Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ترکیہ : ریپبلکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مزید 3 میئرز گرفتار

    ترکیہ : ریپبلکن پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مزید 3 میئرز گرفتار

    ترکیہ میں ہفتے کی صبح حکومت نے اپوزیشن کے مزید 3 میئرز کو گرفتار کر لیا جن کا تعلق ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) سے ہے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق گرفتاریوں کا تعلق مبینہ کرپشن کے ایک مقدمے سے ہے، جس کے نتیجے میں مارچ میں استنبول کے طاقتور اپوزیشن میئر اکرام امام اوغلو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، ان کی گرفتاری نے ملک بھر میں بڑے مظاہروں کو جنم دیا تھا جو کہ 2013 کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج قرار دیا جا رہا تھا اکرام امام اوغلو، صدر رجب طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور 2028 کے صدارتی انتخابات میں سی ایچ پی کے امیدوار بھی ہیں۔

    اسی ہفتے پولیس نے ازمیر، جو کہ اپوزیشن کا مضبوط گڑھ ہے اور ترکیہ کا تیسرا بڑا شہر ہے، وہاں مبینہ کرپشن کے الزامات کے تحت 120 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا تازہ گرفتار ہونے والے میئرز کا تعلق ترکیہ کے جنوبی علاقوں سے ہے، آدانا شہر کے میئر زیدان کارالار، سیاحتی شہر انطالیہ کے میئر محیتین بوچیک اور جنوب مشر قی شہر آدی یامان کے میئر عبدالرحمٰن توتدیری گرفتار میئرز میں شامل ہیں۔

    انقرہ کے اپوزیشن میئر منصور یاوش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایسے نظام میں جہاں قانون سیاست کے مطابق جھکتا اور مڑتا ہو، جہاں انصاف کچھ کے لیے ہو اور کچھ کے لیے نہیں، وہاں ہم سے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے یا انصاف پر بھروسہ کرنے کی توقع نہ رکھی جائے، ہم ناانصافی، قانون شکنی اور سیاسی کارروائیوں کے سامنے جھکیں گے نہیں۔

    ترکیہ کی پارلیمان کی تیسری بڑی جماعت، پرو کردش ڈی ای ایم پارٹی، نے بھی ان گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    ڈی ای ایم پارٹی کی شریک صدر تلائے حاتموغولاری نے لکھا کہ منتخب نمائندوں کا یہ استحصال بند ہونا چاہیے، عوام کے ووٹ کے فیصلے کا احترام نہ کرنا اور ان کی مرضی کو نہ ماننا معاشرے میں گہرے شگاف پیدا کر رہا ہے، یہ کارروائیاں کسی حل کی جانب نہیں بلکہ جمہوری ترکیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

    حالیہ مہینوں میں ڈی ای ایم پارٹی نے رجب طیب اردوان کی حکومت کے ساتھ مل کر دہائیوں پر محیط کرد تنازع کو ختم کرنے کی کوششیں کی ہیں، ان کوششوں کے نتیجے میں مئی میں کرد پی کے کے جنگجوؤں نے مسلح جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جو کہ ایک ایسا تنازع تھا جس میں 40 ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    ہفتے کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ سی ایچ پی کے خلاف قانونی کارروائیوں کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، پیر کے روز انقرہ کی ایک عدالت نے پارٹی کے 2023 کے لیڈرشپ پرائمری الیکشن میں مبینہ ووٹ خریدنے کے الزامات پر کیس کی سماعت شروع کی، جس کے نتیجے میں سی ایچ پی کے مقبول رہنما اوزگور اوزال کی قیادت بھی چیلنج ہو سکتی ہے، اوزال مارچ کے احتجاجی مظاہروں میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد ابھر کر سامنے آئے تھے۔

    نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق آدانا اور آدی یامان کے میئرز کا تعلق استنبول کے پبلک پراسیکیوٹرز کے ایک کیس سے ہے، جس میں مبینہ ٹینڈر دھاندلی اور رشوت کے الزامات شامل ہیں اسی کیس کے تحت استنبول کے ضلع بویوک چیکمیجے کے ڈپٹی میئر احمد شاہین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

  • بااثر خاتون کا کلاتھنگ اسٹور کے ملازم پر تشدد ، ویڈیو وائرل

    بااثر خاتون کا کلاتھنگ اسٹور کے ملازم پر تشدد ، ویڈیو وائرل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے معروف شاپنگ مال میں موجود کلاتھنگ اسٹور کے ملازم پر بااثر خاتون کے تشدد کی ویڈیو وائرل ہوگئی-

    وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو میں خاتون کو ملازم پر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ اسٹور میں متعدد کسٹمرز بھی دکھائی دیتے ہیں ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بااثر خاتون ملازم پر لاتوں اور مکوں کی بارش کردیتی ہے جب کہ ملازم اس دوران خاموشی سے خاتون کا تشدد برداشت کرتا دکھائی دیتا ہے، جب کہ عملے کے دیگر ارکان اور سیکیورٹی اہلکار بغیر مداخلت کیے کھڑے رہے۔

    خاتون کی جانب سے ملازم پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سخت رد عمل دیتے ہوئے خاتون کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہڑے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

    کلاتھنگ فیشن برانڈ و اسٹور بونینزا سترنگی نے فیس بک پوسٹ میں تصدیق کی کہ مذکورہ واقعہ اسلام آباد میں ان کے سینٹورس شاپنگ مال میں موجود اسٹور پر پیش آیافیشن برانڈ نے بااثر خاتون کی جانب سے ملازم پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کام کی جگہ پر ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اور گراہکوں کو ملازمین کی عزت نفس کی خیال کرنا چاہیے۔

    فیشن برانڈ نے تشدد کا شکار بننے والے ملازم سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے صبر کی تعریفیں بھی کیں اور کہا کہ ملازم نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا خیال کرتے ہوئے کسی طرح کا بھی کوئی رد عمل نہیں دیا،کلاتھنگ اسٹور انتظامیہ نے اپنے تمام ملازمین کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسٹاف کی تعریفیں کیں اور لکھا کہ انہوں نے انتہائی بہتر انداز میں نامناسب واقعے کو سنبھالا۔

    دوسری جانب تاحال ملازم پر تشدد کرنے والی خاتون کی شناخت سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی۔

  • عالمی طاقتیں  مفادات نہیں، اخلاقی ذمہ داری کے تحت کردار ادا کریں،یوسف رضا گیلانی

    عالمی طاقتیں مفادات نہیں، اخلاقی ذمہ داری کے تحت کردار ادا کریں،یوسف رضا گیلانی

    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں مفادات نہیں، اخلاقی ذمہ داری کے تحت کردار ادا کریں۔

    وینس میں عالمی امن کانفرنس ہوئی جس میں "آج کے عالمی امن کو درپیش چیلنجز” میں پاکستان اور یورپی شخصیات نے شرکت کی،یوسف رضا گیلانی نے شہباز بھٹی شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ضمیر کے لیے قربانی کی علامت ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انصاف اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علمبرداری کی۔

    چیئرمین سینیٹ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ امن کے لیے انصاف، مکالمہ اور انسانی وقار کو ترجیح دی جائے، انہوں نے کہا کہ امن صرف جنگ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ انصاف کی موجودگی ہےانہوں نے اپنے بیٹے کے اغوا کا ذاتی واقعہ بھی بیان کیا جس نے شرکاء کو گہرے جذبات میں مبتلا کر دیا، انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں مفادات نہیں، اخلاقی ذمہ داری کے تحت کردار ادا کریں۔

    سید یوسف رضا گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی ضمیر کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وینس کانفرنس، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے لیے پاکستان کے عزم کا مظہر ہے،یہ کانفرنس نہیں، ایک عالمی عہد ہے۔

    سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس کی مشترکہ کارروائی ، 5 خارجی دہشتگرد ہلاک،8 زخمی

  • سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک بڑی شرط پوری کر دی-

    گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا،صدر مملکت کی منظوری کے بعد سول سرونٹس ترمیمی ایکٹ 2025 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تمام وفاقی سرکاری افسران کو اپنے اور اہل خانہ کے ملکی و غیر ملکی اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کرنا ہوں گے، یہ تفصیلات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے عوامی سطح پر دستیاب ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، کسی بھی افسر کی ذاتی معلومات کی رازداری کو یقینی بنایا جائے گا، اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گزٹ نوٹیفکیشن کی کاپی تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو بھجوا دی ہے تاکہ ترمیمی قانون پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    ترمیمی ایکٹ کے تحت سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں نیا سیکشن 15-A شامل کیا گیا ہے جس کے تحت افسران کو ہر سال اپنی اور اہل خانہ کی مالی حیثیت، جائیداد اور دیگر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی،علاوہ ازیں اثاثوں کی فائلنگ کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے سرکاری ریکارڈ کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔

    ڈی جی خان سمیت ملک بھرمیں 6 اور 7 جولائی کو شدید بارشیں، اربن فلڈ کا الرٹ، بلوچستان ،نالوں میں طغیانی

  • 5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے جن کے اثرات آج بھی سیاسی، سماجی اور قومی شعور پر واضح ہیں،5 جولائی کوعوامی منتخب حکومت پر شب خون مارا گیا جس نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ہم سب کو مل کر آ مریت کے اندھیروں کا خاتمہ کرنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک روشن، پُرامن اور جمہوری پاکستان دے سکیں، وقت آ گیا ہے کہ نفرت، انتشار اور شخصی اقتد ار کی دلدل سے نکل کر اتحاد، برداشت اور آئین کی بالادستی کو اپنایا جائے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اس دن عوام کے منتخب وزیرِاعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر مارشل لا مسلط کر کے جمہوریت کو کچلا گیا، شہید بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش درحقیقت عوامی رائے اور جمہوری اصولوں پر حملہ تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو شعور دیا، آمریت نے اس آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر دور میں آمریت کا جرأت مندی سے مقابلہ کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آج کا دن ہمیں جمہوریت کے تحفظ، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہےہم ہر قیمت پر جمہوری اقدار کا دفاع کریں گے آج بھی ملک میں جمہوریت اور سالمیت کے خلاف سازشیں جاری ہیں، ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات اور قربانی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔

  • سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس کی مشترکہ کارروائی ، 5 خارجی دہشتگرد ہلاک،8 زخمی

    سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس کی مشترکہ کارروائی ، 5 خارجی دہشتگرد ہلاک،8 زخمی

    سی ٹی ڈی اور پنجاب پولیس کی مشترکہ کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے 5 خارجی دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

    تونسہ شریف کے قریب پنجاب پولیس نے سی ٹی ڈی کے ساتھ مل کر امن دشمنوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا، جس میں تھانہ وہوا کی حدود جادے والی میں فتنۃ الہندوستان کے 5 خارجی دہشتگرد جہنم واصل کردیے گئےمشترکہ آپریشن میں 8 دہشت گرد شدید زخمی بھی ہوئے آپریشن کے موقع پر پولیس حکام موقع پر پہنچے اور ٹیموں کو مبارک باد دی،دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بعد علاقے میں کلین اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے تونسہ کے قریب فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی نے ایک بار پھر فتنۃ الہندوستان کے 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ وزیر داخلہ نے پولیس اور سی ٹی ڈی ٹیموں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ بہادر سپوتوں نے پہلے بھی دلیری کے ساتھ خوارجی دہشت گردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر پولیس اور سی ٹی ڈی کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کا تعاقب جاری رہے گا دشمن کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں گے۔

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے اور 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے کیا گیا ہے وفاقی حکومت نے مسلح افواج کے ملازمین، سول آرمڈ فورسز اور تمام وفاقی سول ملازمین کی موجودہ بنیادی تنخواہ پر 10فیصد ایڈہاک الاؤنس جاری کر دیا ہے، یہ الاؤنس کنٹریکٹ ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں بھی شامل ہوگا۔ْ

    علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے گریڈ ایک سے گریڈ 22 تک کے ملازمین کو 30 جون 2022 کی بنیادی تنخواہ پر 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کی بھی منظوری دے دی اس کا اطلاق بھی یکم جولائی سے ہوگیا ہے۔

  • اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان شدید تلخ کلامی

    اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر کے درمیان غزہ سے متعلق آئندہ کی فوجی حکمتِ عملی پر ایک بند کمرہ اجلاس میں جھگڑے اور تلخ کلامی کی اطلاعات ہیں۔

    العربیہ کے مطابق اسرائیلی آرمی نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ فوج، وزیر اعظم اور وزراء کے درمیان غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بنیادی اختلاف پیدا ہو گیا ہے نیتن یاہو نے چیف آف اسٹاف ایال زامیر پر کڑی تنقید کی ہے گزشتہ جمعرات کی شام نیتن یاہو کی دعوت پر ایک الجاس طلب ہوا جس میں چیخ و پکار ہوئی اور آوازیں بلند ہوگئی تھیں۔

    اجلاس میں دیگر مسائل کے علاوہ غزہ میں جنگ کو کیسے جاری رکھا جائے؟ جیسے سوالوں پر غور کیا گیا۔ یہ تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر اب معاہدہ نہ ہوا تو کیا ہوگا اور 60 روزہ جنگ بندی کا اعلان نہ ہوا تو غزہ کی پٹی میں اگلے اقدامات کیا اٹھائے جانے چاہیں۔

    چیف آف سٹاف نے وزیر اعظم اور وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج غزہ میں 20 لاکھ افراد کو کنٹرول نہیں کر سکتی یہ بات بھی ان بیانات کا حصہ تھی جس نے نیتن یاہو کو ناراض کیا اور اپنے ہی آرمی چیف پر برس پڑے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آرمی چیف کو ہدایت دی کہ وہ غزہ کے بیشتر شہریوں کی جنوبی غزہ جبری منتقلی کا منصوبہ تیار کریں جس پر جنرل ایال زامیر نے جواب دیا کہ کیا آپ وہاں فوجی حکومت چاہتے ہیں؟ دو ملین لوگوں پر کون حکومت کرے گا؟”اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر غصے میں چیختے ہوئے جواب دیا کہ ہماری فوج اور ریاستِ اسرائیل۔

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں وہاں فوجی حکومت نہیں چاہتا لیکن میں کسی بھی صورت حماس کو بھی نہیں چھوڑوں گا میں یہ ہرگز قبول نہیں کروں گا اگر فلسطینیوں کو جنوبی غزہ میں نہیں دھکیلا گیا تو پھر ہمیں پورے غزہ پر قابض ہونا پڑے گا اور جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں اب تک فوجی کارروائی یرغمالیوں کو نقصان کے خدشے کی وجہ سے نہیں کی گئی، اگر انخلا کا منصوبہ نہ بنایا گیا تو ہمیں پورے غزہ پر قبضہ کرنا ہوگا، جس کا مطلب ہوگا یرغمالیوں کی ہلاکت میں ڈالنا اور میں یہ نہیں چاہتا، نہ ہی میں اس پر تیار ہوں۔

    اس کے جواب میں آرمی چیف زامیر نے خبردار کیا کہ ہمیں اس پر مزید بات کرنی ہوگی اس پر کوئی اتفاق نہیں ہوا اگر ہم بھوکے، غصے سے بھرے لوگوں پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تو صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں، تاہم نیتن یاہو اپنے آرمی چیف سے اختلا ف کرتے ہوئے حکم دیا کہ انخلا کا منصوبہ تیار کرو، میں جب امریکا سے واپس آؤں تو وہ منصوبہ میرے سامنے ہونا چاہیے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیلی وزرا الزام عائد کرچکے ہیں آرمی چیف حکومت کو غزہ میں ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو کہ ناقابل عمل ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف، ترکیہ اور آذربائیجان کے صدور کے ساتھ خوشگوار ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف، ترکیہ اور آذربائیجان کے صدور کے ساتھ خوشگوار ملاقات

    آذربائیجان کے شہر خانکندی میں وزیراعظم شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ملاقات ہوئی ہے۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اِردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے خانکندی میں اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد چہل قدمی کی،اس موقع پر آذربائیجان کے صدر نے وزیرِ اعظم اور ترک صدر کو خانکندی کی تاریخ اور تاریخی عمارتوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں تینوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران ہاتھ تھام کرپاکستان۔ترکیہ اورآذربائیجان کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات اور یکجہتی کا اظہار کیا،تینوں رہنماؤں نے مختلف امور پر غیر رسمی اور خوشگوار گفتگو کی،اس کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیوف وزیراعظم کو خود گاڑی چلا کر ظہرانے کے مقام پر لے کر گئے۔

    قبل ازیں قبل آذر بائیجان کے شہر خانکندی میں ملاقات میں شہبازشریف اور ایرانی صدر نے تمام شعبوں میں جاری پاک-ایران تعاون کا جائزہ لیا تھا، اور پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانےکےگزشتہ فیصلوں میں پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان اقتصادی تعاون تنظیم کے 17 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں آذر بائیجان میں موجود ہیں۔

    دریں اثنا آذر بائیجان میں 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

    ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے تجارت، دفاع، توانائی، علاقائی روابط پر بات چیت کی گئی تھی وزیرا عظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم ترکی کے ساتھ مل کر مشترکہ اہداف کو آگے بڑھائیں گے۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اقتصادی تعاون تنظیم کے 17 ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی جارحیت میں ہونے والی اموات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور برادر ملک ایران سے شہادتوں پر تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، شہدا کے لیے جنت کے حصول اور زخمیوں کے لیے جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔

  • نئے ’دلائی لاما‘ کی تقرری ، چین نے بھارت کو خبردار  کر دیا

    نئے ’دلائی لاما‘ کی تقرری ، چین نے بھارت کو خبردار کر دیا

    نئے ’دلائی لاما‘ کی تقرری پر بیان بازی پر چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے-

    چین نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ تبت سے متعلق معاملات میں احتیاط سے قدم اٹھائے، اور مرکزی وزیر کرن رجیجو کے اس بیان پر اعتراض کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دلائی لاما کی تجسیم (انکارنیشن) ان کی مرضی کے مطابق ہونی چاہیے۔

    رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز اقلیت امور کے وزیر کرن رجیجو کا کہنا تھا کہ صرف دلائی لاما اور ان کی قائم کردہ تنظیم کو ہی تبتی بدھ مت کے روحانی پیشوا کے جانشین کی شناخت کا اختیار حاصل ہے، جو چین کی طویل مدتی پوزیشن کے برعکس ہے اس پر چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور عمل میں محتاط رہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کی بہتری پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

    وزارت خارجہ نے بھی رجیجو کے موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت ایمان اور مذہب کے عقائد اور طریقوں سے متعلق معاملات پر کوئی موقف نہیں رکھتی اور نہ ہی بولتی ہے۔

    ادھر چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بھی رجیجو کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، بھارت کو دلائی لاما کے چین مخالف علیحدگی پسند کردار سے آگاہ ہونا چاہیے اور زِزانگ (تبت) سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔

    بدھ کو دلائی لاما جو 1959 میں چینی حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد بھارت پناہ لے آئے تھے، نے کہا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد وہ دوبارہ تجسیم ہوں گے اور صرف گڈن پھودرنگ ٹرسٹ ہی ان کے جانشین کی شناخت کر سکے گا انہوں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ان کا جانشین چین سے باہر پیدا ہوگا۔

    بیجنگ کا موقف ہے کہ دلائی لاما کے جانشین کی منظوری کا حق انہیں وراثت میں ملا ہے جو قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔

    کرن رجیجو نے کہا، ”کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ دلائی لاما کے جانشین کا تعین کرے صرف وہ خود یا ان کا ادارہ اس فیصلے کا مجاز ہے ان کے پیروکار اس پر گہرا یقین رکھتے ہیں۔“ رجیجو یہ بیان اپنے دورہ دھرم شالہ کے موقع پر دیا جہاں وہ دلائی لاما کی 90 ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھارتی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    رجیجو خود ایک بدھ مت کے ماننے والے ہیں، اور راجیو رنجن سنگھ، ایک اور مرکزی وزیر، بھی ان کے ساتھ اس تقریب میں شامل ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ کی ماؤ ننگ نے دوبارہ زور دیا کہ دلائی لاما اور پانچن لاما (جو تبتی بدھ مت کے دوسرے بڑے روحانی پیشوا ہیں) کی تجسیم سخت مذہبی رسومات اور تاریخی روایات کے مطابق ہونی چاہیے، جن میں مرکزی حکومت کی منظوری اور ’گولڈن ارن‘ سے قرعہ اندازی شامل ہے موجودہ 14 ویں دلائی لاما نے اسی طریقہ کار سے گزر کر مرکزی حکومت کی منظوری حاصل کی تھی، اور آئندہ بھی دلائی لاما کی تجسیم کو ان اصولوں، مذہبی رسومات، تاریخی روایات، چینی قانون اور ضوابط کی پاسداری کرنی ہوگی۔