Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • افغان مہاجرین یورپ کیلیےخطرہ، سویڈن کا یورپی ممالک سے ایکشن لینے کا مطالبہ

    افغان مہاجرین یورپ کیلیےخطرہ، سویڈن کا یورپی ممالک سے ایکشن لینے کا مطالبہ

    افغان مہاجرین کی غیر قانونی سرگرمیاں اور جرائم یورپی ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ بن گئیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی، ایران اور ترکیہ کے بعد سویڈن نے بھی افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا۔ سویڈن کے وزیر برائے امیگریشن کا افغان مہاجرین سے متعلق سخت موقف سامنے آگیا ہےسویڈن نے یورپی یونین سے افغان مہاجرین کے لیے دستاویزات کا مشترکہ نظام مانگ لیا۔ سویڈش وزیر نے واضح کردیا کہ جرائم پیشہ افغان مہاجرین کو یورپ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    سویڈش وزیر برائے امیگریشن کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افغان مہاجرین ہماری سوسائٹی کا ہرگز حصہ نہیں بن سکتےجرائم میں ملوث افغان مہاجرین کو ہر قیمت پر ملک بدر کیا جائے گا۔ جرائم پیشہ اور غیر قانونی افغان مہاجرین کی فوری ملک بدری پر تمام یورپی ممالک بھی متفق ہیں،سویڈش وزیر نے یورپی ممالک کو افغان مہاجرین کو ایک جگہ جمع کر کے چارٹر فلائٹس کے ذریعے ملک بدر کرنے کی تجویز بھی دی۔

  • ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری ، نظام زندگی مفلوج،فوج کا آپریشن جاری

    ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری ، نظام زندگی مفلوج،فوج کا آپریشن جاری

    ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا-

    وادی نیلم، سدھنوتی، باغ، ہٹیاں بالا، اٹھ مقام، اپر نیلم سمیت آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری ہوئی شدید برفباری کی وجہ سے ضلع حویلی کی حدود میں ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں،پاک آرمی نے 32 مسافروں کو ریسکیو کرلیا، پھنسی ہوئی گاڑیوں میں 100کے قریب افراد سوار تھے، مظفرآباد میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، مری میں برفباری کا بیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، وادی نیلم میں شدید برف باری سے 3 مکانات گر گئے۔

    ترجمان ریسکیو کے مطابق ایمرجنسی گاڑیوں اور ہیوی مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں،ریسکیو 1122 نے 1100 سے زائد متاثرہ افراد کو بحفا ظت ریسکیو کر لیا ہے، برف میں پھنسی 120 سے زائد گاڑیوں کو نکال لیا گیا برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہیں بند ہوگئیں، راستے بحال کر نے کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے، وادی تیراہ میں شدید برفباری کے بعد ریسکیو کا امدادی آپریشن جاری ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی علاقوں میں کل سے مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔

  • پاکستان اور آئی سی آر سی کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر اتفاقِ رائے

    پاکستان اور آئی سی آر سی کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر اتفاقِ رائے

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیووس میں بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر یعنی آئی سی آر سی کی صدر مرجانا اسپلجاریچ ایگر سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران پاکستان اور آئی سی آر سی کے مابین مختلف شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔

    وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے انسانی ہمدردی کے شعبے میں آئی سی آر سی کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ادارے کے ساتھ قریبی اور مؤثر شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ اس موقع پر دونوں فریقین نے مستقبل میں تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

    یہ ملاقات عالمی سطح پر درپیش انسانی اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور آئی سی آر سی کے مابین روابط کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

    ڈیووس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔

    دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چارٹر پر دستخط کیے اور امریکی صدر سے مصافحہ اور گفتگو کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کے مشکور ہیں اور رکن ممالک قابل احترام ہیں تمام ممالک مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں حالانکہ ایک وقت تھا جب اس خطے میں امن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا،صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس دن کو ’’انتہائی پُرجوش اور طویل عرصے سے تیاری میں رہنے والا دن‘‘ قرار دیا دنیا بھر کے ممالک ان کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں ناممکن اور بڑے بڑے کام ممکن بنائے گئےاقتدار میں آنے کے بعد وہ اب تک 8 جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور بڑا معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کو سب سے مشکل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنازع ہے جسے وہ آسان سمجھ رہے تھے مگر یہ سب سے پیچیدہ ثابت ہوا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل میں 59 ممالک شامل ہیں اور کئی ممالک نے ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت کی ہے اگر حماس نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور ہتھیار نہ ڈالے تو یہ ان کا انجام ہوگا انہیں اسلحہ ترک کرنا ہوگا، ایران کے جوہری مراکز پر گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور جلد مذاکرات ہوں گے، جبکہ شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ’دنیا میں کئی اچھی پیش رفت ہو رہی ہیں،ایک سال قبل دنیا آگ میں جل رہی تھی، مگر اب صورتحال پرسکون ہو رہی ہےپاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں، 8 جنگیں ختم کرنے کے بعد کئی عالمی رہنما میرے دوست بن چکے ہیں۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں امریکا معاشی طور پر مضبوط ہوا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں معیشت تباہ حال اور غیر قانونی امیگریشن عروج پر تھی، ایک سال میں ’معجزہ‘ ہوا ہے، ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔

    وینزویلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہاں کے حوالے سے اچھے اقدامات کیے گئے ہیں جس سے وینزویلا کے عوام خوش ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وینزویلا کی نئی قیادت سے رابطے میں ہیں اور اس ملک کے پاس دنیا کے 62 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں، امریکا نے آج دنیا کو مزید محفوظ بنا دیا ہے اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے، میں نے ایران، اسرائیل، مصر اور ایتھوپیا کے در میان تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کیا، جبکہ شامی صدر سے بات چیت کے بعد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • شرجیل میمن کا مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    شرجیل میمن کا مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل

    کراچی:سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ آج جو باتیں مصطفیٰ کمال نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں

    کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایک صاحب کی پریس کانفرنس سنی کہ 18ویں ترمیم خراب ہے لہٰذا کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، تو کیا اس سے ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو جلایا ہے۔

    مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرس پر شرجیل میمن نے کہا کہ میں آپ کو جواب آپ کی باتوں سے دوں گا، بلدیہ فیکٹری کو بھتے کے چکر میں آگ لگائی گئی، 12 مئی کو انسانوں کا شکار کیا گیا اور معصوم جانیں لیں، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی،جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عاشورہ کے بعد بولٹن مارکیٹ میں جو آگ لگائی گئی آپ نے ان کا کاروبار چھینا، گل پلازہ کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں اور آپ کیا بات کر رہے ہیں میں آپ کو ان کی ریکارڈنگ سناتا ہوں۔

    شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال کی ماضی کی پریس کانفرنس کے کلپ چلا دیے اور کہا آپ نے سنا کہ مصطفیٰ کمال نے اپنے قائد خالد مقبول کے بارے میں کیا کہا، انہوں نے اتحادی حکومت کے قائدین کو کیا کیا کہا وہ سب کے سامنے ہے، جب یہ کراچی کے میئر تھے ان کے لوگوں کے ساتھ رویے کیا تھے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ آج جو باتیں انہوں نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں،یہ صاحب خود کو کراچی کا دعوے دار کہتا ہے اور وفاقی وزیر صحت ہے، کیا یہ ابھی تک جائے وقوع پر پہنچے؟ کیا انہوں نے اس حوالے سے کسی سے رابطہ کیا؟ ایم کیو ایم کی اصلیت سب کے سامنے ہے، یہ اسکور کی طرح گن گن کر لوگ مارتے تھے۔

  • اے آئی  کے ممکنہ اثرات سے متعلق بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کردیا

    اے آئی کے ممکنہ اثرات سے متعلق بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کردیا

    مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کہا کہ اس وقت اے آئی کے اثرات محدود نظر آتے ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔

    ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ آئندہ چار سے پانچ برسوں میں وائٹ کالر ملازمتیں شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں، اس دوران حکومتوں کو مساوات اور معاشی انصاف جیسے اہم مسائل پر فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اے آئی اگرچہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں بہتری کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اگر اس انقلاب کو مؤثر انداز میں منظم نہ کیا گیا تو افرادی قوت، بھرتی کے نظام اور مجموعی معاشی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومتیں لوگوں کو نئی مہارتیں سکھانے کے لیے دوبارہ تربیت دیں گی یا ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کریں گی،اس وقت اے آئی کے اثرات محدود نظر آتے ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔

    یہ خدشات بل گیٹس کے حالیہ سالانہ خط ’’دی ایئر اہیڈ‘‘ میں بھی نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ماضی کی تمام ٹیکنالوجیکل انقلابات سے کہیں زیادہ تیز اور گہرے اثرات کی حامل ہے، جو معاشرے کے تقریباً ہر شعبے کو غیر معمولی رفتار سے بدل رہی ہے۔

    بل گیٹس نے نشاندہی کی کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں اے آئی پہلے ہی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ لاجسٹکس اور کال سینٹرز جیسے شعبوں میں کم مہارت والی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، اگر اس رجحان کو قابو میں نہ لایا گیا تو دولت اور مواقع چند افراد تک محدود ہو سکتے ہیں، جس سے عدم مساوا ت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

  • مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی-

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے،قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے یہودیوں کی دربدری کی رپورٹ مرتب کی تھی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، انہوں نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فلسطینی تو شامل نہیں لیکن نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دیکھنا چاہیے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟

  • ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ڈیووس: ورلڈ اکنامک فورم میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی و خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں،فورم میں شریک رہنماؤں سے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران مسکراہٹوں کے تبادلے اور گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔

    وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، امریکا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے ملاقاتیں ہوئیں،وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی اقتصادی فورم میں خصوصی خطاب میں بھی شریک تھے۔

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں  پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا ہے کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں۔

    سینیٹرشیری رحمان کی زیرصدارت اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اوراس سے جڑے ماحولیاتی نقصان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شکرپڑیاں، پارک روڈ، ایف 9 پارک اور ایچ 8 ایکسپریس وے پر درختوں کی کٹائی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسموگ، گاڑیوں کے اخراج اور ماحولیاتی منصوبوں پر متعلقہ اداروں کی بریفنگ بھی دی گئی-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ پیپر ملبری کے علاوہ کوئی بھی درخت نہیں کاٹا گیا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکایت یا اعتراض ہے تو کسی بھی ادارے سے تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں،’ہم ہر وقت حاضر ہیں، ایک درخت کاٹنے کی صورت میں اس کی جگہ 3 سے زائد درخت لگائے گئے ہیں۔‘

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں،امریکا اور آسٹریلیا میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر پیپرملبری کے درخت ہٹائے گئے۔

    چیئرپرسن کمیٹی شیری رحمان نے کہا کہ درختوں کی کٹائی سے قبل عوام اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کیونکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور ماحول کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہےدرختوں کے ساتھ پانی کے تحفظ پر بھی پالیسی بنائی جائے اور اگرڈیم بن سکتا ہے تو موجودہ پانی کو صاف کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

    شیری رحمان نے پیپر ملبری کی کٹائی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے عوام کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا،وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ اسلام آباد گزشتہ 2 دہائیوں سے شدید پولن بحران کا شکار ہے 2022 میں پولن کاؤنٹ 82 ہزار فی کیوبک میٹر تک پہنچ گیا تھا، جس کا 94 فیصد سبب پیپر ملبری کے درخت ہیں، مارچ اور اپریل میں پولن سیزن عروج پر ہوتا ہے پیپر ملبری کی کٹائی سے سانس کی الرجی میں 40 فیصد سے زائد کمی آئے گی۔

    وزیر مملکت برائے صحت نے اجلاس میں پولن مینجمنٹ و ایکولوجیکل ریسٹوریشن انیشی ایٹو 2024 پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ وزارت صحت اور سی ڈی اے کی سربراہی میں شروع کیا گیا تھا، پیپر ملبری کے خاتمے کے لیے 3 نکاتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے؛ درختوں کی کٹائی، جڑوں کا مکمل خاتمہ، اور مٹی کی دوبارہ بھرائی۔

    مختار بھرتھ کے مطابق اب تک 29,115 پیپر ملبری کے درخت ہٹائے جاچکے ہیں، جن میں ایف 9 پارک سے 12,800 اور شکرپڑیاں سے 8,700 درخت شامل ہیں، اسی طرح مختلف سیکٹرز اور کوریڈورز میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں نیلوفر قاضی نے کہا کہ اگر مقصد الرجی کنٹرول تھا تو ماہر ماحولیات سے مشاورت ضروری تھی، ماہر ماحولیات سید رضوان نے کہا کہ پیپر ملبری کے درخت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جبکہ مادہ درخت نہیں، ان کے مطابق تمام درخت کاٹنے کے بجائے صرف زیادہ خطرناک درختوں کو ہٹایا جانا چاہیے تھا، جڑیں اکھاڑنے سے مٹی کے کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور درخت مرحلہ وار ختم کیے جانے چاہییں تھے۔

    چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں سے اسلام آباد کے گرین کور کو نقصان پہنچنے کا تاثر درست نہیں، سی ڈی اے نے ڈیزائنز میں تبدیلیاں کر کے درخت بچانے اور پیوندکاری پر توجہ دی ہے، جبکہ کئی جگہوں پر درختوں کا کور دگنا بھی کیا گیاہر ایک درخت کے بدلے 3 درخت لگانے کا عزم ہے، ایف 9 پارک میں نئے کرکٹ گراؤنڈ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے سے گراؤنڈ موجود ہے اور صرف بیٹھنے کی جگہ بنائی جا رہی ہے۔

  • طالبان حکومت میں غذائی بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور عالمی امداد کی معطلی نے غذائی بحران کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، لاکھوں افراد شدید بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں غذائی قلت ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، لا کھو ں افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر خوراک کی شدید کمی اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں-

    ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے تخمینوں کے مطابق افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک سے افغان مہاجرین کی واپسی نے بھی غربت اور غذائی بحران میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ محدود وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے، طالبان رجیم کی پالیسیوں کے باعث عالمی امداد میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افراد شدید بھوک کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت اور جابرانہ پالیسیوں نےافغانستان کی معیشت کو کمزور کر دیا ہےجس سے بے روزگاری میں اضافہ اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اگر فوری طور پر عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح نہ دی گئی تو افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔