےقصبے میں مندرزمین میں دھنسنےکیوجہ سے 600 سےزیادہ گھروں میں دراڑیں پڑگئیں

    بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں ہمالیہ کے دامن میں واقع قصبے میں ایک مندرکے منہدم ہونے اورزمین دھنسنے کی وجہ سے 600 سے زیادہ گھروں میں دراڑیں پڑگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتراکھنڈ کے قصبے جوشی مٹھ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں خاص طورپر 2021 کے سیلاب کے بعد گھروں میں دراڑیں دیکھی ہیں جمعہ کی رات دیرگئے مندرگرنےسے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں اور آس پاس رہنے والوں نے ایک دن پہلے ہی اس علاقے کوخالی کردیا تھا حکام نے اس کے بعد قصبے میں تعمیراتی سرگرمیاں روک دی ہیں اور سیکڑوں افراد کی عارضی پناہ گاہوں میں منتقلی شروع کردی ہے۔

    ضلعی منتظم ہمانشو کھرانہ نے کہا کہ 60 سے زیادہ کنبوں کو سرکاری راحت کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہےجبکہ یہ تعداد 600 خاندانوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    کھرانہ نے کہا کہ حکومت جوشی مٹھ میں بے گھر ہونے والے افراد کو چھے ماہ تک 4،000 روپے (50 ڈالر) ماہانہ ادا کرے گی یہ قریباً 25،000 افراد کی آبادی والے مندروں کے قصبے میں واقع ہے اورسطح سمندر سے1،890 میٹر (6،200 فٹ) کی اونچائی پرواقع ہےاورہندو یاتریوں کی ایک اہم گذرگاہ ہے۔

    ریاست کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک اعلیٰ افسر رنجیت سنہا نے کہا کہ دراڑوں کی فوری وجہ نکاسی آب کا ناقص نظام لگتا ہے،جس کی وجہ سے گھروں کے نیچے پانی کا رساؤ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ دھنس گئے ہیں۔


    مندر کے گرنے سے کوئی زخمی نہیں ہوا کیونکہ اس میں بڑی دراڑیں پڑنے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اولی کے قریبی قصبے میں بھی ایسا ہی مسئلہ پیدا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہائیڈل پاور پلانٹ اور چار دھام سڑک سمیت جاری منصوبوں کو روک دیا گیا ہے۔

    چاردھام آل ویدرروڈ ، جو مختلف ہندو زیارت گاہوں کو جوڑنے کے لیے وفاقی حکومت کا ایک اہم منصوبہ ہے ، قریبی اولی میں یاتریوں اور سیاحوں کو لے جانے کے لیے رسیوں سے کھینچی گئی ٹرالیاں لگانے کا ایک منصوبہ بھی شامل ہیں۔

    نئی دہلی سے 490 کلومیٹر (305 میل) شمال مشرق میں واقع جوشی مٹھ سے گزرتے ہوئے ہزاروں ہندو عقیدت مند بدری ناتھ اور ہیم کنڈ صاحب جاتے ہیں زائرین اور سیاحوں کے بہت بڑے بہاؤ نے عمارتوں اور سڑکوں کی بڑے پیمانے پر تعمیرکے ساتھ گذشتہ برسوں میں شہر کو تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھا ، جسے کچھ ماہرین نے زمین کی کمی سے جوڑا ہے۔

    اس علاقے میں کئی مرتبہ تباہ کن بادل پھٹنے کا مشاہدہ کیا گیاتھا اورمختصر وقت میں شدید موسلادھاربارش ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 2013 میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور 2021 میں شدید سیلاب آیا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جزوی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تیزی سے سکڑتے گلیشیئرزبھی ایک وجہ ہیں جن سے یہ خطہ بار بار آفات کی زد میں آتا ہے۔

    اوسلومیٹروپولیٹن یونیورسٹی کے ریورین رائٹس پروجیکٹ میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طورپرکام کرنے والی آبی پالیسی کی ماہر کویتا اپادھیائے بتاتی ہیں کہ 2015ء سے 2021ء کے وسط تک اتراکھنڈ میں شدید بارش اور بادل پھٹنے کے 7750واقعات نوٹ کیے گئے تھے۔اس طرح کے واقعات جوشی مٹھ کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ وہ متاثرہ عمارتوں کی تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں اور بالآخرمقامی لوگوں کی کمزوری کوبڑھا سکتے ہیں۔

    اپادھیائے نے، جن کا تعلق اتراکھنڈ ہی سے ہے اور وہ اس علاقے میں رہتی ہیں،کہا کہ بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی بے قابو آمد نے بھی زمین ڈبونے اوردھنسانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    جوشی مٹھ میں مٹی کے تودے گرنے سے ڈھلوانیں بن چکی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک حد ہے جس میں شہرپرعمارتوں کابوجھ ہوسکتا ہے یا ڈیموں اور سڑکوں جیسے بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کی تعمیر جیسی سرگرمیوں سے بھی شہر پریشان ہوسکتا ہے۔

    ریاست اتراکھنڈ کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ایک مطالعہ میں خبردارکیا گیا ہے کہ پتھروں کوہٹاکر اور پہاڑیوں کو دھماکے سے اڑاکر تعمیرکرنے سے ماحولیاتی نقصان ہوگا۔

    گذشتہ سال مئی میں ایک رہائشی میرا راوت باورچی خانے میں کھانا پکانے کے دوران میں اس وقت چونک گئیں جب انھوں نے فرش کے نیچے پانی کے بہنے کی آواز سنی انھوں نے بتایاکہ اس دن، مجھے احساس ہوا کہ ہمارے شہر جوشی مٹھ میں کچھ برا ہونے والا ہے۔ ستمبر میں، میں نے فرش میں ایک چھوٹا سا شگاف دیکھا دسمبر میں، یہ وسیع ہو گیا، اورپھر ہم نے گھر خالی کردیا تھا۔