Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بجٹ میں متعدد اشیاء پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان

    بجٹ میں متعدد اشیاء پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان

    وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کو دی گئی ٹیکس مراعات اور رعایتی سیلز ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کیے جانے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں رعایتی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کیا جا سکتا ہے۔

    نجی خبررساں ادارے نےذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات میں اضافے کے لیے نئی مالیاتی اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے اسی سلسلے میں آٹھویں شیڈول کے تحت حاصل مختلف ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہےدرآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو حاصل ٹیکس مراعات برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ بھی بجٹ میں متوقع ہے۔

    ذرائع کے مطابق زرعی شعبے کے حوالے سے ٹریکٹرز اور ڈی اے پی کھاد پر دی گئی ٹیکس رعایتوں کو کم یا مکمل طور پر ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں اسی طرح پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہےادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کا امکان ہے، جبکہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز کو حاصل موجودہ ٹیکس سہولت واپس لیے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہےاس کے علاوہ اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خور و نوش پر دی گئی ٹیکس رعایتیں کم یا ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ترجیحی ٹیکس مراعات کے بجائے یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے یہ اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس استثنیٰ اور رعایتوں میں کمی کی پالیسی کا حصہ ہو سکتے ہیں، اگر مجوزہ اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا تو متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس پالیسی اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس مراعات کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • 5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں یہ انکشاف سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

    اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔

    اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلوما ت فراہم کرتا ہے اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔

    ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیو ں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔

    تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے منقطع نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ کیے گئے متن اور تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    لبنانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی مفادات یا استعمال ہونے والے مقامات کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر اسرائیل نے بیروت یا لبنان کے کسی حصے پر حملہ کیا تو ایران سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں پاکستان، سعودی عرب، فرانس، ترکی، قطر اور مصر شامل ہیں ان رابطوں میں خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کی گئی جبکہ جاپان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ خطے میں کشیدگی موجود ہے، تاہم سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کی گنجائش اب بھی برقرار ہے۔

  • ممبئی اورلکھنو  ایئرپورٹ پر حجاج کا سامان چوری

    ممبئی اورلکھنو ایئرپورٹ پر حجاج کا سامان چوری

    ممبئی اور لکھنو میں واقع ایئرپورٹس پر حج کی سعادت حاصل کر کے واپس آنے والے متعدد مسافروں نے اپنے سامان سے قیمتی اشیاء غائب ہونے کا انکشاف کیا ہے-

    بھارت میں حج کی سعادت حاصل کر کے واپس آنے والے عازمینِ حج کو ممبئی ایئرپورٹ پر شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کا سامان تاحال انہیں فراہم نہیں کیا جا سکا عازمینِ حج نے روانگی سے تقریباً 48 گھنٹے قبل اپنا سامان مکہ مکرمہ میں متعلقہ حکام کے حوالے کیا تھا، تاہم ممبئی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے باوجود سامان حجاج کرام کے سپرد نہیں کیا گیا اس صورتحال کے باعث عازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ایئرپورٹ پر اپنے سامان کے انتظار میں موجود ہیں۔

    متاثرہ حجاج نےایئرپورٹ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتےہوئےفوری طور پر سامان کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے جبکہ صارفین کی جانب سے بھارتی ایئرلائنز پر سخت تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

    جبکہ گزشتہ روز بھارتی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں واقع ایئرپورٹ پر حج کی سعادت حاصل کر کے واپس آنے والے متعدد مسافروں نے اپنے سامان سے قیمتی اشیاء غائب ہونے کا انشاف کیا تھا ،ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے سامان سے 5 چاندی کی انگوٹھیاں، 6 پرفیوم، دو سو نے کی بالیاں، 5 برقعے اور بچوں کے کھلونے غائب ہیں اور تالا کھول کر سب نکالا گیا ہے،ایک اور مسافر نے الزام لگایا کہ ان کے سامان کا لاک ٹوٹا ہوا تھا جبکہ بیگ سے پرفیوم، جائے نماز، حجاب اور دیگر ضروری اشیاء غائب تھیں۔

  • اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے-

    اطلاعات کے مطابق نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر کیے گئے چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

    فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھیلوں کے عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ایسوسی ایشن نے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

  • پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد مما لک شامل تھے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کے ساتھ بھی اہم رابطے ہوئے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکر ات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقا ت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا،جبکہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہےاجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔

    مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جس کا دارالحکومت القدس ہو، اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے مطابق قرار دیا گیا۔

  • بلوچستان میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر فروخت ہونے لگا

    بلوچستان میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر فروخت ہونے لگا

    بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت شدت اختیار کر گئی، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئیں۔

    کوئٹہ میں پیٹرول اورڈیزل کی قلت کے باعث مختلف علاقوں میں ابھی بھی کچھ پیٹرول پمپس بند پڑے ہیں اور جوپیٹرول پمپوں کھلے ہیں ان پرشہریوں کارش بڑھ گیا ہے اور لمبی لمبی قطار یں نظر آرہی ہیں جس سے شہری ذہنی کو فت کا شکار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ کئی شہروں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر بھی منفی اثرا ت مرتب ہونے کا خدشہ ہےشہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خور ی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے،دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں-

    صدرپیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن قیام الدین آغا کے مطابق شکار پور سے پیٹرول کی فراہمی میں اضافہ کردیا گیا ہے ایک دو روز میں صورتحال معمول پر آئے گی،جبکہ ڈی سی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی سپلائی بند ہونے سے پیٹرول پمپس پر رش بڑھ گیا ہے ، آج کوئٹہ کے پیٹرول پمپوں پر 6 لاکھ لیٹر پیٹرول سپلائی کیا گیا ہے۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کے باعث 100 انڈیکس ایک بار پھر ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا، 100 انڈیکس میں 1004 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعدانڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 195 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا گزشتہ روز کاروباری دن کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار 191 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ برقرار ہے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں 2 پیسے کی کمی کے بعد ڈالر کی قیمت 278 روپے 43 پیسے ہو گئی ہے۔

  • بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ اب خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند ی کی جانب راغب کر کے خودکش حملوں اور دیگر دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک دہشتگردوں کو لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں حالیہ برسوں میں دہشتگرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    مارچ 2026 میں سیکیورٹی اداروں نے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کے مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی تحقیقا ت کے مطابق لائبہ جولائی 2025 میں کالعدم بی ایل اے میں شامل ہوئی تھی اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما کے نیٹ ورک کے ذر یعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا گیا اور بعد ازاں بی ایل اے کے حوالے کر دیا گیا لائبہ کو نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کیس اس رجحان کی ایک اہم مثال ہے جس میں خواتین کو دہشت گرد نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔

    ایک اور کیس میں رحیمہ بی بی کے بیان نے دہشتگرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے بتایا گیا حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ مبینہ تعاون بھی قرار دیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ گٹھ جوڑ دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کے مؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان کے راستے موجود سہولت کار مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشتگردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔

    کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ قریبی گھروں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا سیکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مختلف نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاون گروہوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود اب سب سے بڑا چیلنج صرف دہشتگرد حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان بھرتی نیٹ ورکس کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو انتہا پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں، آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ، نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، اور دہشت گرد بھرتی نیٹ ورکس کا خاتمہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دہشتگردی کے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی مثال سمجھے جا رہے ہیں کہ کس طرح سرحد پار تربیتی نیٹ ورکس، مقامی سہولت کار اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعاون دہشتگردی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ، کثیر جہتی اور طویل المدتی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی اور سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔