Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا،پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہےپاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔

    انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جا ئیں، ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیاسیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے،ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔

  • صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر  عائد کر دیا

    صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

    ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے، وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندر گاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں،جس سے ممالک کو گندم اور تیل جیسے سامان کے ساتھ ہتھیاروں کو آزادانہ طور پر تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے، روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔

    سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔

  • بحرین میں ایمیزون ویب سروسز  کے ڈیٹا سینٹرز پر  ڈرون حملہ، انفرااسٹرکچر کو نقصان

    بحرین میں ایمیزون ویب سروسز کے ڈیٹا سینٹرز پر ڈرون حملہ، انفرااسٹرکچر کو نقصان

    ایرانی ڈرونز نے خلیج میں ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے ڈیٹا سینٹرز پر حملہ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ حملے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے، جو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں اضافے کے ایک نئے مرحلے کا اشارہ ہے۔ یہ سہولیات دنیا بھر میں کاروباروں، حکومتوں اور لاکھوں صارفین کے ذریعے استعمال ہونے والی کلاؤڈ سروسز کو طاقت بخشتی ہیں، جس سے یہ حملہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

    سادہ پے کی سروس بحرین میں ڈرون حملوں سے انفرااسٹرکچر کو نقصان کے بعد بند کردی گئی علاقائی تناؤ میں اضافے نے پاکستان کے فن ٹیک سیکٹر کو بھی نہیں چھوڑا۔ سادہ پے کے مطابق خلیج میں حالیہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں انفرااسٹرکچر کی بندش کے باعث اس کی ایپ تمام صارفین کیلئے آف لائن ہوگئی ہے۔

    ان واقعات کی وجہ سے ساختی نقصان، بجلی میں خلل، اور بندش ہوئی، جس سے انٹرپرائز سافٹ ویئر، بینکنگ سسٹم، اور ضروری آن لائن خدمات متاثر ہوئیں۔ جبکہ AWS بحالی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ جدید جنگ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ڈیجیٹل بیک بون اب اسٹریٹجک اہداف ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی ایک اپڈیٹ میں فن ٹیک کمپنی نے بتایا کہ ایپ اس وقت صارفین کیلئے دستیاب نہیں ہے۔

    کمپنی نے بتایا کہ ہمارا انفرااسٹرکچر بحرین میں ایمازون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس) پر چلتا ہے جو یکم مارچ کو ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہے خلیج اور وسیع تر خطے کی دیگر مالیاتی خدمات کی طرح، وہ بھی مشترکہ کلاؤڈ انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے فزیکل نقصان کے ذیلی اثرات سے نمٹ رہی ہے۔

    کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف سادہ پے کی انفرادی ناکامی نہیں ہے بلکہ اپنے صارفین کیلئے اسے حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے مکمل طور پر ہنگامی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں تاہم ایپ کی بندش کے باوجود کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے مزید برآں ڈیبیٹ کارڈز، اے ٹی ایم اور پی او ایس ادائیگیاں فعال ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم اس زحمت کے لیے تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں اور آپ کے صبر و تحمل کے شکر گزار ہیں۔

    گزشتہ رات متاثرہ اے ڈبلیو ایس ریجن میں حالات مزید خراب ہوگئے جس کی وجہ سے صارفین کیلئے ایپ مکمل طور پر بند ہوگئی سادہ پے (پرائیویٹ) لمیٹڈ پاکستان میں ایک نجی لمیٹڈ کمپنی ہے جو مالیاتی خدمات بشمول ماسٹر کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور ڈیجیٹل والٹ فراہم کرتی ہے ۔

  • مالی سال 2024-25 میں پاکستانی معیشت نے نمایاں بہتری  ہوئی،انٹرنیشنل میڈیا

    مالی سال 2024-25 میں پاکستانی معیشت نے نمایاں بہتری ہوئی،انٹرنیشنل میڈیا

    مالی سال 2024-25 میں پاکستانی معیشت نے نمایاں بہتری دکھائی، جہاں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 2.7% سے 3.7% کے درمیان رہی-

    گلف نیوز کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستانی معیشت نے نمایاں بہتری دکھائی، جہاں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 2.7% سے 3.7% کے درمیان رہی، افراط زر میں کمی آئی، اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے۔ 2.4% کے پرائمری سرپلس اور سٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ کارکردگی نے مالی استحکام کو مضبوط کیا، جس سے پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر سامنے آیا۔

    گلف نیوز کے مطابق جی ڈی پی میں ترقی 2.7% یا 3.71% تک ریکارڈ کی گئی وزیر خزانہ کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار 2.4% کا پرائمری سرپلس حاصل کیا گیا فراط زر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جو 4.6% یا اس سے کم کی سطح پر آگئی سٹاک مارکیٹ میں تاریخی 40% سے زائد اضافہ دیکھا گیا غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، جو مالی سال کے آخر تک $20 بلین کی حد عبور کر گئے ان نتائج کی بنیاد پر، پاکستان کی معیشت نے 2024-25 کے دوران استحکام اور ترقی کے آثار دکھائے ہیں۔، ایسے عوامل کا مجموعہ جسے بلومبرگ نے پاکستان کو مالی استحکام کے لیے دنیا کی دوسری سرفہرست ابھرتی ہوئی معیشت کا نام دیا۔

  • ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب زمینی حقا ئق مختلف ہیں طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کیا آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟ امریکا جس اسٹریٹجک طاقت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک ناکامی میں بدل چکی ہے، اور ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے۔

    اس سے قبل بھی ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہائے ٹرمپ، آپ کو برطرف کیا جاتا ہے، آپ اس جملے سے واقف ہیں“، جو ٹرمپ کے مشہور جملے کی طرف اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔

  • پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن بحال

    پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن بحال

    پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن رواں ماہ بحال ہوگا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے 29 مارچ کو اسلام آباد سے لندن اور 30 مارچ سے لاہور سے لندن کی پروازوں کو چلائے گی پی آئی اے ابتدائی طور پر ہفتہ وار چار پروازیں لندن کے لیے آپریٹ کرے گی پی آئی اے کی اسلام آباد سے ہفتہ وار تین اور لاہور سے ایک پرواز آپریٹ ہوگی پی آئی اے لندن کے فضائی آپریشن کے لیے بوئنگ 777 طیارے استعمال کرے گی-

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے لندن کے لیے پروازیں ہیتھرو ایئر پورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کریں گی، چھ سال کے وقفے کے بعد پروازوں کا آغاز کیا جا رہا ہے پی آئی اے کا لندن روٹ سے 70 سال سے زائد کا رشتہ ہے، لندن پی آئی اے کے نیٹ ورک کے ابتدائی بین لاقوامی روٹس میں شا مل ہے ان پروازوں کی شروعات کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی ہفتہ وار تعداد 7 ہو جائے گی،لندن کے لئے پروازوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

  • عمران خان کے بیٹوں کی  لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے ماسٹرمائنڈ کیساتھ فوٹو وائرل

    عمران خان کے بیٹوں کی لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے ماسٹرمائنڈ کیساتھ فوٹو وائرل

    پاکستان کے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان کیلئے منفی پروپیگنڈا کرنے والے شخص عارف اجاکیہ کے ساتھ فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے-

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں بچوں کی عارف اجاکیہ کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کی فوٹو وائرل ہو گئی،سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جرنلسٹ اظہر جاوید کی جانب سے شئیر کی گئی فوٹو میں عمران خان کے بیٹوں کو عارف اجاکیہ کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے-

    تصویر شئیر کرتے ہوئے انہوں نےتشویش کا اظہار کیا کہا کہ یہ صرف متنازعہ نہیں ہے ، یہ گہرائی سے متعلق ہےعمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم، عارف آجاکیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ایک شخص جو لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے لیے جانا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے عناصر کے ساتھ اتحاد کا انتخاب سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے کیا یہ جہالت ہے، تکبر ہے یا جان بوجھ کر؟کیا وہ اس پیغام کو سمجھتے ہیں جو وہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانیوں کو بھیج رہے ہیں؟ یا اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا؟

    ایک سوشل میڈیا صارف سفینہ خان نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے عارف اجاکیہ کیساتھ جینوا میں ، یہ وہ عارف اجاکیہ ہیں جو اپنے آپکو فخر کیساتھ انڈین نا صرف کہتے ہیں بلکہ بھارتیوں کیساتھ ملکر پاکستان کے خلاف مظاہرے بھی کرتے ہیں-

    واضح رہے کہ بھارت کی مسلم دشمن ہندوتوا حکومت نے کشمیر میں ہونے والے واقعہ کیخلاف لندن میں جمعہ کو ایک مظاہرہ کا انتظام کیا اس مظاہرہ میں ماتھے پر تلک لگائے عارف اجاکیہ نے بھر پور شرکت کی تھی اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی-

    سوشل میڈیا پر جاری معلومات کے مطابق عارف اجاکیہ، الطاف حسین کا قریبی ساتھی ہے اور بھارتی اہلکاروں سے روابطہ میں پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
    اجاکیہ نے بھارت جاکر ایک تقریب میں اسلام ترک کرکے ہندومذہب قبول کرلیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق بھارت کی مسلم دشمن ہندوتوا حکومت نے کشمیر میں ہونے والے واقعہ کیخلاف لندن میں جمعہ کو ایک مظاہرہ کا انتظام کیا اس مظاہرہ میں ماتھے پر تلک لگائے عارف اجاکیہ نامی ایک ایسے شخص کی شرکت ہے جو باقاعدگی سے ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کے گھر اور دفتر جاتا ہے عارف اجاکیہ نے ہندوؤں کے حلیہ میں صرف پاکستان کیخلاف ہونے والے مظاہرے میں ہی شرکت نہیں کی بلکہ کھل کر پاکستان اور اسلام کو گالیاں بھی دیں۔

    عارف اجاکیہ یہ شخص فرانس کا شہری ہے نوے کی دہائی میں یہ شخص الطاف حسین کے دست راست محمد انور کا زاتی ملازم تھا محمد انور اور الطاف حسین نے اس شخص کو 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے جمشید ٹاؤن کا ناظم بنادیا مگر اس نے مختصر عرصہ میں ہی اسقدر کرپشن کیا کہ علاقے میں اسکے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے اس سے بڑی غلطی اجاکیہ نے یہ کی کہ کرپشن کے مال میں سے نہ تو الطاف حسین کو حصہ دیا اور نہ ہی انور کو جسکی پاداش میں اسکو نظامت سے برطرف کردیا گیا۔

    محمد انور نے اس واقعہ کے بعد عارف اجاکیہ کو کھڈے لائن لگادیا مگر جب الطاف حسین نے محمد انور کو کھڈے لائن لگایا تو عارف اجاکیہ کو بحال کرکے پاکستان دشمنوں سے روابط کیلئے مقرر کردیا گزشتہ چند برسوں میں عارف اجاکیہ کئی مرتبہ بھارت جاچکا ہے جہاں اس نے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے دئیے گئے ایک استقبالیہ میں اسلام ترک کرکے ہند مذہب قبول کرلیا (استغفراللہ) اور کئی چینلز پر بیٹھ کر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی “را” نے عارف اجاکیہ کو پاکستان اور اسلام کے خلاف بولنے کیلئے ایک یوٹیوب چینل بھی بناکر دیا ہے جس پر بیٹھ کر یہ مسلسل پاکستان اور اسلام کیخلاف زہر اگلتا ہے جس کے عوض را کی جانب سے اسکو ایک خطیر رقم دی جاتی ہے۔

    ایک ماہ قبل الطاف حسین نے بلوچستان کے مسئلہ پر انٹرنیٹ سے کچھ مواد چوری کرکے اسے اپنی کتاب کے طور پر شائع کیا تو اس نام نہاد کتاب کی تقریب رونمائی میں مہمانان خصوصی کے طور پر پاکستان دشمن خان آف قلات اور عارف اجاکیہ کو مدعو کیا گیا باخبر زرائع کا کہنا ہے اجاکیہ گزشتہ چند ایک سال سے الطاف حسین اور بھارتی انٹیلیجنس اہلکاروں کے درمیان پل کا کام کررہا ہے جس کے لئے وہ باقاعدگی کے ساتھ الطاف حسین کے گھر جاتا ہے۔

    جبکہ ایک طرف الطاف حسین صبح و شام جنرل عاصم منیر سے معافی کی بھیک مانگ رہا ہے اور دوسری جانب عارف اجاکیہ جیسے دین و قوم فروش سے ملکر پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔

  • ایرانی  پاسدارانِ انقلاب  کااسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کااسرائیل اور امریکی اڈوں کیخلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف حملوں کی 80 ویں لہر شروع کر دی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے ذریعے جاری کئے گئے اعلان کے مطابق اس نئی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی شہر صفد میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تل ابیب، کریات شمونہ اور بنی براک میں بھی مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے گئے، ایران نے خطے میں موجود امریکی فو جی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں کویت، اردن اور بحرین میں واقع تنصیبات شامل ہیں۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

  • بھارتی ساکھ اور خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہوگیا،بھارتی میڈیا

    بھارتی ساکھ اور خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہوگیا،بھارتی میڈیا

    عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی کامیابی نے بھارت کو تنہا کردیا اور مودی سرکار کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی برباد ہوگئی۔

    بھارتی خبر رساں ادارے نے ہی مودی سرکار کو آئینہ دکھادیا اورکہا کہ بھارتی ساکھ اور خطے میں بھارتی اجارہ داری کا بیانیہ ختم ہوگیا ہے اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا نریندر مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کا مذاق بنادیا، وہ صرف امریکا اور اسرائیل کے کہنے پر چلیں گے کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے طنز کیا کہ بی جے پی ایک فرضی دھورندر پر بغلیں بجارہی ہے جب کہ پاکستان ایک اہم عالمی موڑ پر سفارتی میز پر اپنی جگہ بنارہا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیود وینس (جے ڈی وینس) ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں، امریکی نائب صدر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ امور برائے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کے خصوصی مشیر جیرڈ کُشنر بھی موجود ہوں گے، جو اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل رہ چکے ہیں۔