Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا عدالت نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار خاتون کے حقوق کو نظرانداز کیا، عدالت کے مطابق جہیز اور دلہن کو ملنے والے ذا تی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں، اور اگر جہیز واپس نہ کیا جائے تو خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہوعدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ کیس کا فیصلہ 2 ماہ کے اندر کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کہا کہ خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں نکاح نامہ میں ایسی شرط شامل کی جائے جس کے تحت شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد طلاق، وفات یا دیگر صورتوں میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہو سکے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو ازدواجی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ نکاح نامہ میں اپنے حقوق کا مؤثر استعمال کر سکیں،خواتین ملک کی قریباً نصف آبادی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور حق مہر کی ادائیگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کسی بھی وقت مہر کا مطالبہ کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عابد حسین چھٹہ نے فاطمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مہر سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔

    کیس کے مطابق درخواست گزار نے شوہر کے خلاف روز مرہ اخراجات یونی نان نفقہ، جہیزکی واپسی اور پانچ تولہ سونے کے مہر کا دعویٰ دائر کیا تھاابتدائی طور پر فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کو پانچ ہزار روپے ماہانہ خرچ اور حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد میں ٹرائل کورٹ نے مہر کا دعویٰ ختم کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس قانونی نکتے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر نکاح نامہ کے اندراج کے وقت مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت یا مدت طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں بیوی ’جب بھی‘ مطالبہ کرے گی، شوہر پر مہر ادا کرنا لازم ہوگا عدالت نے واضح کیا گیا کہ شادی برقرار رہنے کے باوجود بیوی اپنے مہر کی مکمل حقدار رہتی ہے چنانچہ ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے پرانے فیصلے کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جبکہ نان نفقہ اور جہیز سے متعلق اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا

    اس عدالتی فیصلے سے یہ بات واضح اور ہو گئی ہے کہ حق مہر بیوی کا وہ بنیادی حق ہے جو نکاح کے معاہدے کے تحت اسے حاصل ہوتا ہے اور شوہر اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا۔

  • توانائی بحران :محکمہ توانائی نے نئی اہم سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردیں

    توانائی بحران :محکمہ توانائی نے نئی اہم سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردیں

    ملک میں توانائی بحران کے پیش نظر محکمہ توانائی نے نئی اہم سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردیں۔

    رپورٹ کے مطابق ذرائع کے مطابق وفاق کی طرز پر فیول راشننگ کی تجویز، 15 اپریل تک تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی سفارش، اسکولوں میں ہائبرڈ نظام تعلیم غور ہے،اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوپن یا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے، مخصوص دنوں میں محدود گاڑیوں کو ایندھن فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

    نجی اداروں کے لیے ورک فرام ہوم کے لیے سخت ہدایات کی سفارش کردی گئی، غیر ضروری تقریبات پر مکمل پابندی کی تجویز ہے، میٹرو اور بس سروس بڑھانے کی سفارش ہے،ایل ای ڈی بل بورڈز اور آرائشی لائٹس بند کرنے کا پلان شامل ہے، رات 10 بجے کے بعد اسٹریٹ لائٹس متبادل موڈ پر چلانے کی تجویز، مارکیٹ اوقات کار مزید محدود کرنے کی تجویز ہے۔

  • امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    ایران نے منگل کی علی الصباح اسرائیل کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف حصوں میں ایئر ریڈ سائرن بج اٹھے، جہاں انٹر سیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو روکتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، اسرائیلی فوج نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہےایک حملے میں شمالی ا سرائیل میں واقع میزائل کے ٹکڑے گھروں سے ٹکرانے سے نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ایران کے میزائل حملے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی نظام پر پانچ دن کے لیے حملے روکے جانے کے اعلان کے بعد کیے گئے ہیں، جس کا حوالہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی مفید اور مثبت بات چیت کے طور پر دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں مکمل اور جامع جنگ بندی کے سلسلے میں بہت مثبت اور مفید گفتگو ہوئی ہے اسی بنیاد پر ایران کے توانائی کے نظام پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، ان کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں، جبکہ شیئر مارکیٹس میں اضافہ ہوا۔

    تاہم یہ فوائد منگل کو اس وقت خطرے میں پڑ گئے جب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے،انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں،امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں اور اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    ایران کی ایلیٹ فورس انقلابی گارڈز نے بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی اہداف پر تازہ حملے کر رہے ہیں، اور صدر ٹرمپ کے بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب مغربی میڈیا سے اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کے لیے رواں یا آئندہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہم بیٹھک لگنے کا امکان ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • برٹش ایئرویز کی پرواز  میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

    برٹش ایئرویز کی پرواز میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

    ہانگ کانگ سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 32 میں ایک 60 سالہ خاتون کی دورانِ پرواز موت ہوگئی، تاہم طیارے کو واپس اتارنے کے بجائے مسافروں نے لاش کے ساتھ ساڑھے 13 گھنٹے کا طویل سفر طے کیا۔

    یہ واقعہ ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے کے محض ایک گھنٹے بعد پیش آیا جہاز کے عملے نے خاتون کی موت کے باوجود پرواز کو واپس ہانگ کانگ کرنے یا کسی اور ہوائی اڈے پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ہوا بازی کے قوانین کے تحت کسی مسافر کی موت کو ’میڈیکل ایمرجنسی‘ تصور نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر طیارے کا رخ موڑا جائے یا اسے ہنگامی طور پر اتارا جائے، اسی تکنیکی بنیاد پر پائلٹ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور جہاز کو براہِ راست لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہی لینڈ کروایا۔

    ابتدائی طور پر عملے نے مردہ جسم کو راہداری میں رکھنے کا سوچا، لیکن بعد میں اس خیال کو ترک کر دیا گیا، آخر کار جسم کو کپڑے میں لپیٹ کر جہاز کے پچھلے حصے میں رکھا گیا مسافروں کے مطابق گیلری کا فرش گرم ہونے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میت سے تعفن اٹھنے لگا، جس پر کئی مسافروں نے لندن پہنچ کر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ طیارے میں سوار 331 مسافروں کے لیے یہ سفر کسی اذیت سے کم نہ تھا۔

    جہاز پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بہت افسردہ تھے اور عملہ بھی اس واقعے سے پریشان تھا۔ کئی مسافروں نے پرواز کو واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک مسافر کی موت کو ایمرجنسی نہیں سمجھا جاتا،لندن میں لینڈ کرنے کے بعد پولیس نے مسا فر وں کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور تقریباً 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور تمام مسافروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی۔

    برٹش ایئرویز نے اپنے بیان میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے نے تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ مرحومہ کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ایئرلائن نے عملے کی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔

    انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دوران پرواز موت کی صورت میں مردہ جسم کو عام طور پر باڈی بیگ یا کمبل میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے جہاں ممکن ہو، جسم کو جہاز کے کم حرکت والے حصے میں رکھا جاتا ہے اگر تمام سیٹیں بھری ہوں، تو جسم کو اسی سیٹ پر رکھا جا سکتا ہے جس پر مسافر بیٹھا تھا۔

    نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2013 کی تحقیق کے مطابق دوران پرواز اموات بہت کم ہوتی ہیں، صرف 0.3 فیصد میڈیکل ایمرجنسیز میں موت واقع ہوتی ہے۔

  • انڈونیشیا کا ٹرمپ کے غزہ پیس بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر فیس دینے سے انکار

    انڈونیشیا کا ٹرمپ کے غزہ پیس بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر فیس دینے سے انکار

    انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا نہیں کرے گا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا نے صرف غزہ میں قیامِ امن کے لیے امن فوج فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ان کے مطابق انڈونیشیا کا کردار محدود اور واضح ہے، اور وہ صرف پیس کیپنگ مشنز میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، نہ کہ بھاری مالی ذمہ داری اٹھانے کے لیے-

    صدر نے مزید کہا کہ انڈونیشیا نے کسی بھی قسم کا مالی وعدہ نہیں کیا اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں انہوں نے زور دیا کہ انڈو نیشین فوج غزہ میں صرف امن برقرار رکھنے کے لیے خدمات انجام دے سکتی ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو مطلوبہ تعداد میں اہلکار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق صدر کی اس وضاحت کا مقصد عوامی خدشات کو دور کرنا تھا، کیونکہ ملک میں یہ تشویش پائی جا رہی تھی کہ ایک ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی سے قومی بجٹ پر بڑا بوجھ پڑ سکتا ہے اس سے قبل 3 فروری کو انڈونیشیا کے وزیر خزانہ کی جانب سے عندیہ دیا گیا تھا کہ یہ رقم وزارت دفاع کے بجٹ سے فراہم کی جا سکتی ہے،انڈونیشین میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ میں شمولیت پر صدر کو ملک کے اندر سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے واشنگٹن میں غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں غزہ کی تعمیر نو، ہنگامی امداد اور سکیورٹی استحکام کے لیے ابتدائی طور پر 17 ارب ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے ان میں امریکا نے 10 ارب ڈالر جبکہ یو اے ای، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر 9 ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔

  • اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے-

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکا اور ایران کےدرمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اس حوالے سے انکشاف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونو ں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس کال میں انٹیلیجنس معلومات شیئر کی گئی تھیں، جن کے مطابق خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھی تہران میں ایک مقام پر جمع ہونے والے تھے، جسے ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک یعنی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں موقع قرار دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں نئی معلومات سے پتا چلا کہ یہ ملاقات مقررہ وقت سے پہلے ہفتہ کی صبح منتقل کر دی گئی تھی نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا شاید اس سے بہتر موقع دوبارہ نہ ملے اس فون کال سے قبل ہی ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی منظوری دے چکے تھے، تاہم وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ باقی تھا، بالآخر 27 فروری کو امریکی صدر نے آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا حکم دیا، اور 28 فروری کی صبح ابتدائی حملے کیے گئے، اسی شام ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کردیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس کال پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، بحریہ اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا، جبکہ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کارروائی کے پیچھے انتقامی عنصر موجود تھا، ان کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے اس کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس میں کئی ایرانی رہنما مارے گئے تھے، بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوگیا تھا اور 12 دن بعد اسے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد مزید حملوں کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کا مقصد ایران کی باقی ماندہ صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

    دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جون کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد نئے حملے پر غور شروع ہوا تھا اگرچہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہاں تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جانے لگا۔

    جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بھی بڑے فوجی آپریشن کے کم خطرات کا تاثر دیا اسی ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا تھابعد ازاں امریکا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ عسکری مشاورت میں تیزی آئی، جبکہ فروری میں واشنگٹن میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نےایران کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام کو امریکا کے لیے بھی خطرہ قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 24 فروری کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بعد میں یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔

    اس دوران ٹرمپ کو یہ بھی بریف کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے سے ممکن ہے کہ تہران میں کوئی نئی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو جائے، تاہم سینٹر ل انٹیلیجنس ایجنسی نے اندازہ لگایا تھا کہ خامنہ ای کے بعد سخت گیر قیادت سامنے آئے گی،خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنی ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا،ایرانی پاسداران انقلاب ملک بھر میں گشت کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہے۔

  • پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا  پیٹرول پمپس بند کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ

    پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا پیٹرول پمپس بند کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ

    پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 26مارچ سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ موخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے چئیرمین عبدالسمیع خان نے کہا ہے کہ ملکی حالات کے پیش نظر فی الحال پیٹرول پمپس کو بند نہیں کررہے ہیں پیٹرولیم ڈیلرز کی جنرل باڈی اجلاس میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز نے مارجن میں اضافے کے لیے 26مارچ سے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کیا تھا عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپس کے لیے موجودہ مارجن پر کام کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

    قبل ازیں حکومت پاکستان نے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے،یہ فیصلہ ہائی آکٹین ایندھن پر پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر دو سو روپے اضافے کے بعد کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق کسی بھی سرکاری ادارے کو سرکاری خرچ پر ہائی آکٹین ایندھن استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، اگر کسی صورت اس ایندھن کا استعمال ناگزیر ہو تو اس کی ادائیگی متعلقہ افسر یا صارف کو ذاتی طور پر کرنا ہو گی۔

  • اسرائیلی صدر ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے

    اسرائیلی صدر ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے

    اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ہرزوگ شمالی اسرائیل میں موجود تھے جب پہاڑی علاقے میں ایک میزائل گرا، اور اسی دوران صدر شمونہ کریات میں نیوز کانفرنس کر رہے تھے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کی 78 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران تل ابیب، ایلات اور ڈیمونا پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے حملوں میں جدید میزائلز جیسے عماد اور قدر استعمال کیے، اور جدید ڈرونز کے ذریعے دشمن کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، یہ حملے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل-ایران تنازع کی ایک اور تازہ کڑی ہیں۔

  • نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات

    نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات کردیے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے نیو یارک، نیو جرسی اور اٹلانٹا کے ائیرپورٹس پر آئس اہلکار تعینات کردیے جو گرفتاریاں بھی کریں گےائیرپورٹس پرتعینات آئس اہلکار ہجوم کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں گے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے امریکی ائیرپورٹس پر آئس اہلکاروں کی تعیناتی امریکی صدر کا خوفناک آئیڈیا قراردیا،انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ائیرپورٹس کو زیادہ محفوظ نہیں بنائے گا کیونکہ جہاں آئس اہلکار جاتے ہیں وہاں پریشانی آتی ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز،انڈیکس بلندیوں پر

    انہوں نے اپنے بیان میں خاص طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایئرپورٹس کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی تقریباً 5 ہفتوں سے نئی فنڈنگ سے محروم ہے، جس کے باعث جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن جاری ہے اس صورت حال میں ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے عملے کی کمی اور ایئرپورٹس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، ریپبلکنز نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی فنڈنگ بحال کرنے پر زور دیا ہے جب کہ ڈیموکریٹس ٹی ایس اے جیسے اداروں کے لیے علیحدہ فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جس میں امیگریشن آپریشنز شامل نہ ہوں۔

    مودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کے مفاد کی بجائے ’اسرا ئیل نوازی‘شامل

    دریں اثنا ایلون مسلک نے پیشکش کی ہے کہ وہ اس تعطل کے دوران ٹی ایس اے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، رپورٹس کے مطابق امریکا کے بڑے ایئرپورٹس، جن میں ہیوسٹن، اٹلانٹا، نیو اورلینز اور فلاڈیلفیا شامل ہیں، شدید تاخیر کا شکار ہیں، جہاں بعض مقامات پر سیکیورٹی چیک کے لیے انتظار کا دورانیہ تین گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے۔