Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ عمران خان بجلی کا بل ادا کریں تو ایک اور مقدمے سے بچ جائیں گے-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان زمان پارک گھر کے بجلی کا بل ادا کریں اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اسٹاف کو زمان پارک گھر کو چیک کرنے دیں اگر عمران خان ایک اور مقدمے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کا بجلی کا بل ادا کریں مقدمے سے بچ جائیں گے۔

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لیسکو نے زمان پارک میں تحریک انصاف کے کیمپوں میں بجلی کی مبینہ چوری پر نوٹس جاری کیا تھا لیسکو کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان کے گھر کے باہر کیمپوں میں بجلی چوری ہورہی ہے، بجلی چوری کی نشاندہی سوشل میڈیا پر کی گئی ہے لیسکو نے جی او آر سب ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ فوری ایکشن لیا جائے زمان پارک کے اطراف میں کیمپس میں نصب فلڈ لائٹس میں بجلی چوری ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری کا امکان

    لیسکو حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اسٹاف نے لیسکو عملے کو زمان پارک میں داخل نہیں ہونے دیا، زمان پارک میں قائم کیمپوں میں بجلی چوری کی جارہی ہے، لہٰذا لیسکو کے اسٹاف کو بجلی کی املاک تک جانے کی اجازت دی جائےاگر اسٹاف کو چیکنگ کی اجازت نہ دی تو لیسکو یکطرفہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سربراہ بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ان پر دباؤ ڈالا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق بشیر میمن کا کہنا تھا کہ بار بار اُن پر دباؤ ڈالا گیا کہ ناصر جنجوعہ پر تشدد کرکے انھیں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دینے پر مجبور کریں عمران خان کا اصرار تھا کہ بیان دلوانے کیلئے ہر قانونی اور غیرقانونی طریقہ استعمال کیا جائے، ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ناصر جنجوعہ کا ویڈیو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ناصر جنجوعہ کے بے گناہ ہونے کا سن کر عمران خان بہت ناراض ہوئے-

    بشیر میمن نے حکمرانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ،سینیٹر روبینہ خالد

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال اپریل کو بشیر میمن نے انکشاف کیا تھا کہ کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور شریف خاندان کیخلاف مقدمات بنانے کیلئے کہا تھا پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عثمان ڈار بھی خواجہ آصف کیخلاف کیس بنانے کیلئے گھر آئے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشیر میمن کو خواجہ آصف کو گھیرنے کیلئے نہیں کہا۔

    بشیر میمن نےکہا تھا کہ عمران خان نے شریف فیملی کیخلاف مقدمات بنانے کو کہا متعدد بار کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر مقدمات بناؤ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی مقدمہ بنانے کا کہا گیا تو میں نے صاف انکار کر دیا تھا مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا، جہاں پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر مجھے سابق وزیراعظم کے پاس لے کر گئے۔ انہوں نے مجھے احتیاط کے ساتھ نئے مقدمات بنانے کا کہا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عدالت نے بے قصور قرار دیا

    ان کا کہنا تھا کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر کے ساتھ بات چیت میں یہ عقدہ کھلا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس بنانے کی بات کر رہے تھے میں نے انہیں بتایا کہ ایف آئی اے ایسا کیس نہیں بناسکتی، جس کی وجہ سے سے ہم تینوں کے درمیان بات چیت کشیدہ ماحول میں ختم ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے لیگی نائب صدر مریم نواز سے متعلق غلیظ زبان استعمال کی تو وہ غصے میں آگئے،اعظم خان اپنے دفتر لے گئے اور مجھے اور خود کو واش روم میں بند کرلیا، وہ مجھےغصے پر قابو پانے کا کہتے رہے۔

    واضح رہے کہ 6 جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کوالعزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

    فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. …

    تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قرار دیا تھا

    اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔

    ان ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    اس دوران جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا تھا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے ویڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔

    بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری کا امکان

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے اگلے چار روز مزید بارشوں کا امکان ہے، بعض مقامات پر موسلادھار بارش،ژالہ باری اور پہاڑوں پر برفباری ہوسکتی ہے حیدرآباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے کراچی میں 29 مارچ کی شام یا رات سے 30 مارچ کے دوران بارش کا امکان ہے-

    موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن نے کہا کہ سسٹم کے زیر اثر کہیں معتدل اور کہیں ہلکی بارش کا امکان ہے کراچی کے مضافات میں اس سسٹم کے زیر اثر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہےمغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث کراچی میں ہواؤں کا رخ مغرب اور شمال مشرق رہ سکتا ہے، ہواؤں کا سلسلہ 28 مارچ سے ملک پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق بلوچستان میں کوئٹہ، چمن، پشین اور بارکھان کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کاخدشہ ہےجبکہ خیبر پختونخوا میں دیر،سوات، کوہستان، نوشہرہ، مردان، وزیرستان اور باجوڑ کے ندی نالوں میں بھی طغیانی ہوسکتی ہے۔ سسٹم کے زیر اثر 2 اپریل تک ملک کے بیشتر مقامات پر بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری متوقع ہے گلگت بلتستان، کشمیر،مری اور گلیات میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے-

  • ایران اورسعودی وزیر خارجہ کا ماہِ رمضان میں ہی ملاقات پراتفاق

    ایران اورسعودی وزیر خارجہ کا ماہِ رمضان میں ہی ملاقات پراتفاق

    ایران اور سعودی وزیر خارجہ نے ماہِ رمضان میں ہی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان رمضان میں ہی ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےجس کا مقصد دونوں ممالک کےدرمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کےمعاہدے پر عملدرآمد کرنا ہےدونوں ممالک کےوزرائے خارجہ کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسری مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں ماہ رمضان کے درمیان ہی ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی روضہ رسولؐ پر حاضری

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کی روشنی میں مشترکہ امور پر بات چیت کی جب کہ اس دوران دونوں وزرا نے ماہِ رمضان میں ہی ملاقات پر اتفاق کیا لیکن وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آسکی ہے تاہم دونوں کی ملاقات کا امکان اپریل میں ظاہر کیا جارہا ہے-

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے رواں ماہ کے شروع میں بیجنگ میں 2016 سے منقطع تعلقات کو بحال کرنے اور دو ماہ کے اندر دونوں ممالک میں سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا اس معاہدے کے بعد تینوں ممالک کی جانب سے ایک سہ فریقی اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ہر ملک کی خودمختاری کا احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا اعادہ کیا گیا۔

    رمضان المبارک میں ایک سے زیادہ عمرہ ادا کر پر پابندی عائد

    اس کے علاوہ وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا جس میں سفیروں کے تبادلے کے انتظامات اور ان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سائنس، ثقافت، کھیل اور نوجوانوں کے شعبوں میں تعاون کے لیے 1998 میں دستخط کیے گئے عمومی معاہدے کو فعال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا-

  • 28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ منگل کی شام غروب آفتاب کےبعد پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے،یہ سب سیارے چاند کے قریب موجود ہوں گے اور دنیا بھر میں ان کا نظارہ کرنا ممکن ہوگا۔

    باغی ٹی وی:ماہرین فلکیات کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعدعطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور یورینس چاند کے نیچے گولائی میں نظر آئیں گے،بیشتر سیاروں کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ یا دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم کچھ سیارے دوربین کے بغیر دکھائی نہیں دیں گے۔

    تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    ماہرین کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعد افق پراس جگہ نظرڈالیں جہاں سورج غروپ ہوا تھا تو چمکدار مشتری کو دیکھنا ممکن ہو گا جس کے ساتھ مدھم عطارد بھی ہوگا زہرہ کو آسمان پر دیکھنا سب سے زیادہ آسان ہو گا مگر اس کے قریب موجود یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی،مریخ اوپر چاند کے قریب نظر آئے گا جہاں وہ کافی روشن ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق یہ سب سیارے سیدھی لکیر میں نہیں ہوں گے مگر پھر بھی ایک وقت میں ان سیاروں کا آسمان پر نظارہ بہت خاص ہوگا کیونکہ تمام سیارے آسمان پر’موتیوں کےہار‘ کی طرح دکھائی دیں گے اور جمعےکو غروب آفتاب کے بعد ان پانچ سیاروں کا نظارہ زیادہ واضح ہوگا جسے آئندہ دو ہفتےتک دیکھا جاسکےگا 29 اور 30 مارچ کو مشتری کے علاوہ باقی سیاروں کو آپ دیکھ سکیں گے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    سیاروں کے ایک ساتھ نظر آنےکا منظر ہر چند سال بعد ہوتا ہے مگر ایک سیدھی لائن میں انہیں دیکھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ایسا جون 2022 میں ہوا تھا جو اس موقع پر عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کو دیکھا گیا تھا۔

  • انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں لارجر بینچ کے روبرو پنجاب اور کے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں کی سماعت ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اور کے پی انتخابات کے معاملے میں چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے بنایا گیا پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کررہا ہےبنچ کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے ہیں، بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہیں۔

    عدالت میں الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، تحریک انصاف کے وکلاء علی ظفر اور بیرسٹر گوہر پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر استفسار کیا کہ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ الیکشن کا شیڈول کب جاری ہوا تھا؟ آپ کے مطابق الیکشن کی تاریخ آگے کرنا درست نہیں ہے؟ الیکشن کی تاریخ میں توسیع کرنا کیسے غلط ہے آگاہ کریں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالتی حکم پر صدر نے 30 اپریل کی تاریخ مقرر کی، گورنر کے پی نے حکم عدولی کرتے ہوئے تاریخ مقرر نہیں کی، الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن شیڈول جاری کیا، الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ منسوخ کردی عدالتی حکم کی تین مرتبہ عدولی کی گئی، الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا، دوسری خلاف ورزی 90 دن کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کی ہے نگران حکومت کا مقصد انتخابات ہوتا ہے جو 90 روز میں ہونا ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ الیکشن 90 دن سے پانچ ماہ آگے کر دیئے جائیں۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ ا لیکشن کمیشن نے آئین کو یا تو تبدیل یا پھر معطل کر دیا ہے، وزارتِ داخلہ و دفاع نے سیکیورٹی اہلکاروں کی فراہمی سے انکار کیا ہے، آئین انتظامیہ کے عدم تعاون پر انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اکتوبر میں حالات ٹھیک ہوں گے؟

    جسٹس امین الدین نے کہاکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انتخابات میں ایسی وجوہات سے تاخیر ہوئی ہو، انتخابات کیلئے فنڈز کس نے فراہم کرنے ہیں؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ سپریم کورٹ آنے سے پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ انتخابات سے متعلق کیس ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا تھا،کیا سپریم کورٹ اس کیس کو سن بھی سکتی ہے یا نہیں؟. جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا اس لیے عدالت اس کیس کو سن سکتی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ وہ پولنگ کی تاریخ مقرر نہیں کرسکتا، اب الیکشن کمیشن نے پولنگ کی نئی تاریخ بھی دے دی ہے، کیا یہ الیکشن کمیشن کے موقف میں تضاد نہیں ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تمام پانچ ججز کے دستخط ہیں، ایسا نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے دو فیصلے ہوں، فیصلوں میں اختلافی نوٹ معمول کی بات ہیں۔،جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس کا جو فیصلہ تھا اس پر تو تمام ججز کے دستخط نہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرے خیال میں جج جمال خان عدالتی فیصلے پر دستخط نہ ہونے کی بات کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی حکم کی سمری پر ججز کے دستخط ہیں،اہم سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کو بدل سکتا ہے،یہ پہلی بار ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ کو بدل دیا ہے،سپریم کورٹ فیصلے بھی موجود نہیں جن میں اس طرح الیکشن کی تاریخ تبدیل کی گئی ہو،ہم نے دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس صدر کی دی گئی تاریخ کو بدلنے کا اختیار ہے یا نہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 254 کا سہارا لیا ہے، کیا ایسے معاملے میں آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جا سکتا ہے؟

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آرٹیکل 254 کا سہارا کام کرنے کے بعد لیا جاسکتا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کام کرنے سے پہلے ہی سہارا لے لیا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 254 آئین میں دی گئی مدت کو تبدیل نہیں کرسکتا، آرٹیکل 254 آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پی ٹی آئی کے وکیل سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ سے کیا چاہتے ہیں؟وکیل کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ آئین اور اپنے حکم پر عملدرآمد کرائے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہائیکورٹ کا کام ہے وکیل علی ظفر نے کہا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ مان لی تو الیکشن کبھی نہیں ہوں گے، معاملہ صرف عدالتی احکامات کا نہیں، سپریم کورٹ کا اختیار اب بھی ختم نہیں ہوا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ حکم کے راستے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ رکاوٹ بنا، سپریم کورٹ ہی بہتر فیصلہ کر سکتی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مانتے ہیں کہ الیکشن کی تاریخ میں توسیع کی گئی لیکن کیا اس کااختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے؟ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے جس کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر ہوئی،انتخابات میں تاخیر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت ہوئی، دوسری بارجب1988میں اٹوکریٹک حکومت سے ڈیموکریٹک کو قتدار منتقل ہونا تھی اس وقت ہوئی۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل الیکشن کمیشن نے پنجاب میں 30 اپریل کو شیڈول انتخابات ملتوی کرتے ہوئے 8 اکتوبر کی تاریخ دے دی تھی جبکہ گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر 8 اکتوبر کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی تھی-

    جس کے بعد تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن اور گورنر کے پی، کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے,آئینی درخواست میں وفاق، پنجاب، کے پی کے، وزارت پارلیمانی امور، وزارت قانون اور کابینہ کو فریق بنایا گیا ہے-

    تحریک انصاف نے مشترکہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئینی مینڈیٹ اور عدالت کے فیصلے سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق 30 اپریل کو الیکشن کرانے کا حکم دیا جائے۔

    سپریم کورٹ نے انتخابات ملتوی کرنے پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے گورنرز کو بھی بذریعہ چیف سیکرٹری نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل صبح 11:30 بجے تک ملتوی کردی۔

  • خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ  کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی س دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کی کیا حیثیت،کس کا نام تم نے لے لیا خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تو ہے ہی نہیں، سکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

    صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب آپ صحتیاب ہوگئے ہیں،کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہےاس پر عمران خان نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    تام انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں۔ ان کو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔

    ملک میں کس کی حکومت ہے؟ سوال کے جواب پر عمران خان نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔

  • تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    اس وقت پوری دنیا میں 3 ملین سے زائد جھیلیں پائی جاتی ہیں جو کہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے قابل ِدید ہیں۔ دنیا بھرمیں بے پناہ خوبصورتی والی جھیلیں لاتعداد ہیں، مگر کچھ جھیلیں ایسی بھی ہیں، جن کو اپنی پراسرار اور حیرت انگیز خصوصیات کے باعث مشہور ہیں ان میں ہی تنزانیہ کی مشہور پراسرار جھیل بھی شامل ہے جو ایک عرصے سے معمہ بنی رہی ہے اس جھیل میں جانے والے اکثر جانورفوعی طور پر مر جاتے ہیں اور اس طرح رک جاتے ہیں کہ گویا مجمند ہوگئے ہیں یا پھر ممی میں تبدیل ہوجاتا ہے

    اس جھیل کا نام ناترون جھیل ہےخون کی طرح سرخ رنگ کی یہ جھیل دور سے دیکھنے میں ایسی نظر آتی ہے جیسے گوشت کے بڑے بڑے پارچے اس وادی میں پھیلادیئے گئے ہوں،ایک عرصے تک جھیل کو آسیبی اور پراسرار سمجھا گیا تھا یہ جھیل تنزانیہ کے شمال میں کینیا کی سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے اور نیروبی سے تقریباً 140 کلومیٹر دور ہے، کینیا کے ایواسو نیرو نامی دریا کے پانی کی وجہ سے وجود میں آئی یہ جھیل معدنی دولت سے مالامال ہے۔

    یہ ایک نمکین پانی کی جھیل ہے جو کہ سوڈیم کاربونیٹ اور سوڈیم بائی کاربونیٹ پر مشتمل ہے- جھیل کا درجہ حرارت عام طور پر تقریباً 80 ڈگری فارن ہائیٹ رہتا ہے لیکن یہی درجہ بعض مخصوص حالات میں 140 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے یہاں کے کنارے بھی نمک کے ڈلوں پر مشتمل ہیں نمک کی زیادتی اور کسی مچھلی کی عدم موجودگی سے اسے جان لیوا جھیل بھی کہا جاتا ہے۔

    جھیل میں کثیر مقدار میں پائے جانے والے نائیٹرون کی موجودگی کا سبب قریب میں موجود آتش فشاں پہاڑ ہے،جو اب بھی سرگرم ہے، جس کی راکھ نائٹیرون میں اضافے کا سبب بنتی ہے اس سے نیٹرو کاربونائی ٹائٹس جھیل میں آتے ہیں اور الکلائن کیفیت 10 بی اپچ تک بڑھ چکی ہے یہاں بیکٹیریا ہی پائے جاتے ہیں جن کی بہتات سے جھیل سرخ ہوچکی ہے یہ اسے مزید پراسرار بناتا ہے یہ آتش فشاں اب تک 8 مرتبہ پھٹ چکا ہےاس آتش فشاں نے پہلی بار 1883 میں لاوا اگلنا شروع کیا تھا-

    یہاں فلیمنگو پرندے ملاپ کرتے ہیں۔ لیکن یہ پرندے بھی کنارے پر ہی رہتے ہیں کیونکہ نمکین جھیل گہرائی میں انہیں ہمیشہ کے لیے ساکت بنا سکتی ہے۔ جیسے ہی کوئی جانور یا پرندہ اس جھیل میں گرجائے وہ فوری طور پر مر جاتا ہے اور بہت تیزی سے اس کا جسم نمک زدہ ہوکر ایسا لگتا ہے کہ گویا پتھر کا ہوچکا ہے۔

    فلیمنگو پرندے نیٹروکاربونائی ٹائٹس کھاتے رہتے ہیں لیکن وہ کنارے تک ہی رہتے ہیں اور دور تک نہیں جاتے۔ تاہم جھیل کنارے پر بڑی تعداد میں مری ہوئی چمکادڑیں اور پرندے دیکھے جاسکتے ہیں-

    حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پراسرار جھیل کے اندر جہاں ایک طرف تو کوئی بھی جانور اور پرندہ زندہ نہیں رہ سکتا وہیں مچھلیوں کی ایک خاص قسم اس جھیل کے انتہائی زہریلے اور خطرناک ہونے کے باوجود بھی اس میں زندہ رہتی ہے۔ مچھلیوں کی اس قسم کو الکائن تِلاپیہ کہا جاتا ہے اور یہ زندہ رہنے کے لیے جھیل کے کنارے ایسے مقام کا انتخاب کرتی ہیں جہاں پانی کم نمکین ہوتا ہے-

    اس جھیل میں 19000 سال کی تاریخ بھی پنہاں ہے جھیل کنارے انسان کے 400 قدم دیکھے گئے ہیں جو ایک وقت میں جم کر پتھراگئے اور ہزاروں سال قدیم بتائے جاتے ہیں۔

  • عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی : درخواست میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹ دھمکیاں دی ہیں، فریقین کو میری گرفتاری کر کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکا جائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے-

    عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا،ہم سے بھی جو بن پڑا ہم …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو وہاں لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب دونوں میں سے ایک کا وجود ہی باقی رہنا ہے، اس لیے جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے، جس میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کام کریں یہ نہ کریں یہ جمہوری ہے، اور یہ غیرجمہوری ہے، یہ اصولی ہے اور یہ غیر اصولی، یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے

    انہوں نےکہا کہ عمران خان کےساتھ جتنے لوگ ہیں وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، انارکی پھیل چکی ہےعمران خان جس سطح پر معاملات کو لے گئے ہیں اب یا وہ سیاست سے منفی ہوں گے یا ہم ہوجائیں گے، معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت آگے جاچکے ہیں، جو بھی نتیجہ ہو اس کا ذمے دار صرف عمران نیازی ہوگا۔عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا ہے تو پھر ہم سے بھی جو بن پڑا ہم کریں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے اور رانا ثنا اللہ کے وجود کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رانا ثنا اللہ کے خلاف سارے مقدمات نیب کے تھے اور نیب کا سب کو معلوم ہے، ہمارے دور حکومت میں کسی پر مقدمات نہیں بنائے گئے مقدمات کی تعداد دیکھ لیں تو پتا لگ جاتا ہے جھوٹے مقدمات ہیں اور یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے، مجموعی طور تمام کیسز کے حوالے سے ہماری پٹیشن تیار ہوگئی ہے، صرف اسلام آباد کے 500 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 3 اپریل 1973 کو 50 سال قبل نیویارک کے شہریوں نے ایک درمیانی عمر کے شخص کو سڑک پر ایک اینٹ جیسے بڑے پلاسٹک فون ہر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا یہ موٹرولا کے ملازم مارٹن کوپر تھے اور انہوں نےایک پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس سے پہلی کال کی تھی مارٹن کوپر نے مین ہیٹن کے وسط میں کھڑے ہو کر نیو جرسی میں بیل لیبز کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی-

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    کوپر نیویارک شہر میں 53 اور 54 ویں اسٹریٹ کے درمیان سکستھ ایونیو پر 900 میگا ہرٹز بیس اسٹیشن کے قریب کھڑے ہوئے اور بیل کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی قطع نظر، یہ کال موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک بڑا قدم تھا،اب مارٹن کوپر 94 سال کے ہوچکے ہیں اور انہیں پہلی فون کال کے بارے میں زیادہ تفصیلات یاد نہیں۔

    مارٹن کوپر کو موبائل فون کا بانی تصور کیا جاتا ہے اور 2 اپریل 1973 کو کال کے لیے پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس کو استعمال کیا گیا تھا مارٹن کوپر نے موبائل فون کو اس لیے تیار کیا تھا تاکہ ڈاکٹروں اور اسپتال کےعملے کے درمیان رابطوں کو بہتر بنایا جاسکےاس وقت انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ ڈیوائس کس حد تک دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ڈینا ٹیک 8000 ایکس نامی اس ڈیوائس کی تیاری پر 10 کروڑ ڈالرز خرچ ہوئے تھے اور وہ اگلے 10 برسوں تک مارکیٹ میں پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی تھی جب اس فون کو 1983 میں پیش کیا گیا تواسےدنیا کا پہلا موبائل فون قراردیا گیا تھا جس کا وزن ایک کلوگرام سے زیادہ تھا۔

    اسے چارج کرنے کے لیے 10 گھنٹے لگتے تھے اور محض 30 منٹ تک بات کرنا ہی ممکن تھا جس کے بعد دوبارہ چارج کرنا پڑتا تھااس کی قیمت 4 ہزار ڈالرزرکھی گئی تھی جو موجودہ عہدکے 11 ہزار 500 ڈالرز(32 لاکھ پاکستانی روپے سےزائد) کے برابر ہےبیشتر کمپنیوں نے ہی اس فون کو خریدا تھا تاکہ عملے سے دفتر سے باہر بھی رابطہ کرنا ممکن ہو جائے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    دنیا کا پہلا اسمارٹ فون 16 اگست 1994 کو معروف کمپنی آئی بی ایم نے متعارف کرایا تھا جس کا نام پہلے انیگلر رکھا گیا مگر بعد میں اسے سائمن پرسنل کمیونیکٹر کہا جانے لگا یہ مارکیٹ میں دستیاب پہلا ٹچ اسکرین فون تھا جسے اسٹائلوس یا انگلی کی مدد سے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا جبکہ اس میں کیلنڈر، کیلکولیٹر، ایڈریس بک اور نوٹ پیڈ جیسے فنکشن انسٹال تھے۔