Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں کے خلاف اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ احتجاج سے پہلے الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ اگلے ہفتے سے دوبارہ حلقہ بندیاں شروع کرائیں ، جب حلقہ بندیاں ہی نہیں تو انتخابات کی کیا قانونی حیثیت رہی۔

    فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں،مریم اورنگزیب

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لیے الیکشن نہیں حلقہ بندیاں اہم ہیں ، آئینی قانونی اور جمہوری طریقے سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں اگر ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے تو الیکشن تسلیم ہی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی اور حیدرآباد میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات ہوئے پانچ دن ہوگئے لیکن نتیجہ اب تک نہیں آيا، موسم خراب ہے نہ برف باری، نہ ٹرن آؤٹ زیادہ ہےتوپھرانتخابی نتائج میں تاخیر کیوں؟ فافن اور الیکشن کمیشن سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ انتحابات میں دھاندلی ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدر آباد کا بلدیاتی الیکشن کالعدم قرار دے کر نیا الیکشن کرایا جائے، وہ شہر جو اسلام آباد اورسندھ حکومت کابجٹ بناتاہےاس کاخیال کیاجائےاگر بلدیاتی انتخابات میں ایسی دھاندلی ہوگی تو عام انتخابات میں کیاہوگا؟کراچی میں تین بار بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوئے پھر بھی حلقہ بندیاں ٹھیک نہ کی گئيں، الیکشن سےپہلے ہی نہیں بعد میں بھی دھاندلی کی جارہی ہے، ووٹنگ ٹرن آؤٹ بڑھانے کیلئے مختلف طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو دھمکانے کے کیس میں فواد چوہدری کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

  • راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکراکر
    اتنی تو حقیقت ہے باقی سب کہانیاں ہیں

    میلا رام وفا

    پنڈت بھگت رام کے بیٹے اور پنڈت جے داس کے پوتے،ناول نویس ،شاعر،صحافی اورحکومت پنجاب سے راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام،میلہ رام وفا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 26 جنوری1895کوگاؤں ديپوکےضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بچپن میں گاؤں میں مویشی چرانےجایا کرتے تھے۔ کئی اخباروں کےمدیرہوئے، نیشنل کالج لاہور میں اردو فارسی کےدرس و تدریس کافریضہ انجام دیا۔

    ان کو باغیانہ نظم ”اے فرنگی“ لکھنے کے جرم میں دوسال کی قید بھی ہوئی شعری مجموعے”سوزوطن“ اور”سنگ میل“ کے علاوہ ”چاندسفرکا“ (ناول)ان کی اہم کتابیں ہیں بڑے بھائی سنت رام بھی شاعرتھےاورشوق تخلص کرتے تھے ٹی آر رینا کی کتاب پنڈت میلہ رام وفا حیات وخدمات، انجمن ترقی اردو(ہند) سے2011 میں چھپ چکی ہے فلم پگلی(1943)اورراگنی(1945)کے نغمے انہی کے لکھے ہوئے ہیں۔

    بارہ سال کی عمرمیں شادی ہوئی 17سال کی عمرمیں شعر کہنا شروع کیا پنڈت راج نارائن ارمان دہلوی کے شاگرد ہوئےارمان داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔اردوکےمشہورومعروف رسالہ ”مخزن“ کے مدیررہے اور لالہ لاجپت رائے کے اردو اخبار ”وندے ماترم“ کی ادارت بھی کی۔ مدن موہن مالویہ کے اخبارات میں بھی کام کیا ویر بھارت میں جنگ کا رنگ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے ان کاانتقال جالندھر پنجاب میں 19 ستمبر 1980 کو ہوا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
    اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
    تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
    یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی
    ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

    عالم ہے ترے پرتو رخ سے یہ ہمارا
    حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

    تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر
    ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک

    راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے
    آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
    لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے

  • مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی

    مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی

    پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مفکر، مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ تھے۔

    ابتدائی زندگی
    پروفیسر احمد حسن دانی کشمیری الاصل تھے۔ وہ 20 جون 1920ء کو بسنہ، چھتیس گڑھ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئانہوں نے 1944ء میں جامعہ بنارس ہندو سے ایم اے کیا۔ وہ اس ادارے سے ایم اے کی ڈگری لینے والے پہلے مسلمان طالبِ علم تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ میں ملازمت اختیار کر لی اور پہلے ٹیکسلا اور اُس کے بعد موہنجوڈارو میں ہونے والی کھدائی میں حصّہ لیا۔

    ڈھاکہ
    ۔۔۔۔۔
    آثارِ قدیمہ میں اُن کی بے حد دلچسپی کے پیشِ نظر انھیں برطانیہ کی حکومت نے تاج محل جیسے اہم تاریخی مقام پر متعین کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور ڈھاکہ میں فرائض انجام دینے لگے۔ تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی میں پروفیسر دانی نے محسوس کر لیا تھا کہ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کو عوام تک پہنچانے کے لیے عجائب گھروں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ 1950ء میں انھوں نے وریندر میوزیم راجشاہی کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں ڈھاکہ میوزیم کا ناظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے بنگال کی مسلم تاریخ کے بارے میں کچھ نادر تاریخی نشانیاں دریافت کیں جو آج بھی ڈھاکہ میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

    غیر ملکی دورے
    ۔۔۔۔۔۔
    متحدہ ہندستان میں انگریز ماہرین کے تحت کام کرتے ہوئے پروفیسر دانی کے دِل میں اس بیش بہا تاریخی، ثقافتی اور تمدنی خزانے کو دیکھنے کی تمنّا پیدا ہوئی تھی جو انگریزوں نے اپنے طویل دور میں جمع کر لیا تھا۔ پروفیسر دانی کی یہ خواہش بیس پچیس برس بعد اس وقت پوری ہوئی جب خود ان کا نام تاریخ اور عمرانیات کے مطالعے میں ایک حوالہ بن چُکا تھا۔ سن ستر کی دہائی میں انھیں انگلستان اور امریکا کے طویل مطالعاتی دوروں کا موقع مِلا۔

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    احمد حسن دانی کو ان کی اعلٰیٰ ترين علمی خدمات کے صلے ميں حکومت پاکستان نے ستارہ امتياز اور ہلال امتياز سے نوازا۔ خود اُن کے علم و بصیرت کی چکا چوند جب مغربی دنیا میں پہنچی تو آسٹریلیا سے کینیڈا تک ہر علمی اور تحقیقی اِدارہ اُن کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی دوڑ میں پیش پیش نظر آنے لگا۔ امریکا، برطانیہ فرانس اور آسٹریلیا کے علاوہ انہیں جرمنی اور اٹلی میں بھی اعلٰی ترین تعلیمی، تدریسی اور شہری اعزازات سے نوازا گیا۔

    گندھارا
    ۔۔۔۔۔
    گندھارا تہذیب میں بے پناہ دلچسپی کے باعث پروفیسر دانی کا بہت سا وقت پشاور یونیورسٹی میں گزرا۔ اسی زمانے میں انھوں نے پشاور اور لاہور کے عجائب گھروں کی تزئینِ نو کا بیڑا بھی اُٹھایا۔ 1971 میں وہ اسلام آباد منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے قائدِاعظم یونیورسٹی میں علومِ عمرانی کا شعبہ قائم کیا اور 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی سے منسلک رہے۔

    ریٹائرمنٹ
    ۔۔۔۔۔
    ریٹائر ہونے کے بعد انھیں پتھروں پر کندہ قدیم تحریروں میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور اواخرِعمر تک وہ گلگت، بلتستان، چترال اور کالاش کے علاقوں میں، آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہرین کی معاونت سے قدیم حجری کتبوں کے صدیوں سے سربستہ راز کھولنے کی کوشش میں مصروف رہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    حسن دانی گردے اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔ 22 جنوری 2009ء کو انہیں پمز ہسپتال اسلام آباد لایا گیا جہاں ان کے علاج کی کوشش کی گئی لیکن 26 جنوری 2009ء وہ 88 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

  • ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    انیتا نائر کی پیدائش 26 جنوری 1966 کو ہوئی۔وہ ایک ہندستانی ناول نگار ہیں جو اپنی کتابیں انگریزی زبان میں لکھتی ہیں۔

    ابتدائی زندگی
    نائر کیرالہ کے پلوکاد ضلع کے شورانور میں پیدا ہوئیں۔ نائر نے کیرالہ واپس آنے سے پہلے چنئی (مدراس) میں تعلیم حاصل کی جہاں انھوں نے انگریزی زبان و ادب میں بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے شوہر سریش پرم باتھ اور ایک بیٹے کے ساتھ بنگلور میں رہتی ہیں۔

    کیریئر
    نائر بنگلور میں ایک اشتہاری ایجنسی کے تخلیقی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب ”سب وے کے ستیر“ نامی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ لکھا جسے انہوں نے ہار آنند پریس کو فروخت کیا۔ اس کتاب نے ورجینیا سینٹر برائے تخلیقی فنون کی رفاقت حاصل کی۔

    نائر کی دوسری کتاب پینگوئن انڈیا نے شائع کی تھی اور یہ کسی ہندستانی مصنف کی پہلی کتاب تھی جوپیکاڈر امریکہ کے ذریعہ شائع ہوئی تھی۔ افسانہ نگار اور شاعری کے لیے بہترین فروخت ہونے والی مصنف نائر کے ناولوں دی بیٹر مین اور لیڈیز کوپ کا 21 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ نائر کا ناول دی بیٹر مین (2000) یورپ اور امریکہ میں بھی شائع ہوا ہے۔

    2002 میں ، ملیبار منڈ کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا۔ 2001 سے انیتا کا دوسرا ناول لیڈیز کوپ اب تک ہندستان سے باہر 15 ممالک جن میں امریکہ , ترکی ، پولینڈ , پرتگال بھی شامل ہیں ناقدین اور قارئین دونوں میں بہت پسند کیا گیا۔ کوپ ناول مردانہ غلبہ پانے والے معاشرے میں خواتین کے حالات کے بارے میں ہے جسے بڑی بصیرت، یکجہتی اور مزاح کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

    لیڈیز کوپ 2002 کی پہلی پانچ کتابوں میں سے ایک قرار دی گئی تھی اور اسے دنیا بھر کی پچیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کچھ دوسری کتابیں بھی لکھی ہیں جیسے مسٹریس (2003) ، ایڈونچرز آف نونو، اسکیٹنگ اسکوائرل (2006)، لیونگ نیکسٹ ڈور ٹو ایلیس (2007) اور میجیکل انڈین میتھس (2008)۔ نائر کے کاموں میں بہت سارے سفری مقامات بھی شامل ہیں نائن فیکس آف بائیننگ ڈرامے کے ساتھ ، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنف انیتا نائر ڈرامہ نگار بھی بن گئی ہیں۔

  • جرمنی  نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینکوں سے مسلح کرنے کی منظور دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے حکومتی ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے کہا کہ جرمن حکومت کی جانب سے ٹینکوں کی پارٹنر ممالک سے ری ایکسپورٹ کی بھی منظور دی گئی ہے۔

    یوکرین کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے استفعے دے دئیے

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے جرمن چانسلر اولاف شولز کا شکریہ ادا کیا اور کیف کو روس کے ساتھ جاری جنگ میں ٹینکوں سے لیس کرنے کے فیصلے کو انتہائی اہم اور بروقت فیصلہ قرار دیا۔

    دوسری جانب اپنے رد عمل میں روس نے جرمنی کی جانب سے یوکرین کو لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغرب کی اشتعال انگیزی قرار دے دیا۔

    2019 میں پاکستان اوربھارت جوہری جنگ کے قریب تھے،امریکی مداخلت نے کشدگی کو…

    روس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرائم کے بعد خود پر عائد ہونے والی تاریخی ذمہ داری کو بھول چکا ہے یوکرین کو بھاری اسلحہ فراہم کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب جنگ کو بھڑکا رہا ہے۔

  • امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    ایک امریکی کمپنی نے ایشیا کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی کمپنیوں کو اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری میں ملوث قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص اس وقت گرے جب امریکی سرمایہ کار ہندنبرگ ریسرچ نے کہا کہ وہ اس گروپ کے اسٹاک کو کم کر رہی ہے اور ایشیا کے سب سے امیر آدمی کی ملکیت والی فرموں پر اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری کا لازما لگا رہی ہے-


    اڈانی سے متعلقہ اداروں کے بانڈز اور حصص اس وقت گر گئےجب ہندن برگ، جو کہ مختصر فروخت میں مہارت رکھتی ہے، ایک امریکی سرمایہ کاری ریسرچ فرم نے ٹائیکون کی کمپنیوں کے بارے میں دو سال کی تحقیقات کے بعد مبینہ کارپوریٹ بدعنوانی کے وسیع پیمانے پر الزامات لگائے۔


    امریکا کی شارٹ سیلنگ کمپنی ہندن برگ کی جانب سے اس حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے،رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم اپنی 2 سالہ تحقیقات کے نتائج کو جاری کررہے ہیں اورایسے شواہد پیش کیے جارہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ 17.8 ٹریلین (218 ارب امریکی ڈالرز) مالیت کا اڈانی گروپ دہائیوں سے اسٹاک کی ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ اسکیم میں ملوث ہے۔


    اڈانی پورٹ کے ساتھ اڈانی سے وابستہ اسٹاک گر گئے 5 فیصد سے زیادہ کا نقصان۔ اڈانی پاورکے حصص کی قیمت 4.5 فیصد سے زیادہ گر گئی اور اڈانی ٹرانسمیشن بھی تقریبا 5 فیصد کم ہو گیا-


    رپورٹ میں تو گوتم اڈانی کے گروپ آف کمپنیز کے لیے کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے باز کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔


    رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے اڈانی گروپ کے آف شور فنڈز کے حوالے سے امریکی کمپنی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اوران ضوابط کو نافذ کرنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے اڈانی کمپنیوں کو ڈی لسٹ کرنا پڑے گا۔

    رپورٹ میں متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اڈانی خاندان کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات بھی دی گئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ ان کمپنیوں کو کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کی چوری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


    دوسری جانب اڈانی گروپ نے ہندنبرگ کی رپورٹ کو "منتخب غلط معلومات کا بدنیتی پر مبنی مجموعہ” قرار دیا اور مزید کہا کہ یہ "ہمیشہ تمام قوانین کی تعمیل کرتی رہی ہے۔

    گروپ کے چیف فنانشل آفس جوگیشندر سنگھ نے غیر ملکی خبررساں ادارے سی این بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ رپورٹ کی اشاعت کا مقصد واضح طور پر اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ہے ہنڈن برگ نےہم سےرابطہ کرنے یاحقائق پرمبنی میٹرکس کی تصدیق کرنے کی کوئی کوشش کیے بغیر” اپنی رپورٹ شائع کی۔


    بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، 2008 میں ارب پتی بننے کے بعد سے، اڈانی اب 119 بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اگست میں، کمپنی نے ہندوستانی میڈیا گروپ NDTV کے مخالفانہ قبضے کی کوشش کی، جس نے ایک فائلنگ میں کہا کہ یہ اقدام اس کے بانیوں سے "بغیر کسی رضامندی کے” کیا گیا تھا۔

  • بابر اعظم آئی سی سی کرکٹر آف دی ائیر بن گئے

    بابر اعظم آئی سی سی کرکٹر آف دی ائیر بن گئے

    دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کردی-

    بابر اعظم آئی سی سی کرکٹر آف دی ائیر بن گئے بابر اعظم آئی سی سی کرکٹر آف دی ائیر کا ایوارڈ حاصل کرنیوالے دوسرے پاکستانی بن گئے بابر اعظم اس سے پہلے او ڈی آئی کرکٹر آف دی ائیر 2022 بھی قرار پائے بابر اعظم کو آئی سی سی ون ڈے ٹیم آف دی ائیر 2022 کا کپتان بھی بنایا گیا ہے

    آئی سی سی کی جاری کردہ نئی رینکنگ کے مطابق مینز ون ڈے بیٹنگ پلئیرز رینکنگ میں کپتان بابر اعظم 887 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کے راسی وین ڈیر ڈوسن 766 پوائنٹس کے ساتھ دوسری اور کوئنٹن ڈی کاک 759 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن پر قابض ہیں۔

    آئی سی سی نے مینز اور ویمنز ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر کا اعلان کر دیا

    رینکنگ میں آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر 747پوائنٹس کے ساتھ چوتھی اور قومی ٹیم کے اوپنر امام الحق 740 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر قابض ہیں۔

    بھارت کے ویرات کوہلی کو ان کے ہم وطن شبمن گِل نے ایک درجہ نیچے دھکیل دیا ہے، وہ 734 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ کیرئیر بیسٹ چھٹے نمبر پر آگئے ہیں جبکہ کوہلی ایک درجے تنزلی کے بعد 727 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہیں۔

    آئی سی سی نے راولپنڈی وکٹ کا ڈی میرٹ پوائنٹ واپس لے لیا

    نیوزی لینڈ کے خلاف 3 سال بعد سینچری اسکور کرنے والے بھارتی ٹیم کے کپتان کی ٹاپ 10 واپسی ہوئی ہے جبکہ اسٹیو اسمتھ کی رینکنگ میں ایک درجے تنزلی ہوئی ہے۔

    بولرز کی رینکنگ میں بھارت کے محمد سراج پہلے نمبر پر پہنچ گئے ہیں، ٹاپ 10 میں شامل واحد پاکستانی شاہین شاہ آفریدی کی آٹھویں پوزیشن ہے۔

    دوسری جانب ون ڈے ٹیم رینکنگ میں بھارت نے سری لنکا کے بعد نیوزی لینڈ کو بھی ہوم ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ مکمل کرکے آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں 144 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔

  • 95ویں”آسکر ایوارڈز” کی نامزدگیوں کا اعلان،”جوائے لینڈ” جگہ بنانے میں ناکام

    95ویں”آسکر ایوارڈز” کی نامزدگیوں کا اعلان،”جوائے لینڈ” جگہ بنانے میں ناکام

    فلمی دنیا کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے 95 ویں ’آسکر ایوارڈز‘ کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا-

    باغی ٹی وی : بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کی کیٹیگری میں جوائے لینڈ ،جرمن فلم ’آل کوائٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ‘، ارجنٹائن کی ’ارجنٹائن 1985‘، بیلجئن کی فلم ’کلوز‘، پولش فلم ’ای او‘ اور آئرلینڈ کی ’دی کوائٹ گرل‘ کو نامزد کیا گیا ہے۔

    اجے دیوگن پٹھان کی ایڈوانس بکنگ پرخوش

    فلم ‘ایوری تھنگ ایوری وئیر آل ایٹ ونس’ 11 نامزدگیوں کے ساتھ سب سے آگے رہی،ہالی وڈ کی اس سائنس فکشن فلم کو بہترین فلم، بہترین ڈائریکٹر، بہترین اداکارہ، بہترین معاون اداکارہ اور بہترین معاون اداکار سمیت دیگر شعبوں کے لیے نامزد کیا گیا۔

    95 ویں آسکر ایوارڈز میں بہترین فلم کے لیے ایوری تھنگ ایوری وئیر آل ایٹ ونس کے علاوہ اواتار دی وے آف واٹر،TÁR، ایلوس، The Fabelmans ، The Banshees of Inisherin، ٹاپ گن میورک،جرمن فلم آل کوائٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ، ٹرائی اینگل آف سیڈنس اور Women Talking کے درمیان مقابلہ ہوگا۔


    The Banshees of Inisherin کو مجموعی طور پر 9 ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا، خاص طور پر اداکاری کے شعبوں میں اس کے 4 اداکار مقابلہ کریں گے، جبکہ ملالہ یوسفزئی کی حمایت یافتہ دستاویزی فلم’اسٹرینجر ایٹ دی گیٹ‘ کو بھی آسکرز میں جگہ مل چکی ہے۔


    The Fabelmans کو بہترین ڈائریکٹر سمیت مجموعی طور پر 7 ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا،ٹاپ گن میورک کے حصے میں 6 نامزدگیاں آئیں مگر ٹام کروز خود بہترین اداکار کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ پہلی جنگ عظیم کے پس منظر پر بننے والی فلم آل کوائٹ آن دی ویسٹرن فرنٹ اور ایلوس کو 8 ، 8 ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا۔

    غیر ملکی فلموں کی کیٹیگری میں صائم صادق کی ہدایت کردہ پاکستانی فلم جوائے لینڈ جگہ بنانے میں ناکام رہی البتہ بھارتی فلم ‘آر آر آر’ کا گانا ناتو ناتو بہترین اوریجنل گانے کی کیٹیگری میں نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

    یاد رہے کہ 95 ویں اکیڈمی ایوارڈز کا میلہ 12 مارچ کو لاس اینجلس میں سجے گا جس میں نامزد ہونے والوں کو فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

    اداکارہ کنگنا رناوت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا

  • گیس کی فراہمی کےحوالےسے بلوچستان کےساتھ امتیازی رویہ ناقابل برداشت ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گیس کی فراہمی کےحوالےسے بلوچستان کےساتھ امتیازی رویہ ناقابل برداشت ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ شہر میں بڑھتے ہوئے گیس حادثات کے باعث اموات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعلئ نے وفاقی حکومت سے گیس کمپنی کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں گزشتہ چند دنوں میں گیس حادثات میں دس سے زائد افراد زندگی گنوا چکے ہیں ۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز

    وزیراعلئ نے کہا کہ شدید سرد موسم میں شہریوں کو گیس میسر نہیں بلوچستان طویل عرصہ تک ملک کی گیس کی ضروریات پوری کرتا رہا ہے آج جب ہمیں گیس کی ضرورت ہے تو گیس دستیاب نہیں گیس کی فراہمی کے حوالے سے بلوچستان کے ساتھ امتیازی رویہ ناقابل برداشت ہے۔

    میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ آج جب صوبائی حکومت نے ایس ایس جی سی کے دفتر سے رابطہ کیا تو کوئی بھی زمہ دار فرد موجود نہیں تھا وزیراعلئ بلوچستان نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر توانائی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا-

    کراچی ایئرپورٹ پر مسافر سے ایک لاکھ سے زائد ڈالر اور سونا برآمد

    انہوں نے کہا کہ گیس کمپنی کے رویہ کے باعث شہریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے گیس کی عدم دستیابی کے باعث امن امان کی صورتحال خراب ہونے کا احتمال ہے جس کی زمہ دار گیس کمپنی ہوگی-

  • خلیجی ممالک کی کمپنیاں ایمازون ، ٹویٹراورگوگل سےفارغ ہونیوالےباصلاحیت ماہرین کواپنےہاں لانےکیلئےکوشاں

    خلیجی ممالک کی کمپنیاں ایمازون ، ٹویٹراورگوگل سےفارغ ہونیوالےباصلاحیت ماہرین کواپنےہاں لانےکیلئےکوشاں

    خلیجی ممالک میں بڑی تجارتی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی سطح کےانتہائی اہم اداروں میں کام کر چکے افراد فراہم کرنے کے لیے کوشاں ذمہ داروں نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنیاں ایمازون ، ٹویٹر اور گوگل سے فارغ ہونے والے بہترین اور باصلاحیت ماہرین کو اپنے ہاں لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    باغی ٹی وی : واضح رہے بڑی بین الاقوامی کمپنیوں جن میں ایمازون ، گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ وغیرہ نے حالیہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران اپنے کارکنوں کی بہت بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اسپاٹی فائی کا دنیا بھرمیں 6 فیصد ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    العربیہ کے مطابق بہترین تجربے کے ٹیلنٹ کو نئی کمپنیوں میں کھپانے کے لیے مارکیٹ میں کئی ریکروٹمنٹ کمپنیاں سرگرم ہو گئی ہیں۔ جو ان کارکنوں اور خلیجی اور سعودی کمپنیوں کے درمیان پل کا کام کر رہی ہیں۔

    ریکروٹمنٹ کمپنی کلاؤڈ سورس کےمینجنگ ڈائریکٹر جیمز ٹوفیری اس سلسلے میں خوب متحرک ہیں جیمز ٹوفیری کے مطابق اس صورت حال نے ٹیلنٹ کی ایک نئی مارکیٹ کا دروازہ کھول دیا ہے اس لیے یہ موقع ہے کہ مختلف کمپنیاں اس تجربہ کار ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھالیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن میں مائیکرو سافٹ نے اپنے سٹاف میں کمی کا فیصلہ کیا ہے 2022 میں یہ ادارہ دو بار اپنے کارکنوں کی تعداد میں کمی کر چکا ہے ایمازون نے جنوری سے اپنے 18000 کارکناوں کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے اسی طرح گوگل کی ‘ پیرنٹ کمپنی الفا بیٹ ‘ نے 12000 کارکنوں کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ