Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر پانی سے بھرا ہوا نیا سیارہ دریافت

    ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر پانی سے بھرا ہوا نیا سیارہ دریافت

    ماہرین کو ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر ایک نیا سیارہ ملا ہے جو ممکنہ طور پر پانی سے بھرا ہوا ہے۔

    اس سیارے کا نام TOI-1846 b رکھا گیا ہے، اور اسے ناسا کے خلائی مشن ’ٹرانزٹنگ ایگزو پلینیٹ سروے سیٹلائٹ‘ (TESS) کی مدد سے دریافت کیا گیا یہ نیا سیارہ زمین سے تقریباً دو گنا بڑا اور چار گنا زیادہ وزنی ہے یہ سیارہ سپر ارتھ کی کیٹیگری میں آتا ہے، یعنی یہ زمین سے بڑا ہے لیکن اتنا بڑا نہیں جتنا نیپچون یا یورینس جیسے گیس کے دیو۔،تحقیق کے مطابق، TOI-1846 b کی عمر تقریباً 7.2 ارب سال ہے، یعنی ہماری زمین سے بھی زیادہ پرانا ہے۔

    تحقیقی ٹیم کےمطابق TOI-1846 b کا قطر زمین کے مقابلے میں 1.792 گنا ہے اور اس کا وزن زمین سے 4.4 گنا زیادہ ہے۔ یہ اپنے ستارے کے گرد صرف 3.93 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے، یعنی وہاں ایک سال صرف چار دنوں کا ہوتا ہے! اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 568.1 کیلون (تقریباً 295 ڈگری سیلسیس) ہے۔

    غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ پانی سے بھرپور ہو سکتا ہے، لیکن اس کی ساخت اور ماحول کو مزید بہتر طریقے سے جانچنے کے لیے ریڈیل ولاسٹی نامی ایک طریقہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کا وزن اور دیگر تفصیلات واضح کی جا سکیں۔

    یہ سیارہ ایک چھوٹے سے ستارے TOI-1846 کے گرد گردش کرتا ہے، جو ہمارے سورج کے مقابلے میں 40 فیصد چھوٹا اور 42 فیصد کم وزنی ہے۔ اس ستارے کا درجہ حرارت تقریباً 3568 کیلون ہے، اور اس کی عمر بھی 7.2 ارب سال کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔

    اسی سال کے آغاز میں، سائنس دانوں نے ایک اور سپر ارتھ دریافت کیا جس کا نام HD 20794 d رکھا گیا ہے یہ سیارہ زمین سے 20 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے چھ گنا زیادہ وزنی ہے سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے ستارے کے ایسے علاقے میں موجود ہے جسے قابلِ رہائش علاقہ یا ہیبیٹیبل زون کہا جاتا ہے، یعنی وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات ہیں لیکن اس سیارے کا مدار زمین کی طرح گول نہیں بلکہ بیضوی (elliptical) ہے، جس کی وجہ سے وہاں زندگی کے امکانات کے بارے میں حتمی رائے دینا مشکل ہے۔

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

  • غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    سپین میں مایورکا ائیر پورٹ پر نجی ائیر لائن کی پرواز میں غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافروں نے جہاز سے چھلانگیں لگا دیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق الارم بجنے سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ، چھلانگیں لگانے کے نتیجے میں 18 مسافر زخمی ہو گئے جس کے بعد مانچسٹر جانے والی پرواز روک دی گئی،بیشتر مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ 6 کو اسپتال منتقل کر دیا گیا گیا ، واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی ایمرجنسی سروسز کو فوراً الرٹ کیا گیا ، نجی ائیر لائن نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ کچھ مسافروں نے گھبراہٹ میں ایمرجنسی دروازے کھولے، طیارے کے ونگ پر چڑھے اور نیچے کود گئے-

    https://x.com/runews/status/1941406687518400798

    دوسری جانب اہور سے اسکردو جانے والی نجی ائیر لائن کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا جس کے بعد طیارے کو واپس لاہور میں لینڈنگ کرنا پڑی۔

    نجی ائیرلائن کے ترجمان کے مطابق پرواز پی اے 481 کو لاہور سے ٹیک آف کرتے ہوئے برڈ اسٹرائیک کا سامنا ہوا پرواز کو فوری لاہور واپس اتار لیا گیا اور 149 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیااہور سے اسکردو کے لیے پرواز پی اے 481 منسوخ کر دی گئی ہے، اسکردو سے لاہور کی پرواز بھی منسوخ کردی گئی ہے،پرندہ ٹکرانے سے طیارے کے انجن نمبر 2 کے دو بلیڈ متاثر ہوئے ہیں۔

  • محرم الحرام: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے پر 24 گھنٹوں میں 18 افراد گرفتار

    محرم الحرام: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے پر 24 گھنٹوں میں 18 افراد گرفتار

    پنجاب پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر دی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے،ان میں سے 19 واقعات پر مقدمات درج کر کے 18 قانون شکن افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے فیس بک پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 16 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ واٹس ایپ پر 3 اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 6 ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، گزشتہ 7 روز کے دوران سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد کی تشہیر کرنے پر مجموعی طور پر 130 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 148 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی پھیلانے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہےمحرم الحرام کے دوران امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور نفرت انگیزی، فرقہ واریت یا اشتعال انگیزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    پنجاب پولیس کا یہ کریک ڈاؤن اس بات کا مظہر ہے کہ ریاست محرم الحرام کے تقدس اور عوامی تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • آج بھی غزہ میں کربلا دہرایا جا رہا ہے اور عالم اسلام بدستور خاموش ہے،خواجہ آصف

    آج بھی غزہ میں کربلا دہرایا جا رہا ہے اور عالم اسلام بدستور خاموش ہے،خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ چودہ سو سال قبل بھی قیامت برپا کی گئی تھی اور عالم اسلام خاموش تماشائی تھا آج بھی غزہ میں کربلا دہرایا جا رہا ہے اور افسوس کی بات ہے کہ عالم اسلام بدستور خاموش ہے۔

    سیالکوٹ میں یوم عاشور کے جلوس میں شرکت کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا،انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ کے عوام کرب و بلا کی یاد تازہ کر رہے ہیں، فلسطینی عوام اپنی جانیں قربان کر کے امام حسینؓ کی سنت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ آج بھی مسلمانوں کا خون یزیدیت کے ہاتھوں بہایا جا رہا ہے۔

    وزیر دفاع نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے لاکھوں لوگ دنیا بھر میں سڑکوں پر نکلے، لیکن بدقسمتی سے ایسا مظاہرہ کسی اسلامی ملک میں نہیں ہوا ، یہاں تک کہ پاکستان میں بھی نہیں، یوم عاشور کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں سخت پابندیاں عائد کی گئیں، جو مودی سرکار کی کھلی اسلام دشمنی کا ثبوت ہیں، مقبوضہ کشمیر کی وادی میں پہلے کبھی اس نوعیت کی پابندیاں نہیں لگائی گئیں، وہاں ہمیشہ محرم الحرام کو عزت و احترام سے منا یا جاتا رہا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ آج سے ڈھائی ماہ قبل مودی کے چمچے چانٹے جو کچھ کر رہے تھے، وہ ذلیل و خوار ہوئے، ان کا تکبر خاک میں ملا اور ان کا سندور اجڑ گیا یہ وقت ہے مسلمان، خصوصاً حکمران طبقہ، اپنی ذمہ داری محسوس کریں فلسطینی بچے اور بزرگ بھوک کے باعث قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان پر فائر نگ کی جاتی ہے کیا ہمارے دین کو پھر لہو کی ضرورت ہے؟ کیا امت مسلمہ پر فرض نہیں بنتا کہ اسلام کا دفاع کرے، جو اس وقت اغیار کر رہے ہیں؟ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک سے محض چند آوازیں بلند ہوتی ہیں جبکہ ڈیڑھ ارب مسلمان مصلحت پسندی کا شکار ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ آج یوم عاشور کو دہرایا جا رہا ہے، لیکن جو قربانیاں فلسطینی عوام دے رہے ہیں، ان کی کوئی مثال نہیں ملتی کربلا کے بعد ایسی قربانی دنیا کے کسی خطے میں نہیں دی گئی،یاد رکھیں، غزہ کے لوگ قیامت کے دن سوال کریں گے کہ ہم نے نواسہ رسولؐ کی سنت پر عمل کیا، لیکن امت مسلمہ نے ہمارا ساتھ نہ دیا، ان شاء اللہ، ان ظالم حکومتوں اور مظالم کو دوام نہیں، ابدیت صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے دین کی ہے۔

  • شیخ حسینہ  سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    لندن: برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے منسلک دو افراد کی تقریباً 90 ملین پاؤنڈ کی جائیدادیں ضبط کرلیں۔

    دی گارڈین کے مابق ایک پیش رفت میں جو کہ سابق حکومت سے منسلک اثاثوں کا سراغ لگانے میں بنگلہ دیش کی مدد کرنے کے لیے برطانیہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا، نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے نو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے، احمد شایان رحمان اور اس کے کزن احمد شہریار رحمان کو لندن کے گروسوینر اسکوائر میں اپارٹمنٹس سمیت جائیداد فروخت نہیں کر سکتے، بنگلہ دیش کی سابق مطلق العنان حکمران شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت میں برطانیہ کے اثاثوں کے بارے میں گارڈین کی تحقیقات میں اس جوڑے کا نام لیا گیا تھا۔

    کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق، تمام جائیدادیں برٹش ورجن آئی لینڈ، آئل آف مین یا جرسی میں کمپنیوں کے ذریعے ملکیت ہیں، اور £1.2m سے £35.5m تک کی قیمتوں میں حاصل کی گئی تھیں،رحمٰن بالترتیب سلمان ایف رحمان کے بیٹے اور بھتیجے ہیں، جو ایک امیر تاجر ہیں، جنہیں گزشتہ سال شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے والے طلباء کی زیرقیادت انقلاب کے دوران مبینہ طور پر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    سلمان ایف رحمان، جنہیں بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے، نجی صنعت اور سرمایہ کاری کے بارے میں حسینہ کے مشیر تھے اور ملک میں بہت سے لوگ انہیں حکومت کی سب سے بااثر شخصیت کے طور پر دیکھتے تھےان کے بیٹے اور بھتیجے کی جائیدادیں گزشتہ سال گارڈین اور مہم گروپ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل کے درمیان مشترکہ تحقیقات میں سامنے آئیں، جس میں شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت £400 ملین کی جائیداد کا انکشاف ہوا۔

    این سی اے کی جانب سے منجمد کی گئی جائیدادوں میں گریشم گارڈنز، نارتھ لندن میں ایک جائیداد بھی شامل ہے شیخ ریحانہ، جو شیخ حسینہ کی بہن ہیں اور برطانیہ کے سابق سٹی منسٹر ٹیولپ صدیق کی والدہ بھی ہیں، اس پراپرٹی میں رہائش پذیر ہیں، فنانشل ٹائمز کے مطابق، جس نے پہلے دو جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات کی اطلاع دی تھی، 7.7 ملین پاؤنڈ میں خریدی تھی۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے کے ڈائریکٹر آف پالیسی ڈنکن ہیمز نے کہا: "ہم برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپنی انکوائری جاری رکھنے اور بغیر کسی تاخیر کے تمام مشتبہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”

    NCA کے ایک ترجمان نے کہا: "ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ NCA نے جاری سول تحقیقات کے حصے کے طور پر متعدد جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے ہیں۔”

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق دور حکومت میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں وہاں کے حکام نے ٹیولپ صدیق کے لیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، جو الزامات کی روشنی میں شہر کے وزیر کے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس نے کسی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

    دی گارڈین نے تبصرے کے لیے رحمانز اور بیکسمکو کے وکیلوں سے رابطہ کیا ہے، جو خاندانی کارپوریٹ سلطنت سلمان رحمان نے قائم کی تھی۔

    احمد شایان رحمان کے ایک ترجمان نے پہلے ایف ٹی کو بتایا: "ہمارے مؤکل کسی بھی مبینہ غلط کام میں ملوث ہونے کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ وہ یقیناً برطانیہ میں ہونے والی کسی بھی تحقیقات میں حصہ لیں گےیہ بات سب کو معلوم ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل ہے، جہاں سینکڑوں افراد پر بے شمار الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہم توقع کریں گے کہ برطانیہ کے حکام اس پر غور کریں گے۔”

    علاوہ ازیں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے وزیر سیف الزامان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرلیں بنگلہ دیش کے سابق وزیر سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں جائیدادیں بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی درخواست پر ضبط کی گئی ہیں، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اتحادی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیف الزمان چوہدری کے خلاف اس وقت بنگلہ دیش میں منی لانڈرنگ کے الزام پر تفتیش جاری ہے این سی اے کے ترجمان نے سیف الزمان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرنے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ این سی اے کو زیرتفتیش معاملے کے تحت متعدد جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات مل گئے ہیں برطانیہ میں جائیدادیں ضبط ہونے کا مطلب ہوگا کہ سیف الزمان چوہدری اب مذکورہ جائیدادیں فروخت نہیں کرسکیں گے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں 350 سے زائد جائیدادیں ہیں تاہم این سی اے نے ان کی ضبط ہونے والی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی ہیں زسابق بنگلہ دیشی وزیر کا لندن کے مہنگے علاقے ایس ٹی جونز ووڈ میں پرتعیش گھر بھی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کو بھی ضبط کیا گیا یا نہیں، گزشتہ برس انٹرویو کے دوران چٹاگانگ کے ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے سیف الزمان چوہدری نے کہا تھا کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے کی طرح ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ برطانیہ میں میرا کاروبار ہے۔

  • برطانیہ میں غیرقانونی تارکین  وطن سے منشیات اسمگل کروانے کا انکشاف،مجرمان کو 80 سال قید کی سزا

    برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن سے منشیات اسمگل کروانے کا انکشاف،مجرمان کو 80 سال قید کی سزا

    لندن: آٹھ افراد کو بھنگ کے فارموں کو چلانے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں دو الگ الگ نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے بعد کل تقریباً 80 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مابق منظم جرائم کے گروہ، جن کے سرغنہ دونوں برمنگھم میں مقیم تھے، مڈلینڈز، لندن اور انگلینڈ کے شمال میں فارم چلاتے تھے، اکثر ان میں کام کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ لائے گئے تارکین وطن کو استعمال کرتے تھے بیتھم ٹاور، برمنگھم کے 35 سالہ سزا یافتہ لوگوں کے سمگلر مائی وان نگوین کی سرگرمیوں کے بارے میں NCA کی تحقیقات کے بعد پہلے گینگ کو ختم کر دیا گیا۔

    اس نے ایک مجرمانہ نیٹ ورک کی قیادت کی جس میں ساتھی ویت نامی شہری 38 سالہ دونگ ڈِنہ، برمنگھم سے اور 24 سالہ نگیہ ڈِنہ ٹران، لیوشام، لندن سے، تارکینِ وطن کو کام پر لگا کر استحصال کرنے کے لیے شامل تھے۔

    جنوری اور فروری 2025 میں برمنگھم کراؤن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت ہوئی کہ کس طرح شمریز اختر اور تساور حسین، دونوں 50 سالہ اور برمنگھم سے ہیں، ٹیکسی ڈرائیور تھے جو تارکین وطن کو گینگ کے لیے مختلف املاک کے ارد گرد منتقل کرتے تھے، جنہیں ایک وقت میں سینکڑوں پاؤنڈ ادا کیے جاتے تھے،موقع پر وہ کھیتوں کے لیے بھنگ یا سامان بھی لے جاتے۔

    گینگ کا چھٹا رکن، برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ امجد نواز نے ایک مڈل مین کے طور پر کام کیا، اور وہ نگوین کے ساتھ کارکنوں، بھنگ کی خرید و فروخت اور برمنگھم میں استعمال ہونے والی جائیدادوں کے انتظامات کے بارے میں باقاعدہ بات چیت کرتا تھا۔

    ان کے مقدمے کی سماعت اسمگلنگ کا شکار ہونے والے ایک شخص سے ہوئی، جس کا نام صرف ‘وٹنیس زیڈ’ ہے، ایک ویتنامی شہری ہے جس کا نومبر 2020 میں کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کے بعد گینگ نے استحصال کیا تھا گواہ زیڈ نے بھنگ کی کئی فصلوں میں کام کیا، اس نے کہا کہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ ان لوگوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا تھا جنہوں نے اسے برطانیہ پہنچایا تھا۔

    جون 2021 میں اسے کلیولینڈ پولیس کے افسران نے ہارٹل پول کے ایک گھر پر ایک فارم پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا افسران کو اندر سے سونے کے کمرے کے دروازے پر ایک نوٹ ملا جس میں لکھا تھا کہ "جو آپ چاہتے ہیں لے لو، براہ کرم مجھے مت مارو، مجھے انگریزی نہیں آتی”، اور ایک تارکین وطن سے ہاتھ سے لکھی ہوئی ڈائری کا اقتباس جس میں وہ پوچھتے ہیں کہ "مجھے کیوں مارا پیٹا گیا اور کام پر مجبور کیا گیا؟”

    NCA کی تحقیقات کے دوران نیٹ ورک سے منسلک بھنگ کے فارم ویسٹ مڈلینڈز میں ٹپٹن، کوونٹری اور ایجبسٹن، ڈربی، ہارٹل پول، لندن میں ایسٹ ہیم اور چیشائر میں گیٹلی میں پائے گئے برمنگھم کے ہال گرین میں ایک اور پراپرٹی سے کٹی ہوئی بھنگ برآمد ہوئی۔

    Nguyen اور Tran دونوں نے بھنگ پیدا کرنے کی سازش کرنے کا اعتراف کیا، لیکن دوسروں نے اس الزام سے انکار کیا تمام چھ افراد نے استحصال کے لیے اسمگلنگ کے الزامات سے انکار کیا، لیکن پیر 24 فروری کو، برمنگھم کراؤن کورٹ میں سات ہفتے کے مقدمے کی سماعت کے بعد، تمام چھ افراد کو تمام الزامات کا مجرم پایا گیا جمعہ 4 جولائی کو نگوین کو 15 سال، ڈنہ کو 14 سال، ٹران کو ساڑھے 11 سال، نواز کو 12 سال، جب کہ حسین اور اختر کو بالترتیب 10 اور ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    دریں اثنا اسی عدالت میں ایک الگ سماعت میں دوسرے منظم جرائم گروپ کے دو دیگر ارکان کو بھی آج سزا سنائی گئی برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ رومن لی نے ایک گینگ کا سربراہ تھا جو رہائشی اور تجارتی املاک میں کم از کم آٹھ فارم چلاتا تھا، ساتھ ہی ساتھ ایک ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی تھی جہاں سامان اور بھنگ کی کٹائی ہوئی تھی۔

    لی نے پراپرٹی ڈویلپر کے طور پر ظاہر کرکے، انہیں خرید کر یا کرایہ پر لے کر جائیدادیں حاصل کیں بعض صورتوں میں عمارتوں کے اردگرد سہاروں کو رکھا گیا تھا، جس سے ایسا لگتا تھا کہ حقیقی استعمال کو چھپانے کے لیے تزئین و آرائش کا کام ہو رہا ہے۔

    لی نے مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ یہاؤ فینگ اور برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ ڈیوڈ قیومی کے ساتھ مل کر جائیدادوں کو منبع کرنے اور چلانے کے لیے کام کیا ان میں کوونٹری کا ایک ناکارہ نائٹ کلب، برمنگھم کا ایک سابقہ ​​عوامی گھر اور لنکاشائر کا ایک پرانا ہوٹل شامل تھا۔ مجموعی طور پر فارم لاکھوں پاؤنڈ مالیت کی بھنگ بنانے کے قابل تھے۔

    قیومی نے ایک بزنس مین کے طور پر اپنا روپ دھار لیا، لی کے ساتھ جائیدادیں خریدنے، کرایہ پر لینے یا سب لیٹ کرنے کے لیے کام کیا، جب کہ فینگ نے گروپ کے لیے ‘آپریشنز مینیجر’ کے طور پر کام کیا، اس بات کو یقینی بنایا کہ فیکٹریاں کام کرتی رہیں اور اندر جو کچھ ہو رہا تھا اسے خفیہ رکھا جائےبہت سے فارموں پر عملہ ویتنامی یا البانیائی غیر قانونی تارکین وطن تھے، جن میں سے کچھ کا ممکنہ طور پر ان کی امیگریشن حیثیت کی وجہ سے استحصال کیا جا رہا تھا جج نے فینگ کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی، قیومی کو تین سال اور چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی لی کو 30 جولائی کو سزا سنائی جائے گی۔

    "آج کی سزا سنائی جانے والی سماعتیں مڈلینڈز اور اس سے باہر کے لوگوں اور کمیونٹیز پر اثر انداز ہونے والے اہم منظم جرائم کے بارے میں NCA کی دو بڑی تحقیقات کا خاتمہ ہیں۔

    "یہ گینگ صنعتی پیمانے پر منشیات کی پیداوار میں ملوث تھے، جو اکثر ان تارکین وطن کا استحصال کرتے تھے جنہیں کام پر لگانے کے واحد مقصد کے لیے برطانیہ میں سمگل یا اسمگل کیا گیا تھا، یا جو قرض ادا کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

    سزا پانے والے مردوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ ان تارکین وطن کو لاریوں یا کشتیوں میں ناقابل یقین حد تک خطرناک طریقوں سے برطانیہ لایا گیا تھا اور پھر انہیں بدترین حالات میں رہنے کے لیے بنایا گیا تھا، اکثر تشدد کے خطرے کے تحت منظم امیگریشن جرائم سے نمٹنا NCA کے لیے ایک ترجیح ہے، اور یہ ایسے معاملات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔

    سزائیں سنائی گئی ہیں وہ ایک انتباہ کے طور پر کام کرتی ہیں، NCA اس میں ملوث مجرم گروہوں کو نشانہ بنانے، ان میں خلل ڈالنے اور ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور ہم ایسا کرنے کے لیے اپنے اختیار میں تمام اختیارات استعمال کریں گے۔”

    یہ ملزمان ایسے کمزور لوگوں کا استعمال کرتے ہیں جو غربت کی وجہ سے برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ویتنام میں اٹھائے گئے قرضوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے سفر کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے بھنگ کی پیداوار میں خود کو شامل کرنے پر مجبور تھے۔ وہ ناسازگار حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور ان کی زندگیوں اور ان کے اہل خانہ کو خطرات لاحق تھے اگر وہ سازشیوں کے مطالبات پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔

    "CPS قانونی کارروائیوں اور سرحد پار تعاون کے ذریعے اس استحصالی تجارت کی حوصلہ شکنی، خلل ڈالنے اور اسے ختم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔NCA کی تحقیقات کو ویسٹ مڈلینڈز، کلیولینڈ، ڈربی شائر، لنکاشائر، ہمبر سائیڈ اور میٹروپولیٹن پولیس فورسز کے ساتھ ساتھ کراؤن پراسیکیوشن سروس اور ہوم آفس امیگریشن انفورسمنٹ کی مدد حاصل تھی۔

  • مختلف علاقوں میں  تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع

    مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 6 اور 7 جولائی کو اسلام آباد ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کشمیر، شمال مشرقی پنجاب ، خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخواہ میں چند مقامات پر تیز /موسلادھار بارش بھی متوقع ہے 06 اور07 جولائی کے دوران موسلا دھار، شدید موسلادھار بارش کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان،ایبٹ آباد، بونیر، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، مردان، اسلام آباد/راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب ،کشمیر اور بلوچستان کے مقامی / بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    شدید بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا، مری، گلیات اورکشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ ہے، شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے، عوام الناس کو احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے اسلام آباد اور گردونواح میں موسم گرم اور شدید حبس / مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں / گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر تیز/موسلادھار بارش بھی متوقع ہے خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور شدید حبس / مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے، تاہم دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑ، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردا ن، ہنگو اور کرم میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    اس دوران چند مقامات پر تیز /موسلادھار بارش بھی متوقع ہے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور شدید حبس / مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے، تاہم مری، گلیات ، راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال، لاہور،شیخوپورہ، قصور، منڈی بہاؤالدین، چنیوٹ اوراوکاڑہ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر تیز /موسلادھار بارش متوقع ہے ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ،ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد ، خوشاب، سرگودھا، ملتان، خانیوال، بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان اورگردونواح میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور شدید حبس رہنے کاامکان ہے، تاہم تھر پارکر، عمر کوٹ، مٹھی، سانگھڑ، خیرپور ،میر پور خاص، دادو اور گردونواح میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش بھی متوقع ہے، اس دوران ساحلی علاقوں سمیت کراچی میں ہلکی بارش/بونداباندی ہو سکتی ہے۔

  • سکھوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر  بھارتی دہشتگردی کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھربے نقاب

    سکھوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھارتی دہشتگردی کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھربے نقاب

    بھارتی حکومت کی جانب سے سکھوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ریاستی دہشتگردی کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گیا ہے، بین الاقوامی جریدے دی گارڈین نے مودی سرکار کی ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کر دیا۔

    35 سالہ سکھ کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی برمنگھم میں مشکوک موت نے بھارتی سرکار پر سوال اٹھا دیئے دی گارڈین کے مطابق مقتول اوتار سنگھ پر بھارتی میڈیا نے مارچ 2023 کے احتجاج کے دوران لندن میں بھارتی پرچم اتارنے کا الزام لگایا تھا، 2016 میں اوتار سنگھ کو بھارتی ایجنسیوں سے زندگی کو خطرہ ہونے کی بنا پر برطا نیہ میں سیاسی پناہ ملی تھی۔

    دی گارڈین کے مطابق مقتول کے والد اور چچا 90 کی دہائی میں خالصتان کی حمایت کرنے پر ماورائے عدالت قتل کر دیئے گئے تھے اوتار سنگھ کے دوست جسوِندر سنگھ کے مطابق اوتار اپنی موت سے کچھ دن پہلے خوفزدہ تھے کہ انہیں ٹریس یا فالو کیا جا رہا ہے، اوتار سنگھ کی والدہ اور بہن کو حکام نے علیحدگی پسند رہنما امرت پال سنگھ کی تلاش کے سلسلے میں حراست میں لے رکھا تھا وکیل پولاک کے مطابق اوتار سنگھ کو زندگی کے خطرے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔

    برطانوی فرانزک ماہر ڈاکٹر ایشلے فیگن ایرل کے مطابق سکھ کارکن کو زہر دیے جانے کا شبہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا،اوتار سنگھ کے اہل خانہ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے اوتار سنگھ کے قریبی عزیز جگجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں جواب چاہیے کہ اتنی دھمکیوں کے باوجود اوتار کی موت کیسے ہوئی؟‘‘

    بھارت اختلافی آوازوں کو خاموش کر کے بین الاقوامی سطح پر اقلیتوں کا قتل عام کر رہا ہے بی جے پی کیمیکل ہتھیار، اعصابی زہر اور ماورائے عدالت قتل سے سکھ تحریک کو کچل رہی ہے اوتار سنگھ کی موت کے بعد چند ہی ہفتوں میں خالصتانی کارکنان کا کینیڈا میں قتل سکھ تحریک کو کچلنے کی مذموم بھارتی سازش ہے، مودی سرکار نے ٹارگٹ کلنگ اور قتل کو اختلاف رائے کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے، مودی کا بھارت اب ریاستی قتل و غارت گری کا عالمی چیمپیئن بن چکا ہے-

  • بھارت کا  آپریشن سندور کے دوران ہلاک فوجی اہلکاروں اور پائلٹس کو اعزازات دینے کا فیصلہ

    بھارت کا آپریشن سندور کے دوران ہلاک فوجی اہلکاروں اور پائلٹس کو اعزازات دینے کا فیصلہ

    بھارتی حکومت نے آپریشن سندور کے دوران ہلاکتوں میں سے 100 سے زائد فوجی اہلکاروں اور پائلٹس کو اعزازات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن سندور کے دوران بھارتی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن ان ہلاکتوں کو تسلیم نہ کر کے بھارتی فوج اور حکومت شدید اندرونی دباؤ کا شکار رہی بھارتی حکومت اور افواج نے ہزیمت سے بچنے کے لیے آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات کو ابتدا میں چھپایا، لیکن اب بھارتی حکومت نے ان ہی چھپی ہوئی ہلاکتوں میں سے 100 سے زائد فوجی اہلکاروں اور پائلٹس کو اعزازات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق صرف لائن آف کنٹرول پر بھارت کو 250 سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا ، ان میں انڈین ایئر فورس یونٹ کے 7 فوجی، 10 انفنٹری بریگیڈ کے جی ٹاپ میں 5 ہلاک اہلکار، اور ہیڈکوارٹر 93 انفنٹری بریگیڈ میں ہلاک ہونے والے 9 فوجی شامل ہیں، جنہیں اب اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔

    بھارتی فضائیہ کے 4 ہلاک پائلٹس، جن میں 3 رافیل طیاروں کے پائلٹس شامل ہیں، کو بھی اعزازات دیئے جائیں گےاسی طرح آدم پور ایئربیس پر مارے گئے جدید ایس 400 دفاعی نظام کے 5 آپریٹرز، ادھم پور ایئربیس اور ایئر ڈیفنس یونٹ پر ہلاک ہونے والے 9 اہلکار، راجوڑی ایوی ایشن بیس میں 2 ہلاک، اور اڑی کے سپلائی ڈپو کے او سی سمیت 4 ہلاک فوجی اہلکار بھی اعزازی لسٹ کا حصہ ہیں،انٹیلیجنس فیلڈ سپورٹ یونٹ نوشہرہ میں ہلاک ایک اہلکار اور 12 انفنٹری بریگیڈ اڑی میں 3 ہلاک اہلکاروں کو بھی اعزازات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق، بھارت نے ابتدا میں اپنی رسوائی اور شکست چھپانے کے لیے فوجی نقصانات کو نہ صرف چھپایا بلکہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لواحقین پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے پیاروں کی تصاویر بھی شیئر نہ کریں، بھارت اب انہی ہلاک فوجیوں کو اعزازات دے رہا ہے جن کی ہلاکتیں کبھی تسلیم نہیں کی گئیں۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب بھارتی حکومت نے آپریشن سندور کے دوران فوجیوں کی ہلاکتوں کو تسلیم ہی نہیں کیا تو اب اندرونی دباؤ میں آ کر اعزازات دینے کا فیصلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی پروفیشنل فوج اپنے شہیدوں اور زخمیوں کو فخر سے یاد کرتی ہے، لیکن ہندوستان نے نہ صرف اپنے نقصانات چھپائے بلکہ اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا، جو کسی بھی فوج کے لیے انتہائی شرمناک اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل ہے۔

  • ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای منظرعام پر آگئے

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای منظرعام پر آگئے

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای طویل عرصے تک انڈرگراؤنڈ رہنے کے بعد منظرعام پر آگئے ہیں۔

    آیت اللہ علی خامنہ ا ی نے ہفتے کے روز تہران کی امام خمینی مسجد میں عاشورہ کی مناسبت سے منعقدہ مذہبی تقریب میں شرکت کی، جو اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد ان کی پہلی عوامی شرکت ہے، 85 سالہ رہنما کی ویڈیو ایرانی سرکاری میڈیا نے نشر کی، جس میں انہیں مسجد میں داخل ہو تے ہوئے دکھایا گیاحاضرین نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا جبکہ خامنہ ای نے ہاتھ ہلا کر اور سر ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دیا، اسرائیل سے جنگ کے آغاز (13 جون) کے بعد وہ عوامی منظرنامے سے غائب رہے تھے اور ان کے تمام بیانات پہلے سے ریکارڈ شدہ نشر کیے جا رہے تھے۔

    22 جون کو امریکہ نے اسرائیلی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے تین اہم جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کہا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں آیت اللہ کہاں ہیں، مگر فی الحال انہیں قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘

    26 جون کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی صدر کی طرف سے ’ایران کے ہتھیار ڈالنے‘ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے قطر میں امریکی اڈے پر حملہ کر کے امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔‘

    ایران اور اسرائیل کے درمیان 24 جون کو جنگ بندی نافذ العمل ہوئی۔ اس کے بعد ایران نے اپنے جوہری مراکز کو پہنچنے والے شدید نقصان کی تصدیق کی اور اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (IAEA) کو ان مراکز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز ایک قانون پر دستخط کیے جس کے تحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کر دیا گیا جس کے بعد ویانا سے تعلق رکھنے والے ”آئی اے ای اے“ کے معائنہ کار تہران چھوڑ کر روانہ ہوگئے”آئی اے ای اے“ کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے جمعہ کے روز کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جلد از جلد دوبارہ رابطہ بحال کرنا چاہتے ہیں تاکہ جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق دوبارہ شروع کی جا سکے۔