Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نیتجے میں قیمتیں دھاتوں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی ہیں۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں مزید 65 ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی قیمت 4 ہزار 988 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    ملک میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 6 ہزار 500 روپے کے نمایاں اضافے سے 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 573 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 46 ہزار 812 روپے کی سطح پر آ گئی۔ جمعہ کو سونے کی فی تولہ قیمت 9 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے ہوگئی تھی۔

    اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت یکدم 526 روپے بڑھ کر 10 ہزار 801 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت 451 روپے کے اضافے سے 9 ہزار 260 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترامیم، گل پلازہ سانحے، اور عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق حالیہ قانون سازی کو ایک ہی تناظر میں جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کی کمی، عجلت میں فیصلے اور عوام کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے عوام کے سامنے ہوں، نہ کہ بند کمروں اور رات کے اندھیرے میں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہے اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہےاٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں، گل پلازہ جیسے سانحات میں حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سننا اور عملی حل تلاش کرنا ہے، بد قسمتی سے یہاں بھی سنجیدگی کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔

    انہوں نے نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی، عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی زندگی کا ہر پہلو عوام کے سامنے ہو اگر کسی نمائندے کو اپنی جان یا مال کا اتنا خوف ہے کہ وہ اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کے ٹیکس گوشوارے بھی عوامی سطح پر شائع ہوتے ہیں، لیکن اب اگلا قدم شاید یہ ہو کہ انہیں بھی خفیہ کر دیا جائےحقیقت یہ ہے کہ بہت کم ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جو اپنے اثاثے اور آمدن درست طور پر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اخراجات لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں اور ٹیکس چند ہزار یا چند لاکھ ادا کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ رویہ پورے نظام کو تباہ کر رہا ہے قومی اسمبلی نے عجلت میں یہ قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیار دے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ گوشوار ے عوام کے سامنے آئیں یا نہیں،اس قانون کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ پارلیمان کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے بدقسمتی سے ہم نے اتنے کالے دھبے قبول کر لیے ہیں کہ اب ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں اور ان کی رائے کی کیا اہمیت ہےمعاملہ گل پلازہ کے سانحے کا ہو یا آئینی ترامیم کا، مسئلہ آخرکار اسی جگہ آ کر رک جاتا ہے کہ فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔

  • پاکستانی کرکٹرز سے فراڈ، کھلاڑیوں اور کمپنی کے مالک کا ردعمل آ گیا

    پاکستانی کرکٹرز سے فراڈ، کھلاڑیوں اور کمپنی کے مالک کا ردعمل آ گیا

    پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں اور کمپنی کے مالک کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

    پاکستان کے سابق اور موجودہ کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کی خبروں پر کھلاڑیوں نے کہا کہ ہم نے کمپنی میں انویسٹمنٹ کی تھی ہمارے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا، کمپنی ہم سے رابطے میں ہے، تمام پیمنٹ مارچ تک کلیئر کرنے کا کہا گیا ہے، صرف 2 چیک باؤنس ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب انویسٹمنٹ کرنے والی کمپنی کے مالک نے اپنے ردعمل میں کہا کہ کھلاڑیوں کی 2023 سے میرے ساتھ انویسٹمنٹ ہے، میرا کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل تحریری معاہدہ موجود ہے تمام کھلاڑیوں کے پاس میری کمپنی کے گارنٹی چیک بھی موجود ہیں، تمام الزامات کی تردید کرتا ہوں،میں کبھی امریکا نہیں گیا نہ ہی میرے پاس امریکا کا ویزا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں دبئی میں ہوں اور تمام کھلاڑیوں سے رابطے میں ہوں، انہوں نے کہا کہ پہلی بار ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں، چند دنوں میں تمام ادائیگیاں کلیئر کر دی جائیں گی،میں پاکستانی ہوں اور میرا خاندان پاکستان میں ہے، کھلاڑیوں کے علاوہ میرے پاس مزید انویسٹرز بھی ہیں۔

  • سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    کراچی: سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ نہیں آئی اس لئے مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا،مقدے میں کہا گیا کہ بجلی بند کردی گئی تھی جس سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گل پلازہ کے کئی دروازے بند تھے جس سے صورتحال خراب ہوئی۔

    گل پلازہ واقعے کے مقدمے تاحال کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کاٹنے کے بعد گل پلازہ سیل کر دیا گیا ہے۔

  • گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی سامنے آ گئی۔

    خیبرپختونخوا میں کل اتوار رات سے منگل کے روز تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق 25 سے 27 جنوری تک مغربی ہواؤں کا نئے سلسلے کی توقع ہے، پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے، بالائی علاقوں میں چند مقامات پر شدید برفباری کی توقع ہے نشیبی علاقوں میں ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، بارشوں اور برفباری کے با عث بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے مری، گلیات اوردیگر پہاڑی علاقوں میں برفباری کےساتھ شدید بارش کا امکا ن ہے،لاہور،سرگودھا،گجرانوالہ،ملتان،فیصل آباد،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں و برفباری کے دوران مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جاں بحق افراد میں 7 بچے، ایک مرد، ایک خاتون جبکہ زخمیوں میں ایک بچہ شامل ہے۔

    دوسری جانب دوسری جانب نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 29 جنوری تک ایڈوائزری جاری کر دی ہے، کہا گیا ہے کہ مغربی ہوائیں بالائی و شمالی علاقوں پر اثرانداز ہوں گی، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کی توقع ہے، خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے، بلوچستان کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی کی لہر کا امکان ہے، عوام برفباری اور دھند میں سفر سے گریز کریں،نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے مشینری اور رسپانس ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، حفاظتی تدابیر کیلئے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رہنمائی لینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

  • پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدہ

    پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدہ

    پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدہ طے پا گیا۔

    پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

    یہ معاہدہ صومالیہ کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری اور پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ داخلہ نے دستخط کرکے طے کیا، اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے صومالیہ کے وزیرِ داخلہ علی یوسف نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ افریقا عالمی جیوپولیٹیکل منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہے اور پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، پاکستان صومالیہ کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔

    صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان سرحد پار جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں کے لیے پرعزم ہے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • مودی حکومت کی  عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹانے کی منظم کوشش بے نقاب

    مودی حکومت کی عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹانے کی منظم کوشش بے نقاب

    دہلی سے روانہ ہونے والی انڈیگو پرواز کو پانچ دنوں میں دوسری بار "بم” کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول نے بم دھمکی کی اطلاع ایپرن کنٹرول کو دی اور طیارہ آئسولیشن بے میں منتقل کیا گیا۔ رواں ہفتے ہی انڈیگو کی پرواز کو اتوار کی صبح ایک سکیورٹی دھمکی کے بعد لکھنؤ منتقل کیا گیا تھا، تاہم عالمی جریدہ بلومبرگ گودی میڈیا کے پروپیگنڈا کی اصل کہانی منظر عام پر لے آیا۔ ایئر انڈیا لمیٹڈ کو رواں مالی سال میں ریکارڈ سالانہ خسارہ ہوا۔

    بلومبرگ کے مطابق ایئر انڈیا کو مہلک حادثے کے بعد ریکارڈ 1.6 بلین ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا جون میں ہوئے ڈریم لائنر حادثے میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے نقصانات میں مزید اضافہ پاکستان کے بھارتی ایئرلائنز کیلئےفضائی حدود بند کر نے کے باعث ہوا، پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے ایئرلائنز کو یورپ اور امریکا کیلئے طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے پڑے۔

    ماہرین کے مطابق بار بار بم دھمکیاں عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹانے کی منظم کوشش ہے ایک ہی روٹس پر دھمکیاں بھارتی فضائی سکیورٹی کی کمزوری ظاہر کرتی ہیں۔

  • امریکا کی جانب سے کوئی بھی حملہ مکمل جنگ تصور ہوگا، ایران

    امریکا کی جانب سے کوئی بھی حملہ مکمل جنگ تصور ہوگا، ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے کسی بھی حملے کو مکمل جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا-

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی فوجی ائیرکرافٹ کیریئر اسٹریک گروپ اور دیگر فوجی اثاثے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں پہنچ رہے ہیں،سینیئر ایرانی عہدیدار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ فوجی بڑھوتری حقیقی تصادم کے لیے نہیں ہے، لیکن ہماری فوج بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے، اسی لیے ایران میں سب کچھ ہائی الرٹ پر ہے، اس بار ہم کسی بھی حملے چاہے محدود ہو، غیر محدود، سرجیکل یا کسی بھی قسم کا کو مکمل جنگ کے طور پر شمار کریں گے اور سب سے سخت طریقے سے جواب دیں گے،اگر امریکی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کریں گے، تو ہم جواب دیں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کا ‘آرمادا’ ایران کی طرف جا رہا ہے، لیکن امید ہے کہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے، جبکہ ایران کو مظاہرین کے قتل یا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے کی تنبیہ بھی دی۔

  • وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہےحتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگاجب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا،وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔

  • نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    لاہور:جوہر ٹاؤن سے نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آگیا۔

    ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے مغوی عابد وزیر کو سی سی ڈی کے خوف سے رہا کیاملزمان نے عابد وزیر کو سی سی ڈی کو نہ بتانے کی شرط پر رہا کیا، اغوا کاروں نے کہا تاوان نہ دیں بلکہ ہم سے بھی پیسے لے جائیں اغوا کاروں نے بس پر بٹھا کر کرایہ بھی خود دیا، ملزمان نے کہا سی سی ڈی کو یہ بتائیے گا کسی نے اغوا نہیں کیا۔

    نجی کالج کے مالک عابد وزیر کو بدھ کے روز اغوا کیا گیا تھا، ملزمان نے مغوی کے ورثا سے 16 کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا تھا،سی سی ڈی حکام کے مطابق وہ ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جلد گرفتار کرلیں گے، سی سی ڈی کی وجہ سے پنجاب میں سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    22 جنوری کو تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق عابد وزیر خان کو آفس سے جاتے ہوئے راستے سے اغوا کیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عابد وزیر خان اغوا کے وقت خاتون جنرل مینجر کے ساتھ فون لائن پر تھے، خاتون نے فون پر نامعلوم شخص کی آواز سنی۔ نامعلوم شخص نے مغوی کو کہا کہ تم نے میری گاڑی کا ایکسیڈینٹ کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان مغوی کو لیکر ملتان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، مانگا منڈی کے قریب مغوی کی گاڑی کی لوکیشنز ٹریس ہوتی رہیں۔ ابتدائی تفتیش میں اغواء کاروں کی تعداد تین سامنے آئی، ملزمان بظاہر مغوی کو لیکر شہر سے باہر جانا چاہتے تھے، مانگا منڈی ملحقہ علاقوں میں پولیس کی چھ ٹیمیں روٹ ٹریکنگ کررہی ہیںعابد وزیر کو تاوان کے لیے اغواء کیا گیا یا وجہ کچھ اور ہے تفتیش جاری ہے، مغوی کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا، ملزمان کو جلد ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائے گا۔