Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • عثمان ہادی کو گولی مارنے والے ملزم کی شناخت ہوگئی

    عثمان ہادی کو گولی مارنے والے ملزم کی شناخت ہوگئی

    بنگلادیش پولیس نےطلبا رہنما عثمان ہادی کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کی شناخت کرلی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش پولیس نے عدالت میں مرکزی ملزم کے طور پر فیصل کریم مسعود کو ظاہر کر دیا پولیس نے چارج شیٹ میں فیصل کریم مسعود کو شوٹر جب کہ ایک اور شخص عالمگیر شیخ کو سہولت کار کے طور پر نامزد کیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی روشنی میں عدالت نے ملزم فیصل کریم مسعود کا پاسپورٹ منسوخ کرکے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی،عدالت کے حکم پر تمام ایئرپورٹس اور بنگلا دیش بارڈر سیکیورٹی فورس کو بھی الرٹ کردیا گیا تاکہ عثمان ہادی کا قاتل غیر قانونی طریقے سے بھی سرحد پار نہ کرپائے۔

    کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    پولیس ترجمان نے بتایا کہ ابھی تک مرکزی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جاسکا تاہم تفتیشی ٹیمیں اس کی گرفتاری کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں، اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ملزمان بھارت فرار ہوگئے تھے تاہم اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    قبل ازیں پولیس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران دو افراد کو ملزم فیصل کریم مسعود کو غیر قانونی طور پر بھارت بھیجنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا پولیس نے عدالت سےان دونوں افراد سے مزید تفتیش کے لیے پانچ روزہ ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے تاہم اب تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی،تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ممکنہ طور پر سرحدی انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کا سرغنہ بھی شامل ہوسکتا ہے جس سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    سونے کی قیمت میں آ ج بھی اضافہ

    واضح رہے کہ عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکا کے پلٹن علاقے میں انتخابی مہم کے دوران موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی،جس سے طلبا رہنما شدید زخمی ہوگئے تھے اور مقامی اسپتال میں حالت بگڑنے پر سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں 18 دسمبر کو دوران علاج انتقال کر گئے تھےعثمان ہادی کی نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی شہید نوجوان رہنما کو قومی ہیرو قرار دیکر ایک روزہ قومی سوگ بھی منایا گیا۔

  • سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے واضح اور دوٹوک پیغٍام میں کہا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، سعودی عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور نہیں کر رہا ہے۔

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی صرف اُسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل ایک نارمل ریاست کی طرح بین الاقوامی قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرے اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل سامنے آئے۔

    اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت طے نہیں ہو جاتا اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرے اور ان پر عمل کرے تو پھر سعودی عرب اس کے ساتھ معمول کے تعلقات پر غور کر سکتا ہےسعودی مؤقف میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ کوئی ابہام ہے کہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد ہے۔

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    اس موقع پر ترکی الفیصل نے 2002 کے عرب امن منصوبے کا حوالہ بھی دیا، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر رکھی گئی تھی،سعودی عرب نے ماضی میں بھی امن عمل میں حصہ لیا تھا جیسا کہ 1991 کی میڈر ڈ امن کانفرنس کے بعد ہوا تھا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ اسرائیل امن کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کے قتل اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات امن عمل کے ناکام ہونے کی علامت تھے،( اسرائیل ہمیشہ سے یاسر عرفات کو زہر دیے جانے کے الزام کی تردید کرتا آیا ہے لیکن ٹھوس شواہد کے تمام اشارے صیہونی ریاست تک ہی جاتے ہیں)۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیاں، شام اور لبنان میں فوجی موجودگی، جنگ بندی معاہدوں سے انحراف اور گریٹر اسرائیل جیسے بیانات اعتماد پیدا نہیں کرتےامریکی دباؤ سے متعلق سوال پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت بناتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرتا، ولی عہد محمد بن سلمان نے خود وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے سامنے واضح کیا تھا کہ دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل سے معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    شہزادہ ترکی نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے قریب تھے یہ محض قیاس آرائیاں تھیں اور سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی،اگر اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم کے بعد کوئی نیا رہنما آتا ہے تو اسے بھی دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا نہیں لیکن سعودی عرب کا اصولی مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

  • پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    بلاول ہاؤس چورنگی پر ییپلز یونٹی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کے دوران دھرنا دیا-

    میڈیا سے بات چیت میں صدر پیپلز یونٹی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ کراچی پریس کلب پر بھی پریس کانفرنس میں یہ بات واضح کردی تھی کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جارہی بلکہ اسے خود خرید رہے ہیں،ہم بلاول ہاؤس آکر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بتانے آئے ہیں کہ ہم آپ کے سپاہی ہیں،بلاول بھٹو زرداری چاہیں تو یہ نجکاری رک سکتی ہے،ہمیں پی آئی اے ملازمین کی پنشن اور ملازمت کی یقین دہانی کرائی جائے ورنہ ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔

    صدر پیپلز یونٹی نے کہا کہ پی آئی اے کی دیگر تنظیموں کو بھی احتجاج میں دعوت دی ہےکنسورشیم میں پھوٹ پڑ چکی ہے،ایک کنسور شیم نجکاری کی دوڑ سے باہر ہوچکا ہے باقی تین بھی آپس میں متفق نہیں ہیں100 ارب روپے کے عوض پی آئی اے کی نجکاری کی اجازت دیکر صرف ساڑھے سات ارب روپے میں اونے پونے بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ان کا کہنا تھا کہ نجکاری رکوانے کے لیے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گاپارلیمنٹ اور سی سی آئی سے بھی پی آئی اے کی نجکاری کی منظوری نہیں لی گئی ،نجکاری رکوانے کے لیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو تمام گزارش پیش کی ہیں ،امید ہے اچھی خبر ملے گی،کل نجکاری نہیں ہوگی اور اچھی خبر آئے گی اگر نجکاری ہوئی تو ہم اپنا احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے۔

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

  • مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ  باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ استثنٰی کا مطالبہ تو نبی کریم نے معصوم ہونے کے باوجود نہیں کیا اور نہ ہی کسی خلیفہ راشد نے عدالت میں یا اپنے اقدامات کے لیے استثنیٰ مانگا ہے ہمارے حکمرانوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

    مجلس اتحاد امت پاکستان کے تحت مشاورتی علمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ مدارس کے معاملہ میں جو باتیں پہلے سے طے شدہ ہیں انہیں بار بار نہ چھیڑا جائے بلکہ مدارس کے بارے میں جو اقدامات طے شدہ ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

    مدارس میں عصری علوم سے متعلق مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت بتائے کہ تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر کیسے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مدارس پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ اور محب وطن بنا رہے ہیں امارت اسلامیہ افغانستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ افغان علماء کی قرارداد کو حکومت کی پالیسی کا حصہ بنائیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    قبل ازیں مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دنیا کے کسی دستور میں کوئی مثال نہیں ملتی، 18 سال سے کم عمری کی شادی پر سزا خلاف اسلام ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی کوشش میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کریں گے۔

    مشاورتی اجتماع کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، قاری حنیف جالندھری نے نظامت کی اور کہا کہ مجلس اتحاد امت کا مقصد معاشرتی اور سماجی مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرنا ہے، امت کی رہنمائی کیلئے ایک فورم کی ضرورت تھی، جو قومی اور ملی مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں قوم اور حکومت کی رہنمائی کر سکے، مجلسِ اتحاد امت پاکستان کا قیام ان ہی مقاصد کے تحت وجود میں آیا، مجلس اتحاد امت کا مقصد امت کا اتحاد اور ملی و قومی مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرنا ہے۔

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

  • پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    پی آئی اے کی نیلامی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار

    حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے) کی نجکاری کا فیصلہ کن مرحلہ مکمل کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولیاں 23 دسمبر (منگل) کو طلب کی جائیں گی، جبکہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے بولی کھولنے کی تقریب براہِ راست ٹیلی وژن پر نشر کی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری پروگرام کے مطابق بولیاں صبح 10:45 سے 11:15 بجے تک جمع کی جائیں گی جبکہ انہیں سہ پہر 3:30 بجے کھولا جائے گا اس مرحلے پر 3 بولی دہندگان مقابلے میں شامل ہیں پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔

    https://x.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?s=20

    دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ تیسری بولی ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دی جائے گی۔

    نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر محمد علی کے مطابق فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے بتایا کہ بولیاں جمع ہونے کے بعد کمیشن کا بورڈ ریفرنس قیمت مقرر کرے گا، جس کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔

    معاہدے کے تحت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے، جن میں سے 92.5 فیصد رقم پی آئی اے کو جبکہ 7.5 فیصد قومی خزانے کو ملے گی،حکومت کے پاس 25 فیصد حصص برقرار رہیں گے، جنہیں کامیاب بولی دہندہ بعد میں خریدنے یا حکومت کے پاس چھوڑنے کا اختیار رکھے گا پی آئی اے کی بحالی سے معیشت اور جی ڈی پی پر مثبت اثر پڑے گا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظام، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے پی آئی اے دوبارہ اپنے عروج کی طرف لوٹ سکتی ہے۔

    محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں،بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص کی ادائیگی ایک سال میں کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے یہ تجویز قبول نہیں کی ان کے مطابق اگر ایک سال کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہوتی تو خریدار خریداری سے پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور اگر کارکردگی بہتر ہوتی تو خریداری کے حق میں فیصلہ کرتا، جو حکومت کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔

    انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا، جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی پی آئی اے کی بحالی سے مجموعی قومی پیداوار اور مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گاپاکستان میں ہوا بازی کے شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ سب سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ حصہ 18 فیصد اور سعودی عرب میں 8.5 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1.3 فیصد ہے۔ تاہم پی آئی اے کی صلاحیت کے باعث یہ شرح نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔

    پی آئی اے کے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے اس وقت صرف 18 طیارے فعال ہیں تاہم پی آئی اے کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی سروس معاہدے موجود ہیں اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس حاصل ہیں،پی آئی اے اس وقت 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کی ایکویٹی رکھتی ہے، جبکہ 26 ارب روپے کی واجبات پی آئی اے کے پاس ہی رہیں گی، جن کی ادائیگی بولی دہندگان پانچ سال میں کریں گے۔

    ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی 2011 میں پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 500 تھی، جو اب کم ہو کر 6 ہزار 500 رہ گئی ہے، یعنی پانچ سال میں 5 ہزار ملازمین کی کمی آئی ہے۔

    محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا اثاثہ ہے جسے اگر درست انداز میں نہ چلایا گیا تو بھاری نقصان ہو سکتا ہے، لیکن بہتر انتظام کے ساتھ یہ غیر معمولی آمدن پیدا کر سکتی ہے 25 کروڑ آبادی والے ملک میں پی آئی اے کے پاس مسافر، منزلیں، روٹس اور لینڈنگ سلاٹس موجود ہیں۔

    ان کے مطابق پی آئی اے کو سرمایہ کاری، نئے طیاروں کے اضافے اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے، جو حکومت فراہم نہیں کر سکتی، پی آئی اے میں جس نوعیت کے فیصلوں کی ضرورت ہے وہ صرف نجی شعبہ ہی کر سکتا ہے، اور اگر ایئرلائن کو درست طور پر چلایا جائے تو پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور میں واپس آ سکتی ہے۔

    سینئیر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ تمام کارپوریٹ کی نظریں پی آئی اے کی نجکاری پر، جو کہ کل عمل میں لائی جائے گی،پردے کے پیچھے ڈرامہ سامنے آیا ہے۔ حیرت انگیز پیشرفت میں، طیبہ گروپ نے گزشتہ ہفتے پی ایم کی زیرقیادت میٹنگ میں عارف حبیب گروپ کی طرف سے پیش کی گئی مشترکہ منصوبہ بندی کی تجویز کو صاف طور پر مسترد کر دیا – ایک ایسا معاہدہ جس میں 40% عارف حبیب، 40% طیبہ، 20% فوجی فاؤنڈیشن، محمد علی طیبہ بطور چیئرمین PIA (پرائیویٹ) کے ساتھ تقسیم ہو جائے گی۔

    پھر بھی، بیک روم سمجھوتہ کے بجائے، طیبہ گروپ نے کھلی جنگ کا انتخاب کیا، اور اعلان کیا کہ یہ براہ راست بڈنگ میں جائے گا، کوئی بند ڈیل نہیں، کوئی محفوظ انتظام نہیں،اب یہ دو حریف کنسورشیموں میں بند پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری گروپوں کے درمیان ایک شدید، بلند و بالا آمنے سامنے ہونے کو ہے، یہ صرف نجکاری نہیں ہے؛ یہ شفافیت، اور اعصاب کا امتحان ہے۔

  • پنجاب پولیس  کے سابق  آئی جی نے خود کو گولی مار  لی

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ میں پنجاب پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل نامر سنگھ چاہل نے خود کو گولی مار کرلی۔

    مشرقی پنجاب کے سابق انسپکتر جنرل پولیس کو شدید زخمی حالت مین ہسپتال لایا گیا، انہوں نے خودکشی کا خط لکھنے کے بعد خود کو گولی ماری لیکن اہل خانہ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال پہنچانے میں کامیاب ہو گئے، ڈاکٹر ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ میں سابق آئی جی پولیس امر سنگھ چاہل گھر میں شدید طور پر زخمی حالت میں ملے اہل خانہ انہیں علاج کے لیے فوری طور پر پٹیالہ کے پارک ہاسپٹل لے گئے، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے علاج میں مصروف ہے ان کی حالت فی الحال سنگین ہے، اہل خانہ نے بتایا کہ امر سنگھ چاہل نے خود کو گولی مار لی ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں-

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    بھارت میں سامنے آنے والی کچھ میڈیا رپورٹس میں ان کی وفات کی اطلاع بھی دی گئی ہے، لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے پولیس کو امر سنگھ چاہل کے گھر میں 12 صفحات پر مشتمل ایک سوسائڈ نوٹ ملا ہے، جس میں سابق آئی جی نے خود کے ساتھ ہوئے آن لائن فراڈ کی وجہ سے معاشی پریشانیوں کا ذکر کیا ہے-

    پرائیویٹ حج آپریٹرز کے زیر انتظام عازمین حج کے لیے خوشخبری

    پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مختلف زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہے اور کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل حقائق کی مکمل طور سے تحقیقات کی جائے گی،فرانزک ٹیم نے موقع پر جانچ کی اور ضروری ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں ساتھ ہی اہل خانہ اور دیگر متعلقہ افراد کے بیان بھی درج کیے جا رہے ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ معلوم ہو سکے گی-

    افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

    لاہور: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی فورس(پیرا) کے ملازمین کے لیے خصوصی الاؤنس کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے PERA اسپیشل الاؤنس کی سمری منظور کر لی جس کے تحت گریڈ 20 افسران کو ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار، گریڈ 19 کو 1 لاکھ 25 ہزار روپے الاؤنس ملے گا ،گریڈ 18 کے افسران کو 1 لاکھ، گریڈ 17 کو 75 ہزار روپے ماہانہ خصوصی الاؤنس ملے گا جبکہ گریڈ 16 سے گریڈ 7 تک ملازمین کے لیے 20 سے 50 ہزار روپے ماہانہ الاؤنس منظور کیا گیا ہے۔

    الاؤنس کا اطلاق پاکستان ایڈمنسٹریٹو ، پی ایس پی اور پی ایم ایس کے افسران پر نہیں ہوگا ،اتھارٹی الاؤنس کے لیے پہلے سے مختص بجٹ استعمال کرے گی، خصوصی الاؤنس کا مقصد پیرا کی کارکردگی اور نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے ۔

  • پرائیویٹ حج آپریٹرز کے زیر انتظام عازمین حج کے لیے خوشخبری

    پرائیویٹ حج آپریٹرز کے زیر انتظام عازمین حج کے لیے خوشخبری

    اسلام آباد: رواں سال کوئی بھی پرائیویٹ حاجی حج سے محروم نہیں رہے گا پرائیویٹ حج آپریٹرز نے ڈیڈ لائن سے قبل ہی تمام عازمین کی بکنگ مکمل کر لی۔

    اس سال کسی بھی پرائیویٹ حاجی کے حج سے محروم رہنے کا خدشہ نہیں رہا پرائیویٹ حج آپریٹرز نے حکومتی ڈیڈ لائن سے قبل تمام عازمین کی بکنگ مکمل کر لی نجی حج آرگنائزرز نے عازمین حج کی 100 فیصد رقم بروقت سعودی عرب منتقل کر دی جس کے بعد عازمین کی رہائش، کھانے پینے اور دیگر تمام ضروری سروسز کی ادائیگیاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں پرائیویٹ عازمین حج کے لیے منیٰ میں رہائش کی بکنگ بھی کرالی گئی،جس سے حج انتظامات کے حوالے سے تمام بڑے خدشات ختم ہو گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال بروقت رقوم منتقل نہ ہونے کے باعث 63 ہزار سے زائد پرائیویٹ عازمین حج سے محروم رہ گئے تھے جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا اس پس منظر میں حکومت نے اس سال نجی حج آپریٹرز کے لیے سخت نگرانی اور واضح ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔

    افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    حکومت کی جانب سے پرائیویٹ حج آپریٹرز کو 31 دسمبر تک تمام مالی اور انتظامی معاملات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جس پر نجی حج آرگنائزرز نے عملدرآمد کرتے ہوئے تمام تقاضے مقررہ وقت سے قبل پورے کر لیے اس بروقت انتظام سے نہ صرف عازمین حج کو سہولت ملے گی، بلکہ گزشتہ سال پیش آنے والی مشکلات کے اعادے کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

    ننکانہ صاحب:ڈپٹی کمشنر کا مریم نواز ہیلتھ کلینک برالہ کا اچانک دورہ، طبی سہولیات کا جائزہ

  • افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، مولانا فضل الرحمان

    کراچی:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپنی روایات بچانے کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں، ایک دوسرے کو عزت دینا ہماری روایات ہیں، اعزازی ڈگری کا شکریہ مگر میں خود کو مولانا کہلوانا پسند کروں گا۔

    کراچی میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے کر آج کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے کہ وہاں سے کچھ لوگ آئے اور کارروائی کرکے چلے گئےہمیں 78 سال کی افغان پالیسی پر بات کرنی چاہیے، افغانستان کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں رہا ، ظاہر شاہ سے اشرف غنی تک ہمیں کوئی افغا ن دوست حکومت نہیں ملی، کیا وجہ ہے؟ ہم اپنا بیانیہ تیار کریں گے تو الزام ان پر ہی دیں گے مگر ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ یہ ہماری افغان پالیسی کا فیلیئر تو نہیں؟ اس پر بھی بحث کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں شکایات افغان حکومت سے ہیں اور ہم زور ڈال رہے ہیں ان لوگوں پر جو چالیس سال سے ہمارے مہمان ہیں، مہاجرین کو مہمان کے طور پر ڈیل کیا جائے، مہاجرین جب بھی کہیں جاتے ہیں مسئلہ بنتا ہے یہ پاک افغان دوطرفہ مسئلہ ہے دیکھنا پڑے گا یہ چالیس برسوں میں افغانیوں نے پاکستان کی معیشت میں کتنا حصہ ڈالا؟ افغانی اگر بینکوں سے اپنا پیسہ نکال لیں تو کئی بینک دیوالیہ ہوجائیں، پالیسی بنائے جائے افغانیوں کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے استعمال ہوں۔

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ آئین سازی قرآن و سنت سے ہٹ کر نہیں ہوگی مگر ہم نے حالیہ ترامیم میں کئی قانون پاس کیے ہیں چاہیے وہ 18 سال سے کم عمری کی شادی کا بل ہو، گھریلو تشدد کا بل ہو یا ٹرانس جینڈر ایکٹ ہو، ہم نے قرآن و سنت کو پس پشت ڈال کر صرف اقوام متحدہ کے کہنے پر قانون سازی کی، اس معاملے پر بات کی جائے ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں،2018ء اور 2024ء دونوں انتخابات عوامی نہیں اسٹیبلشمنٹ کے تھے۔

    کراچی:گھریلو جھگڑے پر بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    ان کا کہنا تھا کہ دفاعی حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور ہمیں اسے برقرار رکھنا چاہیے ہم پاکستان کے طاقت ور دفاع کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں سیاسی قوت کے طور پر نہیں کیوں کہ سیاسی قوت کے طور پر مضبوط ہونا دفاعی قوتوں کا نہیں عوام اور سیاست دانوں کا حق ہے، ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے اگر تمام ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک آگے بڑھے گا ہمیں ایک دوسرے کی بالادستی کے بجائے آئین کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    پاپوانیو گنی میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی طور پر بھی غزہ میں فوجیں نہ بھیجے اور کسی بھی امن فورس کا حصہ نہ بنے، ہمیں ایک تلخ تجربہ ہےماضی میں اُس وقت کے بریگیڈیئر ضیا الحق اردن گئے تھےاور فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی تھی، فلسطینی وہ وقت بھولے نہیں، ایک دور میں یہ بھی ایشو اٹھا تھا کہ عراق فوج بھیجی جائے یا نہیں، یہ افواج پیس کیپنگ نہیں ہوتیں یہ جنگ کیپنگ ہوتی ہیں ان کا کام لڑنا ہوتا ہے پاکستان کسی صورت یہ غلطی نہ کرے۔

  • مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا

    امیر جے یو آئی (ف)مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا گیا۔

    گورنر ہاؤس کراچی میں خصوصی کانووکیشن کا انعقاد کیا گیا، جہاں سر سید یونیورسٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی ،جےیوآئی کےسیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری ،علامہ راشد محمود سومرو بھی تقریب میں شریک تھے۔

    بعد ازاں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے جبکہ بھارت کے خلاف پاکستان کو زبردست کامیابی ملی۔

    انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو پاکستان کے حوالے کرے دہشت گردی کے تمام تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،بھارت شکست کا بدلہ لینے کے لیے مختلف حرکتیں کر رہا ہے اور پاکستان اس وقت معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے پاکستان کی سالمیت کی بات آئے گی تو سب کو کردار ادا کرنا ہو گا، آج مولانا فضل الرحمان کے لیے خود حلیم بنائی، اور امید کرتا ہوں کہ انہیں میری بنائی گئی حلیم پسند آئی ہو گی۔