Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پی ایس ایل سیزن 11: پلیئر آکشن کیلئے کھلاڑیوں کی بیس پرائسز کا باضابطہ اعلان کردیا گیا

    پی ایس ایل سیزن 11: پلیئر آکشن کیلئے کھلاڑیوں کی بیس پرائسز کا باضابطہ اعلان کردیا گیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے پلیئر آکشن کے لیے کھلاڑیوں کی بیس پرائسز کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔

    پی ایس ایل الیون کے پلیئر آکشن سے متعلق تفصیلی ورکشاپ میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی،پی ایس ایل سیزن 11 کی پلیئر آکشن 11 فروری کو منعقد ہوگی، جس میں کھلاڑیوں کی بیس پرائس اور بولی پاکستانی روپے میں لگائی جائے گی۔

    اعلامیے کے مطابق ٹاپ کیٹیگری کے کھلاڑیوں کی بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، دوسری کیٹیگری کی بیس پرائس 2 کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ تیسری کیٹیگری کی بیس پرائس 1 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اسی طرح چوتھی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کی بیس پرائس 60 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

    بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک

    ہر فرنچائز کے لیے کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ تشکیل دینا لازم ہوگا، اسکواڈ میں 5 سے 7 غیر ملکی کھلاڑی شامل کیے جا سکیں گے، جبکہ پلیئنگ الیون میں کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 4 غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت لازمی قرار دی گئی ہے ہر ٹیم کے لیے 2 انڈر 23 ان کیپڈ کھلاڑی اسکواڈ میں شامل کرنا ضروری ہوگا، جبکہ انڈر 23 کھلاڑی کی پلیئنگ الیون میں شمولیت بھی لازمی قرار دی گئی ہے، آکشن کے ذریعے منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو 2 سالہ معاہدہ دیا جائے گا، پی سی بی نے فرنچائزز کو ایک غیر ملکی کھلاڑی براہ راست سائن کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے، جس سے ٹیموں کو اپنے اسکواڈ مزید مضبوط بنانے میں سہولت حاصل ہوگی۔

    ورکشاپ میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اجلاس میں گفتگو میں کہا کہ پلیئر آکشن ماڈل نہ صرف کھلاڑیوں کیلئے بہتر مالی مواقع فراہم کرے گا بلکہ لیگ کو زیادہ مسابقتی اور شفاف بھی بنائے گا۔

    سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے آکشن سسٹم کے لیگ پر مرتب ہونے والے مثبت اور دور رس اثرات کو اجاگر کیا، انہوں نے موجودہ مرحلے کو پی ایس ایل کا نیا دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ آکشن سسٹم کھلاڑیوں کی بھرتی کے عمل کو جدید بناتا ہے، شفافیت اور برابری کو فروغ دیتا ہے اور لیگ کی مجموعی کشش میں اضافہ کرتا ہےورکشاپ کے دوران ملنے والا فیڈبیک آئندہ ماہ ہونے والے آکشن کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس سے لیگ میں مزید جوش و خروش دیکھنے میں آئے گا۔

  • بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 3 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پنجگور میں آپریشن کیا جہاں دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوگیاہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں دہشتگرد کمانڈر فاروق، عدیل اور وسیم شامل ہیں، جن کے قبضے سے اسلحہ گولہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد علاقے میں دہشگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھےعلاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کو ہلاک کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ویژن ’استحکام پاکستان‘ کے تحت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    سانحہ گل پلازہ: یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟فاروق ستار

    کراچی:ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے-

    دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک المناک قومی سانحہ ہے جس میں 100 سے زیادہ قیمتی جانوں کا اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، پورا ملک اس سانحہ پر سوگوار ہے ہر آنکھ اشک بار ہے، آج یہاں سے چار جنازے اٹھے ہیں جب کہ اس کالونی میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شہید ہوئے، چار کا جسد خاکی ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے اور دو باقی ہیں، ایک بیٹی بچی ہے اور پورا خاندان شہید ہوگیا، شادی کے گھر کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فارنزک کہاں ہورہا ہے؟ باقیات کا احترام اور تقدس کے ساتھ فارنزک ٹیسٹ کیا جائے لواحقین صرف یہ چاہتے ہیں، وزیر اعلی سندھ اور میئر کراچی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں، لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں، گنتی پوری کیے بغیر سکو ن نہیں ملے گا، اہل خانہ لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔

    فاروق ستار نے کہا کہ ایک دکان سے 30 لاشیں مل سکتی ہیں تو یہ رش کا وقت تھا، بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی، اندرون ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا، دو ٹرکوں کی باقیات کا چوری ہونا تشویش ناک ہے، بہت سے سوال ہیں جن کا جواب دینا ہے، لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے انہیں مطمئن کیا جائے ان کی تسلی و تشفی کے لیے فارنزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے، باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے، جس طرح گورنر ہاؤس میں رابطہ مرکز بنایا گیا ہے اس طرح وزیراعلی اور میئر کے دفتر میں بھی مراکز قائم کریں-

    انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں وہ کیسے رپورٹ دیں گے کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی اداروں کی غفلت ہے؟ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے، کمشنر کی سربرا ہی کی تحقیقات کو کوئی نہیں مانے گا۔ آپ جواب دیں آگ کیوں نہ بجھائی گئی؟ عوام سزا نہیں دے سکتے ہوسکتا ہے شفاف تحقیقات سے آپ سد ھر جائیں، فائر فائٹرز کی جانوں کو بچایا جائے، فائر فائٹر فرقان کے گھر وزیر اعلیٰ میئر کیوں نہ گئے؟ جو لوگ فرقان کے گھر نہیں گئے انہی جانا چاہیے۔

  • بنگلا دیش کے کھلاڑی اور اس کے لاکھوں فینز کے ساتھ ناانصافی کی گئی ، شاہد آفریدی

    بنگلا دیش کے کھلاڑی اور اس کے لاکھوں فینز کے ساتھ ناانصافی کی گئی ، شاہد آفریدی

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی آئی سی سی کے دُہرے معیار پر بول پڑے،کہا کہ بنگلا دیش کے کھلاڑی اور اس کے لاکھوں فینز کے ساتھ ناانصافی کی گئی –

    شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پرجاری پیغام میں کہا کہ سابق انٹرنیشنل کرکٹر کی حیثیت سے آئی سی سی کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کہ وجہ سے انہیں مایوسی ہوئی، آئی سی سی نے 2025 میں پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے لیے بھارت کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا ، لیکن بنگلا دیش کے معاملے میں اسی چیز کو سمجھنے پر آمادہ نہیں، تسلسل اور برابری عالمی کرکٹ گورننس کی بنیاد ہے ، بنگلا دیش کے کھلاڑی اور اس کے لاکھوں فینز کے ساتھ ناانصافی کی گئی ،اسی طرح سابق کپتان محمد یوسف نے کہا آئی سی سی کو کسی ایک ملک کے بورڈ کو سپورٹ کرنے کے بجائےانٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل کی طرح کام کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے بعد اب کرکٹ ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرلیا ہے۔

  • بنوں: پولیس نے بروقت کارروائی کر کے شہر کو بڑے سانحے سے بچا لیا

    بنوں: پولیس نے بروقت کارروائی کر کے شہر کو بڑے سانحے سے بچا لیا

    بنوں میں تھانہ ڈومیل کی حدود میں عیدگاہ روڈ پر پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے ممکنہ سانحے کو ناکام بنا دیا۔

    تفصیلات کے مطابق بنوں میں پولیس کو اطلاع ملی کہ عیدگاہ کی دیوار کے ساتھ ایک مشکوک شے پڑی ہوئی ہے جس پر فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا تلاشی کے دوران تقریباً تین کلو گرام وزنی ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم برآمد ہوا۔

    بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ آئی ای ڈی کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا جس کے باعث کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہواپولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا جبکہ مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہےڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

  • متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    متنازع ٹویٹ کیس : ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا،تحریری حکمنامہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا،عدالت نے مختلف دفعات میں مجموعی طور پر دونوں ملزمان کو 17، 17 برس قید کی سزا سنائی۔تحریری فیصلے کے مطابق 22 اگست 2025 کو NCCIA نے PECA Act کی دفعات 9، 10، 11 اور 26A کی متواتر خلاف ورزی پر ملزمان ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف FIR 234/25 درج کی۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ سنگین الزامات کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا اور محض شاملِ تفتیش کیا گیا، جو کہ آغازِ مقدمہ ہی پر غیر معمولی رعایت شمار ہوتی ہے۔بعد ازاں 29 اگست 2025 کو ایمان مزاری نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی، جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔ 5 ستمبر کو وکیل کی عدم موجودگی کے جواز پر ضمانت کی سماعت مؤخر کی گئی، اور 11 ستمبر کو درجن بھر وکلا کی موجودگی میں دونوں ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کر لی گئی۔ اس فیصلے کے بعد ملزمان کی جانب سے کیس کو غیر سنجیدگی سے لینے کے بیانات اور میڈیا پر عدالتی کارروائی کی تضحیک کا سلسلہ جاری رہا۔

    13 ستمبر کو استغاثہ نے چالان جمع کرایا اور کیس 17 ستمبر کو دوبارہ جج افضل مجوکہ کو مارک ہوا۔ عدالت کے متعدد طلب ناموں کے باوجود ملزمان 20 اور22 ستمبر کو پیش نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوئے۔ 24 ستمبر کو ملزمان پیش ہوئے، اپنے وکلا تبدیل کیے، اور عدالت نے وارنٹ منسوخ کر دیے، حالانکہ اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے اجراء کے بعد ضمانت خود بخود منسوخ تصور ہوتی ہے۔مورخہ 30 ستمبر کو فردِ جرم کے لیے کیس تین مرتبہ کال ہوا مگر ملزمان پیش نہ ہوئے۔ وکیل کے ذریعے فردِ جرم پڑھ کر سنائی گئی، لیکن ملزمان کی عدم پیشی برقرار رہی۔ بعد ازاں وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا اور عدالت نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے۔1 اکتوبر کو نئے وکیل قیصر امام پیش ہوئے، جن کی درخواست پر وارنٹ منسوخ کیے گئے اور ناقابلِ ضمانت ضمانت بھی بحال کر دی گئی۔ ملزمان نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جو انہیں فراہم کی گئی۔ 7 اکتوبر، 11 اکتوبر، 13 اکتوبر، 16 اکتوبر، 20 اکتوبر اور 24 اکتوبر کو بھی ملزمان نے مختلف بنیادوں پر التوا کی درخواستیں دیں، کبھی وکیل کی عدم دستیابی، کبھی میعاد درکار ہونے کے نام پر، اور کبھی عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کے جواز پر۔ عدالت نے ہر موقع پر رعایت اور مہلت فراہم کی۔مورخہ 29 اکتوبر کو عدالت نے دن میں متعدد مرتبہ کیس کال کیا، مگر ملزمان بارہا غیر حاضر رہے۔ نتیجتاً ہادی علی چٹھہ کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔مورخہ 30 اکتوبر کو ملزمان پر دوبارہ فردِ جرم عائد کی گئی۔ ایمان مزاری کے وکیل قیصر امام اور سٹیٹ کونسل نے ملزمان کے سامنے ہی فردِ جرم کا جواب دیا اور وارنٹ منسوخی کی درخواست پیش کی۔

    اس موقع پر ہادی علی چٹھہ نے عدالت میں غیر مہذب طرزِ عمل اختیار کیا، تاہم وکیل کی معذرت پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وارنٹ منسوخ کر دیے اور مچلکے بحال کر دیے۔ عدالت نے استغاثہ کو اگلی تاریخ پر گواہ دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت دی۔مورخہ 5 نومبر 2025 کی سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت کے خلاف غیر شائستہ رویہ اپنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ انہوں نے عدالت کے خلاف MIT کو درخواست دی ہے، اس لیے عدالت سماعت آگے نہ بڑھائے۔ بدتمیزی کے باعث سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بعد ازاں ملزمان نے شہادت ریکارڈ ہونے کے دوران دوبارہ ہنگامہ کھڑا کیا، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بھی بدسلوکی کی اور عدالت سے فرار ہو گئے، جس پر دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے۔ وکیل قیصر امام نے اس صورتحال کے باعث وکالت سے معذرت کر لی۔

    6 نومبر کو ملزمان دوبارہ پیش نہ ہوئے، مگر بعد ازاں 12 بجے کے بعد حاضر ہو کر وارنٹ منسوخی کی درخواست جمع کرائی اور نیا وکیل مقرر کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے ایک بار پھر وارنٹ منسوخ کر دیے اور مہلت عطا کی۔مورخہ 8 نومبر، 14 نومبر اور 17 نومبر 2025 کی سماعتوں میں بھی ملزمان مسلسل غیر حاضر رہے، کبھی وکیل کی تبدیلی، کبھی ریاستی وکیل پر اعتراضات، اور کبھی “کچھ دیر میں پہنچنے” کے جواز پر سماعت ملتوی کرواتے رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سٹیٹ ڈیفنس کونسل کی تبدیلی ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹی کے اختیار میں ہے اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ ہی چیلنج کر سکتی ہے۔ ملزمان کو متعدد بار وکیل مقرر کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔اس تمام عرصے میں عدالت نے غیر معمولی تحمل اور نرمی کا مظاہرہ کیا، جو کسی عام شہری کو میسر نہیں ہوتی، مگر اس کے باوجود ملزمان نے التوا، غیر حاضری، وکیل بدلنے, ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مختلف ریلیف اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کو معمول بنا کر ٹرائل کے عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کیں۔ مورخہ 19 نومبر 2025 کو دونوں ملزمان نے ایک بار پھر عدالت میں ٹرائل کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ ملزمہ ایمان زینب مزاری کی جانب سے ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دوپہر کے بعد جمع کرائی گئی، جبکہ ملزم ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو کر شفاف ٹرائل کے عمل میں مداخلت کرتا رہا۔عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ملزم کے نامناسب طرزِ عمل کے باوجود کسی قسم کی تعزیری کارروائی عمل میں نہیں لائی۔

    ایمان زینب مزاری کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی گئی اور استغاثہ کے گواہان کی شہادت ریاستی کونسل کی موجودگی میں ریکارڈ کی گئی۔ملزم ہادی علی چٹھہ نے نہ صرف کارروائی میں مداخلت کی بلکہ اپنی اہلیہ کی وکیل کو بھی عدالت کے احاطے سے نکل جانے پر مجبور کیا۔اس کے بعد ملزمان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ پہنچ گئے جہاں دونوں عدالتوں نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوئے دوبارہ شہادتوں کو ریکارڈ کرنے کا حکم دیا۔اس مقدمہ میں دونوں ملزمان کے 8 وکلا کے وکالت نامے عدالت میں جمع ہیں لیکن ہادی علی چٹھہ نے کراس ایگزیمینیشن خود کی۔ جب آخری گواہ رہ گیا تو دوبارہ ملزمان اپنی پرانی حرکتوں پہ آ گئے اور عدالت کی کاروائی میں رخنے ڈالنے کا آغاز کیا۔ ایمان مزاری طبیعت خرابی کے باعث استثنیٰ مانگتی رہی جو عدالت نے بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے دو دن تو منظور کی تیسرے دن کاروائی کا حکم دیا تو دونوں ملزمان پھر مفرور ہو گئے جس پر عدالت نے وارنٹ جاری کئے اور ضمانت کینسل کر دی۔

    اس پر دوبارہ 20 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر معمولی ریلیف دیتے ہوۓ دونوں ملزمان کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور 3 دن میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ 22 اگست سے پانچ مہینے گزر چکے ہیں۔ عدالتی کاروائی 4 مہینے سے جاری ہے۔ اس میں اب تک 44 دن عدالتی سماعتیں اور پیشیاں ہوئی ہیں۔ ایک بیانیا بنایا گیا کہ ایمان کا کیس جج مجوکہ دن میں بار بار کال کرتے ہیں جو کہ نارمل نہیں۔ بلکل صحیح بات ہے, کیونکہ ملزمان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔ عدالت صبح سے آوازیں لگانا شروع کرتی ہے اور کبھی دونوں غائب , کبھی ایک حاضر دوسرا غائب, لیکن عدالت صبر سے ان کی چالاکیاں دیکھنے کے باوجود انتظار کرتی ہے کہ دونوں ملزمان پورے ہوں تو کاروائی کا آغاز کیا جائے۔ یہ سہولت پاکستان میں اور ملزمان کو میسر نہیں۔ لیکن 5 گواہان پر جرح مختلف بہانوں کے زریعے التوا میں ڈالی جا رہی ہے۔ کس چیز کا ڈر ہے۔ جب ٹوئیٹس کی ہیں تو ان کا دفاع کریں۔ ایمان مزاری کی ٹوئیٹس دہشتگرد تنظیموںBLA وغیرہ اور proscribed persons جیسے کہ مہرنگ بلوچ کے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے علاوہ لسانی تفریق کو نمایاں کرتی ہیں ۔ ان کی ٹوئیٹس میں ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹ پہ مبنی بیانیہ ہوتا ہے جو کہ PECA کے تحت جرم ہے۔ دونوں ملزمان کا مجموعی رویہ واضح طور پر دانستہ، ارادی اور مسلسل کوششوں پر مبنی ہے، جن کا مقصد ٹرائل کے عمل کو متاثر کرنا، روکنا اور عدالت کی کارروائی میں خلل ڈالنا ہے۔ملزمان نے عدالت کے وقار کو مجروح کیا، قانونی عمل میں دانستہ طور پر رکاوٹ ڈالی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مسلسل سبوتاژ کیا۔

  • ضوابط کی خلاف ورزی پر ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ

    ضوابط کی خلاف ورزی پر ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے میسرز گلیکسی ایکسچینج (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے،جس کے بعد کمپنی اب کسی قسم کی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت نہیں کر سکتی-

    مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق لائسنس کی منسوخی کے بعد میسرز گلیکسی ایکسچینج (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اس کے صدر دفتر اور تمام آؤٹ لیٹس اب زرِ مبادلہ سے متعلق کسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمی انجام دینے کے مجاز نہیں رہے،اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ صارفین کے مفادات کے تحفظ اور فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضوابط کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

  • مصنوعی ذہانت اگلے 5 سال میں پوری انسانیت سے  زیادہ ہو سکتی ہے،ایلون مسک

    مصنوعی ذہانت اگلے 5 سال میں پوری انسانیت سے زیادہ ہو سکتی ہے،ایلون مسک

    ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نےخبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اگلے 5 سال میں نہ صرف اپنی موجودہ صلاحیتوں سے آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ پوری انسانیت سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے-

    عالمی اقتصادی فورم میں ایلون مسک نے بلیک راک کے سی ای او لیری فنک کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ کمپیوٹر سسٹمز اور مختلف صنعتوں میں تیار شدہ ذہین سافٹ وئیر کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اگلے سال یا اس سال کے دوسرے نصف میں AI ممکنہ طور پر انسانی قابلیت سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ AI کی ترقی مرحلہ وار ہوگی اور اگلے 10 سال میں واضح مراحل میں بڑھتی رہے گی، جس کی رفتار زیادہ تر لوگ سمجھ نہیں پاتے، تاہم عالمی معیشت میں اس کے اثرات بہت جلد نظر آئیں گے،انہوں نے روبوٹکس میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کے ہیومینوڈ روبوٹز، جنہیں ’آپٹیمس‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی فیکٹریوں میں معمول کے کام انجام دے رہے ہیں اور سال کے آخر تک یہ زیادہ پیچیدہ کام بھی کر سکیں گے، وقت کے ساتھ صارفین روبوٹز سے تقریباً ہر قسم کا کام کروانے کی توقع رکھ سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیسلا کی گاڑیوں کے لیے کیا جاتا ہے۔

  • انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارت نے ایک اور پاکستان مخالف فلم “بارڈر 2” بنائی ہے، جس میں سنی دیول مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق فلم میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور ٹیزر میں سنی دیول کو ایک بار پھر جنگی نعروں اور جارحانہ مکالموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،فلم کی پروموشن کے دوران سنی دیول نے ایک پاکستان مخالف ڈائیلاگ دیتے ہوئے کہا کہ “آواز کتنی دور تک جانی چاہیے؟ سیدھی لاہور تک!”

    ویڈیو میں سنی نے یہ ڈائیلاگ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،پاکستانی اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے سنی دیول کے پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر طنزیہ ردعمل دیا اور اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے”۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو دنیا بھر میں 23 جنوری 2026 کو ریلیز کرنے کا شیڈول تھا، تاہم ادیتیہ دھر کی فلم ‘دھریندر’ کی طرح بارڈر 2 بھی بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سینما ہالز میں نمائش کی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

  • بھارتی  اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

    بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

    بالی ووڈ کے معروف اداکار، فلم ساز اور متنازع تبصروں کے لیے مشہور کمال رشید خان المعروف کے آر کے کو رہائشی عمارت میں فائرنگ کرنے کے الزام میں ممبئی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ 18 جنوری 2026 کو آندھیری کے اوشیواڑہ علاقے میں نالندا سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں دو گولیاں رہائشی عمارت کی دیواروں میں لگی پائی گئیں ان میں سے ایک گولی دوسری منزل کے فلیٹ سے اور دوسری چوتھی منزل کے فلیٹ سے برآمد ہوئی، تاہم عمارت میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج سے گولیاں چلانے کے ماخذ کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم فارنزک تجزیے سے ظاہر ہوا کہ یہ گولیاں ممکنہ طور پر کے آر کے کے قریب واقع بنگلے سے چلائی گئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں جمعہ کی شب تفتیش کے لیے حراست میں لیا۔

    پولیس کے مطابق بیان کے دوران کے آر کے نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے لائسنس یافتہ ہتھیار سے دو گولیاں چلائیں پولیس نے اس ہتھیار کو ضابطے کے مطابق قبضے میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے،تفتیش ابھی جاری ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ حادثاتی تھی یا دانستہ۔ پولیس نے معاملے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔