Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بھارتی اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا

    بھارتی اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی پولیس نے حراست میں لے لیا

    بالی وڈ اداکارہ عرفی جاوید کو دبئی میں نامناسب لباس پہن کر ویڈیو عکسبند کرانے پر حراست میں لے لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفی جاوید نے متحدہ عرب امارات کے قوانین کے خلاف ورزی کی اور عوامی مقام میں نازیبا لباس پہن کر ویڈیو شوٹ کی جس کے باعث انہیں دبئی کی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

    آئمہ بیگ کو انکے والد نے کیوں کہا کہ میرا نام اپنے نام سے ہٹا دو

    عرفی جاوید ان دنوں متحدہ عرب امارات کے دورے پر تھیں اور اپنے آنے والے کچھ پراجیکٹس کے لیے شوٹنگ کروارہی تھیں، اسی سلسلے میں وہ گزشتہ کچھ دنوں سے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کررہی ہیں لیکن اب وہ دبئی میں پھنس گئی ہیں-

    اداکارہ سے پولیس اس معاملے پر پوچھ گچھ کرے گی اور تحقیقات بھی کرے گی یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مقامی حکام عرفی کا ہندوستان واپس آنے کا ٹکٹ بھی کینسل کرسکتے ہیں۔

    بولی ووڈ لائف کی رپورٹ کے مطابق عرفی سے دبئی حکام کی جانب سے شوٹنگ کے مقام پر پہننے والے ظاہری لباس پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ بظاہر، عرفی کے ظاہر کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اس نے ویڈیو کی شوٹنگ کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا وہ کھلے علاقے میں تھا، جہاں لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس کا لباس بہت زیادہ ظاہر ہے اداکارہ کی ٹیم نے ترقی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

    موقع ملا تو علی ظفر کے ساتھ کام کروں گی انجمن

    خیال رہے کہ عرفی جاوید اپنے نامناسب فیشن سینس کے باعث اکثر ہی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں رہتی ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ٹرولز پر دھیان دینا بیکار ہے۔

    واضح رہے کہ عرفی جاوید کا شمار سب سے زیادہ گوگل پر سرچ کی جانے والی ایشیئن "ماسٹ سرچڈ ایشین آن گوگل 2022” میں ہوتا ہے ۔ اس لسٹ میں عرفی کا 43واں نمبر ہے جبکہ سارہ علی خان اور جھانوی کپور کو بھی عرفی سے پیچھے ہیں ۔

    بھارت کے مشہور برینڈ کی انوشکا کے ہاتھوں دھلائی

  • افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت 2 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا

    کابل: طالبان حکومت نے اپنی قید میں موجود 2 امریکی شہریوں کو رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی : خبرایجنسی کےمطابق افغان طالبان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت زیر حراست دو امریکی شہریوں کو رہا کردیا ہے جس کی تصدیق امریکی حکومت کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے طالبان کی جانب سے امریکی شہریوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی خواتین پر عائد کی جانے والی تعلیمی پابندیوں کی مذمت بھی کی ہے۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ طالبان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے اس عمل کو سمجھتے ہیں، یہ رہائی دو طرف سے کسی بھی قسم کے قیدیوں کے تبادلے پر عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی اس میں کوئی تاوان کا لین دن ہوا۔

    اس حوالے سے نیڈ پرائس نے کہا کہ قوائد و ضوابط کے تحت وہ رہائی پانے والے امریکیوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کرسکتے البتہ انہیں مناسب مدد فراہم کررہے ہیں اور وہ بہت جلد اپنے پیاروں سے مل جائیں گے۔

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مسلسل طالبان کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہےکہ اب بھی ان کی قید میں موجود امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے لیکن طالبان کی جانب سے یہ تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں کہ ان کے پاس کتنے امریکی شہری قید ہیں۔

    دونوں امریکیوں کو قطر میں رہا کیا گیا، جس نے طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان میں امریکی مفادات کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    سی این این نے رپورٹ کیا کہ ان میں سے ایک آئیور شیرر تھا، جو کہ ایک فلم ساز تھا، جسے اگست میں اپنے افغان پروڈیوسر کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اس وقت امریکی ڈرون حملے کی جگہ کی فلم بندی کرتے ہوئے جس میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    سال 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو گا،برطانوی سائنسدان

    طالبان کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹیز میں جانے پر پابندی کا اعلان اور امریکی شہریوں کی رہائی ایک ہی روز عمل میں آئے جس کی امریکہ کی طرف سے سخت مذمت کی گئی تھی، جس نے متنبہ کیا تھا کہ اس کی قیمت اسلامی عسکریت پسندوں پر عائد ہوگی۔

    امریکی اخبار کے مطابق طالبان کی قید سے رہائی پانے والے دونوں امریکی منگل کے روز قطر پہنچ گئے تاہم ان کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

  • پنجاب میں پھر آئینی بحران کا خدشہ

    پنجاب میں پھر آئینی بحران کا خدشہ

    پنجاب میں ایک بار پھر آئینی بحران کا خدشہ پید اہو گیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ چوہدر ی پرویز الٰہی کو آج اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کر رکھی ہے جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اعتماد کے ووٹ کے لیےاجلاس بلانے سے انکار کردیا ہے۔

    اسپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے رولنگ دی کہ گورنر کا وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم آئین اور رولز آف پروسیجر کے خلاف ہے۔ اعتماد کا ووٹ لینے کا معاملہ نمٹادیا۔

    سبطین خان نے گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک اجلاس چل رہا ہو تو ایوان کا دوسرا اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔

    دو صفحات پر مشتمل رولنگ میں لکھا پنجاب اسمبلی کا جاری سیشن اسپیکر نے طلب کیا۔ گورنر پنجاب اس کو ختم نہیں کرسکتے۔ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ پر اعتماد کا معاملہ صرف اس اجلاس میں زیربحث آئے گا جو خصوصی طور پر اس کیلئے بلایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عدالت اپنے فیصلے میں یہ بھی کہہ چکی ہے کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کم از کم دس دن دیئے جانا چاہیں۔ اسپیکر نے اپنی رولنگ میں مزید لکھا کہ گورنر پنجاب کی جانب سے ایوان اقبال میں بلائے گئے سیشن کی منسوخی کا آرڈر بھی جاری نہیں کیا گیا۔ اس لئے گورنر اپنے بلائے ایک سیشن کے دوران دوسرا سیشن نہیں بلاسکتے۔

    اس حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو غلط فہمی ہے کہ قانون آئین سے ماورا ہے، آئین کے مطابق گورنر پنجاب وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ گورنر کے حکم کے بعد اسپیکر کے پاس رولنگ جاری کرنے کا استحقاق نہیں رہتا۔ آئین کے مطابق اعتماد کے ووٹ کےلیے دن کا تعین گورنر نے کرنا ہوتا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے خبردار کیا ہے کہ آج اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا ورنہ پرویز الٰہی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے، عدالت بھی انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے گی پی ٹی آئی کی مزید دو دن وزارت اعلیٰ بچانے کی کوشش، ایجنڈے پر موجود تمام کارروائی جمعے تک موخر کر دی۔

    دوسری جانب نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں ماہرامور قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ایک دن میں اسمبلی کے دو سیشن ہوسکتے ہیں۔ انیس سو چھیاسٹھ اور انیس سو تہتر میں قومی اسمبلی کے دو سیشنز ہوتے تھے۔ جس دن اسپیکر نے سیشن بلایا ہو، اس دن دوسرا سیشن بھی ہوسکتا ہے اعتزاز احسن نے کہا معاملہ عدالت میں ہی جائے گا۔

  • چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    چین میں کوویڈ 19 کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا،ڈبلیو ایچ او

    چین میں ایک مرتبہ پھر عالمی وبا کورونا وائرس سر اٹھانے لگی ہے۔

    باغی ٹی وی: دارالحکومت بیجنگ سمیت چین کے مختلف شہروں میں کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ملک میں اموات بڑھنے سے شمشان گھاٹوں میں ایک کے بعد دوسرا مردہ لایا جانے لگا۔

    دوسری جانب چین میں کئی عرصے سے لگا لاک ڈاؤن ایک دم ہٹائے جانے کے سبب لوگوں میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت میں کمی کیسز میں اضافے کی اہم وجہ قرار دی جارہی ہے۔

    دوسری جانب کئی سرکردہ سائنسدانوں اور عالمی ادارہ صحت کے مشیروں کے مطابق، چین میں ممکنہ طور پر تباہ کن لہر آنے کی وجہ سے کوویڈ 19 وبائی امراض کے عالمی خاتمے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    دی گارڈین کے مطابق جب سے چین نے انفیکشن میں اضافے اور بے مثال عوامی مظاہروں کے بعد گذشتہ ہفتے اپنی صفر کوویڈ پالیسی کو ختم کرنا شروع کیا تھا۔ تخمینوں نے تجویز کیا ہے کہ چانک تبدیلی کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کو 2023 میں دس لاکھ سے زیادہ اموات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے زیرو کوویڈ اپروچ نے 1.4 بلین کی آبادی میں انفیکشن اور اموات کو نسبتاً کم رکھا، لیکن قوانین میں نرمی نے عالمی تصویر بدل دی ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا آپ اسے وبائی بیماری کے بعد کا نام دے سکتے ہیں جب دنیا کا اتنا اہم حصہ حقیقت میں صرف اس کی دوسری لہر میں داخل ہو رہا ہے ،” ڈچ وائرولوجسٹ ماریون کوپ مینس ، جو ڈبلیو ایچ او کی ایک کمیٹی میں بیٹھی ہیں جنہیں کوویڈ کی ایمرجنسی حیثیت کے بارے میں مشورہ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہیں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہم وبائی بیماری کے ایک بہت ہی مختلف مرحلے میں ہیں، لیکن میرے ذہن میں، چین میں زیر التواء لہر ایک وائلڈ کارڈ ہے۔

    جیسا کہ حال ہی میں ستمبر میں، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ، ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے کہا تھا کہ وبائی مرض کا "ختم نظر میں ہے”۔ پچھلے ہفتے، انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ 2023 میں کسی وقت ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے "پُرامید” ہیں۔

    2022 کے دوسرے نصف میں وائرس کی خطرناک نئی شکلوں یا انفیکشن کے دوبارہ سر اٹھانے کے خطرات کے طور پر زیادہ تر ممالک نے کوویڈ پابندیوں کو ہٹا دیا۔

    ٹیڈروس کے ابتدائی تبصروں نے امید پیدا کی کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی جلد ہی کوویڈ کے لیے سب سے زیادہ الرٹ لیول کو ہٹا دے گی، جو جنوری 2020 سے نافذ ہے۔

    کوپ مینز اور ڈبلیو ایچ او کی مشاورتی کمیٹی کے دیگر ارکان جنوری کے آخر میں الرٹ کی سطح پر اپنی سفارشات پیش کرنے والے ہیں۔ ٹیڈروس حتمی فیصلہ کرتا ہے اور کمیٹی کی سفارش پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے۔

    منگل کے روز، چین بھر کے شہروں میں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی، کیونکہ حکام نے مزید پانچ اموات کی اطلاع دی ہے اور بیجنگ کے وائرس کو آزاد کرنے کے حیران کن فیصلے کے بارے میں بین الاقوامی تشویش بڑھ گئی ہے-

    چین کے لیے خطرات کے ساتھ ساتھ، کچھ عالمی صحت کے اعداد و شمار نے متنبہ کیا ہے کہ وائرس کے مقامی طور پر پھیلنے سے اسے تبدیل ہونے کا موقع بھی مل سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک خطرناک نئی شکل پیدا کر سکتا ہے۔

    اس وقت، چین کا ڈیٹا ڈبلیو ایچ او اور وائرس ڈیٹا بیس GISAID دونوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں گردش کرنے والی مختلف قسمیں عالمی سطح پر غالب اومیکرون اور اس کی شاخیں ہیں، حالانکہ مکمل ڈیٹا کی کمی کی وجہ سے تصویر نامکمل ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے ماہر وائرولوجسٹ ٹام پیکاک نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ چین میں لہر مختلف قسم کی ہے، یا یہ صرف کنٹینمنٹ کی خرابی کی نمائندگی کرتی ہے۔

    ریاستہائے متحدہ نے منگل کے روز اشارہ کیا کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے وباء میں مدد کرنے کے لئے تیار ہے، اور خبردار کیا کہ وہاں بے قابو پھیلاؤ عالمی معیشت پر مضمرات کا باعث بن سکتا ہے۔

  • اے این ایف کی کاروائیاں: دوحہ،قطر اور سعودی عرب منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی

    اے این ایف کی کاروائیاں: دوحہ،قطر اور سعودی عرب منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی

    آئی این ایف (اینٹی نارکوٹکس فورس) نے کراچی سے سعودی عرب بھیجنے کے لیے تیار کیے گئے تندوروں سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی ۔

    باغی ٹی وی : ترجمان اے این ایف کے مطابق بیرون ملک منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے شاہراہ فیصل پر واقع نجی کوریئر آفس میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس میں تندور کے ذریعے منشیات جدہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

    یمن سعودی جنگ:بیرونی تجارت میں 65 بلین ڈالرسےزائد کا نقصان

    ترجمان کے مطابق اے این ایف نے 6 تندوروں میں سے مجموعی طور پر 56 کلو جذب شدہ آئس برآمد کرلی۔ کورئیر آفس کے ذریعے سامان بھجوانے والے ملزم کو منصوبے کے تحت طلب کرکے موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کی شناخت خیبر کے رہائشی اقرار احمد کے نام سے ہوئی، جو پہلے بھی راولپنڈی میں منشیات پارسل کیس میں مطلوب تھا۔

    ترجمان کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ نجی کمپنی کی بس کے ذریعے مزید 5 تندور کراچی پہنچ چُکے ہیں، جس پر اے این ایف نے 2 تندور سہراب گوٹھ کے قریب سے اور 3 لیاری کے قریب سے برآمد کر لیے گئے۔ 11 تندوروں میں سے مجموعی طور پر جذب کی گئی 88 کلو 500 گرام آئس برآمد کرلی گئی۔

    بنوں، سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ کے اندر موجود دہشتگردوں کوجہنم واصل کر دیا گیا

    دوسری جانب باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ فلائٹ نمبر PK 285 سےقطرجانے والے ملزم کے پیٹ سے 120 چرس بھرے کیپسول برآمد کرکے راولپنڈی کے رہائشی ملزم کو گرفتارکرلیا گیا۔ ملزم کی نشاندہی پر ائیرپورٹ سے اس کے ساتھی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں اے این ایف اور اے ایس ایف کی لاہور انٹرنیشنل ائیرپورٹ پرمشترکہ کارروائی میں فلائٹ نمبر QR 629 سے دوحہ جانے والے 2 ملزمان کے ٹرالی بیگ سے 7 کلو 500 گرام ہیروئین برآمد کرلی گئی، جس پر حکام نے پاکپتن کی رہائشی خاتون اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    تمام گرفتار ملزمان سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرنے کے بعد مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    نہر میں نہاتے ہوئے ایک دوسرے کو بچاتے بچاتے تین سگی بہنیں ڈوب گئیں

  • رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    پرتگال کے فٹبال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک ڈیٹا فراہم کرنے والی فرم کی جانب سے میگا ایونٹ کے دوران حاصل شدہ اعدادوشمار کی بنیاد پر بدترین الیون کا انتخاب کیا گیا-

    کراچی ٹیسٹ میں ٹاس ہارکر بولنگ کرنا ایک چیلنج تھا،بین اسٹوکس

    اس بدترین الیون میں کرسٹیانو رونالڈو بھی شامل ہیں جو ورلڈ کپ کے دوران اپنی ٹیم کی جانب سے جدوجہد کرتے دکھائی دیئے، آخری 2 میچز کی اسٹارٹنگ الیون میں انھیں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔

    رونالڈو نے اپنے ملک کے لیے صرف ایک گول کیا اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ آخری 16 کے مقابلے اور مراکش سے کوارٹر فائنل میں شکست کے لیے فرنینڈو سانتوس نے انھیں بینچ پر ڈراپ کر دیا۔

    70 سال میں پہلی بار پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش

    37 سالہ فری ایجنٹ نے مبینہ طور پر سانتوس کے ساتھ ایک گرما گرم ملاقات کے دوران پرتگالی کیمپ چھوڑنے کی دھمکی دی تھی جب اسے پتہ چلا کہ اسے سوئٹزرلینڈ کے کھیل سے نکال دیا گیا ہے، حالانکہ ملک کے ایف اے اور کھلاڑی نے اس کی فوری تردید کر دی تھی۔

    اور رونالڈو کے مصائب کو شماریات فراہم کرنے والے Sofascore کی جانب سے ورلڈ کپ کی ان کی بدترین ٹیم کے حصے کے طور پر منتخب کیے جانے سے مزید بڑھ گیا ہے۔

    بدترین الیون میں 2 آسٹریلوی اور ایک امریکی فٹبالر بھی موجود ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ کی فاتح ارجنٹائنی ٹیم کے لاؤتارو مارٹینز بھی اس بدترین الیون کا حصہ ہیں۔

    لیونل میسی نے ورلڈکپ ختم ہونے کے بعد بھی ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کردیا

  • قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    عائشہ بنت یوسف باعونیہ مرشدہ( پیدائش سنہ 1460 ء وفات21 دسمبر 1516ءدمشق) اور صوفی شاعرہ تھیں، یہ قرون وسطیٰ کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ تھیں۔ وہ بیسویں صدی کی دیگر خواتین کی بہ نسبت بجا طور پر سب سے زیادہ عربی کلام لکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادبی صلاحیت، ان کے خاندان کا صوفیانہ رجحان صاف جھلکتا ہے۔ دمشق میں پیدا ہوئیں اور وہیں وفات پائیں حالانکہ کا ان آبائی اصلی وطن اردن کا ”باعون“ شہر ہے، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے باعونیہ کہا جاتا ہے۔

    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ کے والد یوسف (مولود 805/1402 قدس، متوفی 880/1475 دمشق) صفد، طرابلس، حلب اور دمشق کے قاضی القضاۃ تھے اور اپنے مشہور خاندان ”باعونی“ کے اہم رکن تھے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے مشہور علما، فقہا اور شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ عائشہ باعونیہ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم اور خاندان کے دوسرے ذی علم حضرات سے حاصل کیا۔ ان سے قرآن، حدیث، فقہ اور شاعری پڑھی، آٹھ سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔

    عائشہ نے صوفی جمال الدین اسماعیل ہواری اور ان کے خلیفہ محی الدین یحیی اورماوی سے ملاقات کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا، دونوں مرشد پندرہویں اور سولہویں صدی کے مشہور اور عظیم مرشد تھے سنہ 1475 عیسوی میں عائشہ باعونیہ نے مکہ کا سفر کیا اور حج ادا کیا۔

    عائشہ باعونیہ کی شادی احمد بن محمد بن نقیب اشرف (متوفی 909/1503) سے ہوئی، جو دمشق کے مشہور علمی خاندان ”علید“ سے تھے۔ ان سے دو اولاد، ایک لڑکا عبد الوہاب اور ایک لڑکی برکت ہوئی۔

    قاہرہ میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 919 ہجری مطابق 1513 عیسوی میں عائشہ اور ان کے بیٹے دمشق سے قاہرہ ہجرت کر گئے، پھر 923ھ/1517ء میں دمشق واپس آ گئے۔ مصر جانے کا مقصد بیٹے کے عملی میدان کی حفاظت کرنا تھا، راستے میں ”بلبیس“ کے قریب ڈاکوؤں کے گروہ نے انھیں لوٹ لیا اور سارا سامان جس میں عائشہ کی کتابیں بھی شامل تھیں سب کو چھین لیا۔ قاہرہ میں ماں اور بیٹے محمود بن محمد بن اجا کی ضیافت میں تھے، جو مملوکی سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے خاص معتمد اور وزیر خارجہ تھے۔ ابن اجا نے علمی اور فکری حلقوں میں شامل کرنے کے لیے عائشہ کی بہت مدد کی، عائشہ نے ان کے لیے ایک تعریفی قصیدہ بھی تحریر کیا تھا۔ قاہرہ میں عائشہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی، انھیں قانون کی تعلیم دینے اور شرعی قوانین (فتاوی) جاری کرنے کا اجازت نامہ (لائسنس) میں ملا تھا اور ایک فقیہہ کی حیثیت مل گئی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 922ھ مطابق 1516ء میں سلطان الاشرف قانصوہ غوری کی حلب میں جنگ مرج دابق میں شکست کے بعد عائشہ، اپنے بیٹے، ابن اجا، شمس سفیری اور دوسرے علما کے ساتھ قاہرہسے رخصت ہو گئیں۔ یہ ان کی زندگی کا غیر معمولی حادثہ تھا۔ عائشہ باعونیہ دمشق واپس چلی گئیں، جہاں سنہ 923ھ مطابق 1517ء میں وفات ہوئی۔

    علمی کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ بیسویں صدی کی سب سے زیادہ لکھنے والی خاتون ہیں، تھامس ایمیل ہومرین کے مطابق عائشہ کے بیشتر کام ابھی تک نا معلوم ہیں، پھر بھی جو کام منظر عام پر آئے ہیں ان میں سب کچھ یہ ہیں:

    ۔ (1)دیوان الباعونیہ
    ۔ (2)درر الغائص فی بحر المعجزات و الخصائص
    ۔ (3)الفتح الحقی من فیح التلقی
    ۔ (4)الفتح المبین فی مدح الامین
    ۔ (5)الفتح القریب فی معراج الحبیب
    ۔ (6)فیض الفضل و جمع الشمل
    ۔ (7)فیض الوفا فی اسماء المصطفی
    ۔ (8)الاشارات الخفیہ فی منازل العالیہ
    ۔ (9)مدد الودود فی مولد المحمود
    ۔ (10)الملامح الشریفہ فی الآثار اللطیفہ
    ۔ (11)المورد الاہنی فی المولد الاسنی
    ۔ (12)المنتخب فی اصول الرتب
    ۔ (13)القول الصحیح فی تخمیس بردۃ المدیح
    ۔ (14)صلاۃ السلام فی فضل الصلاۃ و السلام
    ۔ (15)تشریف الفکر فی نظم فوائد الذکر
    ۔ (16)الزبدۃ فی تخمیس البردہ

  • معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور

    نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

    نام اور خاندان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔

    کلام کی قدر دانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔

    ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم ”کسان“، ”مزدور کی آواز“، ”ہماری عید“ جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔

    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات قلم بند کیں جنھیں بعد میں ”کلیاتِ کائناتِ نجم“ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔

    ہجرت اور انتقال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپریل 1971ء میں نجم آفندی ہندستان سے ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے اور 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور
    پھر ٹھہر گیا قافلۂ درد سنا ہے
    شاید کوئی رستے میں مری طرح گرا اور
    اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر
    جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور
    منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا
    تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور
    اللہ گلہ کر کے میں پچتایا ہوں کیا کیا
    جب ختم ہوئی بات کہیں اس نے کہا اور
    کیا زیر لب دوست ہے اظہار جسارت
    حق ہو کہ وہ ناحق ہو ذرا لے تو بڑھا اور
    دولت کا تو پہلے ہی گنہ گار تھا منعم
    دولت کی محبت نے گنہ گار کیا اور
    یہ وہم سا ہوتا ہے مجھے دیکھ کے ان کو
    سیرت کا خدا اور ہے صورت کا خدا اور

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے
    اداؤں میں تکلف آ نہ جائے
    تری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں
    کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے
    کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ
    زبردستی اگر بدلا نہ جائے
    محبت راہ چلتے ٹوکتی ہے
    کسی دن زد میں تو بھی آ نہ جائے
    وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں
    جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے
    ترے جوش کرم سے ڈر رہا ہوں
    دل درد آشنا اترا نہ جائے
    کہاں تم درد دل لے کر چلے نجمؔ
    مزاج درد دل پوچھا نہ جائے

  • پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم وفات

    پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم وفات

    تشکیل و تکمیل کے فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

    ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت دی۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔

    حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ابھی تو میں جوان ہوں کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں، سوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر،گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا،پھول مالی، بچوں کی نظمیں اپنے موضوع پر ایک کتاب چیونٹی نامہ، شاہنامہِ اسلام 4جلد، بزم نہیں رزم، چراغِ سحر، تصویرِکشمیر، بہار کے پھول

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو لاہور پاکستان میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
    کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

    حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی
    نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

    دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

    آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
    ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

    وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا
    جسے بت بنایا خدا ہو گیا

    یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
    بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

    وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
    میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

    دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
    کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

    کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
    کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

    بے تعلق زندگی اچھی نہیں
    زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

    بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں
    تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

    دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
    دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

    زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں
    موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے

    ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
    تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

    کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیا
    چارہ گروں نے اور بھی درد دل کا بڑھا دیا

    ہم سے یہ بار لطف اٹھایا نہ جائے گا
    احساں یہ کیجئے کہ یہ احساں نہ کیجئے

    الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا
    کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے

    ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا
    دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے

    اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ
    مانتے ہیں سب مرے استاد کو

    مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو
    کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں

    او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
    اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا

    آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
    آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے

    تشجیل و تکمیل فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

    اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر
    کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا

  • پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے

    پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے

    لاہور: پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کے شوہر انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : شیریں مزاری کےاہلخانہ کی جانب سے ان کے شوہر ڈاکٹر تابش حاضر کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔

    اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹر تابش حاضر کی نمازِ جنازہ شام 4 بجے 75 بی بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور میں اداکی جائےگی۔

    شیریں مزاری کے شوہر ڈاکٹر تاش حاضر ماہر امراض اطفال تھے۔