Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اے آئی  کے ممکنہ اثرات سے متعلق بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کردیا

    اے آئی کے ممکنہ اثرات سے متعلق بل گیٹس نے دنیا کو خبردار کردیا

    مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی کے ممکنہ اثرات کے بارے میں کہا کہ اس وقت اے آئی کے اثرات محدود نظر آتے ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔

    ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ آئندہ چار سے پانچ برسوں میں وائٹ کالر ملازمتیں شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں، اس دوران حکومتوں کو مساوات اور معاشی انصاف جیسے اہم مسائل پر فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اے آئی اگرچہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں بہتری کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اگر اس انقلاب کو مؤثر انداز میں منظم نہ کیا گیا تو افرادی قوت، بھرتی کے نظام اور مجموعی معاشی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا حکومتیں لوگوں کو نئی مہارتیں سکھانے کے لیے دوبارہ تربیت دیں گی یا ٹیکس کے نظام میں تبدیلی کریں گی،اس وقت اے آئی کے اثرات محدود نظر آتے ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گی۔

    یہ خدشات بل گیٹس کے حالیہ سالانہ خط ’’دی ایئر اہیڈ‘‘ میں بھی نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ماضی کی تمام ٹیکنالوجیکل انقلابات سے کہیں زیادہ تیز اور گہرے اثرات کی حامل ہے، جو معاشرے کے تقریباً ہر شعبے کو غیر معمولی رفتار سے بدل رہی ہے۔

    بل گیٹس نے نشاندہی کی کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں اے آئی پہلے ہی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ لاجسٹکس اور کال سینٹرز جیسے شعبوں میں کم مہارت والی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، اگر اس رجحان کو قابو میں نہ لایا گیا تو دولت اور مواقع چند افراد تک محدود ہو سکتے ہیں، جس سے عدم مساوا ت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

  • مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    مولانا فضل الرحمان کی ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی-

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے،قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے یہودیوں کی دربدری کی رپورٹ مرتب کی تھی، لیگ آف نیشنز کمیٹی نے بھی کہا تھا کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، انہوں نے ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فلسطینی تو شامل نہیں لیکن نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے موقف کو دیکھنا چاہیے، حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے کہ کیا فیصلے کئے جا رہے ہیں؟ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟

  • ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ورلڈ اکنامک فورم، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    ڈیووس: ورلڈ اکنامک فورم میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شریک ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی و خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں،فورم میں شریک رہنماؤں سے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران مسکراہٹوں کے تبادلے اور گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔

    وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، امریکا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے ملاقاتیں ہوئیں،وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی اقتصادی فورم میں خصوصی خطاب میں بھی شریک تھے۔

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں  پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا ہے کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں۔

    سینیٹرشیری رحمان کی زیرصدارت اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اوراس سے جڑے ماحولیاتی نقصان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شکرپڑیاں، پارک روڈ، ایف 9 پارک اور ایچ 8 ایکسپریس وے پر درختوں کی کٹائی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسموگ، گاڑیوں کے اخراج اور ماحولیاتی منصوبوں پر متعلقہ اداروں کی بریفنگ بھی دی گئی-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ پیپر ملبری کے علاوہ کوئی بھی درخت نہیں کاٹا گیا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکایت یا اعتراض ہے تو کسی بھی ادارے سے تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں،’ہم ہر وقت حاضر ہیں، ایک درخت کاٹنے کی صورت میں اس کی جگہ 3 سے زائد درخت لگائے گئے ہیں۔‘

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں،امریکا اور آسٹریلیا میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر پیپرملبری کے درخت ہٹائے گئے۔

    چیئرپرسن کمیٹی شیری رحمان نے کہا کہ درختوں کی کٹائی سے قبل عوام اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کیونکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور ماحول کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہےدرختوں کے ساتھ پانی کے تحفظ پر بھی پالیسی بنائی جائے اور اگرڈیم بن سکتا ہے تو موجودہ پانی کو صاف کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

    شیری رحمان نے پیپر ملبری کی کٹائی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے عوام کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا،وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ اسلام آباد گزشتہ 2 دہائیوں سے شدید پولن بحران کا شکار ہے 2022 میں پولن کاؤنٹ 82 ہزار فی کیوبک میٹر تک پہنچ گیا تھا، جس کا 94 فیصد سبب پیپر ملبری کے درخت ہیں، مارچ اور اپریل میں پولن سیزن عروج پر ہوتا ہے پیپر ملبری کی کٹائی سے سانس کی الرجی میں 40 فیصد سے زائد کمی آئے گی۔

    وزیر مملکت برائے صحت نے اجلاس میں پولن مینجمنٹ و ایکولوجیکل ریسٹوریشن انیشی ایٹو 2024 پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ وزارت صحت اور سی ڈی اے کی سربراہی میں شروع کیا گیا تھا، پیپر ملبری کے خاتمے کے لیے 3 نکاتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے؛ درختوں کی کٹائی، جڑوں کا مکمل خاتمہ، اور مٹی کی دوبارہ بھرائی۔

    مختار بھرتھ کے مطابق اب تک 29,115 پیپر ملبری کے درخت ہٹائے جاچکے ہیں، جن میں ایف 9 پارک سے 12,800 اور شکرپڑیاں سے 8,700 درخت شامل ہیں، اسی طرح مختلف سیکٹرز اور کوریڈورز میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں نیلوفر قاضی نے کہا کہ اگر مقصد الرجی کنٹرول تھا تو ماہر ماحولیات سے مشاورت ضروری تھی، ماہر ماحولیات سید رضوان نے کہا کہ پیپر ملبری کے درخت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جبکہ مادہ درخت نہیں، ان کے مطابق تمام درخت کاٹنے کے بجائے صرف زیادہ خطرناک درختوں کو ہٹایا جانا چاہیے تھا، جڑیں اکھاڑنے سے مٹی کے کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور درخت مرحلہ وار ختم کیے جانے چاہییں تھے۔

    چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں سے اسلام آباد کے گرین کور کو نقصان پہنچنے کا تاثر درست نہیں، سی ڈی اے نے ڈیزائنز میں تبدیلیاں کر کے درخت بچانے اور پیوندکاری پر توجہ دی ہے، جبکہ کئی جگہوں پر درختوں کا کور دگنا بھی کیا گیاہر ایک درخت کے بدلے 3 درخت لگانے کا عزم ہے، ایف 9 پارک میں نئے کرکٹ گراؤنڈ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے سے گراؤنڈ موجود ہے اور صرف بیٹھنے کی جگہ بنائی جا رہی ہے۔

  • طالبان حکومت میں غذائی بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور عالمی امداد کی معطلی نے غذائی بحران کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، لاکھوں افراد شدید بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔

    افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں غذائی قلت ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، لا کھو ں افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر خوراک کی شدید کمی اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں-

    ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے تخمینوں کے مطابق افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک سے افغان مہاجرین کی واپسی نے بھی غربت اور غذائی بحران میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ محدود وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے، طالبان رجیم کی پالیسیوں کے باعث عالمی امداد میں کمی آئی، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افراد شدید بھوک کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت اور جابرانہ پالیسیوں نےافغانستان کی معیشت کو کمزور کر دیا ہےجس سے بے روزگاری میں اضافہ اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اگر فوری طور پر عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح نہ دی گئی تو افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

  • اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت

    اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت

    وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع 2 گھروں کے درمیان سرکاری اراضی کے استعمال کے تنازع پر فیصلہ سنادیا۔

    عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹاتے ہوئے گھروں کو ملحقہ سرکاری اراضی کو بطور راستہ استعمال کی مشروط اجازت د ے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھروں کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

    سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی استعمال کرنے اور ضرورت پڑنے پر اسے واپس کرنے کا بیان حلفی دے رکھا ہے، عدا لت نے بھی مشروط اجازت کی منظوری دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صرف متعلقہ کیس کی بات زیر غور آئے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل چوہدری نے حکومت کے آپریشنز اور کچی آبادیوں کی ہٹائی جانے والی اراضی کا ذکر کیا،تاہم جسٹس عامر فاروق نے انہیں ہدایت کی کہ وہ صرف اپنے کیس کی تفصیلات پر بات کریں،وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ان کا مؤقف تھا کہ سی ڈی اے کے پاس بیان حلفی پر اجازت دینے کی قانونی اتھارٹی نہیں ہے،عدالت نے اس معاملے میں مشروط اجازت دیتے ہوئے ممکنہ قانونی اثرات پر غور کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔

  • مظاہروں کے دوران کتنے ہزار افراد ہلاک ہوئے؟ ایران نے اعدادوشمار جاری  کر دیئے

    مظاہروں کے دوران کتنے ہزار افراد ہلاک ہوئے؟ ایران نے اعدادوشمار جاری کر دیئے

    ایران نے ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہو نے والے افراد کے اعدادوشمار جاری کر دیئے-

    ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 3 ہزار 1 سو 17 افراد ہلاک ہو ئے یہ احتجاج دسمبر کے اواخر میں شروع ہوئے تھے جن کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں سخت اور مہلک کارروائی کے ذریعے کچلا گیا-

    ایرانی فاؤنڈیشن برائے شہدا و جانبازان کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے 2,427 افراد کو اسلامی اصطلاح میں “شہید” قرار دیا گیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں،سرکاری مؤقف کے مطابق یہ احتجاج دراصل پرتشدد “فسادات” تھے جن کے پیچھے غیر ملکی عناصر خصوصاً امریکا کا ہاتھ تھا۔

    دوسری جانب ہومین رائٹس تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہزاروں مظاہرین، جو سیاسی و سماجی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے، سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے مارے گئے۔

    ایرانی حکام کے مطابق احتجاج کے دوران سینکڑوں سرکاری و نجی عمارتوں کو نقصان پہنچا صرف تہران میں 314 سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 155 عمارتیں نذرِ آتش ہوئیں اس کے علاوہ درجنوں بینک، دکانیں، مساجد اور بسیں بھی جلا دی گئیں، تہران میونسپل حکام نے غیر ملکی صحافیوں کو شہر کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کروایا جہاں جلی ہوئی بسیں، موٹر سائیکلیں اور مساجد کے تباہ شدہ حصے دکھائے گئے بس آپریشنز کے سربراہ کے مطابق 8 جنوری کو احتجاج کے عروج پر 22 بسیں مکمل طور پر جل گئیں۔

  • پاک- آسٹریلیا ٹی 20 سیریز پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا

    پاک- آسٹریلیا ٹی 20 سیریز پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا

    پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا۔

    آئی سی سی انٹرنیشنل پینل کے میچ ریفری علی نقوی تینوں میچز میں ٹیم کے سربراہ ہوں گے، سیریز کا دوسرا میچ علی نقوی کا بطور ریفری 50واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہوگاعلی نقوی نے بطور ریفری اسی گراؤنڈ پر اپریل 2023 میں اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کا آغاز کیا تھا، آئی سی سی ایلیٹ پینل امپائر احسن رضا سیریز کے پہلے دو میچز میں آن فیلڈ امپائر ہوں گے۔

    پہلے میچ میں آئی سی سی ایمرجنگ پینل کے آصف یعقوب آن فیلڈ امپائر ہوں گے، د وسرے میچ میں آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف امپائرز کے راشد ریاض ان کے ہمراہ ہوں گے،تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں راشد ریاض اور آئی سی سی انٹرنیشنل پینل امپائر ناصر حسین آن فیلڈ ہوں گے، پہلے میچ میں تھرڈ امپائر ناصر حسین اور فورتھ امپائر راشد ریاض ہوں گے۔

    دوسرے میچ میں آصف یعقوب تھرڈ امپائر اور ناصر حسین فورتھ امپائر ہوں گے، تیسرے میچ میں طارق رشید اور ذوالفقار جان فورتھ امپائر کی ڈیوٹی کریں گے، تینوں میچز29 جنوری، 31 جنوری اور یکم فروری کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میًں کمی

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میًں کمی

    عالمی منڈی میں سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں جمعرات کو کمی ریکارڈ کی گئی-

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 1 فیصد کمی کے ساتھ 4,793.63 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں سونا 4,887.82 ڈالر کی ریکارڈ بلند ترین سطح کو چھو گیا تھاامریکی گولڈ فیوچرز (فروری کی ڈلیوری کے لیے) میں بھی 1 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور قیمت 4,790.10 ڈالر فی اونس ہوگئی، گولڈ مین سیکس نے جمعر ات کو دسمبر 2026 کیلئے سونے کی قیمت کا اپنا ہدف بڑھا کر 5,400 ڈالر فی اونس کردیا جو اس سے قبل 4,900 ڈالر فی اونس تھا۔

    جبکہ اسپاٹ چاندی 92.27 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی جب کہ منگل کو یہ 95.87 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی تھی، دوسری جانب اسپاٹ پلاٹینم کی قیمت میں 1.8 فیصد کمی ہوئی اور یہ 2,438.43 ڈالر فی اونس پر آ گئی حالانکہ بدھ کو یہ 2,511.80 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح کو چھوگئی تھی جبکہ پیلاڈیم 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,840.40 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونا سستا ہونے بعدپاکستان میں بھی سستا ہو گیا،گزشتہ روز سونے کے نرخ پہلی پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے بعد قیمت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےآج سونے کی قیمت میں 800 روپے فی تولہ کمی ہونے سے نئی قیمت 5 لاکھ 5 ہزار 562 روپے ہوگئی ہےدس گرام سونا 686 روپے سستا ہوا ہے جس کے بعد نئے نرخ 4 لاکھ 33 ہزار 437 روپے ہو گئے ہیں،جبکہ آج چاندی کی قیمت 30 روپے کم ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت 9904 روپے ہو گئی ہے،گزشتہ روز چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی-

  • ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی،ڈونلڈ ٹرمپ

    ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی،ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرنی چاہیے-

    امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، اگر جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گےماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا، انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرنی چاہیے، انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، ایران میں سڑکوں پر لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے بعد ایران نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔