Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • حج 2026 کیلئے بائیو میٹرک کرانے کی تاریخ میں توسیع

    حج 2026 کیلئے بائیو میٹرک کرانے کی تاریخ میں توسیع

    حج 2026 کے لئے بائیومیٹرک کرانے کی تاریخ میں 17 فروری تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سعودی ویزا کے لئے بائیو میٹرک لازمی قرار دی گئی ہے، بائیو میٹرک نہ کرانے والوں کو حج ویزا جاری نہیں کیا جائے گا، 17 فروری کے بعد بائیو میٹرک مکمل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی بائیو میٹرک نہ کرانے والے عازمین اس برس حج نہیں کر سکیں گے، موبائل ایپ سعو دی ویزا بائیو کے ذریعے گھر بیٹھے بائیومیٹرک کرائی جا سکتی ہے۔

    عازمین حج کی سہولت کے لئے تاشیر سینٹرز بھی کھلے رہیں گے، عازمین حج کو فوری طور پر بائیو میٹرک کیلئے سعودی ویزا مراکز سے رجوع کرنے کا کہا گیا ہے، 80 برس سے زائد عمر کے عازمین حج کو بائیو میٹرک سے استثنیٰ حاصل ہے، ان کا چہرہ اور فنگر پرنٹ اسکین نہیں ہوں گے، ان کے پاسپورٹ اسکین ہونے کی تصدیقی ای میل ان کو موصول ہو گی، عازمین حج پراسیس مکمل ہونے کے بعد رسید حاصل کریں۔

  • پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں سے متعلق اہم پیشرفت

    پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہزاروں افغان شہری کئی برس سے امریکا میں آبادکاری کے منتظر ہیں، تاہم طویل تاخیر کے باعث اب ان کی واپسی کا عمل شروع کیے جانے کا امکان ہے پاکستان میں موجود تقریباً 19 ہزار سے زائد افغان شہری امریکا منتقلی کے انتظار میں ہیں، تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد کئی سال گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے ان کی مکمل آبادکاری ممکن نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان نے افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے افغان شہریوں کی واپسی کے حوالے سے صوبوں کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، پولیس سربراہان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد انتظامیہ کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان پہلے بھی غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کر چکا ہے، اور ماضی میں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایات دی گئی تھیں پاکستان نے اس سے قبل مغربی ممالک، خصوصاً امریکا، پر زور دیا تھا کہ وہ ان افغان شہریوں کی بروقت آبادکاری یقینی بنائیں، بصورت دیگر انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد بڑی تعداد میں افغان شہری پاکستان منتقل ہوئے تھے، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جنہیں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کے باعث خطرات لاحق تھے اب کئی سال گزرنے کے باوجود ان کے کیسز مکمل نہ ہونے سے صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔

  • ایپسٹین فائلز میں نام، دلائی لامہ کے دفترکا وضاحتی بیان جاری

    ایپسٹین فائلز میں نام، دلائی لامہ کے دفترکا وضاحتی بیان جاری

    بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ دلائی لامہ کی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔

    یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب چینی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دلائی لامہ کا نام شامل ہےامریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ماہ ایپسٹین کیس سے متعلق تین ملین سے زائد دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز جاری کی تھیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان فائلز میں دلائی لامہ کا نام 150 سے زائد مرتبہ آیا ہے، تاہم کہیں بھی ان کی ایپسٹین سے ملاقات یا رابطے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

    دلائی لامہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس دلائی لامہ کو ایپسٹین سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو سراسر غلط ہے دلائی لامہ نے نہ کبھی جیفری ایپسٹین سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی کو ان کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کی اجازت دی۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے دعویٰ کیا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں ایک ای میل کا ذکر ہے جس میں ایک نامعلوم شخص نے کسی تقریب میں دلائی لامہ کو دیکھنے کی بات کی تھی تاہم اے ایف پی کے مطابق اس ای میل میں بھی دلائی لامہ اور ایپسٹین کی براہِ راست ملاقات کا کوئی ذکر نہیں۔

    واضح رہے کہ ایپسٹین کو 2008 میں نابالغ لڑکی سے جسم فروشی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ 2019 میں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہو گیا تھا حالیہ فائلز کے اجرا کے بعد کئی عالمی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم صرف نام کا ذکر کسی بھی فرد کے خلا ف الزام یا جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔

  • روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روسی جنرل پر حملے کا ملزم دبئی سے گرفتار

    روس نے ماسکو میں روسی انٹیلی جینس ایجنسی کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کو دبئی سے گرفتار کر کے ماسکو منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو فون کیا اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملٹری انٹیلی جنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف پر حملے کے مشتبہ ملزم کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے روس منتقل کردیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یوکرینی نژاد روسی شہری جمعے کی صبح ماسکو میں واقع ایک گھر میں جنرل الیکسییف پر فائرنگ کے بعد دبئی فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اسے متحدہ عرب امارات کے حکام کے تعاون سے گرفتار کر کے روس کے حوالے کیا گیاتحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 60 سالہ جو یوکرینی شہری لیوبومیر کوربا دسمبر کے آخر میں روس پہنچا اور یوکرین کی ایما پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیں۔

    روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو فون کیا اور روسی جنرل پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    روسی تفتیش کاروں کے مطابق جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو میں واقع ایک رہائشی عمارت میں سائلنسر لگی پستول سے تین گولیاں ماری گئیں 64 سالہ جنرل کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔

    روسی حکام کے مطابق روسی جنرل پر حملے میں دو مزید روسی شہری بھی ملوث تھے۔ حملہ آور کے ایک مشتبہ ساتھی وکٹر واسن کو ماسکو میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری خاتون ساتھی ملزمہ زینائڈا سیری بریتسکایا یوکرین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی ایما پر کیا گیا تھا تاکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے، تاہم یوکرین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ یہ واقعہ روس کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہو۔

  • امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا  سخت ردعمل

    امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا سخت ردعمل

    امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔

    امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

    واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔

    شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔

  • کراچی: گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والا 4 رکنی ڈکیت گروہ گرفتار

    کراچی: گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والا 4 رکنی ڈکیت گروہ گرفتار

    کراچی:سائٹ اے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والا 4 رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتارکرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق سائٹ اے پولیس نے خفیہ اطلاع پر اہم کارروائی کرتے ہوئےڈکیتی ولوٹ مارکی متعدد وارداتوں میں ملوث 4 رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتار کرکےان کے قبضے سے دو پستول اورچوری شدہ موبائل فون برآمد کرلیے گرفتارملزمان میں نورالحق،ساجد، ناصر اور سہیل شامل ہیں۔

    ایس ایس پی کیماڑی امجد احمد شیخ نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہےملزمان پر ڈکیتی، چوری، لوٹ مار، قتل اور پولیس پر فائرنگ کے مقدمات درج ہیں، گرفتارملزمان کے خلاف مزید مقدمات کا اندراج کرلیا گیا ہے گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل بھی جاری ہے۔

    دوسری جانب جیکسن پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئےمنشیات فروشی میں ملوث 6 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے آئس، تنزانیہ اور زرفروختگی کی رقم برآمد کرلی گئی، گرفتار ملزمان میں شناخت سجاد، مزمل، انور، راحت، سجاد حسن اور عابد شامل ہیں، گرفتار ملزمان عادی جرائم پیشہ نکلے۔

  • یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر 22 سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی

    یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر 22 سالہ نوجوان نے خودکشی کرلی

    راولپنڈی میں 22 سالہ نواجوان نے یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ پیرودھائی کے علاقے گلی لوہاراں میں فاروق خان نے شہ رگ پر چھری پھیر کر زندگی کا خاتمہ کر لیا پولیس موقع پر پہنچ گئی اور سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں،علاقے میں مبینہ اطلاع پھیل گئی کہ متوفی نے یوٹیلیٹی بل زیادہ آنے پر زندگی کا خاتمہ کرلیا تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ایس ایچ او پیر ودھائی کا کہنا ہے کہ خودکشی ہوئی ہے لیکن وجہ کا تعین نہیں ہو سکا اس لیے تحقیقات میں صورتحال واضح ہوگی۔

  • صاحبزادہ وسیم حیدر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 40 ویں ناظم اعلیٰ منتخب

    صاحبزادہ وسیم حیدر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 40 ویں ناظم اعلیٰ منتخب

    پشاور: صاحبزادہ وسیم حیدر اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے 40 ویں ناظم اعلیٰ منتخب ہوگئے۔

    مرکزی سیکرٹری اطلاعات اسلامی جمعیت طلبہ طیب چوہان کے مطابق نو منتخب ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب ایک سالہ مدت سیشن 2026-27ء کے لیے کیا گیا، اراکینِ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے خفیہ رائے دہی کے ذریعے ناظمِ اعلیٰ کا انتخاب کیا صاحبزادہ وسیم حیدر جامعہ پشاور میں پی ایچ ڈی تعلقاتِ عامہ کے طالبِ علم ہیں، وہ اس سے قبل معتمدِ عام، ناظمِ خیبر، سیکریٹری صوبہ خیبر اور ناظمِ پشاور بھی رہ چکے ہیں۔

    مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے مطابق اسلامی جمعیتِ طلبہ پاکستان کا 73واں سالانہ اجتماع مسلم ایجوکیشنل کمپلیکس اضاخیل بالا، ضلع نوشہرہ میں جاری ہے، سالانہ اجتماع ارکان میں معتمدِ عام، معاونین اور صوبائی قیادت کا اعلان آج کیا جائے گا۔

  • کراچی:جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس سے ایم پی اے سمیت متعدد رہنما گرفتار

    کراچی:جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس سے ایم پی اے سمیت متعدد رہنما گرفتار

    کراچی:پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔

    جماعت اسلامی نے 8 فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا پولیس کی جا نب سے پریس کانفرنس کیلئے لگایا گیا ٹینٹ بھی اکھاڑ دیا گیا، جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے جیسے ہی پریس کانفرنس کا آغاز کیا تو پولیس نے انہیں روک دیا۔

    ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، پولیس نے الیکشن کمیشن آفس کے باہر تمام دکانیں اور ہوٹل بھی بند کرادیے گرفتار ہونے والوں میں جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، امرائے اضلاع سفیان دلاور، مدثر حسین انصاری ودیگر ذمہ داران شامل ہیں۔

  • طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں،صد مملکت

    طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں،صد مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی مدد کر رہا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

    ایک بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرائم میں شراکت دار بن گئے ہیں، کچھ ممالک ناصرف ان کی براہِ راست مالی معاونت کرتے ہیں بلکہ انہیں تکنیکی اور عسکری ذرائع بھی فراہم کرتے ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہیں صدرِ پاکستان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر عالمی رہنماؤں اور ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملنے والی ہمدردی اور حمایت نے مشکل وقت میں پاکستانی عوام اور متاثرہ خاندانوں کو حوصلہ دیا ہےان کے مطابق یہ پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے پیچھے موجود پرتشدد نظریات کے خلاف جنگ ایک عالمی جدوجہد ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کوئی ایک ملک اکیلے نہیں کر سکتا پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار پناہ، سہولت یا آزادی دی جاتی ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا تھا جس میں 33 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔