Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • حارث کے نکاح کے بعد شاداب خان کے دل میں بھی شادی کے لڈو پھوٹنے لگے

    حارث کے نکاح کے بعد شاداب خان کے دل میں بھی شادی کے لڈو پھوٹنے لگے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حارث روؤف کے نکاح کے بعد شاداب خان بھی شادی کے شادیانے بجانے کیلئے بے چین ہوگئے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز فاسٹ بولر حارث رؤف روز اپنی کلاس فیلو مزنا مسعود ملک کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھےحارث رؤف کا نکاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا تھا جس میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی تھی-

    حارث رؤف کا نکاح ہو گیا،سی ای او لاہور قلندرز،عاقب جاوید،شاہین اور شاہد آفریدی کی…

    حارث رؤف کے نکاح کی تقریب میں قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی، فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی، لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید، سابق ٹیسٹ کرکٹر ریاض آفریدی اور سی ای او لاہور قلندرز ثمین رانا بھی شریک ہوئے۔

    فاسٹ بولر کو ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے نکاح کی مبارکباد دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے قومی ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان کی جانب سے بھی دلچسپ انداز میں مبارکباد دی گئی ہے۔

    فرانسیسی وزیر نے فٹبال ورلڈ کپ جیتنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو غیر مہذب قرار دے دیا

    ٹوئٹر پر حارث کے نکاح کی ایک ہنستی مسکراتی تصویر شیئر کرتے ہوئے شاداب نے لکھا کہ اتنا گلو اور اتنی خوشی، لگتا ہے میرا ٹائم بھی اب آنے والا ہے-

  • اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے،ازقلم: غنی محمدد قصوری

    اقلیتوں کا احترام کیجئے نا کہ اپنا عقیدہ خراب کیجئے

    ازقلم غنی محمدد قصوری

    آج 25 دسمبر کا دن ہے اور پوری دنیا میں سرکاری چھٹی ہےیہ دن عیسائیوں کے ہاں خاص دن ہے کیونکہ آج ان کی عید ہے جسے وہ Happy Christmas Day بھی کہتے ہیں-

    اسلام جہاں مسلمانوں کو پوری آزادی سے زندگیاں گزارنے کا اختیار دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کو بھی اختیار ہے کہ پوری آزادی سے رہیں بشرطیکہ دین اسلام پر کھلا وار نا کریں جس کی مثال قرآن نے ایسے بیان کی ہے

    تمہارا دین تمھارے ساتھ اور میرا ( دین ) میرے ساتھ
    (سورۃ الکافرون آیت 6)

    دین اسلام میں جبر بھی نہیں ہے کیونکہ یہ دین کامل ہے اسلام میں جبر کی ممانعت قرآن میں ایسے کی گئی ہے –

    لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ
    قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
    فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰى لَاانْفِصَامَ لَہَا
    وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴿256﴾

    "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہوچکا اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے-”

    اس آیت سے ثابت ہوا دین اسلام کا نام لے کر کسی پر سختی بھی نہیں کی جا سکتی مگر حدیث رسول نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی بڑی سختی سے منع فرمایا ہے

    حدیث رقم ہے کہ عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم. من تشبہ بقوم فہو منہم

    جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے-
    (سنن أبي داؤد)

    غور کیجئے کفار کے مشابہت اختیار کرنے ان کو مبارکباد دینے پر اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان انہی میں سے ہے
    آخر یہ آج کا دن یعنی عیسائیوں کی عید ہے کیا ؟ اس بارے جانتے ہیں Happy Christmas Day کا معنی ہے میلاد عیسیٰ مبارک ہو-

    حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کے دن کو عیسائی ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اس دن عیسائی ایک دوسرے کو ایسے مبارکباد دیتے ہیں جیسے ہم مسلمان اپنی عیدین پر ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس دن Merry Christmas کہہ کر مبارکباد دی جاتی ہے یعنی ولادت عیسی علیہ السلام مبارک ہو-

    عیسائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہمارے مسلمان بھی اس دن ان کو خوب مبارکباد دیتے ہیں جس کا جواز اکثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مبارکباد ہماری عیدین پر دیتے ہیں-

    ہماری عیدین پر ان کی طرف سے عید مبارک کہا جاتا ہے جس میں کوئی ایسے ٹکراؤ کے الفاظ موجود ہی نہیں جبکہ جب ہم ان کی عید کی مبارک باد ان کو دیتے ہیں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ معاذاللہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں اور آج ان کا جنم دن ہے

    اس بابت قرآن نے سورہ مریم آیت 88 تا 92 میں بڑی سختی سے ایسے تردید کی ہے

    "یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے(ایسی بات کہنے والو) حقیقت یہ ہے کہ تم نے بڑے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے
    کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین پھٹ جائے، اور پہاڑ ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں، کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو-”

    معاذاللہ کتنے سخت الفاظ میں قرآن اس عقیدے کی ممانعت کر رہا ہے جبکہ ہم دنیاوی دکھلاوے کی خاطر آج ان عیسائیوں کو مبارکبار پیش کرکے اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں

    خداراہ اقلیتوں کا احترام ضرور کیجئے مگر آج کے دن کی ان کو مبارکباد دے کر اپنا عقیدہ خراب نا کیجئے
    اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دیئے ورنہ

    نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دیئے ورنہ

    نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دیئے ورنہ
    تمھی تو میرے جیسے تھے تمہیں تو میرا ہونا تھا

    معروف شاعرہ لبنیٰ صفدر 25 دسمبر 1978ء پنڈی بھٹیاں میں ہوئیں ان کی تصنیفات میں کبھی الوداع نہ کہنا-2008، بارشوں کے موسم میں-2008، یہ ہجر ہے یا وصال ہے-2006، محبت آئنہ کرلو-2005، تمھیں تومیراہونا تھا-2004، خوشبو ہے وہ صندل کی شامل ہیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا
    تری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھا

    ملن کے موسموں میں جانے کیوں میں بھول بیٹھی تھی
    تجھے بھی شہر کی اس بھیڑ میں اے دوست کھونا تھا

    فقط اپنے خیالوں سے نہ باندھو یوں مرے دلبر
    کبھی دیتے رہائی مجھ کو بھی کچھ دیر سونا تھا

    گرا ہے تو کئی ٹکڑوں میں وہ بکھرا پڑا ہوگا
    تمہارے نم سے ہاتھوں میں جو شیشے کا کھلونا تھا

    نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دئے ورنہ
    تمہی تو میرے جیسے تھے تمہیں تو میرا ہونا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب
    عشق اپنا مزاج ہے صاحب

    دشت کی ریت ہے بہت پیاسی
    آبلوں کا خراج ہے صاحب

    پاس حرمت نہیں ہے لفظوں کی
    کیسا وحشی سماج ہے صاحب

    آپ کو بھول ہی نہیں پاتی
    میرا کوئی علاج ہے صاحب

    سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا
    نفرتوں کا رواج ہے صاحب

    کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں
    جو بھی کل تھا وہ آج ہے صاحب

    میرا حصہ نہیں مقدر میں
    یہ مرا احتجاج ہے صاحب

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خزاں کی شام کو زخم بہار کس نے کیا
    ہر ایک ریشۂ گل رنگ بار کس نے کیا

    خوشی وصال کی ساری سمیٹ لی تو نے
    فراق لمحوں کو بولو شمار کس نے کیا

    ہر ایک شخص یہاں بد گمان تجھ سے تھا
    نگاہ یار ترا اعتبار کس نے کیا

    یہ میرے گھر کی اداسی گواہی دے گی تجھے
    کہ تیرے ہجر کے دریا کو پار کس نے کیا

    متاع جاں کو کیا خاک کس نے تیرے لئے
    یہ خاک جاں ہی بتائے گی پیار کس نے کیا

    وفا میں جان لٹانے کے بعد بھی لبنیٰؔ
    مرے خلوص محبت پہ وار کس نے کیا

  • تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    صوفیہ بیدار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام:. صوفیہ صنم
    قلمی نام اور تخلص: صوفیہ بیدار
    تاریخ پیدائش:25دسمبر 1964ء
    جائے پیدائش:سیالکوٹ
    نام والد:عبد اللہ ادیب
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات:
    خاموشیاں
    تاراج

    صوفیہ بیدار صاحبہ اردو اور پنجابی کی نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، کالم نگار،صحافی اور بیوروکریٹ ہیں۔ ان کی تحریروں میں ملکی و معاشی اور معاشرتی مسائل کو بہترین پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ملکی اور بیرون ملک ادبی تقاریب اور مشاعروں میں خصوصی طور پر بلائے جاتے ہیں۔ قارئین اخبارات میں چھپنے والے ان کے کالمز ہزاروں کی تعداد میں بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور متاثر ہوتے ہیں ، میں بھی قارئین کی اس فہرست میں شامل ہوں۔ صوفیہ بیدار کی اردو اور پنجابی شاعری بہت عمدہ اور خوب صورت ہوتی ہے ۔ وہ ایک افسر اعلی کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں وہ ڈائریکٹر آرٹس کونسل کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
    جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

    مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
    کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا

    جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں
    خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا

    جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
    اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
    آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا

    یوں چھو کے در دل کو پلٹ آتا ہے واپس
    اک وہم محبت کا کہ گویا نہیں جاتا

    اب صوفیہؔ اس طرح سے دل پہ نہیں بنتی
    اب اشکوں سے آنچل کو بھگویا نہیں جاتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے
    رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

    اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں میرے
    وہ اپنے ہاتھ سے مورت میری بناتا ہے

    وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے
    پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

    ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے
    یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ہے

    وفا کا لکھتا ہے انجام عشق سے پہلے
    پھر اس کے بعد نگر پیار کا بساتا ہے

    تمھارے ہوتے ہوئے خاک ہو گئی کیسے
    تمھارے ساتھ مرا کس طرح کا ناتا ہے

    رکا ہوا ہے جو منظر وہ اس کا حصہ ہے
    بھلا لکیر سے باہر بھی کوئی آتا ہے

  • پولٹری ایسوسی ایشن نےمرغیوں کی فیڈ‌ کےبحران کاخدشہ ظاہر کر دیا

    پولٹری ایسوسی ایشن نےمرغیوں کی فیڈ‌ کےبحران کاخدشہ ظاہر کر دیا

    چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن نے مرغیوں کی فیڈ‌ کے بحران کا خدشہ ظاہر کر دیا-

    باغی ٹی وی:چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن غلام محمد پٹھان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بندرگاہ پر سویا بین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں مل رہی جس کے باعث پولٹری کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب سے تین لاکھ سے زائد گھروں کونقصان،لاکھوں ایکڑ پرکاشت فصلیں تباہ…

    چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن غلام محمد پٹھان کا کہنا تھا کہ درآمدی سویابین کےجہاز 12 اکتوبرسے بندرگاہ پرکھڑے ہیں جن میں 100 ارب روپے مالیت کا سویا بین ہے تاہم حکومت کی جانب سے بندرگاہ پرسویابین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں مل رہی۔

    انہوں نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری کے پاس صرف 7 دن کا فیڈ اسٹاک ہے، جہازوں کی کلیئرنس میں تاخیرسے پولٹری انڈسٹری میں بحران ہوگا جبکہ ایک کلو مرغی کا گوشت ایک ہفتے میں 150 روپے بڑھ چکا ہے۔

    قبل ازیں رواں مہینے کے شروع میں ایک پریس کانفرنس میں پولٹری مالکان کا کہنا تھا کہ سویابین اور کنولا پولٹری فیڈ میںاستعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں،اس وقت پورٹ پر 6 لاکھ ٹن سے زائد سویابین موجود ہے، جو کلیئر نہیں کیا جارہا جبکہ پولٹری مالکان نے سویابین کی درآمد کے سلسلے میں درآمدکنندگان کو 44کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں بھی کردی ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم کیلئے تحریک انصاف پنجاب کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالے گی

    ان کا کہنا تھا کہ وزارت غذائی تحفظ اور دیگر وزارتوں کے سویا بین کے درآمدکنندگان سے جو بھی معاملات ہیں، انہیں فوری طور پر طے کیا جائے اور بندرگاہ پر موجود سویابین کی کلیئرنس کے احکامات جار ی کئے جائیں تاکہ ملک بھر میں پولٹری صنعت کو فوری طور پر فیڈ کی فراہمی بحال کی جاسکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں پولٹری مالکان یومیہ 38 لاکھ مرغیاں اور ساڑھے تین کروڑ انڈے فراہم کررہے ہیں، اگر پولٹری کی صنعت کیلئے فوری طور پر فیڈ کی فراہمی کا معاملہ طے نہ کیا گیا تو ایک ماہ کے اندر ملک بھر میں مرغی اور انڈوں کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ پولٹری کی لگ بھگ50فیصد سے زائد صنعت اس وقت بند ہوچکی ہے اور اگر یہ صنعت مکمل طور پر بند ہوگئی تو مجموعی طور پر نہ صرف25لاکھ کے قریب افراد بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ ملک میںغذائی عدم تحفظ کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

    معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

  • بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بانی پاکستان قائدِ اعظم محمدعلی جناح کا 146واں یوم پیدائش آج انتہائی عقیدت، احترام اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں بابائے قوم کے مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی تقریب میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کیڈٹس نے مزارِ قائد کی سکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالیں-

    تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عمر نسیم تھے جنھوں نے گارڈز کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈز نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر نسیم کو جنرل سلام پیش کیا اورمہمانوں کی کتاب پرتاثرات بھی درج کیے تقریب میں پاک فضائیہ کےکیڈٹس گارڈز کے فرائض پاکستان آرمی کے کیڈٹس کےحوالے کیے گئے۔

    گورنرسندھ، وزیراعلیٰ اور کمشنر کراچی مزار قائد پر حاضری دیں گے جبکہ تینوں افواج کے نمائندے، ڈی جی رینجرز بھی مزار قائدپر حاضری دیں گے۔

    خیال رہے کہ قائد کے مزیر پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب سال میں 3 بار، 14 اگست، 6 ستمبر اور 25 دسمبر کو منعقد ہوتی ہےتقریب میں نیوی، ائیر فورس اور پی ایم اے کاکول کے کیڈٹس بالترتیب ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔

  • حارث رؤف کا نکاح ہو گیا،سی ای او لاہور قلندرز،عاقب جاوید،شاہین اور شاہد آفریدی کی شرکت

    حارث رؤف کا نکاح ہو گیا،سی ای او لاہور قلندرز،عاقب جاوید،شاہین اور شاہد آفریدی کی شرکت

    قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے اپنی ہم جماعت مزنا مسعود ملک سے نکاح کر لیا۔

    باغی ٹی وی :حارث رؤف کا نکاح اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں ان کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی۔

    اس کے علاوہ حارث رؤف کے نکاح کی تقریب میں قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی، فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی، لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید، سابق ٹیسٹ کرکٹر ریاض آفریدی اور سی ای او لاہور قلندرز ثمین رانا بھی شریک ہوئے۔


    قبل ازیں حارث رؤف اور مزنا مسعود ملک کی نکاح کی تیاریوں کی تصاویر منظر عام پر آئی تھیں مزنا کی ویڈیوز اسلام آباد میں واقع ایک نجی بیوٹی سیلون نے شیئر کیں تھیں جس میں حارث سمیت مزنا کے ناموں کے ہیش ٹیگ کا استعمال کیا گیا۔

    ان ویڈیوز میں مزنا کی مہندی کے خاصے چرچے ہوئے کیونکہ انہوں نے مہندی پر حارث کے نام کا ایچ آر اور ان کی بولنگ کی رفتار 150 لکھوایا دوسری جانب حارث روؤف کی بھی شیروانی پہنی تصویر سامنے آئی –


    اس سے قبل کرکٹر کو کئی ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں نے زندگی کے سب سے بڑے دن کے لیے مبارکباد بھی دی تھی آل راؤنڈر شاداب خان نے بھی حارث کو مبارکباد پیش کی اور دعا دی کہ اللہ دونوں کو خوش رکھے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=FYfHgxlqNEE
    افغان اسپنر راشد خان سمیت ساتھی کرکٹرز نے حارث رؤف کو مبارک باد دی،سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے راشد خان نے کہا کہ حارث امید ہے آپ ٹھیک ہوں گے، میری طرف سے آپ کو شادی مبارک ہو، میری دعا ہے کہ اللہ آپ دونوں کو خوش اور کامیاب رکھے، اپنا خیال رکھیں،پاکستان آؤں گا تو آپ کی شادی کی خوشیاں دوبارہ منائیں گے، میری نیک خواہشات آپ دونوں کے ساتھ ہیں، امید آپ اچھے ہوں گے۔


    زمبابوے کے کرکٹر سکندر رضا اور نمیبیا اور پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے ڈیوڈ ویزا نے قومی کرکٹر حارث رؤف کو نکاح کی مبارکباد پیش کی ہے۔

    ڈیوڈ ویزا نے ویڈیو میں کہا کہ ‘ہیری، نکاح کی مبارک ہو، آپ کی اور آپ کی اہلیہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں، خدا آپ دونوں کو خوشیوں بھری زندگی عطا کرے۔

    پی ایس ایل کے آئندہ سیزن میں قلندرز کا حصہ بننے والے سکندر رضا نے بھی حارث کو مبارکباد دی اور پیغام میں کہا کہ ‘حارث آپ کو زندگی کی دوسری طرف خوش آمدید، امید کرتا ہوں یہ نئی زندگی بھی اتنی کامیاب رہے گی جتنا کریئر کامیاب رہا ‘دعا کرتا ہوں، یہ نئی زندگی آپ کے لیے ڈھیروں خوشیاں لائے، میری اور میری فیملی کی آپ کے لیے بہت سی دعائیں ہیں’۔


    اس کے علاوہ لاہور قلندرز کی فرنچائز سے منسلک دیگر کھلاڑیوں نے بھی حارث کو مبارکباد پیش کی۔

  • روس: اولڈ ہوم میں لگنے والی خوفناک آگ میں 20 معمر افراد ہلاک

    روس: اولڈ ہوم میں لگنے والی خوفناک آگ میں 20 معمر افراد ہلاک

    ماسکو: روس کے ایک اولڈ ہوم میں لگنے والی آگ میں 20 معمر افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: تاس نیوز ایجنسی کے مطابق سائبیریا کے شہر کیمیروو کے ایک اولڈ ہاؤس میں لگنے والی آگ میں دوسری منزل جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی جس میں 20 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ متعدد زخمی ہیں۔

    فرانسیسی وزیر نے فٹبال ورلڈ کپ جیتنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو غیر مہذب قرار دے دیا

    فائر بریگیڈ کے عملے نے دوسری منزل میں لگی آگ پر قابو پالیا۔ 4 افراد بری طرح جھلس کر شدید زخمی ہوگئے جنھیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

    امدادی کاموں کے دوران ہوا کے کم دباؤ کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔ خوفناک آتشزدگی میں ہلاک ہونے والے برزگ شہریوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ لواحقین کی بھی تلاش جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اولڈ ہاؤس بغیر رجسٹریشن کے قائم کیا گیا تھا اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نکلنے کے لیے انخلا کا راستہ بھی نہیں تھا۔ تاحال آگ لگنے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔

    امریکا: کیپیٹل ہل حملے اور ہنگاموں پر پارلیمانی کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ جاری کردی

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔

    درجنوں فائر فائٹرز کو تعینات کیا گیا تھا اور ہفتہ کی صبح آگ پر قابو پالیا گیا تھا خطے کے گورنر نے کہا کہ اب اسی طرح کی تمام سہولیات کا معائنہ کیا جائے گا۔

    مقامی فائر سروس کے اہلکاروں نے تاس کو بتایا کہ بوڑھوں کے لیے بہت سے غیر رجسٹرڈ گھر پورے روس میں کام کر رہے ہیں۔ اس طرح، انہیں نجی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور وہ فائر سیفٹی معائنہ کے تابع نہیں ہوتے تھے۔

    2018 میں، 60 افراد جن میں 37 بچے بھی شامل تھے کیمیروو میں تفریحی مرکز میں آگ لگنے سے ہلاک ہوئے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ یوکرین روس جنگ میں‌ اب براہ راست شریک ہوچکا:روس

  • بھارتی ریاست بہار میں پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر 5 افراد گرفتار

    بھارتی ریاست بہار میں پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر 5 افراد گرفتار

    بھارتی ریاست بہار میں پاکستان کے حق میں نعرہ لگانے پر 5 افراد کو گرفتارکرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں بہار کے بھوجپور میں کئی نوجوانوں کی پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ مبینہ طور پر یہ واقعہ چنڈی گاؤں میں پیش آیا جہاں بیڈمنٹن میچ میں اپنی جیت کا جشن منانے والے لوگوں کےایک گروپ نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔

    بھارتی اسٹیٹ بینک سے چوروں نے سرنگ کھود کر کروڑوں روپے مالیت کا سونا چرا لیا

    بھوجپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ پاکستان کے حق میں نعرے لگانے والے تمام افراد کی شناخت کے بعد ایف آئی آر درج کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ایک مقامی گارڈ (چوکیدار) کے بیان کی بنیاد پر محمد ارمان، محمد تنویر، کالو اور سونو نامی پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔


    بھارتی میڈیا کے مطابق کوئلاوار بلاک کے چنڈی کے نربیر پور ٹولہ میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ ہو رہا تھا۔ بدھ کی رات فائنل میچ میں کوئلاور کا مقابلہ چندی سے ہوا۔ کئی پنچایت نمائندوں اور کوئیلاوار بلاک کے لیڈروں نے بھی ٹورنامنٹ میں شرکت کی ایک گروپ نے بیڈمنٹن مقابلے میں جیت کے بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے-

    بھارتی اداکارہ کی دھمکیوں سے تنگ فیملی نے زہر کھا لیا، ویڈیو وائرل

    پولیس اس طرح کے نعرے لگانے میں ملوث دیگر افراد کو پکڑنے کے لیے ویڈیو کی تحقیقات کر رہی ہے۔


    واقعے کے حوالے سے ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں 40 سے 50 افراد کا ہجوم پاکستان کے حق میں نعرے لگانے پر نوجوانوں کو پکڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔ بھیڑ نے ملزم نوجوانوں کو ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مخالف نعرے لگانے پر بھی مجبور کیا۔

    لبنانی اداکارہ اسٹیفنی سلیبا کی جائیداد اور اثاثے منجمد

  • بھارتی اسٹیٹ بینک سے چوروں نے سرنگ کھود کر کروڑوں روپے مالیت کا سونا چرا لیا

    بھارتی اسٹیٹ بینک سے چوروں نے سرنگ کھود کر کروڑوں روپے مالیت کا سونا چرا لیا

    بھارت کے اسٹیٹ بینک میں چور وں نے فلمی انداز اپناتے ہوئے سرنگ کھود کر لاکرز سے تقریباً ایک کروڑ بھارتی روپے (2 کروڑ 73 لاکھ پاکستانی روپے) مالیت کا سونا چرا لیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں چوری کی ایسی انوکھی واردات کی گئی کہ حکام بھی دنگ رہ گئے۔

    اتر پردیش کے کانپور میں جمعہ کو بینک ڈکیتی کا ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ چور جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کانپور میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) کے اسٹرانگ روم میں 10 فٹ لمبی سرنگ کے ذریعے داخل ہوئے اور 1 کروڑ روپے کا سونا چوری کر لیا لیکن حیران کن طور پر چوروں نے 35 لاکھ روپے کے کرنسی نوٹوں کو ہاتھ تک نہ لگایا اور صرف سونا لیکر چلے گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق جب اگلی جمعہ بینک کا عملہ دروازے کھول کر اندر داخل ہوا تو لاکرز کھلے دیکھ کر حیران رہ گیا، عملے کی جانب سے فوری طور پر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی گئی اور بینک کی سی سی ٹی وی دیکھی گئی لیکن اس میں بھی چوروں کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا۔

    پولیس نے سراغ رساں کتوں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کیا تو 10 فٹ طویل سرنگ کا انکشاف ہوا پولیس نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے ایس بی آئی کی بھانوتی برانچ سے متصل ایک خالی پلاٹ سے تقریباً چار فٹ چوڑی سرنگ کھودی تھی۔

    لاکر کھولنے کے لیے نامعلوم چوروں نے گیس کٹر کا استعمال کیا۔ انہوں نے الارم سسٹم کو غیر فعال کر دیا اور اسٹرانگ روم میں موجود واحد سی سی ٹی وی کیمرہ کو دوسری طرف موڑ دیا۔

    بینک حکام کے مطابق، چوروں نے 1.8 کلو گرام سونا چرا لیا جس کی مالیت تقریباً 1 کروڑ روپے تھی۔

    پولیس اور فرانزک حکام جنہوں نے ‘ڈکیتی’ کی تحقیقات کیں، بینک کے اسٹرانگ روم سے متصل ایک خالی پلاٹ سے کھودی گئی سرنگ اور جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی ملی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ویسٹ) وجے دھول کو شبہ ہے کہ اس جرم کے ارتکاب میں بینک کے کچھ اندرونی افراد بھی ملوث ہیں۔

    دھول نے کہا، "یہ کسی اندرونی کا کام ہو سکتا ہے جس نے ماہر مجرموں کی مدد سے جرم کو انجام دیا۔ ہمیں اسٹرانگ روم سے انگلیوں کے نشانات سمیت کچھ لیڈز ملے ہیں، جو ڈکیتی کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔”

    ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ چوروں نے علاقے کی تلاشی لی ہوگی اور وہ بینک کی تعمیر و فن تعمیر کے ساتھ ساتھ اسٹرانگ روم اور سونے کے صندوق سے بھی واقف تھے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کانپور میں واقعہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی برانچ 1969 سے قائم ہے جس میں 1997 میں بھی اسی طرز کی چوری ہوئی تھی۔