Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    صومالیہ میں گرنے والے غیر معمولی بڑے شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت ہوئی ہیں-

    باغی ٹی وی : مشرقی افریقہ کے ملک صومالیہ کے ایک کم آبادی والے گاؤں میں گرنے والے دو میٹر طویل اور 15 ٹن وزنی شہابی پتھر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر جامعہ البرٹا کے پروفیسر کرِس ہرڈ اور ان کےساتھیوں نے اس کا مشاہدہ کیا اوربتایا کہ اس میں دو بالکل نئی معدن موجود ہے اور تیسری نئی معدن کا شبہ بھی ہے جو سائنس کے لیے بالکل نئی ہوسکتی ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ شہابی پتھر صومایہ کے صوبے ہیران کے گاؤں ال علی میں گرا تھا اور اسی مناسبت سے اسے ’ال علی‘ کا کا نام دیا گیا ہے صومالیہ کے اس خطےمیں برسوں سے شہابی پتھر ملتے رہے ہیں اس سے 70 گرام ٹکڑا توڑ کر کینیڈا بھجوایا گیا تھا جس کےحیران کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس پتھر پر لوہا غالب ہے تاہم اس میں نئی معدنیات ملی ہیں۔

    ڈاکٹرکرس کےمطابق یہ ایک غیرمعمولی دریافت ہےکیونکہ ان میں ایلالائٹ اورایلکنسٹینٹونائٹ نامی معدنیات ہیں جنہیں اس سےقبل مصنوعی طور پرتجربہ گاہ میں بنایا گیا تھا لیکن اب آسمانی پتھر میں یہ قدرتی حالت میں ملی ہیں تاہم اب سائنسداں اسی شہابی پتھرکےمزید کچھ گوشے دیکھ رہے ہیں اور ان کا مفصل جائزہ لیں گے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    اس دریافت سے سائنسدانوں کو شہاب ثاقب اور الکا کی تشکیل کے بارے میں کچھ اہم اشارے مل سکتے ہیں ان معدنیات کی دریافت کا اعلان کینیڈا میں یونیورسٹی آف البرٹا کے سیاروں کے ماہر ارضیات کرس ہرڈ نے 21 نومبر کو اسپیس ایکسپلوریشن سمپوزیم میں کیا۔

    ہرڈ کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی نیا معدنیات ملتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اصل ارضیاتی حالات، چٹان کی کیمسٹری اس سے مختلف تھی جو پہلے ملی تھی یہی چیز اس کو دلچسپ بناتی ہے-

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

  • بھارتی اداکار پریش راول کے خلاف پولیس میں شکایت درج

    بھارتی اداکار پریش راول کے خلاف پولیس میں شکایت درج

    کلکتہ: بھارتی سینئیر اداکار پریش راول کے خلاف بنگالی مخالف تبصرہ کرنے پر پولیس میں شکایت درج کروا ئی گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ویسٹ بنگال کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے بھارتی اداکار اور بی جے پی کے رہنما پریش راول کے خلاف بنگال مخالفب تبصرہ کرنے پر کلکتہ پولیس میں شکایت درج کروا دی ہے جس میں پریش روال کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی گزارش کی گئی ہے۔

    پولیس کو لکھے شکایتی خط میں ریاستی سکریٹری محمد سلیم سلیم نے کہا کہ عوامی ڈومین پر اس طرح کی تقریر فسادات کو بھڑکانے اور ملک بھر میں بنگالی برادری اور دیگر برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کو تباہ کرنے اور عوامی فساد پھیلانے کے لیے کی گئی ہے-

    سلیم نے خط میں کہا کہ درحقیقت، مذکورہ اشتعال انگیز بیان کےحوالےسے سوشل میڈیا پر کیے گئے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ویڈیو بنگالیوں کے بارے میں بہت زیادہ منفی رائے پیدا کر رہی ہے بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد مغربی بنگال سےباہر رہتی ہےاس لیے راول کی جانب سے کیے گئے نازیبا ریمارکس کی وجہ سے انھیں متعصبانہ طور پر نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ پریش راول نے گجرات میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے بنگالیوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئےکہا تھاکہ گیس سلنڈر مہنگے ہیں لیکن وہ نیچے آئیں گے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا لیکن کیا ہوگا اگر روہنگیا مہاجرین اور بنگلہ دیشی دہلی کی طرح آپ کے آس پاس رہنے لگیں؟ کیا آپ گیس سلنڈر استعمال کریں گے؟ بنگالیوں کے لیے مچھلی پکائیں گے؟۔

    پریش راول کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارت کی بنگالی قوم میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    بعد ازاں اس تبصرے کے وائرل ہونے کے بعد اپنی ایک ٹوئٹ میں پریش راول نے بنگالی قوم سے معافی بھی مانگ لی تھی ان کا کہنا تھا کہ ’یقیناً، مچھلی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ گجراتی بھی مچھلی پکاتے اور کھاتے ہیں۔ لیکن میرا مطلب غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا تھا۔ تاہم اگر میں نے آپ کے جذبات کو تکلیف پہنچائی ہے، تو میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں‘۔

  • یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک رکھنے پر اتفاق

    یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک رکھنے پر اتفاق

    یورپی یونین کے بعد جی سیون ممالک اور آسٹریلیا نے بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل تک محدود رکھنے پر اتفاق کرلیا۔

    باغی ٹی وی : گروپ آف سیون (G7) ممالک، آسٹریلیا اور یورپی یونین نے روس کی توانائی کی فروخت کے ذریعے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں مالی اعانت کی صلاحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مہم کے ایک حصے کے طور پر روسی سمندری خام تیل پر فی بیرل کی قیمت کی حد 60 ڈالر پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی رکن کانگریس نے پاکستان کیلئے سیلاب کی امداد بڑھانے کیلئے خط لکھ دیا

    ہولڈ آؤٹ پولینڈ کی طرف سے حمایت دینے کے بعد یورپی یونین نے جمعہ کو قیمت پر اتفاق کیا، جس سے ہفتے کے آخر میں رسمی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔

    جی سیون اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے یوکرین پر روسی جارحیت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس اپنی تیل آمدن کا زیادہ حصہ یوکرین جنگ میں استعمال کررہا ہے۔

    G7 اور آسٹریلیا نے ایک بیان میں کہا کہ قیمت کی حد 5 دسمبر یا اس کے بہت جلد بعد نافذ ہو جائے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پرائس کیپ کولیشن کی تاثیر کو یقینی بنانے کے لیے مزید کارروائی پر بھی غور کر سکتا ہے مزید کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں اس بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

    قیمت کی حد، ایک G7 خیال، کا مقصد 5 دسمبر سے روسی خام تیل پر یورپی یونین کی پابندی کے نفاذ کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کو روکتے ہوئے تیل کی فروخت سے روس کی آمدنی کو کم کرنا ہے۔

    پولینڈ نے $60 کی مجوزہ سطح کی مزاحمت کی تھی اور اس نے یورپی یونین کے مذاکرات میں روس کو ہونے والی آمدنی کو کم کرنے اور جنگ کی مالی اعانت کرنے کی ماسکو کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے حد تک کم کرنے پر زور دیا تھا۔

    پولینڈ کے یورپی یونین کے سفیر اندرزیج ساڈوس نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے یورپی یونین کے معاہدے کی حمایت کی ہے، جس میں تیل کی قیمت کی حد کو مارکیٹ ریٹ سے کم از کم 5 فیصد کم رکھنے کا طریقہ کار شامل ہے۔

    امریکی حکام نے کہا کہ یہ معاہدہ بے مثال تھا اور اس نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی مخالفت کرنے والے اتحاد کے عزم کا اظہار کیا۔


    جمعہ کو بات چیت کے بعد، یورپی یونین کی صدارت، جو اس وقت جمہوریہ چیک کے پاس ہے، نے ٹویٹ کیا کہ "سفیروں نے روسی سمندری تیل کی قیمت کی حد پر ابھی ایک معاہدہ کیا ہے-

    امریکا نےپاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالےممالک کی فہرست میں شامل کرلیا

  • شوہرنے 2 کروڑروپےانشورنس کی رقم کیلئےبیوی کو ٹریفک حادثے میں قتل کرادیا

    شوہرنے 2 کروڑروپےانشورنس کی رقم کیلئےبیوی کو ٹریفک حادثے میں قتل کرادیا

    بھارت میں شوہر نے تقریباً 2 کروڑ روپے انشورنس کی رقم کیلئے بیوی کو ٹریک حادثے میں قتل کروا دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست راجستھان کے شہر جے پور کے رہائشی منیش چند نے ایک کرائے کے قاتل کو ہائر کیا جس نے اپنی کار کی ٹکر سے موٹر سائیکل پر سوار منیش چند کی بیوی شالو اور اس کے کزن راجو کو ہلاک کر دیا واقعہ اکتوبر میں پیش آیا-

    شیخوپورہ:صدر پرائیویٹ سکولز ایسویسی ایشن کے قتل پر ڈی پی او کا نوٹس

    پولیس کے مطابق منیش اور شالو کے درمیان اکثر جھگڑے رہتے تھے اور منیش نے قتل کے منصوبے سے کچھ عرصہ قبل ہی شالو کی انشورنس کرائی تھی اور 2019 میں شالو کی شکایت پر ایک مرتبہ اس کے شوہر منیش کو جیل بھی جانا پڑا تھا-

    پولیس کے مطابق منیش نے قتل کے منصوبے کے تحت اپنی اہلیہ سے کہا کہ پنڈت نے اسے کہا ہے کہ اگر اس کی اہلیہ 12 مرتبہ مندر کا دورہ کرے گی تو تم دونوں خوشحال زندگی گزارو گے جبکہ منیشن نے اہلیہ شالو کو قتل کرنے کے لیے مکیش سنگھ راٹھور نامی شخص کو 10 لاکھ کی طے کردہ رقم میں سے ساڑھے 5 لاکھ روپے ایڈوانس میں دیئے۔

    دروازے کے آگے کوڑا پھینکنے سے منع کرنے پر 22 سالہ لڑکی کی جان لے لی گئی

    پولیس کا کہنا ہے شوہر کے بار بار اصرار پر شالو نے اپنے کزن کے ساتھ موٹر سائیکل پر مندر جا رہی تھی کہ کرائے کے قاتل نے اپنی گاڑی جان بوجھ کر ان کے موٹر سائیکل سے ٹکرائی جس سے دونوں کی موت واقع ہو گئی۔

    جے پور پولیس نے منیش چند اور مکیش سنگھ راٹھور سمیت 5 افراد کو گرفتار کر کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    قصور : دن دیہاڑے ڈکیت عوام کے ہتھے چڑھ گئے، خوب دھلائی

  • امریکا نےپاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالےممالک کی فہرست میں شامل کرلیا

    امریکا نےپاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالےممالک کی فہرست میں شامل کرلیا

    امریکا نے پاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا۔

    امریکی فہرست میں سعودی عرب ، ایران،چین، شمالی کوریا، روس، تاجکستان،ترکمانستان ،برما،کیوبا،ایری ٹیریا،نکاراگوا بھی شامل ہیں آزادی مذہب کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک میں بھارت کا نام شامل نہیں کیا گیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق داعش اور طالبان کو "particular concern” لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکہ نے جمعہ کے روز چین، ایران اور روس کو دیگر کے علاوہ مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت شدید خلاف ورزیوں پر خاص تشویش والے ممالک کے طور پر نامزد کیا۔

    بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ جن لوگوں کو خاص تشویش والے ممالک کے طور پر نامزد کیا گیا ہے – جن میں شمالی کوریا اور میانمار بھی شامل ہیں – مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں میں ملوث یا برداشت کر رہے ہیں الجزائر، وسطی افریقی جمہوریہ، کوموروس اور ویتنام کو واچ لسٹ میں رکھا گیا تھا۔

    کریملن سے منسلک ویگنر گروپ، شام، افریقہ اور یوکرین میں سرگرم ایک نجی نیم فوجی تنظیم سمیت کئی گروپوں کو بھی خاص تشویش کے حامل اداروں کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ بلنکن نے کہا کہ واگنر گروپ کو وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کی سرگرمیوں پر نامزد کیا گیا تھا۔

    بلنکن نے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں، حکومتیں اور غیر ریاستی اداکار افراد کو ان کے عقائد کی بنا پر ہراساں کرتے، دھمکیاں دیتے، جیل بھیجتے اور یہاں تک کہ قتل بھی کرتے ہیں امریکہ ان زیادتیوں کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا۔

    ایلن مسک کی کمپنی ایک بار پھر الزامات کی زد میں

    انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن فہرستوں سے ہٹانے کے لیے ٹھوس اقدامات کا خاکہ پیش کرنے کے لیے تمام حکومتوں سے ملاقات کے موقع کا خیرمقدم کرے گا۔

    واشنگٹن نے مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن پر ایران پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کے لیے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک مظاہروں کے دوران خواتین نے سر پر اسکارف لہرایا اور جلایا جو ایران کے قدامت پسند لباس کوڈ کے تحت لازمی ہے۔

    امریکی وزیر خا رجہ نے کہا ہے کہ جو ممالک مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور پرامن اور خوشحال ہوتے ہیں ہم ان حقوق کی ہر ملک میں احتیاط سے نگرانی کرتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 16 ستمبر کو 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 300 سے زائد افراد ہلاک اور 14,000 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    امریکہ نے چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جہاں ایک کروڑ اویغور آباد ہیں۔

    مغرب اپنی لاقانونیت کی پردہ پوشی کرنےکی کوشش کررہا ہے:روس

    انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مغربی حکومتیں طویل عرصے سے بیجنگ پر بنیادی طور پر مسلم نسلی اقلیت کے خلاف بدسلوکی کا الزام لگاتی رہی ہیں، جس میں حراستی کیمپوں میں جبری مشقت بھی شامل ہے۔

    امریکہ نے چین پر نسل کشی کا الزام لگایا ہے۔ بیجنگ کسی بھی قسم کی زیادتیوں کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

    دیگر ممالک جن کو خاص تشویش والے ممالک کے طور پر نامزد کیا گیا وہ کیوبا، اریٹیریا، نکاراگوا، پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان تھے۔

    1998 کا یو ایس مذہبی آزادی ایکٹ صدر سے مطالبہ کرتا ہے جو سیکریٹری آف اسٹیٹ کو کام تفویض کرتا ہے – ان ممالک کو مخصوص تشویش والے ممالک کے طور پر نامزد کرے جو منظم اور جاری بنیادوں پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرتے ہیں اس ایکٹ نے بلنکن کو متعدد پالیسی ردعمل دیا، بشمول پابندیاں یا چھوٹ، لیکن وہ خودکار نہیں ہیں۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی سے متعلق امریکی خود مختار کمیشن نے بھارت کا نام لسٹ میں شامل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔امریکی کمیشن نے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم کے باعث بھارت کا نام لسٹ میں شامل کرنے کا کہا تھا۔

    واضح رہے کہ بھارت پہلے ہی امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ پر امریکا سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرچکا ہے،امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم کا ذکر کیا تھا۔

    فرانس میں ڈاکٹروں کی ہڑتال:مریض رُل گئے

  • امریکی رکن کانگریس نے پاکستان کیلئے سیلاب کی امداد بڑھانے کیلئے خط لکھ دیا

    امریکی رکن کانگریس نے پاکستان کیلئے سیلاب کی امداد بڑھانے کیلئے خط لکھ دیا

    امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے پاکستان کے لیے سیلاب کی امداد بڑھانے کے لئے خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : امورخارجہ کمیٹی کو بھیجے گئے اپنے خط میں شیلا جیکسن نے لکھا کہ سیلاب سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی امداد بڑھائی جائے انہوں نے خط میں درخواست کی کہ پاکستان کو سیلاب زدگان کی مدد کے لئے 60 کروڑ ڈالر د یئے جائیں-

    ٹی ٹین بنیادی طور پر ایک مکمل تفریحی ٹورنمنٹ ہے:آئن مورگن

    انہوں نے ایوان نمائندگان کمیٹیوں کو خط میں لکھا کہ جس طرح 2005 میں زلزلہ زدگان کے لئے50 کروڑ ڈالر دیئے گئے تھے، اس طرز پر مزید امداد بھیجی جائے۔

    اپنے خط میں امریکی کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکسن نے لکھا کہ اس امداد سے نہ صرف پاک امریکا تعلقات مزید بہتر ہوں گے، بلکہ اس سے کئی جانیں بچائی جا سکیں گی۔

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    قبل ازیں شیلا جیکسن لی نے امریکی کانگریس میں پاکستان میں تباہ کن صورتحال سے شرکا کو آگاہ کیا تھا،اپنی بریفنگ میں شیلا جیکسن نے کہا تھا کہ انہوں نے حد نگاہ پانی ہی پانی دیکھا، سیلابی پانی نے پل اورسڑکیں تباہ کر دی ہیں، لوگ ان علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، جہاں لوگوں نے پناہ لی چاہے وہ پل ہو سڑک یا کوئی اورجگہ سب پانی بہا لے گیا۔

    انہوں نے ارکان کانگریس کو بتایا تھا کہ سیلاب کا پانی نکلنے میں 6 ماہ سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے، پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، سیلاب متاثرین کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

    دنیا کے سرد ترین علاقہ میں زندگی کیسی گزرتی ہے؟

  • خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز افغانستان کے شہر اسمار سے 29 کلو میٹر دور تھا۔

    اس زلزلے کی گہرائی 94 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

    زلزلے کی وجوہات:

    زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کى وجہ سے رونما ہوتے ہيں۔ جس کى وجہ سے زلزلياتى لہريں پيدا ہوتى ہيں۔ يہ توانائى اکثر آتشفشانى لاوے کى شکل ميں سطح زمين پرنمودار ہوتى ہےاس توانائى (آتشفشانى لاوے) کے قوت اخراج سے قشر الارض کى ساختمانى تختيوں ميں حرکت پذيرى پيدا ہوتى ہے۔ لہذا اپنے دوران حرکت يہ تختياں آپس ميں ٹکراتى ہيں جسکى وجہ سے سطح زمين کے اوپر جھٹکے (tremours) پيدا ہوتے ہيں۔ اور زلزلے رونما ہوتے ہيں۔

    زلزلوں کي پیمائش ايک پيمانے پرکي جاتي ہے جسے ريکٹراسکيل کہا جاتا ہے- 1280 ميں، "زلزلوں” کو امريکہ ميں "ايورتھکوئيکينج” کہا جاتا تھا۔

    زلزلے دو قسم کے ہوتے ہيں، قدرتی وجوہات کی وجہ سے آنے والے زلزلوں کو ٹيکٹونک Tectonic زلزلے کہا جاتا ہے جبکہ انسانی سرگرميوں کی وجہ سے آنے والے زلزلے نان ٹيکٹونک Non Tectonic کہلاتے ہيں۔ ٹيکٹونک زلزلے انتہائی شدت کے بھی ہوسکتے ہيں۔ جبکہ نان ٹيکٹونک عام طور پر معمولی شدت کے ہی ہوتی ہيں۔ ايک ہی زلزلے کا مختلف علاقوں پر اثر مختلف ہو سکتا ہے چنانچہ کسی خطے ميں تو بہت زيادہ تباہی ہوجاتی ہے ليکن دوسرے علاقے محفوظ رہتے ہيں۔ زلزلے کی لہريں 25 ہزار کلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھيلتی ہيں۔ نرم مٹی اور ريت کے علاقے ميں يہ نہايت تباہ کن ثابت ہوتی ہيں۔ ان کی شدّت کا اندازہ ريکٹر اسکيل پر زلزلہ پيما کے ريکارڈ سے لگايا جاتا ہے۔ جبکہ ظاہر ہونے والی تباہی کی شدّت مرکلی اسکيل Mercally Intensity Scale سے ناپی جاتی ہے-

    دنيا ميں 50 فيصد زلزلے کوہِ ہماليہ، روکيز ماؤنٹين اور کوہِ اينڈيز ميں پيدا ہوتے ہيں اور يہ تينوں پہاڑی سلسلے اوپر بيان کردہ پٹيوں ہی ميں واقع ہيں۔ تقريباً 40 فيصد زلزلے، براعظموں کے ساحلی علاقوں اور ان کے قرُب و جوار ميں پيدا ہوتے ہيں جبکہ بقيہ 10 فيصد زلزلے دنيا کے ايسے علاقوں ميں جو نہ تو پہاڑی ہيں اور نہ ساحلی ہيں، رونما ہوتے ہيں۔

    جب زمين کی پليٹ جو تہ در تہ مٹی، پتھر اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے، کسی ارضياتی دباؤ کا شکار ہوکر ٹوٹتی يا اپنی جگہ چھوڑتی ہے تو سطح زمين پر زلزلے کی لہريں پيدا ہوتی ہيں۔ يہ لہريں دائروں کی صورت ميں ہر سمت پھيل جاتی ہيں۔ جہاں پليٹ ميں حرکت کا مرکز واقع ہوتا ہے وہ Hypo Centre کہلاتا ہے۔ اس کے عين اوپر سطحِ زمين پر زلزلے کا مرکز Epicentre کہلاتا ہے۔ يہ لہريں نظر تو نہيں آتيں ليکن ان کی وجہ سے سطح زمين پر موجود ہر شے ڈولنے لگتی ہے۔

    صديوں پہلے لوگ زلزلے کے بارے ميں عجيب وغريب رائے رکھتے تھے، مثلاً عيسائی پادريوں کا خيال تھا کہ زلزلے خدا کے باغی اور گنہگار انسانوں کے لیے اجتماعی سزا اور تنبيہ ہوتے ہيں بعض قديم اقوام سمجھتی تھيں مافوق الفطرت قوتوں کے مالک ديوہيکل درندے جو زمين کے اندر رہتے ہيں، زلزلے پيدا کرتے ہيں قديم جاپانيوں کا عقيدہ تھا کہ ايک طويلِالقامت چھپکلی زمين کو اپنی پشت پر اُٹھائے ہوئے ہے اور اس کے ہلنے سے زلزلے آتے ہيں کچھ ايسا ہی عقيدہ امريکی ريڈ انڈينز کا بھی تھا کہ زمين ايک بہت بڑے کچھوے کی پيٹھ پر دھری ہے اور کچھوے کے حرکت کرنے سے زلزلے آتے ہيں سائیبيريا کے قديم باشندے زلزلے کی ذمّہ داری ايک قوی البحثّہ برفانی کتے کے سر تھوپتے ہيں، جو ان کے بقول جب اپنے بالوں سے برف جھاڑنے کے لیے جسم کو جھٹکے ديتا ہے تو زمين لرزنے لگتی ہے –

    ہندوؤں کا عقيدہ ہے کہ زمين ايک گائے کے سينگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سينگ تبديل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہيں۔ قديم يونانی فلسفی اور رياضی داں فيثا غورث کا خيال تھا کہ جب زمين کے اندر مُردے آپس ميں لڑتے ہيں تو زلزلے آتے ہيں۔ اس کے برعکس ارسطو کی توجيہہ کسی حد تک سائنسی معلوم ہوتی ہے، وہ کہتا ہے کہ جب زمين کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پيدا ہوتے ہيں۔ افلاطون کا نظريہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ زيرِ زمين تيز و تند ہوائيں زلزلوں کو جنم ديتی ہيں تقريباً 70 سال پہلے سائنسدانوں کا خيال تھا کہ زمين ٹھنڈی ہو رہی ہے اور اس عمل کے نتيجے ميں اس کا غلاف کہيں کہيں چٹخ جاتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہيں۔ کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ زمين کے اندرونی حصّے ميں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمين غبارے کی طرح پھيلتی ہے۔ ليکن آج کا سب سے مقبول نظريہ ”پليٹ ٹيکٹونکس“ کا ہے جس کی معقوليت کو دنيا بھر کے جيولوجی اور سيسمولوجی کے ماہرين نے تسليم کرليا ہے۔

  • آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ جاری

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ جاری

    آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کا عمل جاری ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آج پونچھ ڈویژن کے 4 اضلاع راولا کوٹ، باغ، پلندری اور حویلی میں انتخابات ہو رہے ہیں، پونچھ ڈویژن میں 12 امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

    ٹھٹھہ : محکمہ ریونیومیں بڑے پیمانے پر کرپشن, کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں – وڈیرو رسول بخش جاکھرو

    پونچھ ڈویژن کے 10لاکھ 9 ہزار 160 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، چار ڈویژنز میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 36ہزار جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 80 ہزار ہے۔

    ووٹنگ کیلئے 487 وارڈز، 1873 پولنگ اسٹیشن اور 2735 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں جن میں سے 547پولنگ اسٹیشن حساس جبکہ 406 حساس ترین قراردئیے گئے ہیں۔

    شیخوپورہ:صدر پرائیویٹ سکولز ایسویسی ایشن کے قتل پر ڈی پی او کا نوٹس

    چاروں اضلاع کی 787 نشستوں پر انتخابات میں 8 خواتین سمیت 3 ہزار 859 امیدوار مدمقابل ہیں آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں 9 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

    پولنگ کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے آزاد کشمیر پولیس کے علاوہ پنجاب اور کے پی کے پولیس اور رینجرز کی 5ہزار اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

    ڈی جی خان : منظور شدہ نقشہ نہ ہونے پر رائل آرچرڈ ہاؤسنگ کالونی کو ضلعی انتظامیہ نے سیل کردیا۔

  • عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کا یوم پیدائش

    عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کا یوم پیدائش

    چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
    میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

    ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا 26؍نومبر 1952ء کو اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید منور علی اور تخلص رانا ہے ۔ان کے رشتہ دار مع دادی اور نانی، تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن ان کے والد صاحب بے ہندوستان سے اٹوٹ محبت کی وجہ سے بھارت ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ بعد میں ان کا خاندان کولکتہ منتقل ہو گیا۔ یہیں پر منور راناؔ کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔ منور راناؔ کی شاعری میں غزل گوئی ہی نے جگہ لی۔ ان کے کلام میں ” ماں” پر لکھا کلام کافی شہرہ یافتہ ہے۔ ان کی غزلیں، ہندی، بنگلہ (بنگالی) اور گرومکھی زبانوں میں بھی ہیں۔

    منور راناؔ نے اپنے کلام میں روایتی ہندی اور اودھی زبان کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کافی شہرت اور مقام ملا۔ ان کی غزلوں میں شوخی کم اور حقیقت پسندی زیادہ پائی جاتی ہے۔

    تخلیقات
    نیم کے پھول (1993ء)
    کہو ظل الہیٰ سے (2000ء)
    بغیرنقشے کا مکان (2001ء)
    سفید جنگلی کبوتر (2005ء)
    امیر خسرو ایوارڈ 2006ء

    ایوارڈز و اعزازات

    کویتا کا کبیر سمان اُپادھی 2006، اندور
    میر تقی ایوارڈ 2005ء
    شہود عالم آفاقی ایوارڈ، 2005ء، کولکتہ
    غالب ایوارڈ 2005ء، ادئے پور
    ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ 2005ء، نئی دہلی
    سرسوتی سماج ایوارڈ 2004ء
    مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی ایوارڈ 2011ء (مغربی بنگال اردو اکیڈمی)
    سلیم جعفری ایوارڈ 1997ء
    دلکش ایوارڈ 1995ء
    رئیس امروہی ایوارڈ 1993ء، رائے بریلی
    بھارتی پریشد ایوارڈ، الہ آباد
    ہمایون کبیر ایوارڈ، کولکتہ
    بزم سخن ایوارڈ، بھوساول
    الہ آباد پریس کلب ایوارڈ
    حضرت الماس شاہ ایوارڈ
    سرسوتی سماج ایوارڈ
    ادب ایوارڈ
    میر ایوارڈ
    مولانا ابوالحسن ندوی ایوارڈ
    استاد بسم اللہ خان ایوارڈ
    کبیر ایوارڈ

    منور راناؔ صاحب کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
    میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

    ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
    میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

    اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
    ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

    کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
    میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

    ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
    تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

    جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
    ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

    سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
    مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

    کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
    یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

    کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے
    کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا

    تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
    مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

    منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
    جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

    برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
    ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

    تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو
    تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

    فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں
    وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

    یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
    میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

    کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا
    اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا

    میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
    صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

    یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
    اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

    دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
    ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

    لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
    میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے

    تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
    ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں

    شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
    ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

    ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز
    بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں

    مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
    تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

    مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالے
    مٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھا

    پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی
    دستار پدستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے

    نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیں
    کہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیں

    میں اسی مٹی سے اٹھا تھا بگولے کی طرح
    اور پھر اک دن اسی مٹی میں مٹی مل گئی

    تھکن کو اوڑھ کے بستر میں جا کے لیٹ گئے
    ہم اپنی قبر مقرر میں جا کے لیٹ گئے
    تمام عمر ہم اک دوسرے سے لڑتے رہے
    مگر مرے تو برابر میں جا کے لیٹ گئے

    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • کراچی:ہجوم کے تشدد سے دو افراد کاقتل،ایک اور مطلوب ملزم گرفتار

    کراچی:ہجوم کے تشدد سے دو افراد کاقتل،ایک اور مطلوب ملزم گرفتار

    کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے دو ملازمین پر ہجوم کی جانب سے تشدد کرکے قتل کے واقعے میں ملوث ایک اور مطلوب ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس نے مچھر کالونی میں کارروائی کرکے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے 2 ملازمین کو تشدد کرکے قتل کرنے میں ملوث ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    لکی مروت: تھانہ صدر پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے دہشت گردوں کاحملہ

    پولیس کے مطابق ملزم نورزمان عرف برما کو تشدد کرکے قتل کرنے کی ویڈیو کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔

    کراچی میں گزشتہ ماہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے 2 ملازمین کو تشدد کرکے قتل کرنے کے کیس میں ملوث ایک اور ملزم کی گرفتاری کے بعد اب تک گرفتار ملزمان کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے 2 ملازمین کو 28 اکتوبر کو مچھر کالونی میں مبینہ اغوا کا الزام لگا کر مشتعل ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا تھا۔

    اب تک گرفتار ملزمان کی تعداد 40 ہوگئی ہے جبکہ واقعے کے مقدمہ میں 15 افراد کو نامزد جبکہ 200 سے 250 نامعلوم ملزمان شامل ہیں۔

    ای چالان کیلیے نصب کیمرے نکارہ ہونے سے پنجاب حکومت کو سالانہ 1 ارب کا نقصان

    واضح رہے کہ گزشتہ برس کراچی کے علاقے مچھر کالونی میں ہجوم کے تشدد سے 2 مبینہ ملزمان ہلاک ہو گئے تھے پولیس کے مطابق لوگوں کا کہنا تھا دونوں افراد بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں رنگے ہاتھوں پکڑا اور پھر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

    دوسری جانب ایس ایس پی کیماڑی فدا جانوری کا کہنا تھا کہ دونوں افراد ٹیلی کام کمپنی کے ملازم تھے، واقعے کی تمام پہلوں سے تفتیش کی جا رہی ہے، ملوث افراد کےخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    شہید پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کا نامعلوم مقام سے وضاحتی ویڈیو بیان سامنے آگیا