Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • فرخ کھوکھر کا  جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ

    فرخ کھوکھر کا جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ

    سماجی شخصیت فرخ کھوکھر نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا-

    باخبر ذرائع کے مطابق فرخ کھوکھر 18 جولائی کو ڈیرہ تاجی کھوکھر میں مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں جے یوآئی (ف) میں شامل ہوں گے، فرخ کھوکھر جے یو آئی میں شمولیت کے بعد باقاعدہ اسلام آباد سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں گے،جبکہ باقاعدہ شمولیت کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔

    فرخ کھوکھر کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ 18 جولائی بروز جمعہ مولانا فضل الرحمٰن کی موجودگی میں ڈیرہ تاجی خان کھوکھر پر شام 4 بجے پریس کانفرنس کی جائے گی، جس میں وہ باقاعدہ جمعیت علمائے اسلام میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے۔

    کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    فرخ خان کھوکھر نے مذہبی شخصیات اور بالخصوص قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ ختمِ نبوت کے ایشو پر جرات و بہادری سے کردار ادا کرنے پر جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ فرخ کھوکھر تاجی خان کھوکھر مرحوم کے صاحبزادے،سابق ڈپٹی اسپیکر نواز کھوکھر کے بھتیجے اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے چچازاد بھائی ہیں، امیر جے یوآئی اسلام آباد پیر مفتی اویس عزیز بھی ملاقات میں موجود ہوں گے۔

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

  • کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    کردستان ورکرز پارٹی کا سرینڈر، ہتھیار جلا ڈال

    کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے ترکیہ کے خلاف اپنے چار دہائیوں پر مشتمل مسلح مزاحمتی دور کا تاریخی اختتام کرتے ہوئے اسلحے سے دستبرداری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    عراق کے شمالی کرد خطے کے شہر سلیمانیہ میں جمعے کے روز ہونے والی ایک علامتی تقریب میں ”پی کے کے“ کے 20 سے 30 جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار تلف کیے، مگر انہیں کسی حکومت یا فورس کے حوالے نہیں کیا گیا ،یہ پیش رفت پی کے کے کی جانب سے مئی میں دیئے گئے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے مسلح جدوجہد ترک کرنے کا عندیہ دیا تھا پی کے کے کو ترکی، یورپی یونین اور امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے اپنے ملک کے پاؤں پر پڑی خون آلود بیڑیاں اتار پھینکی ہیں،اس عمل سے نہ صرف ترکی بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

    سلیمانیہ میں ہونے والی تقریب سخت سیکیورٹی میں منعقد کی گئی جس میں پی کے کے جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار خود تلف کیے۔ یہ عمل پورے موسمِ گرما میں مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جس کی نگرانی ترکی، عراق اور کرد علاقائی حکومت مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔

    پی کے کے کے قیدی سربراہ عبداللہ اوجلان، جو 1999 سے ترکی کے جزیرہ امرالی میں قید ہیں، نے جون میں ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں اس عمل کو ”مسلح جدوجہد سے جمہوری سیاست اور قانون کی جانب رضاکارانہ منتقلی“ قرار دیا اور اسے ”تاریخی کامیابی“ قرار دیا۔

    برازیل کا بھارت سے آکاش میزائل سسٹم خریدنے سے انکار

    الجزیرہ کے مطابق یہ صرف آغاز ہے، ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے یہ اقدام ترک صدر اردوان کی منظوری سے ہوا اور اب وہ جماعتیں جو پہلے اس عمل کو غداری کہتی تھیں، اب اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس میں نیشنل موومنٹ پارٹی (MHP) اور مرکزی اپوزیشن جماعت CHP بھی شامل ہیں۔

  • بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

    بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کیلئے کی گئی

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی واپسی کی بات صرف تحریک کو مرچ مصالحہ لگانے کے لیے کی گئی۔

    نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ پارٹی اس وقت شدید اختلافات اور تقسیم کا شکار ہے، موجودہ حالات میں تحریک انصاف کا کامیاب ہونا ممکن نہیں، حقیقت میں نہ وہ آئیں گے اورنہ یہ فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے کیا ہے، پارٹی اجلاسوں میں بات گالم گلوچ سے شروع ہو کرگالم گلوچ پر ختم ہوتی ہے،اگرموجودہ قیادت احتجاج میں کامیاب ہوئی تو وہ معذرت کریں گے اورناکامی کی صورت میں وہ خود قیادت سنبھال کرعوام کو نکالنے کا مظاہرہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اگرہمارے اپنے پاؤں نہ کاٹتے تو ہم بانی پی ٹی آئی کو مئی 2024 میں رہا کروا چکے ہوتے، علیمہ خان نے مجھے میڈیا پرغدارکہا اور پارٹی سے نکلوایا، خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کیلئے منڈی لگی ہوئی ہے اور صوبے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہیں۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان کیا چاہتے ہیں، جو بھی جیل میں مل کر آتا ہے وہ مختلف بات کرتاہے ، میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر تحریک کی قیادت کر سکیں گے اور اس سے کوئی فرق پڑے گا تحریک کی تو ہر وقت ضرورت ہو تی ہے ، جو ہمارے ملک کے حالات ہیں جہاں کوئی نظام نہیں چل رہا، ملکی ترقی نہیں ہو رہی ، ہر پاکستانی ہر سال غریب ہوتا جارہاہے ، ہماری کوئی پالیسی اور ڈائریکشن نہیں ہے ، ہر قسم کے مسائل ہیں، پی ٹی آئی کی تحریک کا مجھے نہیں پتا کہ مقصد کیاہے ، ماضی میں ان کا مقصد انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عمرا ن خان کو جیل سے نکالنا ہے ، اگر یہ مقصد ہے تو یہ تحریک کامیاب نہیں ہو گی، آپ ملک کی بات کریں ۔

  • برازیل کا بھارت سے آکاش میزائل سسٹم  خریدنے سے انکار

    برازیل کا بھارت سے آکاش میزائل سسٹم خریدنے سے انکار

    بھارت کی دفاعی صنعت کو بڑا دھچکا،برازیل نے بھارت کے تیار کردہ آکاش میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کے مذاکرات منقطع کردیئے ہیں اور اس کے بجائے ایک یورپی میزائل نظام کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے-

    اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برازیل نے یہ فیصلہ آکاش میزائل کی کم رینج اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے کیا ہے، برازیل نے اس کی بجائے اٹلی کے تیار کردہ ایک جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کو منتخب کیا ہے،یہ فیصلہ بھارت کےلیے ایک بڑا سفارتی اور دفاعی دھچکا ہے، کیونکہ آکاش سسٹم کو بھارتی دفاعی صنعت کا اہم برآمدی پروڈکٹ سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برازیل نے اکاش سسٹم کو اس کی کم رینج (25-30 کلو میٹر) اور جدید تقاضوں جیسے ڈیٹا لنک اور آئی ایف ایف (دشمن اور دوست کی شناخت) کی کمی کی وجہ سے مسترد کیا۔ ٹرائلز میں اس کی درستگی میں کمی دیکھی گئی، جو اسے جدید خطرات جیسے تیز طیاروں اور ڈرونز کے لیے ناکافی بناتی ہے۔

    امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    برازیلی فضائیہ نے MBDA نامی یورپی کمپنی کے CAMM-ER میزائل سسٹم کو ترجیح دی ہے، جو 45 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے مقابلے میں بھارتی آکاش میزائل کی رینج صرف 25 سے 30 کلومیٹر تک محدود ہے برازیلی حکام کو خدشہ تھا کہ بھارت کی جانب سے پیش کیے جانے والے نظام میں جدید ترین آکاش-NG ورژن شامل نہیں ہے، جو ابھی تک تیاری کے مراحل میں ہے۔

    یورپی کمپنی MBDA کا پیش کردہ Enhanced Modular Air Defence Solutions (EMADS) نظام کئی جدید خصوصیات سے لیس ہے، جن میں 360 ڈگری دفاعی صلاحیت، سافٹ ورٹیکل لانچ ٹیکنالوجی اور جدید ریڈار سسٹم شامل ہیں یہ نظام پہلے ہی برطانیہ، اٹلی اور پولینڈ میں تعینات کیا جاچکا ہے اس معاہدے کی مالیت تقریباً 920 ملین امریکی ڈالر (5 ارب برازیلین ریئلز) ہو سکتی ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر کی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر دوبارہ حملے کی دھمکی

    واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور برازیلی صدر لولا ڈی سلوا کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا تھادونوں رہنماؤں نے سائبر سیکیورٹی، خلائی تحقیق اور دفاعی شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر غور کیا تھاتاہم آکاش میزائل کے معاہدے پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملک اپنے دفاعی سازوسامان کی برآمد کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے بھارت آکاش میزائل سسٹم کو ویتنام، فلپائن اور ارجنٹینا سمیت دیگر ممالک کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی تصدیق، تباہی کی سیٹلائٹ تصویر بھی سامنے آگئی

  • امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    امریکی عدالت کا نائن الیون کے مرکزی مجرم خالد شیخ کےساتھ پلی بارگین معاہدہ منسوخ

    امریکی اپیل کورٹ نے نائن الیون کے مرکزی مشتبہ مجرم خالد شیخ محمد کے ساتھ ہونے والے پلی بارگین معاہدے کو منسوخ کر دیا-

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت خالد شیخ محمد کو سزائے موت سے بچایا جانا تھا اور اس کے ذریعے ان کے کیس سے جڑی طویل قانونی کارروائی کو انجام تک پہنچایا جا سکتا تھایہ معاہدہ 2001 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے کچھ لواحقین میں غصے کا باعث بنا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اسے گزشتہ سال منسوخ کر دیا تھالائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ متاثرین کے خاندانوں اور امریکی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات کی کارروائی دیکھی جائے۔

    خالد شیخ محمد کے ساتھ ساتھ 2 دیگر مبینہ ساتھیوں (ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوساوی) کے ساتھ پلی بارگین معاہدے گزشتہ سال جولائی میں طے پائے تھے یہ فیصلہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ مقدمات برسوں کی پیشگی قانونی چالوں کے بعد حل کی طرف بڑھ رہے ہوں، جب کہ ملزمان اب بھی کیوبا میں گوانتانامو بے کی فوجی جیل میں قید تھے۔

    لیکن لائیڈ آسٹن نے معاہدے کے اعلان کے 2 دن بعد انہیں منسوخ کر دیا اور کہا کہ اس اہم معاملے کا فیصلہ ان کے اختیار میں ہونا چاہیےمتاثرہ خاندانوں، ہمارے فوجی جوانوں اور امریکی عوام کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ ان مقدمات میں فوجی کمیشن کے ٹرائل ہوتے دیکھ سکیں۔

    خالد شیخ محمد کون ہیں؟

    خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوئے اُن کے والد مقامی مسجد کے پیش امام تھے اور اُن کا تعلق پاکستان سے تھا خالد نے 16 سال کی عمر میں اسلامی تنظیم ’اخوان المسلمون‘ کی رکنیت حاصل کی تھی سنہ 1983 میں سیکنڈری سکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انھوں نے ’نارتھ کیرولائنا ٹیکنیکل یونیورسٹی‘ میں داخلہ لیا اور وہاں میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے لگے یہاں اُن کی ملاقات عرب طلبا کا ایک گروپ سے ہوئی جو یہاں پہلے سے ہی زیرِ تعلیم تھے۔

    اس گروپ کے افراد کی مذہبی معاملات میں دلچسپی کے باعث انھیں یونیورسٹی کے باقی طلبا ’ملاز‘ کہتے تھے دسمبر 1986 میں خالد نے مکینیکل انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کر لی مگر اس دوران وہ شدت پسندی سے متعلقہ معاملات میں کافی آگے جا چکے تھےسنہ 1987 میں خالد شیخ محمد اسامہ بن لادن کے ساتھ ملے اور افغانستان میں سوویت فوجوں کے خلاف ’جنگِ جاجی‘ میں شریک ہوئے۔

    نائن الیون حملوں کے سہولت کار اور سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو پر حملہ کرنے والے رمزی یوسف بھی خالد شیخ محمد کے بھتیجے تھے۔ رمزی یوسف نے سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اگرچہ رمزی کا مشن ناکام ہوا لیکن اس کا شدت پسندوں کی اُس وقت کی اُبھرتی ہوئی نسل پر گہرا اثر پڑا تھا۔

    ٹام میک ملن اپنی کتاب ’فلائٹ 93: دی سٹوری آف دی آفٹرمیتھ اینڈ دی لیگیسی آف امریکن کریج آن 9/11‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 1993 کے حملے نے انتہا پسندوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی تھی کہ امریکی سرزمین پر حملہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔‘

    افغانستان میں تربیتی کیمپ میں اپنے تجربے اور رابطوں کی بدولت رمزی یوسف جعلی پاسپورٹ کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کی ایک ٹیم بنائی تھی اور بموں سے لدی کرائے کی وین ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نارتھ ٹاور کے گیراج میں بھجوا دی۔

    اس دھماکے میں چھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے عمارت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا یوسف نے سوچا تھا لیکن وہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی سڑکوں پر دہشت پھیلانے میں کامیاب رہے تھےیہیں سے دنیا میں انتہا پسندی کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور اس دوران رمزی یوسف امریکہ سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

    ولید محمد بن عطاش

    ولید محمد صالح مبارک بن عطاش بھی القاعدہ کے اہم رکن ہیں اور ان پر بھی نائن الیون کے حملے کے الزامات کے ساتھ ساتھ پر دہشت گردی کی سازش، شہریوں پر حملہ کرنے، جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قتل اور املاک کو تباہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ ایک یمنی شہری ہیں اور ان پر ہائی جیکنگ، دہشت گردی کرنے اور اس کی مالی معاونت کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی حکومت نے چار دیگر افراد سمیت ولید بن عطاش پر 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

    بن عطاش پر خاص طور پر الزام ہے کہ اسامہ بن لادن نے انھیں امریکی ویزا حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ امریکہ کا سفر کر سکیں اور پائلٹ کی تربیت حاصل کر سکیں تاکہ وہ بالآخر ہائی جیکنگ میں حصہ لے سکیں۔

    ان پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے 1999 میں امریکی ویزے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے القاعدہ کے لیے تحقیق جاری رکھی اور نائن الیون کے ہائی جیکرز کے لیے سفر کی سہولت فراہم کیاگرچہ ولید بن عطاش کو مبینہ طور پر اپریل 2003 میں گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا گیا تھا لیکن ستمبر 2006 تک اسے گوانتانامو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

    مصطفیٰ احمد الہوساوی

    مصطفیٰ احمد آدم الہوساوی ایک عرب شہری ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کے لیے ایک اہم مالی سہولت کار کے طور پر کام کیا۔

    ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کےمطابق امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مصطفیٰ الہوساوی نے نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے لیے فلائٹ سکولوں کی تحقیق میں مدد کی اور کئی ہائی جیکروں کے بینک اکاؤنٹس کا انتظام کیا اگرچہ الہوساوی کو مبینہ طور پر مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے امریکی حراست میں منتقل کر دیا گیا تھا، لیکن اسے ستمبر 2006 تک گوانتانامو منتقل نہیں کیا گیا تھا۔

  • محسن نقوی کی  بحرینی ہم منصب سے ملاقات

    محسن نقوی کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے بحرینی ہم منصب سے ملاقات کی-

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی ایک روزہ دورے پر بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچ گئے جہاں بحرینی وزیرداخلہ نے ان کا استقبال کیا، منامہ فورٹ آمد پر وزیرداخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،وزیرداخلہ کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، سیکیورٹی تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئےتعاون بڑھانے پربھی تبادلہ خیال کیا گیا، علاقائی و عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور مشترکہ سیکیورٹی کمیٹی کے کام کو مؤثر بنانے پر گفتگو کی گئی۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا قافلہ لاہور روانہ

    بحرینی وزیر داخلہ نے سیکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون اور ہم آہنگی کی تعریف کی، شیخ راشد بن عبداللہ الخلفیہ نے کہا کہ دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، دوسری جانب محسن نقوی نے کہا کہ انسداد منشیات و انسداد انسانی اسمگلنگ کیلئے تعاون بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔

    محسن نقوی نے بحرینی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

  • ایرانی سپریم لیڈر کی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر دوبارہ حملے کی دھمکی

    ایرانی سپریم لیڈر کی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر دوبارہ حملے کی دھمکی

    امریکا کی جانب حالیہ اقدامات اور ایران پر دباؤ کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ ماہ قطر میں امریکی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کا حوالی دیتے ہوئے کہا کہ العدید اڈے پر حملہ معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ یہ بہت بڑا کارنامہ تھا،ہم نے پہلے امریکی اڈے پر حملہ کر کے ان کے چہرے پر زوردار طمانچہ رسید کیا تھا، اور اگر واشنگٹن نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو مزید کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں، ایران کے پاس ’اہم امریکی مراکز‘ تک رسائی ہے اور انہیں ہدف بنانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

    مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پینٹاگون نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کی 23 جون کو ایران کی جانب سے کیے گئے حملے میں ایک بیلسٹک میزائل العدید اڈے پر کمیونیکیشن ڈوم پر گرا تھا، جس کی سیٹلائٹ تصویر بھی اب سامنے آ چکی ہے،ایران کی جانب سے العدید اڈے پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد امریکا کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی جانب سے حملے سے آگاہ تھا، امریکی صدر ٹرمپ نے حملے کو ’کمزور ریسپانس‘ قرار دیا تھا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی یہ تازہ دھمکی خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا اشارہ دے رہی ہے، اور اگر صورتحال مزید بگڑی تو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • مسلم لیگ (ن)  عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

    مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہمت وحوصلہ کریں توامید کی روشنی یقین کا تمتماتا سورج بن جاتی ہے،مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے-

    وزیراعلیٰ پنجاب نے امید کے عالمی دن پر امید افزاء پیغام میں کہا کہ امید ایسا جذبہ ہے جو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے مشکلات اور چیلنجز کے باوجود امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، امید ہے کہ ان شا اللہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے لئے جلد آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے پاکستانی قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کے لےی ہم دن رات کوشش کررہے ہیں امید ہے کہ پنجاب کے عوام کو اب صحت کی سہولتیں ملے گی امید ہے کہ پنجاب کے ہر بچے کو لیپ ٹاپ،ہونہار اسکالر شپ اور بہترین تعلیم ملے گی امید ہے کہ پنجاب میں ہر بے گھر کواپنی چھت کا سکھ ملے گا امید ہے کہ پنجاب کا ہرکسان لہلہاتی فصلیں دیکھ کر خوش اورخوشحال ہوگا۔

    غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ امید ہمیں مایوسی کے اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن تلاش کرنے کی آس دلاتی ہے عوام کو بھی یہی امید تھی کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) آئے گی تو ہی لیپ ٹاپ، اسکالر شپ،فری دوائیں ملیں گی۔

    قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی تصدیق، تباہی کی سیٹلائٹ تصویر بھی سامنے آگئی

  • غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ

    غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ انروا چیف نے کہا ہے کہ غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا ہے اور ہر3 میں سے ایک شخص بغیر کچھ کھائے دن گزارتا ہے۔

    فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق انروا‘ کے سربراہ نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں، ایک طرف موت ہے تو دوسری جانب بھوک، ہمارے اصول اور اقدار دفن ہو رہے ہیں، مئی سے اب تک تقریباً 800 فلسطینی امداد کی تلاش میں مارے جا چکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    علاوہ ازیں غزہ کی وزارت اوقاف کے مطابق خان یونس کے مغرب کے علاقے المواسی میں اسرائیلی فوج نے قبریں اُکھاڑ کر لاشیں نکالیں جسے وزارت نے "مقدسات کی کھلی پامالی” اور "مرنے والوں کے تقدس پر صریح حملہ” قرار دیا۔

    وزارت نے کہا کہ اسرائیلی دراندازی صرف زندہ فلسطینیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب مردوں کی قبریں بھی دشمنی کی زد میں آ چکی ہیں، ترک قبرستان کی مسماری کو وزارت نے انسانی وقار اور مذہبی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی تعاون کا معاہدہ

    وزارت اوقاف کے مطابق غزہ میں موجود 60 میں سے کم از کم دو تہائی قبرستان یا تو مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں یا شدید نقصان پہنچا ہےبین الاقوامی قوانین کے مطابق قبرستانوں کا تقدس برقرار رکھنا لازم ہے، تاہم اسرائیلی اقدامات عالمی انسانی حقوق کے اصولوں اور جنگی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی سمجھے جا رہے ہیں۔

  • قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی تصدیق، تباہی کی سیٹلائٹ تصویر بھی سامنے آگئی

    قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی تصدیق، تباہی کی سیٹلائٹ تصویر بھی سامنے آگئی

    امریکی دفاعی محکمے پینٹاگون نے بالآخر قطر میں واقع العدید ائیر بیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کی تصدیق کردی ہے،حملے سے پہلے اور بعد کی جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں اڈے کے مواصلاتی ڈوم کو پہنچنے والی شدید تباہی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ایران نے 23 جون کو العدید اڈے پر حملہ کیا تھا جس میں امریکا کے مواصلاتی نظام کے اہم حصے کو نشانہ بنایا گیا۔ پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ ایرانی میزائل نے خاص طور پر مواصلات کو محفوظ بنانے والے ڈوم کو تباہ کیا، جو امریکی فوجی آپریشنز کے لیے انتہائی اہم تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ایران نے حملے سے قبل اشارہ دے دیا تھا، جس کی وجہ سے ہمیں اڈے کو جزوی طور پر خالی کرنے کا موقع ملا۔‘‘ تاہم، قطر کی حکومت نے اب تک اس واقعے پر کوئی رسمی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

    بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو گئی اس حملے کو ایران کی طرف سے امریکا کو جوابی کارروائی کا واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے سے قبل ڈوم عمارت مکمل طور پر صحیح سلامت تھی، جبکہ حملے کے بعد اس کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اندرونی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ حملہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کی مہارت کا مظہر ہے، جس میں انہوں نے انتہائی درستگی سے اہم امریکی فوجی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔