Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی سامنے آ گئی۔

    خیبرپختونخوا میں کل اتوار رات سے منگل کے روز تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق 25 سے 27 جنوری تک مغربی ہواؤں کا نئے سلسلے کی توقع ہے، پی ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے، بالائی علاقوں میں چند مقامات پر شدید برفباری کی توقع ہے نشیبی علاقوں میں ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، بارشوں اور برفباری کے با عث بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے مری، گلیات اوردیگر پہاڑی علاقوں میں برفباری کےساتھ شدید بارش کا امکا ن ہے،لاہور،سرگودھا،گجرانوالہ،ملتان،فیصل آباد،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں و برفباری کے دوران مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جاں بحق افراد میں 7 بچے، ایک مرد، ایک خاتون جبکہ زخمیوں میں ایک بچہ شامل ہے۔

    دوسری جانب دوسری جانب نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 29 جنوری تک ایڈوائزری جاری کر دی ہے، کہا گیا ہے کہ مغربی ہوائیں بالائی و شمالی علاقوں پر اثرانداز ہوں گی، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کی توقع ہے، خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے، بلوچستان کے بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی کی لہر کا امکان ہے، عوام برفباری اور دھند میں سفر سے گریز کریں،نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے مشینری اور رسپانس ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، حفاظتی تدابیر کیلئے این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رہنمائی لینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

  • پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدہ

    پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدہ

    پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا فری معاہدہ طے پا گیا۔

    پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

    یہ معاہدہ صومالیہ کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری اور پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ داخلہ نے دستخط کرکے طے کیا، اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے صومالیہ کے وزیرِ داخلہ علی یوسف نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ افریقا عالمی جیوپولیٹیکل منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہے اور پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، پاکستان صومالیہ کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں قریبی تعاون کا خواہاں ہے۔

    صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان سرحد پار جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں کے لیے پرعزم ہے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • مودی حکومت کی  عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹانے کی منظم کوشش بے نقاب

    مودی حکومت کی عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹانے کی منظم کوشش بے نقاب

    دہلی سے روانہ ہونے والی انڈیگو پرواز کو پانچ دنوں میں دوسری بار "بم” کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول نے بم دھمکی کی اطلاع ایپرن کنٹرول کو دی اور طیارہ آئسولیشن بے میں منتقل کیا گیا۔ رواں ہفتے ہی انڈیگو کی پرواز کو اتوار کی صبح ایک سکیورٹی دھمکی کے بعد لکھنؤ منتقل کیا گیا تھا، تاہم عالمی جریدہ بلومبرگ گودی میڈیا کے پروپیگنڈا کی اصل کہانی منظر عام پر لے آیا۔ ایئر انڈیا لمیٹڈ کو رواں مالی سال میں ریکارڈ سالانہ خسارہ ہوا۔

    بلومبرگ کے مطابق ایئر انڈیا کو مہلک حادثے کے بعد ریکارڈ 1.6 بلین ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا جون میں ہوئے ڈریم لائنر حادثے میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے نقصانات میں مزید اضافہ پاکستان کے بھارتی ایئرلائنز کیلئےفضائی حدود بند کر نے کے باعث ہوا، پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے ایئرلائنز کو یورپ اور امریکا کیلئے طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے پڑے۔

    ماہرین کے مطابق بار بار بم دھمکیاں عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹانے کی منظم کوشش ہے ایک ہی روٹس پر دھمکیاں بھارتی فضائی سکیورٹی کی کمزوری ظاہر کرتی ہیں۔

  • امریکا کی جانب سے کوئی بھی حملہ مکمل جنگ تصور ہوگا، ایران

    امریکا کی جانب سے کوئی بھی حملہ مکمل جنگ تصور ہوگا، ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے کسی بھی حملے کو مکمل جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا-

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی فوجی ائیرکرافٹ کیریئر اسٹریک گروپ اور دیگر فوجی اثاثے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں پہنچ رہے ہیں،سینیئر ایرانی عہدیدار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ فوجی بڑھوتری حقیقی تصادم کے لیے نہیں ہے، لیکن ہماری فوج بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے، اسی لیے ایران میں سب کچھ ہائی الرٹ پر ہے، اس بار ہم کسی بھی حملے چاہے محدود ہو، غیر محدود، سرجیکل یا کسی بھی قسم کا کو مکمل جنگ کے طور پر شمار کریں گے اور سب سے سخت طریقے سے جواب دیں گے،اگر امریکی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کریں گے، تو ہم جواب دیں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ امریکہ کا ‘آرمادا’ ایران کی طرف جا رہا ہے، لیکن امید ہے کہ اسے استعمال نہ کرنا پڑے، جبکہ ایران کو مظاہرین کے قتل یا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے کی تنبیہ بھی دی۔

  • وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہےحتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگاجب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا،وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔

  • نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    لاہور:جوہر ٹاؤن سے نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آگیا۔

    ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے مغوی عابد وزیر کو سی سی ڈی کے خوف سے رہا کیاملزمان نے عابد وزیر کو سی سی ڈی کو نہ بتانے کی شرط پر رہا کیا، اغوا کاروں نے کہا تاوان نہ دیں بلکہ ہم سے بھی پیسے لے جائیں اغوا کاروں نے بس پر بٹھا کر کرایہ بھی خود دیا، ملزمان نے کہا سی سی ڈی کو یہ بتائیے گا کسی نے اغوا نہیں کیا۔

    نجی کالج کے مالک عابد وزیر کو بدھ کے روز اغوا کیا گیا تھا، ملزمان نے مغوی کے ورثا سے 16 کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا تھا،سی سی ڈی حکام کے مطابق وہ ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جلد گرفتار کرلیں گے، سی سی ڈی کی وجہ سے پنجاب میں سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    22 جنوری کو تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق عابد وزیر خان کو آفس سے جاتے ہوئے راستے سے اغوا کیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عابد وزیر خان اغوا کے وقت خاتون جنرل مینجر کے ساتھ فون لائن پر تھے، خاتون نے فون پر نامعلوم شخص کی آواز سنی۔ نامعلوم شخص نے مغوی کو کہا کہ تم نے میری گاڑی کا ایکسیڈینٹ کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان مغوی کو لیکر ملتان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، مانگا منڈی کے قریب مغوی کی گاڑی کی لوکیشنز ٹریس ہوتی رہیں۔ ابتدائی تفتیش میں اغواء کاروں کی تعداد تین سامنے آئی، ملزمان بظاہر مغوی کو لیکر شہر سے باہر جانا چاہتے تھے، مانگا منڈی ملحقہ علاقوں میں پولیس کی چھ ٹیمیں روٹ ٹریکنگ کررہی ہیںعابد وزیر کو تاوان کے لیے اغواء کیا گیا یا وجہ کچھ اور ہے تفتیش جاری ہے، مغوی کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا، ملزمان کو جلد ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائے گا۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف نے جب بھی کسی کام کا بیڑہ اٹھایا تو پھر وہ  کرکے دکھایا، ایم ڈی آئی ایم ایف

    وزیراعظم شہباز شریف نے جب بھی کسی کام کا بیڑہ اٹھایا تو پھر وہ کرکے دکھایا، ایم ڈی آئی ایم ایف

    پاکستان کی طرف سے معاشی بہتری کیلئے کی جانے والی کوششوں کا آئی ایم ایف نے بھی اعتراف کرلیا۔

    ڈیوس عالمی اقتصادی فورم میں میڈیا سے گفتگو میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جب بھی کسی کام کا بیڑہ اٹھایا تو پھر وہ کرکے دکھایا،وزیراعظم پاکستان ملک کی بہتری کیلئے مشکل مگر ضروری اصلاحات کو آگے بڑھا رہے ہیں پاکستانی حکومت نے سنجیدگی سے اصلاحات کو اپنایا اور اسکے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے۔

    کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ بجٹ کے کڑے نظم وضبط کے نتیجے میں عوام کی بہتری کیلئے وسائل میسر ہورہے ہیں ہمارا پاکستان کے ساتھ کافی عرصے سے نہایت تعمیری اور مثبت رابطہ رہا ہےمبصرین کے نزدیک آئی ایم ایف سربراہ کی توثیق سے ثابت ہوا کہ پاکستان درست معاشی راستے پر گامزن ہے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی کامیاب معاشی پالیسیوں کا اعتراف کرچکے،حکومتی کوششوں کے نتیجے میں زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ،افراط زر اورشرح سود میں کمی آرہی ہے۔

  • اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر ایران پاکستان کا مشکور

    اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کی حمایت نہ کرنے پر ایران پاکستان کا مشکور

    جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ایرانی سفیر نے کہا کہ میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت پاکستان حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد کیخلاف ووٹ دے کر انصاف، بین الاقوامی قانون اور اصولی سفارت کاری کو تقویت دیامید ہے کہ دونوں برادر ممالک خطے اور عالمی سطح پر باہمی تعاون کو مزید فروغ دیتے رہیں گے،انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات کو سیاسی دباؤ یا یکطرفہ فیصلوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ بات چیت، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے،پاکستان کا ووٹ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔

    دوسری جانب پاکستان نے اس موقع پر بات چیت اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا اس موقع پر پاکستانی سفارتی حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان انسانی حقوق کے فروغ پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف یکطرفہ اور سیاسی بنیادوں پر لائی جانے والی قراردادوں کی حمایت نہیں کرتا، پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق سے متعلق امور میں تعمیری مکالمہ اور تعاون ہی مؤثر راستہ ہے۔

  • راولپنڈی : 14 سالہ بچی اغوا کے بعد  قتل

    راولپنڈی : 14 سالہ بچی اغوا کے بعد قتل

    راولپنڈی میں 14 سالہ بچی کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا۔

    راولپنڈی ڈھوک حسو سے دو روز قبل لاپتہ ہونے والی 14 سالہ بچی کی بوری بند لاش لیڈیز پارک کیرج فیکٹری روڈ سے برآمد ہوئی،14 سالہ مصباح 22 جنوری کو گھر سے دوکان پر بوتل لینے گئی لیکن واپس گھر نہیں آئی اور لاپتہ ہو گئی تھی، بچی کے اغوا کا مقدمہ 23 جنوری کو تھانہ رتہ امرال میں اسکے بھائی کی مد عیت میں درج کیا گیا تھا۔

    مدعی مقدمہ نے بچی کی لاش کو شناخت کرلیا، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس کے مطابق بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا یا نہیں یہ بات پوسٹ مارٹم میں سامنے آئے گی،لاش ملنے کی اطلاع پر ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی انوسٹیگیشن، ایس پی راول پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، موقع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، وقوعہ کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

  • احسن اقبال کا طلبہ کو نیٹ فلکس مووی””دی گریٹ ہیک”دیکھنے کا مشورہ

    احسن اقبال کا طلبہ کو نیٹ فلکس مووی””دی گریٹ ہیک”دیکھنے کا مشورہ

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح کسی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی اب قومی سلامتی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کسی ملک کے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہیک کر لیا جائے تو اس کا پاور گرڈ فیل کیا جا سکتا ہے، اسمارٹ سٹی کے کیمروں کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اگر بینکاری نظام میں مداخلت ہو جائے تو نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ پورے مالیاتی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔

    احسن اقبال نے کہا کہ آنے والے دور میں چونکہ ہتھیار بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، اس لیے قومی دفاع کا تعلق بھی براہِ راست ڈیجیٹل سیکیورٹی سے جڑ گیا ہے ڈیجیٹائزیشن جتنی اہم ہو گئی ہے، سائبر سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکی ہےیہ چیلنجز صرف قومی سطح تک محدود نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گوگل جیسے ڈیجیٹل نظام کسی فرد کی نفسیات، پسند ناپسند اور آئندہ فیصلوں کا اندازہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے بھی بہتر لگا سکتے ہیں، جس کی وجہ بگ ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کی غیر معمولی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بگ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے جمہوریت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ووٹرز کی رائے اور انتخابی فیصلوں کو متاثر اور منظم طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے،احسن اقبال نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اب تک نیٹ فلکس پر موجود فلم ’دی گریٹ ہیک‘ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیں، کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کی سوچ، رائے اور فیصلوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یہ ایک نئی اور طاقتور مینیپولیٹو صلاحیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے، جبکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی آمد کے بعد ایک عام آدمی کے لیے یہ پہچاننا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی ویڈیو یا آڈیو اصل ہے یا مصنوعی، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے، جسے مختلف عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ خود ڈیجیٹل عدم برداشت، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کے نتائج کا شکار رہ چکے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ 2018 میں بعض سیاسی گروہوں نے مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف ڈس انفارمیشن اور ہیٹ اسپِیچ پھیلائی، جس سے متاثر ہو کر ایک نوجوان نے ان پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سے ان کا کوئی ذاتی تعلق، جھگڑا یا دشمنی نہیں تھی، لیکن صرف آن لائن نفرت انگیز مواد سے متاثر ہو کر اس نوجوان نے یہ قدم اٹھایا۔