Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

    امریکہ میں منجمد ثاثے ہماری ہی کی ملکیت ہیں،روس

    روسی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ میکسم اوریشکن نے کہا ہے کہ امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے روسی اثاثے روس ہی کی ملکیت ہیں۔

    ایک انٹرویو میں اوریشکن نے کہا کہ اگر یہ اثاثے بحال ہوتے ہیں تو ماسکو خود اس رقم کے استعمال کا طریقہ طے کرے گا اثاثوں کی منتقلی کا عمل اس وقت ممکن ہو گا جب امریکی بینک روس کے احکامات پر عمل کریں ، بات اتنی ہی سادہ ہے، اوریشکن نے صدر ولادیمر پیوٹن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ارب ڈالر روس کے ہیں اور ہم خود اس کے استعمال کے لیے ہدایات دیں گے۔

    واضح رہے کہ صدر پیوٹن نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے مختص کرنے کے لیے تیار ہے،یہ معاملہ امریکی وفد کے ساتھ 22 جنوری کو کریملن میں ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔

    صدر پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ رقم غزہ پٹی کی تعمیر نو اور فلسطینی مسائل کے حل کیلئے استعمال کی جائے گی، امن بورڈ کے فنڈز امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے بھی فراہم کئے جا سکتے ہیں فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے تھے، صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو گہرے اور تاریخی قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988ء میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے، روسی صدر نے بتایا کہ روس نے غزہ میں بحران کے دوران فلسطینی امداد کے سلسلے میں 800 ٹن سے زائد انسانی سامان بھیجا اور 32 امدادی آپریشن انجام دیئے، جن میں گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

  • اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا

    اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا

    اسٹیٹ بینک آج بروز سوموار کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا-

    تفصیلات کے مطابق گورنراسٹیٹ بینک پریس کانفرنس کےذریعےبنیادی شرح سود کا اعلان کریں گے گورنراسٹیٹ بینک کی سربراہی میں آج صبح ساڑھے 10بجےمانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا،مانیٹری پالیسی کمیٹی بنیادی شرح سودکےحوالےسےحتمی فیصلہ کرے گی۔

    اس وقت بنیادی شرح سود10.5فیصدہے،گزشتہ اجلاس میں شرح سود 50بیسززپوائنٹس کم کیا گیا تھا، مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے آئندہ 2ماہ کیلئےشرح سود کا اعلان کیا جائے گااجلاس میں درآمدات، برآمدات، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ، تجارتی اورمالیاتی خسارہ کےاعدادوشمارکا جائزہ لیا جائیگا، ترسیلات، زرمبادلہ کےذخائر، فصلوں کی پیداوار،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

  • امریکا میں برفانی طوفان کا اثرکب تک برقرار رہے گا؟

    امریکا میں برفانی طوفان کا اثرکب تک برقرار رہے گا؟

    امریکی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کا اثر اگلے ہفتے تک برقرار رہے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی متعدد ریاستوں کو بڑے برفانی طوفان کا سامنا ہے،ٹیکساس ، اوکلاہوما سمیت کئی ریاستوں میں شدید برفباری جاری ہے ،
    امریکا بھر میں 2روز کے دوران 15 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں،متاثرہ ریاستوں میں ساڑھے 8 لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں، 40 ریاستو ں کے 24 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے،برفانی طوفان کے باعث 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، واشنگٹن، نیو یارک میں شدید برفباری ، خون جماتی ٹھنڈ کی پیشگوئی کی گئی ہے،متعلقہ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے،جبکہ امریکی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کا اثر اگلے ہفتے تک برقرار رہے گا۔

  • وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا،احسن اقبال

    وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا،احسن اقبال

    وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہونے جا رہا، دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز معمول کی بات ہے جو جاری رہیں گے خیبرپختونخوا حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ یہ لوگ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے عوام کے ساتھ، پی ٹی آئی پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں قیام امن صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہیں ہم نے 2018 میں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن بعد میں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دہشتگردوں کو یہاں لا کر بسایا، جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی کہ لوگ وادی تیراہ سے نکل جائیں، لوگ بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے نقل مکانی کررہے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ مجھے دہشتگردوں کے حمایتی نظر آتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 2سال میں ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے،ملکی معیشت درست سمت پر گامزن ہےمعرکہ حق میں عظیم کامیابی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،معرکہ حق میں مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔

    فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو ایسا جواب دیا گیا جو اس کی نسلیں یاد رکھیں گی،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہترین پالیسیوں کی بدولت نمایاں کامیابیاں ملیں پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ریاست کیساتھ ہے یا متنازعہ قیادت کے، معرکہ حق کی طرح اڑان پاکستان پروگرام میں بھی کامیابیاں حاصل ہوئیں ،زراعت میں جدت کیلئے چین کے تعاون سے نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے، موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں،وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خود 4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اب اس معاملے کو کیسے فوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔

  • پنجاب: اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ

    پنجاب: اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پنجاب کے تمام اسکولوں اور کالجز کے لیے سالانہ 190 تدریسی دن مکمل کرنا لازمی ہوگا،حالیہ برسوں میں تعطیلات میں مسلسل اضافہ تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، خاص طور پر اعلیٰ کلاسوں میں جہاں نصاب بروقت مکمل نہیں ہو پاتا، جس سے طلبا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

    بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق حکومت نے گرمیوں کی چھٹیاں کو 36 دن کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت تعطیلات دو ماہ 15 دن سے کم کر کے 6 ہفتے (42 دن) کردی جائیں گی،اس اقدام کا مقصد طلبا کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ نجی aسکول ایسوسی ایشنز نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    کمیٹی نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران 4 میٹنگز کیں اور تیسری میٹنگ لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کی، نجی تعلیمی ادار وں نے سفارشات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکساں اور متوازن تعلیمی کیلنڈر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا اور طلبا کو کورس ورک مکمل کرنے میں مدد دے گا۔

    پنجاب ایجوکیشن کرِکیولم اینڈ ٹیسٹنگ اتھارٹی (پی ای سی ٹی اے) اور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری) سفارشات کے بعد یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کریں گے،یہ کمیٹی لاہور ہائیکورٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران تشکیل دی گئی تھی، جس میں تعلیمی اداروں میں تعطیلات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی کمیٹی کی رپورٹ اگلی سماعت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد تعلیمی کیلنڈر پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

  • سندھ کے عوام کو ریلیف دینا اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا وزیر اعظم کی اولین ترجیح

    سندھ کے عوام کو ریلیف دینا اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا وزیر اعظم کی اولین ترجیح

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سندھ میں تعلیمی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بڑے منصوبوں کا اعلان کر دیا۔

    ترجمان وفاقی حکومت کے مطابق کراچی کے ضلع ملیر میں ایک نیا اکنامک زون قائم کیا جائے گا،جو صوبے میں صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،ٹنڈو محمد خان اور گڈاپ ملیر میں دو جدید دانش اسکول بھی قائم کیے جائیں گے، جن کا مقصد سندھ کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کر کے انہیں بااختیار بنانا ہے وزیر اعظم شہباز شریف سندھ کے نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے زیور سے آراستہ کر کے معاشی خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ملیر اکنامک زون کے قیام سے نہ صرف سندھ میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے ان منصوبوں کو سندھ کی مجموعی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہےوزیر اعظم شہباز شریف سندھ کے تمام علاقوں میں بلا تفر یق ترقیاتی کاموں کا جال بچھانا چاہتے ہیں، اور وفاقی حکومت صوبے کے عوام کو ریلیف اور خوشحالی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تعلیم اور صنعتی منصو بے سندھ کی پائیدار ترقی اور معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کریں گے سندھ کے عوام کو ریلیف دینا اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا وزیر اعظم کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

  • چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کے بھائی  انتقال کر گئے

    چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کے بھائی انتقال کر گئے

    لاہور:چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے بھائی عبدالرؤف لنگڑیال انتقال کر گئے۔

    لاہور سے اہلِ خانہ نے عبدالرؤف لنگڑیال کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سابق صوبائی سیکرٹری عبدالرؤف لنگڑیال کی نمازِ جنازہ کل پیر کو بعد نمازِ ظہر لاہور میں ادا کی جائے گی،عبدالرؤف لنگڑیا کے انتقال پر سیاسی رہنماؤں اور سرکاری افسران نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

  • ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں برفباری اور بارش برسانے والا نیا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ آج ملک میں داخل ہو گا، جس سے آج رات سے بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گا، نئے سسٹم کے تحت بلوچستان، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری متوقع ہےمری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی بارش اوربرفباری ہو سکتی ہے۔ 25 سے 26 جنوری کے دوران سندھ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے سرد علاقوں میں شدید سردی اور بارش کے باعث آٹھویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئےمحکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے امتحانات ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ڈائریکٹر تعلیمات بلوچستان کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر طلبا کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مڈل کے امتحانات مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،آٹھویں جماعت کے امتحانات اب 6 فروری سے شروع ہوں گے۔

    محکمہ تعلیم نے امتحانات کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول بھی جاری کر دیا جبکہ ضلعی تعلیمی افسران (ڈی ای اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے امتحانی شیڈول سے متعلق طلبا اور والدین کو بروقت آگاہ کریں،موسمی صورتحال میں بہتری آنے تک طلبا کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ جبکہ امتحانات شفاف اور منظم انداز میں منعقد کیے جائیں گے۔

    جبکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے سردی کی شدت کے سبب اسکول صبح 9 بجے شروع کرنے کے فیصلے میں توسیع کردی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے نوٹی فکیشن جاری کردیا نوٹی فکیشن کے مطابق اسکول 4 فروری تک صبح 9 بجے کھلیں گے، فیصلے کا اطلاق سرکاری و نجی اسکولز پر یکساں ہوگا قبل ازیں 10 جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق اوقات کار کی یہ تبدیلی 26 جنوری تک کی گئی تھی جس میں اب توسیع کی گئی ہے۔

    دریں اثناء چئیرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدر علی نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سے تحفظ اور تعلیمی عمل کا تسلسل وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی دانشمندانہ حکمت عملی ہے تاہم انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹیرنگ کمیٹی یا اس کی سب کمیٹی کا اجلاس فوری بلا کر 2026 کا تعلیمی کیلنڈر طے کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت ہشتم تک کے امتحانات، بورڈز ایگزامینیشنز، ان کے نتائج کا شیڈول، نئے داخلے، تعلیمی سال کے آغاز اور تعطیلات سمیت دیگر اہم معاملات کو حتمی شکل دینا فوری ضرورت ہے جبکہ یکساں امتحانی نصاب اور پرچوں کی اسپیسیفیکیشن کا جلدسےجلد اجراء بورڈز، اساتذہ اور طالبعلموں کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔

  • اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں اضافہ

    اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں اضافہ

    اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے –

    کم سے کم ای اسٹامپ پیپر کی مالیت100روپے سے بڑھا کر 300روپے ،طلاق اسٹامپ پیپرکی قیمت100روپے سے بڑھا کر 1000روپے جبکہ بچوں کے نئے اسکولز میں داخلوں اور جاب کیلئے ڈومیسائل اسٹامپ پیپر فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کر دی گئی ہے۔

    اسی طرح بجلی، سوئی گیس اورپانی کے نئے کنکشن اسٹامپ فیس بھی 100روپے کی بجائے اب1000 روپے ہوگی پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ ای اسٹامپ پیپر کی فیس1200روپے سے بڑھا کر 3ہزار روپے کردی گئی ہےپراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کیلئے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپرکی فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کردی گئی ہے۔

    5 لاکھ روپے تک معاہدے کیلئے ای اسٹامپ پیپرکی فیس1200 سے بڑھا کر 3ہزار جبکہ 5لاکھ روپے سے 10لاکھ روپے تک معاہدے کی فیس 6 ہزار،ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کیلئے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپرکی فیس میں20ہزار روپے اضافہ کیا گیا،پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر فیس 1500سے 1800روپے کردی گئی۔ اشٹام پیپرزکے لئے سائل کے نام پر موبائل فون کی سم بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

  • عالمی جریدہ پاکستان کی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کا متعرف

    عالمی جریدہ پاکستان کی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کا متعرف

    عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ کے مطابق پاکستان نے اپنی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی ہے-

    دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کو بڑھایا بلکہ بھارت کو بھی سفارتی تنہائی اور بھاری ٹیرف کے دباؤ میں مبتلا کر دیابھارت کو امریکا کا روایتی اتحادی سمجھا جاتا تھا، مگر اس نے امریکی ثالثی کے دعوے کو اپنی خودمختاری کی توہین قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت نہ تو QUAD Summit میں شمولیت حاصل کر سکا، نہ صدر ٹرمپ کا دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا،اسی بحر ان کو پاکستان نے بروقت اور دانشمندانہ حکمت عملی میں تبدیل کیا، جسے صدر ٹرمپ نے بھی بھرپور انداز میں سراہا۔

    جریدے کے مطابق ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیا ں پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری کریں گی۔

    جریدے کے مطابق اسی دوران امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی صدر ٹرمپ نے امریکا اور پاکستان کے اشتراک سے بڑے تیل ذخائر کی ترقی کا بھی اعلان کیا، جب کہ انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوا اور تعلقا ت کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنے تعلقات کی مضبوطی، علاقائی چیلنجز کو فائدے میں بدلنا اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانا ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے، واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اور حکمت عملی نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت کو بلند کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کو قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔

    دی ڈپلومیٹ اور دیگر ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے ثالثی کو جھٹلانے اور امریکی ناراضی کے سبب اسے نہ صرف تجارتی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس بحران کو اپنے فائدے میں بدل کر سفارتی میدان میں اہم کامیابی حاصل کی۔