Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی تعاون کا معاہدہ

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی تعاون کا معاہدہ

    باکو: پاکستان اور آذربائیجان نے قانونی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آذربائیجان کے شہر باکو میں آذربائیجان کے وزیر اعظم علی ہیدیات اوغلو اسدوف سے ملاقات کی، ملاقات میں تعاون کے مفاہمتی معاہدے میں قانونی شعبوں میں مشترکہ کوششوں، ادارہ جاتی صلاحیت‌ سازی اور تجربات کے تبادلے کے لیے جامع فریم ورک وضع کیا گیا۔

    وزیرِ انصاف فرید طوراب اوغلو احمدوف نے چیف جسٹس سپریم کورٹ انعام اعتماد اوغلو کریموف سے بھی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں میں قانونی اصلاحات اور عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    پاکستان اور آذربائیجان کے فریقین نے شعبہ قانون و انصاف میں مضبوط اور دیرپا اشتراکِ عمل کا عزم دہرایا، معاہدے کو پاکستان کے بین‌الاقوامی قانونی شراکتوں کے فروغ اور ملکی قانونی ڈھانچے کی جدید کاری کی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

    محسن نقوی کی یو اے ای کے وزیر داخلہ سے ملاقات

  • گائے کے کاٹنے سے کسان میں ریبیز کی علامت ظاہر

    گائے کے کاٹنے سے کسان میں ریبیز کی علامت ظاہر

    کراچی میں گائے سے منتقل ہونے والے ریبیز کا اپنی نوعیت کا پہلا کیس رپورٹ ہوا-

    بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں گائے سے منتقل ہونے والے ریبیز کے پہلے کیس کی رپورٹ دی گئی ہے، جس میں ایک نوجوان کسان متاثر ہوا، اس کی جان 2024 میں کراچی کے انڈس ہسپتال میں بروقت طبی امداد سے بچائی گئی یہ تحقیق ’ آ ریبڈ کائو بائٹس دا ہینڈ، ڈیٹ فیڈز اٹ’ کے عنوان سے انٹرنیشنل جرنل آف انفیکشیس ڈیزیزز (آئی جی آئی ڈی) میں شائع ہوئی ہے۔

    تحقیق کے مطابق 18 سالہ کسان کو اس وقت گائے نے ہاتھ اور انگوٹھے پر کاٹ لیا جب وہ اسے چارہ دے رہا تھا، خوش قسمتی سے، اسے گائے سے ریبیز منتقل ہونے کے خطرے کا علم تھا، اس نے اسی دن ہسپتال کے ریبیز پریوینشن اینڈ ٹریننگ سینٹر (آر پی ٹی سی) سے رجوع کیا، زخم شدید نوعیت کے تھے، جس کے لیے عام طور پر ریبیز امیونوگلوبیولن (آر آئی جی) اور ویکسین دونوں دی جاتی ہیں، لیکن چونکہ کسان کو 4 سال قبل ایک کتے کے کاٹنے کے بعد مکمل طور پر ویکسین دی گئی تھی، اس لیے آر آئی جی کو غیر ضروری قرار دیا گیا، اور صرف ویکسین کی خوراکیں دی گئیں، جس سے اس کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہو گئیں، ہسپتال سے ڈسچارج کے وقت اسے ہدایت کی گئی کہ گائے کو مشاہدے میں رکھے اور اس کے رویے میں کسی بھی تبدیلی کی اطلاع دے، 3 ہفتے بعد کسان نے اطلاع دی کہ گائے کا رویہ عجیب ہو گیا ہے، اور وہ چند دن بعد مر گئی۔

    تحقیق میں لکھا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ایک ممکنہ ریبیز کی شکار گائے کی رپورٹ موصول ہوئی، جس کے بعد ایک ٹیم نے گائے کا سر تحقیق کے لیے کاٹ کر حاصل کیا، اور باقی جسم کو گہرائی میں دفن کر دیا گیا، دماغی ٹشو پر کیے گئے ریورس ٹرانسکرپشن-پولی میریز چین ری ایکشن (آر ٹی-پی سی آر) ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا،دیہاتیوں نے مزید تصدیق کی کہ اس گائے کو کچھ دن پہلے ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا، لیکن وہ یہ تصدیق نہ کر سکے کہ وہی کتا دوسرے جانوروں یا انسانوں کو بھی کاٹ چکا ہے یا نہیں۔

    ریبیز ایک قدیم وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے، جو عموماً کسی متاثرہ جانور، خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، اور بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ 100 فیصد مہلک ہےہر سال دنیا بھر میں تقریباً 60 ہزار افراد ریبیز سے ہلاک ہوتے ہیں، لیکن غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوتے، زیادہ تر ہلاکتیں دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں جہاں لوگ اکثر قسمت پر بھروسہ کرتے ہوئے متبادل علاج پر انحصار کرتے ہیں، لیکن جانبر نہیں ہو پاتے۔

    ڈاکٹر نسیم صلاح الدین، جو تحقیق کی سربراہ اور انڈس ہسپتال کے انفیکشن ڈیزیز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ بیووائن ریبیز (گائے میں ریبیز) کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے، دیہات میں پہلے بھی مویشیوں، بھینسوں اور گدھوں میں ریبیز کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن میرے علم کے مطابق یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک شخص کو ریبیز زدہ گائے نے کاٹا ہو۔

    تحقیق کے مطابق، پاکستان میں لائیو اسٹاک کا زرعی شعبے کی کل قدر میں 37.5 فیصد اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 9.4 فیصد حصہ ہے، دیہی گھرانوں کے لیے زراعت اور مویشی پالنا بقا کا ذریعہ ہے، تقریباً 3.5 کروڑ افراد مویشی پالنے سے منسلک ہیں اور اپنی آمدنی کا 40 فیصد اسی شعبے سے حاصل کرتے ہیں۔

    تحقیق میں مزید کہا گیا کہ یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں بیووائن ریبیز انسانوں کو متاثر کر رہی ہے، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، بہت سے جانوروں میں ریبیز کے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے، جنہیں مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے، انسانوں اور جانوروں کے لیے ریبیز ویکسین کی فراہمی حکومت کی مدد سے یقینی بنائی جانی چاہیے۔

    اس میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کو مستحکم کرنے، طبی عملے کو تربیت دینے اور آر آئی جی ویکسین کے مناسب ذخیرے کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔

    2013 میں انڈس ہسپتال میں 13 ہزار 330 جانوروں کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 12 ہزار 524 (94 فیصد) کتے کے کاٹنے کے، جب کہ باقی 806 (6 فیصد) کیسز دوسرے جانوروں جیسے بلی، گدھے، گھوڑے اور گائے کے کاٹنے کے تھے گایوں میں ریبیز کی علامات میں ضرورت سے زیادہ رال بہنا، رویے میں تبدیلی، چڑچڑاپن، پاگل پن شامل ہے، جو بعد میں جسمانی فالج اور موت تک جا سکتا ہے۔

  • محسن نقوی کی  یو اے ای کے  وزیر داخلہ سے ملاقات

    محسن نقوی کی یو اے ای کے وزیر داخلہ سے ملاقات

    یو اے ای کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان سے ابو ظہبی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی ،دوران ملاقات پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستانی شہریوں کو یو اے ای کے ویزوں کے حوالے سے درپیش مسائل پر گفتگو ہوئی، دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستانی شہریوں، خصوصاً ورک ویزا کے اجرا میں سہولت کے لیے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا یو اے ای کے وزیر داخلہ نے اس حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    محسن نقوی نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہر پاکستانی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں، پاکستان تمام شعبوں میں، خاص طور پر سیکیورٹی کے میدان میں، تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے بڑی تعداد میں پاکستانی شہری یو اے ای کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پا کستانی شہری آسانی سے یو اے ای آ سکیں اور ویزہ پالیسیوں میں نرمی سے انہیں بہت فائدہ ہوگا۔

    محسن نقوی کی یو اے ای کے وزیر داخلہ سے ملاقات

    دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی، انسداد منشیات، انسداد اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے حوالے سے تعاون کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے تاریخی تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    علاقائی امور اور خطے میں پائیدار امن کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی، دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر زور دیا محسن نقوی نے ابوظہبی میں جدید پولیسنگ اور آپریشن روم کا بھی دورہ کیا، جو جرائم کی روک تھام اور عوامی تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے، یو اے ای کے حکام نے انہیں مانیٹرنگ آپریشن روم کے بارے میں بریفنگ دی، محسن نقوی نے جدید پولیسنگ نظام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور یو اے ای کے پولیسنگ ماڈل کی تعریف کی۔

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری

  • سابق پولیس سربراہ کاانسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    سابق پولیس سربراہ کاانسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف ، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

    ڈھاکا:بنگلا دیش کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللہ مامون نے گزشتہ سال ہونے والے مظاہروں کے خلاف کارروائی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف کرلیا ہے،اس کے ساتھ ہی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (آئی سی ٹی) میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق آئی جی پی نے اپنے جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہےمامون جولائی اور اگست 2024 میں ہونے والی بغاوت کے دوران کیے گئے جرائم کے بارے میں اپنی تمام معلومات فراہم کریں گے عدالت نے ان کی حفاظت کے لیے علیحدہ رہائش کی بھی منظوری دے دی ہے۔

    ٹریبونل نے جمعرات کو شیخ حسینہ اور ان کے سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کے خلاف الزامات ختم کرنے کی وکلا کی درخواست مسترد کر دی، دونوں شخصیات پر اس مقدمے میں باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کی گئی ہے حسینہ واجد کے سرکاری وکیل عامر حسین نے کہا کہ مقدمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں کئی قانونی کارروائیاں باقی ہیں۔

    ایئر انڈیا طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے اگست کے دوران شیخ حسینہ حکومت کے خلاف ہونے والے طلبا کے مظاہروں کو کچلنے کی کوششوں میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے آئی سی ٹی اب حسینہ کی معزول حکومت اور ان کی کالعدم جماعت عوامی لیگ سے وابستہ سابق اعلیٰ حکام کے خلاف مقدمات چلا رہی ہے۔

    اس سے قبل 2 جولائی کو شیخ حسینہ کو ایک الگ مقدمے میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ فرار وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال کے بارے بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھارت میں موجود ہیں استغاثہ کا موقف ہے کہ مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کی تمام تر ذمے داری براہ راست شیخ حسینہ پر عائد ہوتی ہے۔

    وزیراعظم کی آرمی چیف کے صدارتی عزائم کی خبروں کی سختی سے تردید

    واضح رہے کہ 77 سالہ حسینہ واجد مظاہروں کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہوگئی تھیں، جس کے ساتھ ہی ان کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا انہوں نے ڈھاکا واپس آنے کے لیے جاری کیے گئے حوالگی کے حکم کو نظر انداز کیا اور یکم جون سے ان کی غیر حاضری میں مقدمہ چل رہا ہےان پر قتل عام کی روک تھام میں ناکامی، سازش، معاونت، اشتعال اور شریک جرم ہونے سمیت کم از کم پانچ سنگین الزامات عائد ہیں۔

  • مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم شمال مشرقی و جنوبی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےاسلام آباد میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، مری، گلیات، راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر اور ڈیرہ غازی خان میں بارش کی توقع ہے۔

    کوئٹہ، زیارت، بارکھان، سبی، کوہلو اور موسیٰ خیل، لورالائی، ژوب اور خضدار میں بارش کا امکان ہے، سندھ کے ساحلی علاقوں میں مختلف مقامات پر بارش ہونے کی توقع ہے دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بونیر، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی اور کرم میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہےگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں تیز ہواؤ اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کی  آرمی چیف کے صدارتی عزائم کی خبروں کی سختی سے تردید

    وزیراعظم کی آرمی چیف کے صدارتی عزائم کی خبروں کی سختی سے تردید

    وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے استعفیٰ طلب کرنے اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر صدارتی عہدہ حاصل کرنے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے-

    دی نیوز کے مطابق وزیراعظم نے ان خبروں کو ”محض قیاس آرائیاں“ قرار دیا اور کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں، ’فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی، نہ ہی ایسی کوئی منصوبہ بندی زیر غور ہے،وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی، صدر زرداری کی اور آرمی چیف کی باہمی رفاقت احترام اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مشترکہ مقصد پر مبنی ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں ان خبروں کو ”شرپسندانہ مہم“ قرار دے چکے ہیں، جن میں صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    محسن نقوی نے کہا تھا ’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس مہم کے پیچھے کون ہے میں واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ صدر سے استعفیٰ لینے یا آرمی چیف کے صدارتی عزائم پر نہ کوئی بات ہوئی ہے، نہ ایسا کوئی ارادہ موجود ہے،اس منفی بیانیے میں دشمن غیر ملکی عناصر کا ہاتھ بھی شامل ہےایسے عناصر جو دشمن ایجنسیوں کے ساتھ مل کر جو چاہیں کریں، لیکن ہم پاکستان کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے جو ضروری ہوگا، وہ ضرور کریں گے، ان شاءاللہ۔‘

    علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ان افواہوں کو ”بے بنیاد پروپیگنڈا“ قرار دیا۔

  • ایئر انڈیا طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات

    ایئر انڈیا طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات

    12 جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز ”AI171“، صرف 98 سیکنڈ کی پرواز کے بعد زمین بوس ہوگئی تھی،بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے-

    بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ ہوائی اڈے کی باڑ پھلانگنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 241 مسافر اور عملہ سمیت زمین پر موجود 19 افراد جاں بحق ہوگئے۔ صرف ایک شخص معجزاتی طور پر زندہ بچا،بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرِ عام پر آ چکی ہے جس نے حادثے کی وجوہات، جہاز کے تکنیکی ریکارڈ، پرواز کے لمحات، اور پائلٹس کی آخری گفتگو کا تفصیلی جائزہ لیا ہے-

    رپورٹ کے مطابق 1:38PM (انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ ٹائم) پر AI171 نے ٹیک آف کی اجازت حاصل کی،32 سیکنڈ میں طیارہ فضا میں بلند ہو چکا تھا ،4 سیکنڈ بعد جہاز نے زمین سے مکمل علیحدگی حاصل کی،اگلے 3 سیکنڈ میں ایئر اسپید 334 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، اسی وقت دونوں انجن بند ہو گئے،Ram Air Turbine (RAT) خودکار طور پر متحرک ہوئی تاکہ بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکے،مے ڈے کال 1:39 PM پر دی گئی، محض 6 سیکنڈ بعد جہاز زمین پر گر چکا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق حادثے سے چند سیکنڈ پہلے دونوں انجنوں کے فیول کٹ آف سوئچز کو ”RUN“ سے ”CUTOFF“ پر منتقل کر دیا گیا، یعنی ایندھن کی فراہمی بند کر دی گئی یہ حرکت جہاز کے بلند ہونے کے محض چند سیکنڈ بعد ہوئی انجن فوراً بند ہو گئے اور طیارہ نیچے گرنے لگا۔

    کاک پٹ وائس ریکارڈر کے مطابق ایک پائلٹ نے دوسرے سے پوچھا کہ ”تم نے فیول کیوں بند کیا؟“ جواب آیا: ”میں نے بند نہیں کیا!،یہ مکالمہ اس قیاس کو تقویت دیتا ہے کہ یا تو ایک پائلٹ نے غلطی سے فیول بند کر دیا یا کسی تکنیکی خرابی کے باعث فیول کٹ آف سوئچز نے خودکار طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔

    تحقیقات کے مطابق RAT یعنی ”Ram Air Turbine“ صرف اس صورت میں متحرک ہوتی ہے جب جہاز کو مکمل برقی یا ہائیڈرولک طاقت سے محرومی کا سامنا ہو۔ RAT کی حرکت نے اس بات کی تصدیق کی کہ جہاز کے دونوں انجن مکمل طور پر بند ہو چکے تھے اور سسٹمز ناکارہ ہو چکے تھے،بعد ازاں پائلٹس نے فیول سوئچز دوبارہ ”RUN“ پر کر دییئ جس سے ایک انجن نے جزوی بحالی کی کوشش کی لیکن وقت کی کمی اور رفتار کے شدید زوال کے باعث طیارہ سنبھالا نہ جا سکا۔

    فیول کٹ آف سوئچز خود بخود ”CUTOFF“ پر کیوں گئے؟کیا کوئی سسٹم گلیچ (glitch) تھا جس نے انجن بند کیے؟ RAT جیسے آخری ہنگامی نظام کا ابتدائی مرحلے میں حرکت کرنا خود ایک خطرے کی علامت ہے اگر ایک پائلٹ نے غلطی سے سوئچ بند کیے، تو دوسرے نے فوری ردعمل کیوں نہ دیا؟تربیت یافتہ پائلٹس کے درمیان اس سطح کی کنفیوژن کیسے ممکن ہوئی؟پائلٹس نے جہاز کے مکمل سسٹم کو بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن وقت اور اونچائی دونوں ان کے خلاف تھے،پرواز سے قبل تمام تکنیکی چیک مکمل تھے-

    تحقیقات کے مطابق صبح 6:40 بجے تکنیکی کلیئرنس دی گئی تھی، پائلٹس نے 6:25 پر بریتھ انالائزر ٹیسٹ پاس کیا،روانگی سے پہلے جہاز میں کوئی میکانیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طیارہ پرواز کے لیے تکنیکی لحاظ سے تیار تھا۔

    ایئر انڈیا نے AAIB کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ تاحال تحقیقات کے مراحل میں ہے اور وہ مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں بوئنگ اور GE (جنہوں نے انجن فراہم کیے) کو تاحال کوئی حفاظتی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں درج ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں تکنیکی خرابی کے امکانات موجود ہیں، خاص طور پر اگر فیول سوئچز خودبخود ”CUTOFF“ پر گئے ہوں انسانی غلطی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سوئچز کی حرکت، کاک پٹ کی کنفیوژن، اور تاخیر سے بحالی کی کوششیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں سسٹم ڈیزائن کی پیچیدگی بھی ایک عنصر ہو سکتی ہے اگر پائلٹس حادثاتی طور پر سوئچز بند کر بیٹھے تو یہ ایک ”Human-Machine Interface“ کی ناکامی ہے-

    1AAIB اب مزید تکنیکی اجزاء کا تجزیہ کرے گا، جنہیں حادثے کے مقام سے برآمد کر کے محفوظ کھا گیا ہے کاک پٹ آڈیو، پرواز کے ڈیٹا، اور میکانیکی نظام کی گہرائی سے جانچ کی جائے گی تاکہ اصل وجہ سامنے آ سکےایئر انڈیا کا AI171 طیارہ حادثہ ایک المناک سانحہ ہے جس میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تکنیکی نظام پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں ابتدائی رپورٹ دونوں پہلوؤں — انسانی اور تکنیکی — کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن حتمی ذمہ داری کا تعین مزید تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتیں،عظمی بخاری

    وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتیں،عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے محرم الحرام کے سلسلے میں مجالس اور جلوسوں کے لائسنس ہولڈرز اور امن کمیٹی کے اراکین نے ملاقات کی-

    ملاقات میں محرم کے دوران عزادارانِ امام حسینؑ کے لیے کیے گئے مثالی انتظامات پر حکومتِ پنجاب کا شکریہ ادا کیا گیا، اس موقع پر شیعہ علماء کرام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ذاتی نگرانی میں کیے گئے بہترین انتظامات اور سہولیات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، شیعہ علماء کونسل پنجاب کے وفد نے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے’’ایوارڈ امام حسین‘‘ بھی پیش کیا، جو محرم الحرام کے دوران غیر معمولی انتظا می کارکردگی کا اعتراف ہے،ملاقات میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی بھی موجود تھے۔

    عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر کہا کہ محرم کے انتظامات پر مجالس اور جلوسوں کے منتظمین کا مطمئن ہونا حکومت کی کامیابی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام انتظا مات کی لمحہ بہ لمحہ خود مانیٹرنگ کی اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں شہریوں کو ہر تہوار پر منفرد اور نمایاں انتظامات نظر آتے ہیں، اہل تشیع کمیونٹی کی جانب سے حکو مت پنجاب سے اظہارِ تشکر ایک مثبت روایت ہے وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی ٹیم اور پنجاب کی انتظامیہ ہر وقت میدانِ عمل میں مصروف رہتی ہے۔

    ملاقات کرنے والے وفد میں علامہ کاظم رضا نقوی، شبیہ شیرازی، قاسم علی (فوکل پرسن)، یوسف جوہری، حافظ اقبال، الیاس یزدانی، صغیر ورک، کامران نقو ی، اصغر حسین، ملک ناصر، ملک شاہد، واجد علی، عمار نقوی اور صفدر جعفری شامل تھے۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی میت گھر کے بجائے سیدھا قبرستان لائی گئی وہیں نماز جنازہ ادا ہوئی اور تدفین کردی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق مرحومہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ بعد نماز عصر قبرستان میں ہی ادا کی گئی اور تدفین کردی گئی، ان کی میت گھر نہیں لائی گئی بلکہ براہ راست قبرستان لائی گئی،اداکارہ کی آخری آرام گاہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے کیو بلاک کے قبرستان میں بنائی گئی جہاں تدفین ہوئی اس موقع پر خاندان کے قریبی افراد، عزیز و اقارب اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے چند قریبی ساتھیوں نے شرکت کی۔

    اداکارہ کی اچانک اور پُراسرار موت سے ان کے مداح اور ساتھی فنکار شدید رنج و غم میں مبتلا ہیں اداکارہ کی وفات پر فنکاروں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی لاش ایک یا دو ماہ نہیں بلکہ 8 سے 10 ماہ پرانی ہے اور بالکل گل سڑ چکی ہے ان کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں ملی جبکہ کسی قسم کے تشدد یا زیادتی کے نشانات بھی نہیں پائے گئے، لاش مکمل طور پر ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی اور چہرے سمیت جسم کے کئی حصے پٹھوں سے خالی تھے۔

    ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ چند دن قبل اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی،ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے بتایا تھا کہ پولیس ٹیم نے جب فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر اداکارہ کی لاش ملی تھی۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق لاش گلنے سڑنے کے انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں،پولیس اداکارہ کی موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے-

    نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

  • ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کو بتایا ہےکہ ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اس حوالے سے اخبارات میں اشتہار دے دیا ہے، جبکہ چالیس کے لگ بھگ ریلوے اسٹیشنوں پر فری وائی فائی لگانے جارہے ہیں۔

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس رائے حسن نواز کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں کمشنر ڈی جی خان کی جانب سے مظفر گڑھ کی ریلوے زمین پر کمیٹی ارکان کو بریفنگ دی گئی، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے استفسار کیا کہ یہ زمین کس کی ہے؟ کمشنر ڈی جی خان نے بتایا کہ یہ زمین کاغذوں میں وفاقی حکومت کی ملکیت ہے، رکن کمیٹی جمشید دستی نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے جھوٹی رپورٹ دینے پر کمشنر ڈی جی خان پر تحریک استحقاق بنتی ہے۔

    اس موقع پرحنیف عباسی نے کہا کہ سول بیوروکریسی کو سب سے زیادہ تعاون عدالت کے فیصلوں سے ملتا ہے،جو ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے، اسے من و عن تسلیم کرکے اراضی ریلوے کو واپس کی جائے، ڈی جی خان میں ہماری جو زمین ہے، اسے واپس کریں اور تجاوزات کے خاتمے میں مدد کریں، کمشنر ڈی جی خا ن نے کہا کہ اس معاملے کو بورڈ آف ریونیو نے ٹیک اپ کر رکھا ہے، چیئرمین کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔

    صدر آر آئی یو جے طارق ورک گرفتار،صحافی برادری میں تشویش کی لہر

    بعد ازاں اجلاس میں ریلوے حکام کی طرف سے ریلوے اسٹیشنوں پر پینے کے صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹ پر بریفنگ دی گئی، رکن کمیٹی وسیم حسین نے بتایا کہ حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اس کا ایک وزٹ کرلیں۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی نے کہا کہ حیدرآباد اسٹیشن پر کل سے ہی کام شروع کروا دیتے ہیں، رکن کمیٹی نزہت صادق نے سوال کیا کہ ریلوے میں سفر کے دوران میڈیکل ایمرجنسی کے حوالے سے کیا صورتحال ہوتی ہے: جس پر ریلویز حکام نے جواب دیا کہ اگر ٹرین میں کوئی میڈیکل ایمرجنسی ہوتی ہے تو ٹرین میں اسٹاف ہوتا ہے، ٹرین میں ہی فرسٹ ایڈ مہیا کردی جاتی ہے بڑے ریلوے اسٹیشن پر ہسپتال اور ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں، ڈاکٹرز کے مشورہ کے بعد ہی مسافروں کو آگے سفر کی اجازت دی جاتی ہے۔

    اجلاس میں رابطہ ایپ کے غیر مؤثر ہونے اور ریلوے میں ڈیجیٹلائزیشن کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا جس پر حنیف عباسی نے بتایا کہ رابطہ ایپ پہلے زیادہ صحیح سے کام نہیں کررہی تھی، ریلوے حکام نے بتایا کہ ریلوے میں ڈیجیلائزیشن کے حوالے سے وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دی تھی، ایم پی اسکیل پر رابطہ ایپ کو موثر کرنے کے لیے افسران کی بھرتی کا عمل کیا جائے گا، آئی ٹی ٹیم کو جولائی تک کا وقت دیا ہے، 15 جولائی تک رابطہ ایپ ایکٹو ہوجائے گی۔

    انڈر18 ہاکی ایشیا کپ :پاکستان فائنل میں پہنچ گیا

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے جارہے ہیں، اس حوالے سے اخبارات میں اشتہار دے دیا ہے، معروف فرمز کو گیسٹ ہاؤسز آؤٹ سورس کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ ہو گیا، ریلوے کی 78 سالہ تاریخ میں یہ آمدن کی بلند ترین سطح ہے۔

    مالی سال 25-2024 کا اختتام پر پاکستان ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلویز نے 93 ارب روپے آمدن حاصل کرلی ہے مسافر ٹرینوں سے ساڑھے47 ارب، مال گاڑیوں سے ساڑھے 31 ارب روپے حاصل ہوئے، ملٹری ٹریفک سے ڈیڑھ ارب،کوچنگ ذرائع سے 3 ارب آمدن ہوئی، متفرق ذرائع سے ساڑھے 9 ارب روپے حاصل ہوئے، ریلوے کی 78 سالہ تاریخ میں یہ آمدن کی بلند ترین سطح ہے۔

    آپریشن سندور،مودی سرکار نے "جھوٹ” پر مبنی کتاب شائع کر دی

    ترجمان نے کہا کہ پچھلے سال پاکستان ریلویز نے 88 ارب روپے کمائے تھے،پسنجر سیکٹر سے کراچی ڈویژن پونے 15 ارب آمدن سے سب سے آگے ہے۔لاہور سوا 11 ارب سے زائد آمدن کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ہیڈکوارٹرز ڈویژن نے سوا پانچ،ملتان ڈویژن نے پانچ ارب روپے کمائے، سکھر کی آمدن 4.8 ارب جبکہ راولپنڈی کی آمدن 4.7 ارب رہی، پشاور نے سوا 1 ارب اور کوئٹہ نے 52 کروڑ روپے آمدن حاصل کی، فریٹ سیکٹر میں کراچی نے 28 ارب جبکہ ملتان نے 1 ارب حاصل کیا، لاہور 83 کروڑ، پشاور 77 کروڑ، راولپنڈی 31 کروڑ، سکھر 28 کروڑ اور کوئٹہ نے 10 کروڑ کمائے وزیر ریلوے نے کہا کہ اگلے سال مال گاڑیوں سے 70 فیصد تک انکم جنریشن ممکن بنائیں گے-