Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا گرفتار

    معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا گرفتار

    جہلم : پولیس نے مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گرفتار کرلیا۔

    جہلم پولیس نے معروف مذہبی اسکالر اور سوشل میڈیا شخصیت انجینئر محمد علی مرزا کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے،جہلم پولیس کے مطابق انجینئر محمد علی مرزاکو 3 ایم پی او کےتحت گرفتار کیاگیا اور انہیں جیل منتقل کردیا گیا ہےپولیس کے مطابق انجینئر علی مرزا کے خلاف مذہبی جماعتوں کی جانب سےدرخواست دائر ہے جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کیا گیا،قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں اور انہوں نے اپنا یوٹیوب چینل بھی بنارکھا ہے۔

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

  • بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ، مزید دیہات زیر آب

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب پیدا ہو گیا ، جس سے مزید درجنوں دیہات متاثر ہو گئے۔

    فلڈ کاسٹنگ ذرائع کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 4 ہزار 664 کیوسک جبکہ اخراج 98 ہزار 353 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہےدریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 95 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے ، گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے بلند ہونے کے باعث مزید دیہات زیر آب آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہےاپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم پر دریائے ستلج کی تباہ کاریاں جاری ہیں ، سیلاب سے 10عارضی بند بہہ گئے ، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے ، متاثرین اونچے ٹیلوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

    دریائے ستلج میں ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، ہریکے کے بالائی اور زیریں علاقے اونچے درجے کی سیلابی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، ستلج اور اس سے منسلک دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے،دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ تربیلا اور تونسہ پر پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے-

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر اونچے درجے اور سلیمانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہےاسی طرح دریائے چناب میں مرالہ اور خانکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، ڈیموں کی بات کی جائے تو تربیلا ڈیم مکمل بھر چکا ہے جبکہ منگلا 76 فیصد بھرا ہے، بھارتی ڈیموں میں بھاکرا 80 فیصد، پونگ 87 فیصد اور تھیئن ڈیم 85 فیصد بھرے ہوئے ہیں،تاہم بھارت کے مادھوپر ڈیم سے پانی کے اخراج کی وارننگ کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، این ڈی ایم اے نے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 80 ہزار سے ایک لاکھ 25 ہزار کیوسک تک کے بہاؤ کے ساتھ اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے، اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ 90 ہزار سے 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کے بہاؤ کے ساتھ شدید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

    کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

    ہائیڈرولوجیکل اعداد و شمار کے مطابق راوی اور اس سے منسلک نالوں میں مسلسل درمیانی سے شدید بارش کے باعث تھیئن ڈیم میں پانی 1717 فٹ تک پہنچ گیا ہے، پیر تک دریائے راوی میں کوٹ نیناں کے مقام پر 64 ہزار کیوسک پانی خارج ہو رہا تھا، جو 24 گھنٹوں میں جسر کے مقام پر ’نچلے سے درمیانے درجے‘ کے سیلاب کا باعث بن سکتا ہے اور اگر بارشیں جاری رہیں اور اسپِل وے مزید کھولے گئے تو 27 اگست تک اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بتایا کہ دریائے سندھ، چناب، راوی اور ستلج کے زیریں علاقوں سے ہفتے کے روز سے اب تک 24 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، یہ دریا بالائی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں کے باعث نچلے سے اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں اور اگلے 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی ہے،انخلا کی یہ کارروائی قصور، اوکاڑا، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی اور نارووال میں کی گئی، کیونکہ بھارت کی جانب سے سیلابی الرٹ ملنے کے بعد ان اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

    ممتاز صحافی عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

    ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بھی پنجاب میں شدید بارشوں کے پیش نظر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا، اگلے 48 گھنٹوں میں بالائی علاقوں میں بارش کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے، دریائے چناب، راوی اور ستلج میں ’اونچے سے بہت اونچے درجے‘ کے سیلاب کا خطرہ ہے، جبکہ راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    ممکنہ سیلاب کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان کے کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے، قصور، اوکاڑا، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی سیلاب کے پیش نظر الرٹ پر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں نارووال میں 27 ملی میٹر، سیالکوٹ 5 ملی میٹر، قصور 4 ملی میٹر، لاہور اور گوجرانوالہ 3 ملی میٹر، جبکہ گجرات اور خانیوال میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

  • تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    کشمیراور شمال مشرقی پنجاب میں بیشتر مقامات پر جبکہ بالائی خیبر پختونخوا، جنوبی پنجاب اور شمال مشرقی و جنوبی بلوچستان میں چند مقا مات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےاس دوران شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں تیز و موسلادھار بارش ہونے کی توقع ہے، ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم گرم اور مر طوب رہنے کا امکان ہے۔

    اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے، مری، گلیات، راولپنڈی، چکوال، جہلم، لاہور، سیالکوٹ، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، نارووال، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد، رحیم یار خان، بہاولنگر، بہاولپور، ملتان، خانیوال، راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور گرد و نواح میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

    پشاور، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، کوہاٹ، خیبر، مانسہرہ، بونیر، اورکزئی، کرم، ہنگو اور وزیرستان میں بارش کا امکان ہےبارکھان، ژوب، موسیٰ خیل، لورالائی، آوران اور لسبیلہ میں بارش کی توقع ہے، سندھ کے علاقوں سکھر، خیر پور، تھرپارکر، عمر کوٹ اور سانگھڑ میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی توقع ہےآزاد کشمیر میں چند مقامات پر موسلادھار بارش کی توقع ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔

    ممتاز صحافی عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

  • کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

    کراچی : ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل، رپورٹ تیار

    کراچی میں ملیر جیل سے 225 قیدی فرار ہونے کی انکوائری مکمل کرلی گئی، کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واقعے کی ذمہ داری جیل حکام پر عائد کر دی۔

    تحقیقاتی رپورٹ میں غفلت، بدانتظامی اور ناقص سیکیورٹی انتظامات کا انکشاف ہوا ہے، زلزلے کے بعد تیاری اور ایس او پیز پر عمل نہ ہونے سے صورت حال بگڑی،رپورٹ میں سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد حسین شاہ اور دیگر افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جیل خانہ جات کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

    واضح، رہے کہ جون کے مہینے میں کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار ہوگئے تھے، 78 سے زائد مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا، فرار ہونے کے دوران ایک قیدی ہلاک، جب کہ 2 زخمی بھی ہوئے تھے۔

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    جیل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ زلزلے کے دوران نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر بٹھایا گیا تھا، زلزلے کے دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی تھی، قیدیوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ماڑی کا گیٹ بھی توڑ ڈالا، ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو کے مطابق ملیر جیل میں سرچ آپریشن مکمل کرکے پولیس، رینجرز اور ایف سی نے ملیر جیل کا کنٹرول سنبھال لیا تھاضیاالحسن لنجار نے کہاتھا کہ فرار ہونے والے قیدی سنگین جرائم میں ملوث نہیں تھے، ملیر جیل میں پیش آنے والے واقعے میں کوتاہی بھی ہوسکتی ہے۔

    ممتاز صحافی عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

  • ممتاز صحافی  عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

    ممتاز صحافی عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب،کی تقریب رونمائی

    ممتاز صحافی سینئر کونسل ممبر عبدالستار خان کی نیب سے متعلق انگریزی کتاب ‘ڈارک ٹاور آف اکاو ¿نٹابیلٹی’ کی تقریب رونمائی لاہور پریس کلب کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس موقع پر جن سینئر صحافیوں نے اظہار خیال کیا ان میں مجیب الرحمن شامی، سہیل وڑائچ، مبشر لقمان، حماد غزنوی، انجم رشید، سعدیہ صلاح الدین، راﺅ عامر، مصطفی نذیر احمد اور لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری شامل تھے۔ مزید براں، سینئر صحافی نجم سیٹھی اور پی پی پی سے وابستہ سیاسی کارکن اسلم گورداسپوری کے ریکارڈ شدہ پیغامات بھی حاضرین کو سنوائے گئے۔

    کتاب کے متعلق اظہار خیالات کرتے ہوئے مقررین نے ہمہ آواز نہ صرف عبدالستار خان کی اس کاوش کو سراہا بلکہ اسے تجربہ کار اور نوآموز، دونوں طرح کے، صحافیوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا،اس،موقع پر خطاب کرتے ہوے سہیل وڑائچ نے کتاب کے مصنف عبدالستار خان کو ایک سچا صحافی قرار دیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ ان کی تازہ کتاب مستقبل میں مزید ایسی کاوشوں کے لیے راستہ ہموار کرے گی،انہوں نے حالیہ واقعات کے تناظر میں جرآت صحافت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سچا اور کھرا صحافی یا تو جیل کے اندر ہوتا ہے یا باہر ہوتا ہے اور اس کے لیے کوئی درمیانی راستہ نہیں ہوتا۔

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    صدر ارشد انصاری نے کہاکہ آج انوسٹی گیٹو رپورٹنگ معدوم ہوچکی ہے لیکن اس دورمیں عبدالستارخان کی تحقیقاتی رپورٹنگ پرمبنی یہ کتاب ایک شاہکار ہے اورموجودہ حالات میں انھوں،نے تحقیقاتی رپورٹ کتاب کی شکل میں مرتب کرکے بہترین اقدار کو پروان چڑھایا ہے جو صحافت میں مشعل راہ ہے، صحافی حلقے ان کی اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    کتاب سے متعلق دلچسپ امر ہے کہ یہ کلی طور پر ایسی معلومات اور دستاویز پر مبنی ہے جو نیب کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں اور بالعموم میڈیا اور اپوزیشن کی توجہ سے اوجھل رہتی ہیں،کل ملا کر کتاب نیب کے زیر تفتیش تقریبا 4100 کیسوں کے تجزیے پر مشتمل ہے اور 20 ابواب پر محیط ہے جس میں ایک طرف تو مشہور سیاست دانوں اور ان کے خاندان پر نیب کی طرف سے بنائے جانے والے کیسز کا احوال شامل ہے اور دوسری طرف پلی بارگین سے متعلق کیسز کے حوالے سے ہوشربا انکشافات شامل ہیں

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    ۔تقریب سے خطاب کرنے والے مقررین نے کتاب میں شامل معلومات کو اس بنیاد پر بھی قابل تحسین قرار دیا کہ اس میں شامل تمام معلومات مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور کسی مخصوص سیاسی جماعت کے نظریے کی ترویج نہیں کرتی۔تقریب کے اختتام میں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کتاب کے مصنف عبدالستار خان کو نہ صرف لاہور پریس کلب کے ارکان بلکہ پاکستان کے تمام صحافتی کارکنوں کی جانب سے خراج تحسین پیش کیا اور تقریب کے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

  • پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    لاہور: صوبہ پنجاب رواں مالی سال کے آغاز میں ملک کا سب سے بڑا قرض لینے والا صوبہ بن گیا ہے، جہاں صرف 38 دنوں (یکم جولائی سے 8 اگست 2025) کے دوران اسٹیٹ بینک سے 405 ارب روپے کا بھاری قرض لیا گیا۔

    بلوم،پاکستان،کےمطابق،یہ قرضہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جو مالیاتی ماہرین کے مطابق صوبے کے معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہےاعداد و شمار کے مطابق سندھ نے اسی مدت میں 16 ارب، خیبرپختونخوا نے 21 ارب جبکہ بلوچستان نے صرف 13 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا جس کے مقابلے میں پنجاب کا قرضہ تقریباً 25 گنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض نہیں لے سکتی تاہم صوبائی حکومتیں بدستور مرکزی بینک پر انحصار کررہی ہیں۔

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ 30 سال سے زائد پرانے 675 ارب روپے کے بینکی قرضوں کی ادائیگی مکمل کرلی گئی ہے جو زیادہ تر گندم کی خریداری اور سبسڈی پروگرامز سے وابستہ تھےاس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں روزانہ 25 کروڑ روپے سود کی ادائیگی کا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور وسائل عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے دستیاب ہوسکیں گے، بشمول اپنا گھر اپنی چھٹ پروگرام جس کا مقصد سستی رہائش ہے۔

    حکام کے مطابق قومی بینک کو 13.8 ارب روپے کی آخری قسط بھی ادا کردی گئی ہے اور بینکوں کی طرف سے قرض کو رول اوور کرنے کی تمام درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اگر یہ ادائیگی نہ کی جاتی تو پنجاب کو ماہانہ 50 کروڑ روپے کے سود کا سامنا کرنا پڑتا۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    دوسری جانب سرکاری ادارے بدستور خسارے میں چل رہے ہیں اور صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے مزید 65 ارب روپے کے کمرشل بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں ان اداروں کا مجموعی واجب الادا قرض اب 2166 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

    وفاقی حکومت نے بھی اپنے محدود دائرہ کار میں رہتے ہوئے 55 ارب روپے کی ادائیگی اسٹیٹ بینک کو کی ہے، جس سے 30 جون 2025 تک اس کے واجب الادا قرضے کم ہوکر 5269 ارب روپے رہ گئے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

  • دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی  اسناد  عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    نئی دہلی ہائی کورٹ نے وفاقی انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کی جانب سے 2016 میں رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کے گریجویشن (بی اے) کا ریکارڈ دیکھنے کی اجازت دینے کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔

    بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق،نئی دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر نہیں کی جاسکتیں،ساتھ،ہی،عدالت نے وہ حکم بھی کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت آر ٹی آئی کارکن کو دہلی یونیورسٹی کے 1978 کے بی اے کے ریکارڈ دیکھنے کی اجازت ملنی تھی، یہ وہی سال ہے، جب نریندر مودی نے گریجویشن کیا تھا۔

    175 صفحات پر مشتمل مشترکہ فیصلے میں جسٹس سچن،دتہ نے یہ قرار دیا کہ سی آئی سی کا سی بی ایس ای کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لیڈر سمرتی ایرانی کی دسویں اور بارہویں جماعت کے ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت درست نہیں، اور درخواست کے مطابق مطلوبہ معلومات کے بارے میں کوئی پوشیدہ عوامی مفاد نہیں ہے، ہر وہ چیز جو عوامی دلچسپی کا باعث ہو، وہ ’عوامی مفاد‘ کے مترادف نہیں ہے، اور 21 دسمبر 2016 کے سی آئی سی کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے کہا کہ مودی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مختلف بیانات دیے، لیکن یہ حیران کن ہے کہ اگر انہوں نے گریجویٹ ہونے کا دعویٰ کیا تو عوامی تجسس کی خاطر اس کی تصدیق کیوں کی جائے؟۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آر ٹی آئی کارکن نیرج کی درخواست پر سی آئی سی نے دہلی یونیورسٹی کو حکم دیا تھا کہ 1978 کے بی اے امتحان کے رجسٹر کا معائنہ کرایا جائے، جس میں تمام طلبہ کے رول نمبر، نام، والد کا نام اور نمبر درج ہوں، اور متعلقہ صفحات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔

    سی آئی سی کے حکم کو دہلی یونیورسٹی نے عدالت میں چیلنج کیا، اور عدالت نے پہلی ہی سماعت (24 جنوری 2017) میں اس حکم پر عمل درآمد روک دیا،یونیورسٹی نے کہا کہ وہ 1978 میں بی اے کے امتحان دینے والے تمام طلبہ کی ذاتی معلومات ظاہر نہیں کر سکتی، کیوں کہ یہ معلومات ’رازداری‘ میں رکھی گئی ہیں، اور آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ان کا انکشاف مستثنیٰ ہے، سی آئی سی کا حکم تمام یونیورسٹیوں کے لیے دور رس منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن کے پاس کروڑوں طلبہ کے ڈگری ریکارڈ محفوظ ہیں۔

    جسٹس دتہ نے یونیورسٹی کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ عدالت اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی کہ جو چیز بظاہر ایک بے ضرر یا الگ تھلگ انکشاف لگے، وہ اندھا دھند مطالبات کے دروازے کھول سکتا ہے، جو کسی حقیقی عوامی مفاد کے بجائے غیر سنجیدہ تجسس یا سنسنی پھیلانے کے جذبے پر مبنی ہوں،یہ حقیقت کہ معلومات کسی عوامی شخصیت سے متعلق ہیں، اس بات کو ختم نہیں کرتی کہ ذاتی معلومات پر نجی حیثیت یا رازداری کا حق قائم ہے، خاص طور پر جب یہ عوامی ذمہ داریوں سے متعلق نہ ہوں،یہ ڈیٹا، جو کسی طالب علم کی تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہے، یونیورسٹی اعتماد اور بھروسے کے ساتھ رکھتی ہے، اور طلبہ کو یہ جائز توقع ہوتی ہے کہ ان کے ریکارڈ کی رازداری قائم رکھی جائے گی۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

    دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ آر ٹی آئی کا مقصد کسی تیسرے فریق کی تجسس کی تسکین نہیں ہے، آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 6 اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ معلومات فراہم کی جائیں گی، یہی اس کا مقصد ہے، لیکن آر ٹی آئی کسی کا تجسس مٹانے کے لیے نہیں ہے۔

    سی آئی سی نے اپنے حکم میں دہلی یونیورسٹی کو معائنہ کرانے کو کہا تھا اور اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی ذاتی معلومات ہیں، اور کہا کہ اس دلیل میں ’کوئی وزن ہے نہ ہی کوئی قانونی حیثیت۔

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

  • آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آسٹریلوی وزیرِاعظم نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا نے ایران کے سفیر احمد صادقی کو ملک بدر کر دیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق،آسٹریلیا نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ کینبرا میں ایران کے سفیر کو ملک بدر کرے گا وزیراعظم انتھونی البانیز نے تہران پر الزام لگایا کہ اس نے سڈنی اور میلبورن کے اہم شہروں میں دو یہود مخالف (اینٹی سیمیٹک) حملے کرائے، اکتوبر 2023 میں اسرائیل-غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں گھروں، اسکولوں، یہودی عبادت گاہوں (سیناگاگ) اور گاڑیوں کو یہود مخالف توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کا نشانہ بنایا گیا۔

    البانیز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آسٹریلیا کی سیکیورٹی ایجنسی نے مصدقہ انٹیلی جنس اکٹھی کی ہے کہ ایرانی حکومت نے کم از کم 2حملوں کی ہدایت دی، ان کے مطابق آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (اے ایس آئی او) کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال 20 اکتوبر کو سڈنی کے ’لوئس کونٹینینٹل کچن‘ اور 6 دسمبر کو میلبورن کے ’اَداس اسرائیل سیناگاگ‘ پر حملے کروائے، انہوں نے مزید کہا کہ اے ایس آئی او کا اندازہ ہے کہ ایران نے مزید حملوں کی بھی منصوبہ بندی کی تھی۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

    البانیز نے کہا کہ یہ غیر معمولی اور خطرناک جارحیت تھی جو ایک غیر ملکی ریاست نے آسٹریلوی سرزمین پر منظم کی، یہ ہماری سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور معاشرے میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں تھیں،آسٹریلیا نے تہران میں اپنے سفارتخانے کی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور تمام سفارتکار محفوظ ہیں اور ایک تیسرے ملک میں موجود ہیں، ان کی حکومت ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دے گی۔

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

  • کینیڈا کا یوکرین کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد کااعلان

    کینیڈا کا یوکرین کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد کااعلان

    کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کیف میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران 2 ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا، جس میں ایک ارب ڈالر اسلحے، ڈرونز اور بکتر بند گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص ہیں۔

    کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں کہا کہ وہ یوکرین کے لئے مضبوط سکیورٹی گارنٹی کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کینیڈا ایسی کسی امن ڈیل کے تحت فوجی دستے بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کرتاروس کی مکمل یلغار کو ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ یوکرین اور یورپی اتحادی مستقبل کے سکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔

    مارک کارنی نے اپنے پہلے دورۂ یوکرین میں زیلنسکی کے ساتھ یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کی، جس میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کیتھ کیلگ بھی شریک ہوئےاس موقع پر زیلنسکی نے کہا کہ اس جنگ کے خاتمے کا مطلب ایسا امن ہونا چاہیے جو آئندہ نسلوں کو جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے سکیورٹی گارنٹی نیٹو کے آرٹیکل 5 کے قریب تر ہوں۔

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    مارک کارنی نے کہا کہ صرف یوکرین کی فوجی طاقت پر انحصار کافی نہیں، اس کے لئے عالمی شراکت داری ضروری ہےدونوں رہنماؤں نے ڈرون کی مشترکہ تیاری کا معاہدہ بھی کیا، جبکہ کینیڈا نے اگلے ماہ ایک ارب کینیڈین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

    حماد اظہر کا این اے 129 سے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان

  • ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال میں ٹرینی نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی پر ہیڈ نرس معطل

    ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کراچی میں زیر تربیت نرس کے ساتھ مبینہ ہراسانی کے واقعہ کے معاملے پر اسپتال انتظامیہ نے ہراساں کرنے والے ہیڈ نرس کو معطل کر دیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کی ویڈیو پر وائس چانسلر نے نوٹس لیا تھاپروفیسر جہاں آرا کے مطابق ہراسانی میں ملوث افراد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، ڈاؤ یونیورسٹی میں ہراسانی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اسپتال انتظامیہ کے مطابق مزید ملزمان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس کے اسپتال کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں میں مرد عملے کی جانب سے نرس کے سامنے غیر اخلاقی حرکات و اشارے کرتے دیکھا جا سکتا ہے یہ واقعہ دو روز قبل اوجھا کیمپس آئی سی یو میں پیش آیا تھا وڈیو میں عملے کے دو افراد نائٹ ڈیوٹی کے دوران نرس کو مجبور کرتے رہے، تاہم نرس نے مزاحمت کی۔

    زرائع کے مطابق ہراساں کرنے میں مبینہ طور پر ٹیکنیشن دلشاد، ہیڈ نرس دانش ملوث بتائے جا رہے ہیں قائم مقام وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی پروفیسر جہاں آرا نے بتایا کہ ملوث ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے رجسٹرار کو واقعے کی فوری تحقیقات کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے، تحقیقاتی کمیٹی 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں انسداد ہراسانی کمیٹی موجود ہے، ملوث ہونے پر ملازمین سخت ایکشن لیا جائے گا، یونیورسٹی میں ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں، وائس چانسلر نے کہا کہ ہراسگی کے واقعات پر ملازمت سے برطرفی اور بھاری جرمانے بھی کیے جاتے ہیں۔