Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیں گے،ایرانی صدر

    اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیں گے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا –

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک پیغام میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ سے امن اور سکون کے خواہاں رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں دشمن کی جارحیت کا غیر مشروط خاتمہ اور صہیونی دہشتگردوں کی مہم جوئی کے خاتمے کی یقینی ضمانت اس مسلط کردہ جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہےانہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی جارحیت بند نہ کی گئی تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا جس سے حملہ آور کو اپنے اقدام پر پچھتانا پڑے گا۔

    واضح رہے کہ 13 جون کو صہیونی حکومت نے ایران کے خلاف بلاجواز جنگ چھیڑی، جس میں ایران کے جوہری، عسکری اور رہائشی مراکز پر فضائی حملے کیے گئے، ان حملوں میں درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈر، جوہری سائنسدان اور عام شہری شہید ہوئےان حملوں کے بعد ایرانی افواج نے فوری طور پر جوابی کارروائی شروع کر دی، پاسداران انقلاط کی ایرو اسپیس فورس نے ’وعدہ صادق سوم‘ کے تحت 20 جون تک صہیونی حکومت پر 16 مرحلوں میں جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔

  • حکومت کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    وزارت غذائی تحفظ نے کہا ہے کہ قیمتوں میں توازن اور عوامی سہولت کے لیے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےگزشتہ سیزن میں چینی وافر ذخائر موجود ہونے پربرآمد کی گئی، یہ تاثر غلط ہے کہ ملک میں عوامی ضروریات کے مطابق چینی کی وافر مقدار موجود نہیں۔

    دریں اثنا ملک میں چینی مزید مہنگی ہوگئی، ملک میں چینی کی اوسط قیمت 180 روپے 93 پیسے فی کلو پر پہنچ گئی جبکہ چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 195 روپے فی کلو تک ہوگئی وفاقی ادارہ شماریات نےچینی کی قیمتوں کے نئے اعدادو شمار جاری کردیے، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران چینی کی اوسط قیمت میں3 روپے77 پیسےفی کلوکا اضافہ ہوا ہے۔

    ملک میں چینی کی اوسط قیمت 180 روپے93پیسےفی کلو ہوگئی ہے جبکہ گذشتہ ہفتے چینی کی اوسط قیمت 177 روپے 16 پیسےفی کلو تھی، ایک سال قبل ملک میں چینی کی اوسط قیمت 143روپے 38 پیسےفی کلوتھی۔

  • خود مختار اداروں کو سرپلس منافع قومی خزانے میں جمع کرانے کا پابند کیا جائے،انوشہ رحمان

    خود مختار اداروں کو سرپلس منافع قومی خزانے میں جمع کرانے کا پابند کیا جائے،انوشہ رحمان

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خریداری سے متعلق مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے جبکہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پبلک فنانس منیجمنٹ ترمیمی ایکٹ کی منظوری دے دی ہے-

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا سینیٹر انوشہ رحمان نے پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ میں ترامیم پیش کیں۔

    سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ خود مختار اداروں کو سرپلس منافع قومی خزانے میں جمع کرانے کا پابند کیا جائے، خود مختار اداروں کو اضافی کیش اپنے پاس جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے اور آڈیٹر جنرل کو خودمختار اداروں کے آڈٹ کا اختیار دیا جائے۔

    وزارت خزانہ نے کہا کہ خود مختار ادارے سرپلس منافع نان ٹیکس کی مد میں قومی خزانے میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے، سرکاری اداروں کو پینشن یا پراویڈ نٹ فنڈ سے سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے اور اگر سرمایہ کاری کر سکیں گے تو پینشن فنڈ میں پیسے جمع کروا سکیں گے۔

    سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ خود مختار اداروں کی گرانٹس کو بھی اداروں کی آمدن میں شامل کیا جائے، کمپنیز اور خودمختار اداروں کو پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ کا حصہ بنایا جائے، خود مختار اداروں کو سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

    انہوں نےتجویز دی کہ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ میں ٹرانزیشن پیریڈ کی شق کوختم کیاجائےاور سیکشن 42 کو ایس او ای ایکٹ سےنکال کر پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ کا حصہ بنایا جائے نادرا نے نادرا ٹیکنالوجیز کے نام سے کمپنی بنا لی ہے، نادرا ٹیکنالوجیز اپنی آمدن قومی خزانے میں جمع نہیں کر رہی۔

    وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کے پاس سب سے زیادہ پیسہ ہے اور وہ قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتے۔

    وزارت تجارت حکام نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت کی تجویز ہے، پانچ سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دی جائے گی۔

    حکام وزارت تجارت نے مزید بتایا کہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکسز اور ڈیوٹیز لگائی جائیں گی پہلے سال پرانی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکسز اور ڈیوٹیز لگائی جائیں گی جبکہ پرانی گاڑیوں پر اگلے چار سال میں مرحلہ وار ٹیکسز ختم کیے جائیں گے،چار سال میں پرانی گاڑیوں پر اضافی ٹیکسز ختم کر دیئے جائیں گے، 2026 میں پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے گی۔

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بیگیج اسکیم کے تحت بھی پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مقامی کار مینوفیکچررز کو طویل عرصے سے تحفظ دیا گیا ہے۔

  • ورلڈ بینک کا حکومت پنجاب کے ساتھ ملکر کام کی رفتار مزید بڑھانے پر اتفاق

    ورلڈ بینک کا حکومت پنجاب کے ساتھ ملکر کام کی رفتار مزید بڑھانے پر اتفاق

    لاہور:ورلڈ بینک نے حکومت پنجاب کے ساتھ مل کر 10 سال کے منصوبے پر کام کی رفتار مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،ورلڈ بینک نے تعلیم، صحت، تمام طبقات کی فلاح اور سماجی خدمات کے معیاری کام پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی تعریف کی۔

    وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر سینیر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت ورلڈ بینک کے نمائندگان سے جاری منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا ،ورلڈ بینک نے تعلیم، صحت، تمام طبقات کی فلاح اور سماجی خدمات کے معیاری کام پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی تعریف کی۔

    پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں تین ماہ کی کنٹری اسٹرٹیجی کا جائزہ لیا گیا تعلیم، صحت اور اجتماعی سماجی بہتری کے منصوبوں میں ورلڈ بینک کے فنڈز کی فراہمی کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا ، چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان، چیئرمین پی اینڈ ڈی نبیل احمد اعوان اور تمام محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی، ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں میں پیشرفت اور درپیش مسائل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

    اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ غیر ملکی سرمایہ سے زیر عمل منصوبوں کی روزانہ کی بنیاد پر ڈیش بورڈ پیش رفت کا جائزہ لیتی ہیں، اجلاس نے فنڈز کے شفاف استعمال اور اوورلیپنگ سے بچنے پر اتفاق کیا اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری ڈیٹا اور ڈیلوری سپورٹ پروگرام سماجی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں جبکہ اجلاس میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام، پنجاب ٹورازم فار اکنامک گروتھ اور فیملی پلاننگ پروگرام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور زراعت کے مکمل شعبے کو جدید بنانے میں حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا گیا پنجاب کے تمام دیہا ت میں پانی کی فراہمی کے پائیدار نظام کی اہمیت پر فریقین نے اتفاق کیا، پنجاب کے وسائل کی ترقی اور ڈیجیٹل نظام کے موثر استعمال کے منصوبے میں پیش رفت اور حائل رکاوٹوں پر بھی بات ہوئی۔

    ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی تباہی پر’بوم بوم تل ابیب‘ گانا وائرل

    مریم اورنگزیب نے گفتگو میں کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون اور سماجی بہتری کے لیے سرمایہ کی فراہمی پر شکریہ ادا کرتے ہیں،ورلڈ بینک کے وفد نے پنجاب میں وزیراعلیٰ کی گورننس، منصوبوں پر پیش رفت کی رفتار اور معیار کو سراہا۔

  • اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اسرائیلی عوام کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل کی جارہی ہے-

    اسرائیلی فوج اور حکومت کی جانب سے اگرچہ مسلسل برتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، خاص طور پر فضائیہ کی جانب سے، جو ایرانی فضائی حدود میں باآسانی میزائل داغنے اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن عوامی سطح پر ایک اور قسم کی بحث جاری ہے خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے براہ راست ایران پر حملہ نہ کیا، تو یہ جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو نہ صرف مہنگی بلکہ ناقابل برداشت بھی ہو گی۔

    اس خدشے کا اندازہ تل ابیب کی سڑکوں پر لگے ان بل بورڈز سے بھی ہوتا ہے، جن میں امریکی صدر سے صاف الفاظ میں مطالبہ کیا جا رہا ہے: “Finish the Job” – کام مل کرو، یعنی ایران پر فیصلہ کن حملہ کریں تاکہ جنگ جلد ختم ہو۔

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس جنگ کے دورانیے پر کوئی واضح بات نہیں کی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کئی ہفتے یا مہینے تک بھی جاری رہ سکتی ہے، جو اسرائیل کے لیے سیاسی، عسکری اور معاشی طور پر شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے-

  • ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا کہا کہ ،اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے،تاہم ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا –

    وزیرخارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کسی سے بھی خصوصاً امریکا سے اس معاملے پر مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں،اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف اسرائیلی جرائم میں شراکت دار ہے، موجودہ حالات میں، اور جب تک صیہونی حکومت کے حملے جاری ہیں ہم کسی سے خصوصاً امریکا سے اس معاملے پر مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، ہم نے ان پر واضح کردیا ہے کہ جب تک جارحیت اور حملے جاری رہیں گے، بات چیت یا سفارتکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت حالتِ دفاع میں ہیں، یہ دفاع نہ رکے گا اور نہ روکا جا سکتا ہے، ایران کبھی بھی سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتا جوکہ اسرائیلی کارروائیوں کے برعکس ہے جن میں دانستہ طور پر غزہ میں اسپتالوں پر حملہ کیا گیا۔

    عراقچی سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی ملاقات فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ہونی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی حل تلاش کرنا ہے یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب اسرائیل نے پچھلے ہفتے ایران پر شدید حملے شروع کیے، اور یہ یورپی ممالک کی پہلی بڑی سفارتی کوشش ہے کہ صورتحال کو پرامن انداز میں کنٹرول کیا جائے۔

    برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی، جو اس مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے، انہوں نے کہا کہ "آنے والے دو ہفتوں میں ایک سفارتی حل کا موقع موجود ہے”، یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے بعد کہی۔

  • سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    تبصروں، افواہوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اس خصوصی ملاقات کا مقصد اور نتیجہ دیکھنے کے لئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ آرمی چیف 14 جون سے امریکہ کے دورے پر تھے امریکی صدر سے ان کی ملاقات پہلے ہی سے طے شدہ تھی وائٹ ہائوس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا گیا وہاں صحافیوں کو داخلےکی اجازت نہیں تھی۔ ہمارے سیاستدان اس ملاقات کو لے کر اندر کی خبروں کی تلاش میں کیوں ہیں؟ کچھ ہمارے دانشور بھی اس ملاقات کو لے کر تبصرے کر رہے ہیں جبکہ جمہوریت کو لے کر اگر بات کی جائے توملکی جمہوریت سیاستدانوں کی تلاش میں ہے جمہوریت کو مستحکم کرنے، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کا نعرہ لگانے والوں کی تلاش میں ہے۔ جبکہ جمہور بنیادی مسائل کو لے کر سیاستدانوں کی تلاش میں ہے۔ خود کو ذہین و فطین اور بہت قابل انسان اور سیاستدان سمجھنے والوں سے جمہوریت سوال کر رہی ہے جمہور گرمی کے اس موسم میں لوڈشیڈنگ کی وجہ پوچھ رہی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں اور صحافتی گلیاروں میں وہ بھی ’’میں میں‘‘ کی رٹ لگا رہے ہیں ہم کہنا تو جیسے اس کی شان کے خلاف ہے خود کو برتر سمجھنے کے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے خدا کرے امریکہ جنگ بندی کروانے میں کردار ادا کرے اور کامیاب ہو جائے اگر امریکہ اس جنگ کا حصہ بنا تو خطرہ اس بات کا ہے کہ ایران کا بھی وہی حال ہوگا جو حال ماضی میں عراق کا ہو چکا ہے ایران اسرائیل کی جنگ اسلامی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک کردار اداکریں ایران کے حملوں میں شدت محسوس کی جانے لگی ہے اب تو عالم یہ ہے کہ تل ابیب دھماکوں کی گونج سے لرزہ بر اندام ہے۔ مشرق وسطیٰ کے حالات کے پیش نظر افواہوں سے اور خود ساختہ تبصروں سے باز رہا جائے۔ پاکستان اور اس کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ ادارے مشرق وسطیٰ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں موجود سیاستدان اپنے کردار پر نظر رکھیں وہ جمہوریت اور جمہور کے لئے کیا کر رہے ہیں سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کو وائٹ ہائوس کے کیبنٹ روم میں جھانکنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ دنیا گول ہے جمہوریت کو خطرات لاحق نہیں تاہم جمہوریت کو سیاستدانوں سے خطرہ لاحق ہے۔ ایمانداری اور دیانتداری سے قومی فریضہ ادا کریں تکبر اور غرور سے نکل کر عاجزی اور انکساری کا سبق پڑیں۔

  • ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی تباہی پر’بوم بوم تل ابیب‘ گانا وائرل

    ایران کے ہاتھوں اسرائیل کی تباہی پر’بوم بوم تل ابیب‘ گانا وائرل

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے،دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے-

    اسرائیل جو خود طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے،اب اسے خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہےاس صورتحال پر دنیا بھر میں اسرائیل کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور اسی تناظر میں ’بوم بوم تل ابیب‘ نامی ایک گانا بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

    https://x.com/LucasGageX/status/1935724125617631435

    یہ گانا اطالوی نژاد امریکی شہری لوکاس گیج نے لکھا ہے، جب کہ اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا ہے،گانے میں خاص طور پر اسرائیل اور تل ابیب کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، گانے کے بول میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے برے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑ رہا ہے، پہلے وہ غزہ میں معصوم بچوں کے قتل پر خوش ہوتا تھا اور اب خود اس کا خون بہنے کا وقت آ چکا ہے۔

    سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز لائیو شو چھوڑ کر بھاگ نکلے، ویڈیو

    ’بوم بوم تل ابیب‘ تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا اور سوشل میڈیا صارفین کی جان سے اسے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جاہا ہے-

    وزیراعظم کی پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کیلئے بحری جہاز لینے کی ہدایت

  • ایران پر دباؤ بڑھا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، امریکی اخبار کا انکشاف

    ایران پر دباؤ بڑھا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، امریکی اخبار کا انکشاف

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ایران پر فوجی دباؤ میں اضافہ کیا گیا، تو وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری بم بنانے کا فیصلہ نہیں کیا، حالانکہ اس کے پاس اتنی افزودہ یورینیم موجود ہے جو بم تیار کرنے کے لیے درکار ہوتی ہےانٹیلی جنس اور دیگر امریکی حکام کے مطابق اس حوالے سے ایجنسیوں کا تجزیہ مارچ میں کیے گئے سابقہ جائزے سے تبدیل نہیں ہوا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، پھر بھی ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے کسی حتمی اقدام کے شواہد موجود نہیں ہیں اگر امریکی فوج فردو میں ایران کے زیر زمین یورینیم افزودگی کے مرکز پر حملہ کرتی ہے یا اگر اسرائیل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرتا ہے تو ایسی صورت میں ایرانی قیادت جوہری بم بنانے کی جانب قدم بڑھا سکتی ہے۔

    خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت صرف جوابی حکمتِ عملی کے تحت ایٹمی ہتھیار کی تیاری پر مائل ہو سکتا ہے، جو خطے اور دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہوگا۔

    تاہم امریکا اور اسرائیل میں ایران کے سخت ناقدین کا ماننا ہے کہ تہران پہلے ہی اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ بن چکا ہے، اس لیے یہ بحث کہ ایران نے بم بنانے کا فیصلہ کیا یا نہیں، ان کے نزدیک غیر متعلقہ ہے ایران کے جوہری ارادوں پر یہ بحث ایک طویل عرصے سے امریکی پالیسی حلقوں میں تنازع کا باعث رہی ہے، اور اب یہ معاملہ اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے جب صدر ٹرمپ فردو پر حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

  • وزیراعظم کی پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کیلئے بحری جہاز لینے کی ہدایت

    وزیراعظم کی پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کیلئے بحری جہاز لینے کی ہدایت

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کے لیے لیز پر بحری جہاز لینے کی ہدایت کر دی۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے امور پر جائزہ اجلاس ہوا اجلاس کے دوران، وزیراعظم نے کہا کہ پی این ایس سی کے بیڑے میں بحری جہاز کم ہونے کی وجہ سے سمندر کے راستے تجارت پر قومی خزانے سے سالانہ 4 بلین ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دو ہفتے کے اندر اندر پی این ایس سی کا بزنس پلان پیش کیا جائے جس میں قومی خزانے سے سالانہ 4 بلین ڈالر کا بوجھ ختم کرنے کا لائحہ عمل شامل ہو۔

    پی این ایس سی کی کارکردگی پر بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ادارے کے پاس مختف نوعیت کے 10 بحری جہاز ہیں، جو کہ 7لاکھ 24ہزار643 ٹن کارگو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری اور پی این ایس سی کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔