Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لاہور قلندرز نے  مستفیض الرحمان کو براہ راست سائن کر لیا

    لاہور قلندرز نے مستفیض الرحمان کو براہ راست سائن کر لیا

    لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیےبنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو براہ راست اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔

    لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے5 فروری کو اس اہم معاہدے کی تصدیق کی، جس کے مطابق بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے اس تجربہ کار کھلاڑی کو 6 کروڑ 44 لاکھ روپے کے عوض ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلا دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے بھارتی حکومت کے دباؤ پر ڈراپ کردیا تھا جس کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی وجوہات کے باعث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز بھارت میں نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا آئی سی سی کے اس اقدام کو پاکستان نے دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے ورلڈ کپ میں بھا رت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔

    معرکہ حق سے کشمیر کاز پوری دنیا میں دوبارہ پوری قوت سےزندہ ہوا، وزیراعظم

    مستفیض الرحمان اس سے قبل بھی 2016 اور 2018 تک لاہور قلندرز کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اب طویل عرصے بعد وہ ایک بار پھر اسی ٹیم میں نظر آئیں گےلاہور قلندرز کی انتظامیہ نے اس فیصلے کو محض ایک پیشہ ورانہ ضرورت نہیں بلکہ ایک جذباتی تعلق قرار دیا ہے۔

    ٹیم کے مالک ثمین رانا کا کہنا ہے کہ جو ایک بار قلندر بن جائے وہ ہمیشہ قلندر ہی رہتا ہے اور مستفیض الرحمان ان کے لیے صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک بھائی اور خاندان کے فرد کی طرح ہیں امید ہے مستفیض الرحمان کی ٹیم میں واپسی سے بولنگ لائن مضبوط ہوگی اور ان کا تجربہ ٹیم کو ٹرافی جیتنے میں مددگار ثابت ہوگامستفیض کی مہارت اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی کارکردگی پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر ے گی۔

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    آئندہ سیزن کے لیے لاہور قلندرز نے اپنے پرانے اور اہم کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے جن میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، سکندر رضا اور نوجوان محمد نعیم شامل ہیں گزشتہ سال قلندرز کی ٹیم میں بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، مہدی حسن میراز اور ارشاد حسین بھی شامل تھے-

  • آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے،سرفراز بگٹی

    زیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ آپریشن رد الفتنہ بلوچستان میں خونریزی اور انتشار پھیلانے والوں کیلئے واضح پیغام ہے-

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان اور ان کے سرپرستوں کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی ایل اے ایک فتنہ ہے جو معصوم شہریوں اور مزدوروں کو نشانہ بناتا ہےیہ فتنہ بھارت کی ایماء پرپاکستان کی ترقی کے راستےمیں حائل ہے، پاکستان اپنی وحدت،ترقی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، فتنہ انگیزی کی ہرکوشش کاموثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ریاست الحمدللہ مضبوط اورقوم متحد ہے، پاکستان کے خلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ قانون کے مطابق نہ صرف پوری طاقت سے روکا جائے گا بلکہ ہمیشہ کیلئے توڑ دیا جائے گا، انشاءاللہ، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

  • صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر،غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈیپ فیک اور اے آئی مواد حکومت و معاشرے دونوں کے لیے بڑا چیلنج ہے،یہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے اے آئی سے تیار جعلی مواد معاشرے کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔

    شہر قائد میں جاری کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوسرے روز کو اہم عالمی مباحث کے لیے مختص کیا گیا تھا کانفرنس کے ایجنڈے میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے رجحان، موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات، جمہوری اقدار کے فروغ، مختلف ممالک کے نمائندوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، عالمی چیلنجز کے مؤثر حل کی تلاش اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال شامل تھا۔

    سی پی اے کانفرنس کے دوسرے روز فیک نیوز اور آرٹیفشل انٹیلیجنس سے متعلق سیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کی میزبانی شرمیلا فاروقی نے کی جب کہ پینل ڈسکشن میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپ فیک اور اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہےیہ مسئلہ صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اے آئی سے تیار جعلی مواد معاشرے کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا رہا ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ محکمۂ اطلاعات 24 گھنٹے صورتحال کی نگرانی میں مصروف ہے، تاہم جعلی و حقیقی مواد کی شناخت کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت ہے، جس کے لیے اے آئی ڈیٹیکشن ٹول کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ٹی وی چینلز کے نام پر جھوٹی خبریں پھیلانے کا رجحان بڑھ رہا ہے ، آواز و ویڈیوز کی نقل سازی کے ذریعے غلط معلومات عام کی جا رہی ہیں،حکومت فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔

    صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ جعلی مواد پھیلانے والوں کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ جھوٹی معلومات کسی کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں انہوں نے فیک نیوز کو پورے معاشرے کے لیے سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مضبوط قانون سازی ضروری ہے پیکا ایکٹ پہلے سے نافذ ہے تاہم اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے کیونکہ غیر مستند خبر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون سازی تمام طبقات کے لیے یکساں ہونی چاہیے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کا احتساب، قانونی کارروائی اور سزا ضروری ہےجعلی خبروں، اے آئی اور غلط معلومات سے متعلق سیشن میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیپ فیکس اور اے آئی سے پیدا شدہ جعلی مواد معاشرے اور عوامی رائے پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر آنے والے مواد کی نگرانی کرے اور فوری طور پر جعلی معلومات کی نشاندہی کرےانہوں نے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جعلی مواد پھیلانے کے نتائج ہوتے ہیں قانون کے تحت ذمہ داریاں طے ہیں انہوں نے ایف آئی اے جیسے وفاقی اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو جعلی مواد کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

  • امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ ختم

    دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کو محدود رکھنے والا آخری اہم معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ 5 فروری کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو گیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے میں توسیع یا کسی نئے متبادل منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے اب عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےیہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا جس کا مقصد دنیا کو کسی بڑی ایٹمی جنگ سے بچانا تھا اس معاہدے کے تحت امریکا اور روس اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد 1550 سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔

    اس کے علاوہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ایٹمی مراکز کا معائنہ بھی کر سکتے تھے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور کوئی دھوکہ نہ دے سکے1991 میں جب پہلی بار ایسا معاہدہ ہوا تھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی حد 6ہزار رکھی گئی تھی جسے وقت کے ساتھ کم کیا گیا۔

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سفارتی ذرائع سے امن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہے گا، تاہم، روسی وزارت خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ معاہدے کی کسی پابندی کے پابند نہیں رہے اور اپنے اگلے اقدامات کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اگرچہ دونوں ممالک نے حالیہ سالوں میں ہتھیاروں کی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کیا لیکن اب معاہدہ نہ ہونے سے یہ صورتحال بدل سکتی ہے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایئر بُک 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق روس کے پاس اس وقت تقریباً 5459 اور امریکا کے پاس 5177 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے سے اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی نیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکیں گے جس سے غلط فہمی کی بنیاد پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے ایک سنگین لمحہ قرار دیا ہے اور دونوں طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تاخیر کسی نئے معاہدے پر بات چیت کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم دفاعی معاہدے ختم ہو چکے ہیں جن میں یورپ میں ٹینکوں اور فوج کی تعداد محدود رکھنے کا معاہدہ بھی شامل ہےاب دنیا کی نظریں اپریل اور مئی میں ہونے والی عالمی کانفرنس پر ہیں جہاں ایٹمی طاقتوں کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

  • امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار اور ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کی صبح تقریبا دس بجے منعقد ہوں گے امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح کیا کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر ایران اس فارمیٹ میں واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مذاکرات سے باہر دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تہران کے مطابق غیر قابلِ مذاکرہ ہیں ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف متفقہ دائرہ کار کے اندر، نیوکلیئر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی تجویز کیا گیا تھا، جس میں ترکی نے ثالثی کرکے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی عمان پہلے بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرچکا ہے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی فوج کی خلیج فارس میں تعیناتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

    امریکا اور اس کا اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔

  • کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ،مریم نواز

    کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ،مریم نواز

    پنجاب میں آلو کی ریکارڈ پیداوار کے بعد صوبہ عالمی منڈی میں آلو کی برآمد کے قابل بننے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں آلو کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تاریخی طور پر پنجاب میں آلو کی پیداوار 12 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے پنجاب حکومت نے کسانوں کے مفاد میں موثر اقدامات کیے ہیں تاکہ پیداوار ضائع نہ ہو اور آلو کے نرخ مستحکم رہیں اسی سلسلےمیں وزیراعظم پاکستان سے آلو کی برآمدات کی اجازت طلب کی گئی ہےتاکہ کسانوں کو بہتر معاوضہ فراہم کیاجا سکےاور پیداوار کو کوڑیوں میں نہ بیچاجا ئے۔

    پنجاب حکومت اور قازقستان کے درمیان زرعی تعاون کی عملی پیش رفت بھی جاری ہے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ آج پاکستان میں موجود قازقستان کے اعلی سطح وفد کے ساتھ آلو کی برآمد کے لیے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں نئی برآمدی مارکیٹوں تک رسائی کے اقدامات حتمی شکل اختیار کریں گے۔

    مریم نواز شریف نے زور دیا کہ کسانوں کو مڈل مین یا مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اور صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ آلو کی پیداوار کے پھل کسانوں تک پہنچیں اور وہ خوشحالی محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ آلو کی بمپر پیداوار کسانوں کے لیے پریشانی نہیں بلکہ خو شحا لی کا پیغام لائے گی، قازقستان کے بعد پنجاب حکومت مزید بین الاقوامی زرعی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کی پید اوار عالمی سطح پر بہترین قیمت پر فروخت ہو سکے۔

  • واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    واشنگٹن پوسٹ سے اچانک 300 سے زائد صحافی برطرف

    امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنے 300 سے زائد صحافیوں اور عملے کے ارکان کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے-

    امریکی میڈیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک ساتھ بڑی تعداد میں صحافیوں کو نوکری سے نکالے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے،جو کہ ایڈیٹوریل کا ایک تہائی سے زائد بنتے ہیں اس اقدام کو نہ صرف اخبار بلکہ عالمی صحافت کے لیے بھی ایک تاریک دن قرار دیا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فارغ کیے جانے والوں میں زیادہ تر بین الاقوامی بیوروز، مقامی رپورٹرز، کھیلوں کا ڈیپارٹمنٹ اور کاروباری رپورٹس سے وابستہ صحافی شامل ہیں،متعدد بین الاقوامی رپورٹرز اور ایڈیٹرز نے اس اقدام کو صدمے اور دکھ کے ساتھ سوشل میڈیا پر بیان کیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے سینئر انٹرنیشنل افیئرز کالم نگار ایشان تھرور بھی فارغ کیے گئے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ اس فیصلے سے دل شکستہ ہیں، انہو ں نے اپنے ساتھی صحافیوں کے لیے افسوس کا اظہار بھی کیا،ایشان تھرور معروف بھارتی مصنف اور سیاست دان ششی تھرور کے بیٹے ہیں ،نے کہا کہ انہوں نے 2017 میں ورلڈ ویو کالم شروع کیا تھا تاکہ قارئین کو دنیا اور امریکا کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے-

    یوکرین کی رپورٹر لیزی جانسن نے کہا کہ انہیں جنگ زدہ علاقے میں کام کے دوران فارغ کیا گیا اور وہ اس واقعے سے دلبرداشتہ ہیں۔

    سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بارون نے اس کٹوتی کو ”دنیا کے عظیم ترین نیوز اداروں میں سے ایک کی تاریخ کے سب سے تاریک دنوں میں سے ایک“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ عوام اب مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تفصیلی اور مستند خبریں حاصل کرنے سے محروم ہو جائیں گےانہوں نے اخبار کے مالک جیف بیزوس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قارئین کے اعتماد کو کمزور کیا اور سینئر صحافیوں کو دور کیا، جس سے برانڈ کی خود ساختہ تباہی ہوئی۔

    فارغ کیے جانے والے زیادہ تر صحافی بین الاقوامی رپورٹس کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے، جو واشنگٹن پوسٹ کی عالمی شہرت یافتہ کوریج کا ستون رہے ہیں اس اقدام نے عالمی صحافت میں زمین پر موجود رپورٹرز کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ برآمد ہونے والے صحافیوں نے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا کہ قارئین اب وہ تفصیلی رپورٹنگ نہیں پڑھ پائیں گے جو اخبار کی پہچان تھی۔

  • بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر  سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

    بھارت کے شہر غازی آباد میں تین بہنوں کی خودکشی کے بعد ملنے والے ایک نوٹ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کوریائی پاپ کلچر کی جنون کی حد تک دیوانی تھیں، ساتھ ہی نوٹ میں گھر کے دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات کے آثار بھی نمایاں ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں، جنہوں نے اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے کود کر جانیں دیں، واقعے کے پیچھے آن لائن کوریائی ڈرامے اور گیمز کے لیے شدید لگاؤ، گھر کے اندر شدید دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات بنیادی وجوہات تھیں۔

    بچیوں کی جانب سے لکھے گئے نوٹ میں خاندان سے متعدد بار معافی مانگی گئی اور یہ احساس ظاہر کیا گیا کہ ان کے احساسات اور جذبات کر ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا اور وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں،کئی صفحات پر مشتمل نوٹ میں کورین میوزک گروپ ’کے-پاپ‘ اور کوریائی اداکاروں کے لیے شدت سے عقیدت کا ذکر تھا۔

    نوٹ میں بچیوں نے لکھا تھا کہ ہمیں کوریائی پاپ موسیقی سے بے حد محبت تھی، ہمیں افسوس ہے کہ شاید آپ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے لیے یہ کتنا اہم تھا یہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا بعض اوقات لگتا تھا کہ یہ دنیا ہمارے لیے سب کچھ سے زیادہ معنی رکھتی ہے،نوٹ میں بہنوں نے اپنی کوریائی پسندیدگی اور کے-پاپ، ڈراماز، اور آن لائن گیمز جیسے ’دی بے بی ان یلو‘، ’ایول نن‘ اور دیگر کوریائی، چینی، تھائی اور جاپانی شوز کا ذکر بھی کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ کوریا ہماری زندگی ہے، آپ نے ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر مجبور کیا، اب آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا،نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ،کسی بھارتی سے شادی کرنے کا سوچنا ہمیں ذہنی دباؤ دیتا تھا، کیونکہ ہم اپنے آپ کو کوریائی دنیا کے قریب محسوس کرتے تھے، ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں ایسے جذبات محسوس کریں گے معاف کرنا،ممی، پاپا۔‘

    پولیس کے مطابق بہنیں کئی سال سے اسکول نہیں جارہی تھیں، اپنا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں، اور والد کی سخت تربیت سے دلبرداشتہ تھیں بہنوں نے سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس پر خاصی تعداد میں فالورز جمع ہوئے اور انہوں نے علیزہ، ماریہ اور سِنڈی جیسے مغربی نام بھی رکھے تھے۔

    والد چیتن کمار کو ان کے اکاؤنٹ کا تقریباً دس دن قبل معلوم ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے حذف کر دیا اور بچیوں کے فونز ضبط کر لیےاور انہیں کہا کہ وہ کوریائی مواد نہ دیکھیں اور آن لائن گیمز نہ کھیلیں، جس سے وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ میں تھیں کیونکہ انہیں وہ کوریائی شوز اور مواد دیکھنے کا موقع نہیں ملا جو وہ روزانہ فالو کرتی تھیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی آباد کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، الوک پریادرش نے کہا کہ یہ بچیاں کے-ڈراماز کے زیرِ اثر تھیں انہوں نے اسکو ل چھوڑ دیا اور اپنا ہر وقت موبائل پر دیکھنے میں صرف کیا منگل کی رات، جب باقی خاندان سو گیا، یہ بچیاں اپنے کمرے میں بند ہو گئیں اور خودکشی کر لی۔

    والد چیتن کمار نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹیاں کے-ڈراماز کی بہت بڑی مداح تھیں اور تینوں نے کم از کم تین سال سے اسکول جانا بند کر دیا تھا۔ سب سے بڑی بچی کلاس 7 میں، دیگر دو کلاس 6 اور 5 میں اسکول چھوڑ چکی تھیں،تین ماہ قبل بچیوں نے یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا تھا، جسے انہوں نے حذف کر دیا، جس سے بہنیں بہت دل شکستہ ہو گئیں۔

    حادثے سے قبل منگل کی رات خاندان نے بھنڈی اور روٹی کا کھانا کھایا، اس کے بعد بچیاں کمرے میں بند ہو گئیں والد کے مطابق، تھوڑی دیر بعد چیخوں اور گرنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد وہ تینوں بہنیں مردہ حالت میں ملی اس واقعے کی تحقیقات میں کچھ تنازعات بھی سامنے ہیں ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو بہنیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کودی تھیں جبکہ تیسری الگ کھڑکی سے نیچے اتری۔

    تاہم ایک گواہ نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ دو بہنیں کودنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ تیسری انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی، پولیس نے کہا کہ کیس میں خاندان کے مالی دباؤ، والد کے سخت ڈسپلن اور بچوں کی آن لائن کوریائی دنیا سے لگاؤ سب پہلو شامل ہیں اور تحقیقات جاری ہیں،ابتدائی طور پر پولیس اس کیس کو خودکشی کے طور پر دیکھ رہی ہے مگر ہر زاویے سے چھان بین کی جارہی ہے۔

  • بوئنگ ڈریم لائنر فیول سوئچ  میں خرابی: برطانیہ نے ایئر انڈیا سے وضاحت طلب کر لی

    بوئنگ ڈریم لائنر فیول سوئچ میں خرابی: برطانیہ نے ایئر انڈیا سے وضاحت طلب کر لی

    ائیر انڈیا نے اپنے ایک بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کو اس وقت گراؤنڈ کر دیا جب ایک پائلٹ نے پرواز کے دوران فیول کنٹرول سوئچ سے متعلق مسئلے کی نشاندہی کی،جس کی برطانیہ کی ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر انڈیا سے وضاحت طلب کر لی-

    روئٹرز کےمطابق برطانیہ کی ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر انڈیا سے اس بات کی وضاحت کرنے کو کہا ہے کہ بوئنگ (BA.N)ڈریم لائنر مسافر طیارہ جو اتوار کو لندن سے ممکنہ طور پر ناقص فیول سوئچ کے ساتھ اڑان بھرنے کے لیے حفاظتی جانچ کے لیے ہندوستان پہنچنے پر گراؤنڈ کیوں کیا گیا تھا۔

    یو کے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے منگل کو ایئر لائن کو لکھے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ ایئر لائن ایک ہفتے کے اندر مکمل جواب جمع نہیں کراتی ہے تو ایئر انڈیا اور اس کے بوئنگ 787 بیڑے کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی-

    واضح رہے کہ ائیر انڈیا نے اپنے ایک بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کو اس وقت گراؤنڈ کر دیا جب ایک پائلٹ نے پرواز کے دوران فیول کنٹرول سوئچ سے متعلق مسئلے کی نشاندہی کی یہ وہی سسٹم ہے جو گزشتہ برس ہونے والے ایک مہلک طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ائر انڈیا کے مطابق طیارے کو احتیاطی طور پر پروازوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور اصل ساز و سامان بنانے والی کمپنی ا وای ایم کو پائلٹ کے خدشات کا فوری جائزہ لینے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔

    ائیر لائن کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے بھارتی ایوی ایشن ریگولیٹر کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ادھر بوئنگ اور بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئر لائنز کی ملکیت ائیر انڈیا کو جون 2025 ء میں ہونے والے ڈریم لائنر حادثے کے بعد شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے، جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ائیر انڈیا کا کہنا ہے کہ ریگولیٹر کی ہدایت پر گزشتہ سال اپنے تمام بوئنگ 787 طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچز کی جانچ کی گئی تھی، تاہم اس وقت کسی قسم کی خرابی سامنے نہیں آئی تھی۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق جون 12 کو پیش آنے والے حادثے کی کاک پٹ ریکارڈنگ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے عندیہ ملتا ہے کہ طیارے کے کپتان نے انجنوں کو جانے والے ایندھن کا بہاؤ بند کر دیا تھا، جسے امریکی حکام کی ابتدائی تحقیقات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

  • ترک صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

    ترک صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ریاض میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی-

    ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے ملاقات کے دوران کہا کہ ترکیہ شام میں استحکام کی حمایت جاری رکھے گا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر شام کی تعمیرِ نو کے لیے تعاون کرے گادورے کے اختتام پر صدر اردوان اور ان کے وفد نے بدھ کے روز ریاض سے روانگی اختیار کی انہیں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے الوداع کیا۔

    دورے کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ سعودی ترک بیان میں شامی حکومت کے ان اقدامات کو سراہا گیا جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور سول امن کے فروغ کے لیے کیے جا رہے ہیں،بیان میں شامی سرزمین پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے تمام مقبوضہ شامی علاقوں سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

    مشترکہ بیان میں سوڈان، فلسطینی علاقوں اور یمن میں امن و استحکام کی بحالی پر زور دیا گیا، جبکہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ترکیہ نے یمن بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا، خصوصاً ریاض میں منعقد ہو نے والے اس جامع مکالمے کو، جس میں یمن کے جنوبی دھڑوں کو یکجا کیا گیا دونوں ممالک نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یمن میں ایسے اندرونی عناصر کی ہر قسم کی حمایت کا مقابلہ کیا جائے جو ملک کے امن اور سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکیہ نے سوڈان میں ایک سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل کے آغاز کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا، جس کا مقصد سویلین حکومت کے ذریعے ملک میں استحکام لانا ہے اس سے قبل منگل کو ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر اردوان کا ریاض کے الیمامہ پیلس میں استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی مذاکرات ہوئے۔