Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت

    اسلام آباد میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمہ ہے امریکہ، یورپ، روس، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے مذمتی بیانات اور افسوس کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ذی شعور انسان کے لیے قابلِ مذمت ہے اور اس پر کسی دو رائے کی گنجائش نہیں۔

    افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر کے ممالک اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، وہیں ہمارے اپنے سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد دانشوروں نے بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے اس واقعے کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ طرزِ عمل نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

    پاکستان کی قربانیاں: ایک نظر ماضی پر

    اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہزارو ں سویلین، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئےآپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردّالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈھانچے کو بڑی حد تک توڑا۔ یہ کامیابیاں آسان نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے بے مثال قربانیاں شامل ہیں۔

    ایسے میں ریاستی اداروں پر اندھا دھند تنقید کرنا، بغیر شواہد کے الزامات لگانا، درحقیقت دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر بات پر خاموشی اختیار کی جائے، لیکن یہ ضرور ہے کہ تنقید ذمہ دارانہ، باخبر اور تعمیری ہو۔

    علاقائی عدم استحکام اور بیرونی عوامل

    ریاستِ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے، جن کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

    یہاں عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو بھارت اور افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں—جیسے متحدہ عرب امارات، قطر، دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں—ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان ریاستوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

    قومی اتحاد: وقت کی اہم ترین ضرورت

    سوال یہ نہیں کہ ایک واقعہ کیوں پیش آیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور قوم اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم انتشار، الزام تراشی اور اداروں کی تضحیک کا راستہ اپنائیں گے؟ یا قومی یکجہتی، صبر اور اجتماعی شعور کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے؟پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ بننے دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس جنگ میں سب سے مضبوط ہتھیار قوم اور ریاست کے درمیان اعتماد ہے۔

    اسلام آباد کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے، مگر اسے قومی کمزوری میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم جذباتیت، افواہوں اور پروپیگنڈا کے بجائے ہوش، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں—کیونکہ مضبوط قومیں حادثات سے نہیں، انتشار سے ٹوٹتی ہیں۔

  • بسنت کے موقع پر لاہور میں کتنی گاڑیاں داخل ہونے کا امکان ہے؟

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول پر لاکھوں گاڑیاں کے داخل ہونے کا امکان ہے۔

    بسنت کے موقع پر شہرِ لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں10 ہزار پولیس اہلکار اور 2500 ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت بھی دی ہےشہر کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔

    چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کر کے آپریشنل کیے جائیں گے جن کی مدد سے براہ راست مانیٹرنگ ہوگی،ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی، شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔

    دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران موٹرسائیکل پر پابندی ہوگی، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں،بسنت کے دوران شہری کم سے کم گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اور فری حکومتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے، موٹر سا ئیکل پر پابندی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور آلودگی سے پاک ماحول میں منانا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر سموگ کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ اور جی ایس میپنگ کے ذریعے آلودگی پر مؤثر کنٹرول کیا جا رہا ہے، لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 173 ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شر یف کے انسدادِ سموگ اقدامات اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے باعث مقامی آلودگی پر مؤثر حد تک قابو پایا جا سکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی سیاسی عزم اور عوامی تعاون سے ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ آلودگی کے اسباب کے خاتمے کے لیے جامع ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، تمام صنعتی چمنیوں کی ای پی اے کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، سموگ کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے اور ڈرونز و سی سی ٹی وی کی مدد سے کڑی مانیٹرنگ جاری ہے، بھٹوں، صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے اخراج پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزیو ں پر قانونی کارروائیاں کی جائے گی جبکہ فیلڈ ٹیمیں بھی مکمل طور پر متحرک ہیں حکومت کا ہدف پورا سال بہتر اے کیو آئی برقرار رکھنا ہے، انہوں نے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لبرٹی چوک کا دورہ کیا اور شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی۔

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لبرٹی چوک پہنچ گئیں، جہاں انہیں دیکھتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں،مریم نواز نے اپنی گاڑی روک کر شہریوں کو ہاتھ ہلایا اور ان سے گفتگو کی ،چھوٹے بچوں کو پیار دیااس دوران انہوں نے موٹر سائیکل سوار وں کو حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کی اور ایک موٹر سائیکل سوار کو سیفٹی راڈ لگانے کا کہا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی نہیں، تاہم سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں موٹر سائیکل بند کر دی جائے گی، حفاظتی اقدامات کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے وزیراعلیٰ کی موجودگی پر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی اور شہریوں نے پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں کو سراہا۔

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

  • آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج کے لیے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں نہیں بند کرنے دیں گے اور نہ ہی عوام کو تکلیف پہنچانے دیں گے۔

    اس کے علاوہ یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہےگی۔

    گزشتہ روز کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیا لنجار کا کہنا تھاکہ شاہراہ بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، زبردستی دکانیں بند کرائیں تو قانون حرکت میں آئےگاجماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کرکے قانون کی خلاف ورزی کی، شارع فیصل بندکرنے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے چاہیے تھی، دہشت گردی کی دفعات شامل ہوں گی تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی، حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں، احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں بلکہ سروس روڈ پرکریں، اگر احتجاج کرنا ہے پریس کلب کے باہر کریں۔

    خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری  امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری امریکا میں ٹیکسی چلانے پر مجبور

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما قاسم خان سوری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان دنوں امریکا میں آن لائن ٹیکسی ’اوبر‘ چلا کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔

    قاسم سوری نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انہیں اس طرح کا کام کرنا پڑے گاوہ چوری کرنے کے بجائے محنت مزدوری اور ایمانداری کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں اسی لیے وہ امریکا کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے ہیں،وہ عمران خان کے نظریے کے سپاہی ہیں اور ہمیشہ اسی سوچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    قاسم سوری نے اپنے موجودہ حالات کو ملک میں جاری مبینہ ناانصافیوں اور سختیوں کے تناظر میں بیان کیا اور خاص طور پر عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو درپیش قانونی مسائل کا ذکر کیاانہوں نے بتایا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے جیسے اہم ادارے میں ذمہ دار عہدے پر فائز رہے مگر انہوں نے کبھی وہاں سے ذاتی مال نہیں بنایا، 2018 سے پہلے وہ کوئٹہ میں اپنے گھر پر عمران خان اور ڈاکٹر عارف علوی جیسی اہم شخصیات کی میزبانی کرتے رہے ہیں اور وہ ہمیشہ سے ایک متوسط طبقے کے ایماندار پاکستانی رہے ہیں۔

  • پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ سے بائیکاٹ، بنگلہ دیشی حکومت کا ردِعمل سامنے آگیا

    آئی سی سی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر بنگلہ دیشی حکومت کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق مشیر کھیل آصف نذرل نے پاکستان کے مؤقف کو اصولی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ہے،وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس کی وجہ بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

    بنگلہ دیشی مشیر کھیل آصف نذرل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے نکالے جانے کے معاملے پر اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا،پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے تحت بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا، جس پر وہ پاکستانی قیادت کے شکر گزار ہیں۔

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    آصف نذرل نے اس موقع پر زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے پاک رہنا چاہیے اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں منصفانہ رویہ اختیار کیا جانا ضروری ہے کھیلو ں کے میدان کو تنازعات سے دور رکھنا ہی عالمی سپورٹس کی بہتری کے لیے اہم ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کابینہ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے کیونکہ کھیل کے میدان پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ہمیں مکمل طور پر بنگلادیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے میرے خیال میں یہ بہت مناسب فیصلہ ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    اس سے قبل حکومت پاکستانی نے یکم فروری کو ایک سوشل میڈیا پر جاری پیغام کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے مگر 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    اس حوالے سے آئی سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کونسل کو باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہےگزشتہ روز بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی سی سی نے مسئلے کے حل کے لیے نائب سربراہ عمران خواجہ کو پاکستان سے بیک ڈور بات چیت کا ٹاسک سونپا ہے۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

  • روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا  انکشاف

    روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا انکشاف

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔

    فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار دونوں شامل ہیں انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔

    صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025 میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025 میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں، انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہےاس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔

  • بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے،سلمان علی آغا

    قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے لیے بنگلادیش کی حمایت کے شکر گزار ہیں، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے آغاز سے قبل کولمبو میں کپتانوں کی پریس کانفرنس میں سلمان علی آغا نے کہا کہ بنگلادیشی ہمارے بھائی ہیں،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔

    بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ سے متعلق سوال پر قومی کپتان نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ سے متعلق فیصلہ حکومت نے کرنا ہے اور ہم حکومت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں،بھارت کے ساتھ میچ ہوگا یا نہیں اس کا اندازہ نہیں، جو حکومت کہے گی اس کے مطابق ہی چلیں گے تاہم بنگلادیش ٹیم کا ورلڈکپ میں نہ ہونا افسوس ناک ہے۔

    سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان یہ میرا پہلا ورلڈکپ ہے جس کے لیے بہت پرجوش ہوں اور امید ہے میری کپتانی میں ٹیم اچھا کھیل پیش کرے گی ،ہم ایشیا کپ کے بعد سے اچھا کھیل پیش کررہے ہیں، پچھلے 6 ماہ سےاچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس مرتبہ ٹیم اچھا کھیل رہی ہے، امید ہے اچھی کارکردگی دکھائیں گے اور امید ہے باقی ٹیموں کے خلاف اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گاسری لنکا میرے دوسرے گھر کی طرح ہے اور لوگ بہت اچھےاخلاق والے ہیں، یہاں آ کر ہمیشہ اچھا محسوس کیا ہے۔

  • نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے، اور اب ٹرین کو لے جانے کے لیے دوسرا انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، مگر ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا، اس حملے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہےاسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہےیہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

    ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر علاقے کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    مسافروں اور تاجروں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی پر اثر پڑ سکتا ہےسیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، اور جلد ہی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گاتاہم،علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔

  • انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار

    انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار

    لاہور: پنجاب پولیس کی جانب سے انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 153 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، کارر وائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 22 ہزار 753 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 570 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں لاہور میں غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 81 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2807 پتنگیں برآمد ہوئیں۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبے میں دھاتی ڈور اور پتنگوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث 4171 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے گرفتار افراد سے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7985 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں،پتنگ بازوں، مینوفیکچررز اور پتنگیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔