Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

    پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

    بھارتی دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے۔

    بھارت آج اپنا سالانہ بجٹ پیش کرے گا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے حکومتی منصوبے سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارہ 4.2 فیصد جی ڈی پی تک محدود رکھے گی اور قرض 49-51 فیصد تک لانے کی کوشش کرے گی، جبکہ مجموعی قرض 16–16.8 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 3.1 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکس اور درآمدی محصولات میں ممکنہ اصلاحات برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کی جا سکتی ہیں۔

    عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

    فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) نے دفاعی صنعتی کارڈورز، برآمدی پروموشن کونسل اور معاہداتی مینوفیکچرنگ کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔

    بزنس ریکارڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کو کہیں زیادہ آسان بنانے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ ہونے والے مختصر مگر شدید تصادم کے بعد دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کی قومی کوششوں کا حصہ ہے۔

    پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

    ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت دفاعی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد کو موجودہ لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کے لیے آٹومیٹک روٹ کے تحت 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کرنے جارہی ہے آٹومیٹک روٹ کے تحت سرمایہ کاری کے لیے حکومتی منظوری درکار نہیں ہوتی۔

    فی الحال دفاعی سرمایہ کاری میں 74 فیصد تک حصہ داری صرف اس وقت ممکن ہے جب سرمایہ کار نئی لائسنس یافتہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں۔ حکومت اس شرط کو بھی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے کہ 74 فیصد سے زائد سرمایہ کاری صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا باعث بنے۔ ماہرین کے مطابق اس شرط کی تشریح مبہم رہی ہے۔

    انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

    یہ ترامیم غیر ملکی دفاعی پارٹنر ممالک کی کمپنیوں کو بھارتی منصوبوں میں اکثریتی شیئر حاصل کرنے میں مدد دیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی آئندہ چند ماہ میں لاگو ہوسکتی ہے۔ دفاعی اور تجارتی وزارتوں نے اس پیشرفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا حکومت ایک اور شرط ختم کرنے والی ہے جس کے مطابق برآمداتی کمپنیوں کے لیے بھارت کے اندر مرمت اور سروس سپورٹ یونٹ قائم کرنا لازمی تھا سابق دفاعی افسر امیت کوشی کا کہنا ہے کہ اس شق کے خاتمے سے غیر ملکی سرمایہ کاری مزید کشش اختیار کر لے گی۔

    اگرچہ بھارت میں لاک ہیڈ مارٹن، رافیل، اور ایئربس سمیت کئی بڑی کمپنیاں شراکت داری کے ذریعے پہلے سے موجود ہیں، مگر گزشتہ 25 برسوں میں دفاعی شعبے میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری محض 26.5 ملین ڈالر رہی ہے۔

    ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی

    گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں اضافے کی کوشش تیز کردی ہے اور 2026-27 کے لیے بجٹ میں 20 فیصد اضافہ طلب کیا ہے حکومت کا ہدف دفاعی پیداوار کو تقریباً دگنا کرکے 33.25 ارب ڈالر تک پہنچانا اور 2029 تک برآمدات کو 5.5 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔ 2024-25 میں دفاعی برآمدات 12 فیصد اضافے کے ساتھ 2.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

  • عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

    عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کی تشخیص ہوئی ہے

    ماہرین امراض چشم کے مطابق یہ عارضہ عموماً عمر رسیدہ افراد میں پایا جاتا ہے اور اس کا تعلق دل اور خون کی نالیوں سے جڑے خطراتی عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے ہوتا ہے سی آر وی او اس وقت ہوتا ہے جب ریٹینا (آنکھ کے پردے) سے خون واپس لے جانے والی مرکزی رگ، جسے سینٹرل ریٹینل وین کہا جاتا ہے، بند ہو جاتی ہے، جو عموماً خون کے لوتھڑے (clot) کے باعث ہوتا ہے اس رکاوٹ کے نتیجے میں خون کی روانی متاثر ہو جاتی ہے، جس سے ریٹینا میں سوجن، رطوبت اور خون کا رساؤ اور بعض اوقات آنکھ کے اندر خون بہنے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اس کے باعث نظر اچانک یا بتدریج کمزور ہو سکتی ہے۔

    سی‌آر وی او کے مریضوں کو قریبی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کچھ مریضوں میں چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اس بیماری کو بعض اوقات غیر رسمی طور پر “سو دن کا گلوکوما” بھی کہا جاتا ہے، جو دراصل نیو ویسکیولر گلوکوما کی طرف اشارہ ہے یہ ایک پیچیدگی ہے جو شدید ریٹینل وین اوکلوژن کے بعد پیدا ہو سکتی ہے، جب غیر معمولی نئی خون کی نالیاں بنتی ہیں اور آنکھ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

    ماہرِ چشم جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ یہ صرف آنکھوں کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ جسم میں موجود خون کی نالیوں کی بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے مریض کی مجموعی صحت کی سخت نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

    عمران خان کے معاملے میں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی نظر کم ہونے پر تفصیلی معائنہ کیا گیا، جس میں ریٹینا کی امیجنگ اور آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) شامل تھی یہ معائنہ اڈیالہ جیل میں کیا گیا ان نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹروں نے اسپتال میں فالو اَپ علاج کا مشورہ دیا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے رات گئے انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تاکہ تجویز کردہ طریقۂ علاج کیا جا سکے۔

    پمز میں عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف دوا کا آنکھ کے اندر انجیکشن دیا گیا، جو ریٹینا کی سوجن (جسے میکولر ایڈیما کہا جاتا ہے) کم کرنے اور خون کی نالیوں سے ہونے والے رساؤ کے باعث مزید نقصان کو روکنے کے لیے ایک معیاری علاج ہے ماہرِ چشم کے مطابق اس نوعیت کے انجیکشن عموماً ماہانہ بنیادوں پر لگانے پڑتے ہیں، خاص طور پر علاج کے ابتدائی مرحلے میں،زیادہ امکان ہے کہ انہیں ہر ماہ مزید انجیکشنز کی ضرورت پڑے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریٹینا علاج پر کس طرح ردِعمل دیتا ہے۔

    انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

  • انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

    انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

    انڈر 19ورلڈ کپ کے انتہائی اہم میچ میں پاکستان نے بھارت کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان ٹیم کی قیادت فرحان یوسف کررہے ہیں اور بھارتی ٹیم ایوش مہاترے کی کپتانی میں میدان میں اتری ہے،اس موقع قومی ٹیم کے کپتان فرحان یوسف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچ پر نمی کی وجہ سے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ، یہ نیا گراؤنڈ ہے لیکن ہماری تیاری پوری ہے، اچھی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کریں گے۔

    کپتان قومی ٹیم فرحان یوسف نے کہا کہ ہرارے اور اس گراؤنڈ میں زیادہ فرق نہیں ، ہم اچھا کھیلیں گے،گزشتہ 3سے 4میچز میں کھلاڑیوں نے اچھی پرفارمنس دکھائی ہےہمارے کھلاڑیوں نے اچھا کھیلا ہے،علی رضا اور سبحان نے بہت اچھی بالنگ کی ہے۔

    پاکستان کو سیمی فائنل میں رسائی کیلئے بڑے مارجن سے میچ جیتنا ہوگا جبکہ اگر بھارت پاکستان انڈر 19 ٹیم کو کسی بھی مارجن سے مات دیتا ہے تو سیدھا سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔ انگلینڈ، افغانستان اور آسٹریلیا پہلے ہی فائنل 4 کا ٹکٹ کٹوا چکے ہیں۔

  • پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

    پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

    پاکستان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آج متوقع ہے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی آج شام وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہونے کی توقع ہےچیئرمین پی سی بی کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد آج فیصلہ ہونے کا امکان ہے اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو پلان بی بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم شاہینز اور انڈر 19 ٹیم کو چار ٹیموں میں تقسیم کر کے لاہور میں ٹورنامنٹ کروانے کی تجویز دی گئی ہے اگر پاکستان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرتا ہے تو اس کے بعد آفیشل کٹ کی رونمائی تقریب ہو گی۔

    ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی

    پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

    دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

  • ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی

    ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا۔

    سعودی فوج سے وابستہ ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا۔‘‘سعودی عہدیدار نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے سہ فریقی مذاکرات کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ نو عیت کا ہے اور دوطرفہ ہی رہے گا۔

    ایک خلیجی عہدیدار نے بھی سعودی مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارا دفاعی تعلق مکمل طور پر دوطرفہ ہے ترکیہ کے ساتھ ہمارے الگ دفاعی معاہدے موجود ہیں، تاہم پاکستان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کسی تیسرے ملک کو شامل نہیں کرتا۔

    پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

    یہ وضاحت ان خبروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں رواں ماہ کے آغاز پر ایک ترک عہدیدار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکیہ اس ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا اعلان گزشتہ برس کیا گیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات اٹھا ئے گئے، خصوصاً اس معاہدے کے ممکنہ جوہری پہلو کے حوالے سے، کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہےتاہم سعودی حکام کی حالیہ وضاحت کے بعد اس تاثر کو رد کر دیا گیا ہے کہ اس دفاعی تعاون میں ترکیہ یا کوئی اور ملک شامل ہوگا، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہی محدود رہے گا۔

    دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

  • پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات

    پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی ایک طویل اور خونچکاں لہر کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے لے کر آج تک، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصانات برداشت کیے ہیں۔ لاکھوں جانیں متاثر ہوئیں، ہزاروں شہری، فوجی جوان، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شہید ہوئے، جبکہ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔

    اس سنگین صورتحال کے جواب میں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، انٹیلیجنس اداروں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے انتہا پسندی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں کمزور کیا۔ ان کامیابیوں کے پیچھے صرف ریاستی ادارے ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی عوام کی عظیم قربانیاں بھی شامل ہیں، جنہوں نے امن کے قیام کے لیے بے مثال حوصلہ اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔

    بدقسمتی سے، ان تمام قربانیوں کے باوجود پاکستان کا امن بار بار سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ متعدد مواقع پر پاکستان نے شواہد کے ساتھ اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان، خصوصاً بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ بلوچستان کا افسوسناک واقعہ، جس میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں، ایک بار پھر عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے:آخر ان معصوم لوگوں کا قصور کیا تھا؟-

    بلوچستان ہو یا پاکستان کے دیگر شہر، دہشت گردی کا ہر واقعہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ کسی بھی ریاست کی جانب سے پراکسیز، خفیہ نیٹ ورکس اور تشدد کے ذریعے ہمسایہ ملک کو غیر مستحکم کرنا بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    یہ وقت ہے کہ امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور تمام عالمی طاقتیں محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کروائیں۔ بھارت کو جوابدہ بنایا جائے اور اسے ایسے اقدامات سے روکا جائے جو پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

    امن یکطرفہ کوششوں سے قائم نہیں رہ سکتا اگر عالمی برادری واقعی دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی خواہاں ہے تو اسے دوہرے معیار ات ترک کر کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑی ہو،خاموشی اب غیرجانبداری نہیں، بلکہ ناانصافی کے مترادف ہے۔

  • دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے۔

    سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہےصوبے میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے، دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گادہشتگردی پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی کمزوری یا ابہام کی گنجا ئش نہیں، پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کا مقابلہ جاری رکھے گا اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو جلد امن کا گہوارہ بنائے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو دنوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔

    قبل ازیں سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان صبر سے کام لیں کیونکہ بہت جلد بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو رہا کرا لیا جائے گا آج کارکنوں میں جو جذبہ نظر آ رہا ہے ایسا جوش انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھابانی پی ٹی آئی کی بیماری کو پارٹی، وکلا اور حتیٰ کہ ان کے خاندان سے بھی چھپایا گیا جبکہ ذاتی معالج تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنوں کے جذبے اور عمران خان کے درمیان صرف چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ تھوڑا انتظار کریں، انشاء اللہ اپنے لیڈر کو رہا کرائیں گےانہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا آپریشن رات کے اندھیرے میں کیا گیا اس کے بعد 5 دن تک پوری قوم سے یہ حقیقت چھپائی گئی اور قوم سے جھوٹ بولا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ان کے ذاتی معالج سے کروائی جائے تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہوا وہ اڈیالہ جیل کے باہر دو دن تک موجود رہے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی بعض بااثر عناصر نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے قائد سے ملاقات نہیں کر سکے۔

  • لاہور میں  5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان

    لاہور میں 5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان

    لاہور: پنجاب حکومت نے لاہور میں 4 فروری سے 8 فروری تک 5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان کر دیا۔

    صوبائی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق تعطیلات کا آغاز 4 فروری کو شب برات سے ہو گا۔ جبکہ 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقع پر قومی تعطیل ہو گی اس کے بعد 6 سے 8 فروری تک بسنت کی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس کے نتیجے میں شہریوں کو مسلسل 5 دن کی چھٹیاں میسر آئیں گی، ان تعطیلات کے دوران اسکول، کالجز اور سرکاری دفاتر بند رہیں گے تاکہ شہری بسنت کی تقریبات میں شرکت کے ساتھ اہلخانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں۔

    حکام نے بسنت کے دوران خصوصی طور پر پتنگ بازی سے متعلق حفاظتی اقدامات پر زور دیا کیونکہ ماضی میں اس موقع پر ہجوم اور حادثات کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں،طویل تعطیلات کا مقصد لاہور کی ثقافتی روایات کا احترام، عوام کو تفریحی مواقع فراہم کرنا اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہےمقامی منتظمین کی جانب سے بسنت کو محفوظ انداز میں منانے کے لیے مختلف تقریبات اور پروگرام ترتیب دیئے جا رہے ہیں جن میں موسیقی کی محفلیں، پتنگ بازی کے مقابلے اور کمیونٹی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔

  • جسٹس محمد علی مظہر  کا  ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ جاری

    جسٹس محمد علی مظہر کا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر اپنا 24صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کر دیا-

    جسٹس مظہر نے24صفحات پر مشتمل نوٹ میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماضی میں دیے گئے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤکے تحت کیا گیا تھا، سابق چیف جسٹس کا یہ اعتراف کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لیے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا اور ایسا اعتراف ایک جج کے حلف کی خلاف ورزی ہے، جلد بازی، غصے یا تعصب میں کیے گئے فیصلے ناصرف ملکی قانون بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر جج کسی فریق یا وکیل سے ناراض ہو جائے یا اپنا صبر کھو دے، تو اس کے لیے قانون کے مطابق انصاف کرنا ناممکن ہو جاتا ہے فاضل جج نے آبزرویشن دی کہ بھٹو کیس کی سماعت کرنے والے جج مبینہ طور پر اپیل کی سماعت کے دوران "غصے” میں تھے، جس سے آزادانہ ذہن کے ساتھ فیصلے کا امکان ختم ہو گیا تھا۔

  • ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد منظر عام پر آگئے۔

    انقلاب ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای نے، بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے مزارپر حاضری دی اور دعا کی۔

    سپریم لیڈر نے مزار میں آیت اللہ خمینی کے پوتےحسن خمینی سے ملاقات کی اس دوران سپریم لیڈر نے آیت اللہ خمینی کے مزار کے احاطے میں نماز ادا کی،ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اپنی کابینہ کےساتھ آیت اللہ خمینی کےمزار پر آئے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کا سامنے آنا ان خبروں کی تردید کا ایک پیغام لگتا ہے جو پہلے لیک ہوئی تھیں کہ امریکی حملے کے خوف سے سپریم لیڈر کو زیر زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑی قوت جمع کرنے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

    ’’ وال سٹریٹ جنرل‘‘ نے باخبر امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر اہم آپشنز کا ایک مجموعہ رکھا گیا ہے جو ان کے حتمی فیصلے کا منتظر ہے۔ رکھے گئے آپشنز میں ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنانا، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے پر حملہ کرنا، حکومت کو گرانے کا سبب بننا اور سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانا، یا ان تمام چیزوں کے مجموعے پر عمل کرنا شامل ہے۔