Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • تھائی وزیراعظم  کی پڑوسی ملک کے سابق سربراہ سے کال لیک کا معاملہ شدت اختیار کر گیا

    تھائی وزیراعظم کی پڑوسی ملک کے سابق سربراہ سے کال لیک کا معاملہ شدت اختیار کر گیا

    تھائی لینڈ کی وزیراعظم پیتونگتارن شیناوترا کی ایک خفیہ فون کال لیک ہونے کے بعد عوامی غصہ بڑھ گیا،دارالحکومت بینکاک میں سینکڑوں افراد نے ’گورنمنٹ ہاؤس‘ کے باہر مظاہرہ کیا اور وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

    لیک آڈیو میں پیتونگتارن کو کمبوڈیا کے سابق وزیراعظم ہُن سین سے بات کرتے ہوئے سنا گیا، جہاں وہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع پر بات کر رہی تھیں۔ اس تنازع میں مئی میں ایک کمبوڈین فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔ فون کال میں انہوں نے ہُن سین کو ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کیا اور ایک تھائی فوجی جنرل کو ’شو آف‘ کرنے والا شخص قرار دیا۔

    پیتونگتارن نے ایک پریس کانفرنس میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نیت صرف امن قائم کرنا تھی، لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کال لیک ہو جائے گی،جبکہ سب سے بڑی اتحادی جماعت، ’بوم جے تھائی پارٹی‘، نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی، جس سے حکومت کی پارلیمنٹ میں اکثریت خطرے میں پڑ گئی۔

    اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    حزبِ اختلاف کی جماعت ’پیپلز پارٹی‘ نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہےتھائی فوج نے بھی وزیراعظم کی باتوں پر ناراضی ظاہر کی ہے اور ایک بیان میں ’جمہوریت سے وابستگی‘ اور ’قومی خودمختاری کے دفاع‘ پر زور دیا تھائی لینڈ کی تاریخ میں 12 سے زائد فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں، اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ موجودہ بحران ایک اور بغاوت کو جنم دے سکتا ہے۔

    دارالحکومت بینکاک میں سینکڑوں افراد نے ’گورنمنٹ ہاؤس‘ کے باہر مظاہرہ کیا اور وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا،تھائی وزارتِ خارجہ نے کمبوڈیا کے سفیر کو طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا سابق کمبوڈین وزیراعظم ہُن سین نے کال کی مکمل 17 منٹ کی ریکارڈنگ اپنے فیس بک پر اپلوڈ کر دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز لائیو شو چھوڑ کر بھاگ نکلے، ویڈیو

  • سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز لائیو شو چھوڑ کر بھاگ نکلے، ویڈیو

    سائرن بجتے ہی اسرائیلی اینکرز لائیو شو چھوڑ کر بھاگ نکلے، ویڈیو

    ایران کی جانب سے میزائل حملے کے خطرے کے باعث اسرائیلی نیوز چینل 14 کے اینکرز اور مہمان براہِ راست نشریات کے دوران سائرن بجتے ہی خوفزدہ ہو کر اسٹوڈیو سے بھاگ نکلے،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی میزائل حملے کا سائرن بجا، اسٹوڈیو میں موجود میزبان، مہمان اور پروڈیوسر فوری طور پر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ نکلے اور پروگرام اچانک بند ہوگیا۔

    https://x.com/AmnaAmnaamir/status/1935679798019305704

    ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ "لائیو اسرائیلی ٹی وی مباحثے کے دوران جیسے ہی ایرانی میزائلوں کا الرٹ آیا، اینکر اور مہمان پروگرام چھوڑ کر دوڑ گئے،اس واقعے کو سوشل میڈیا پر کافی مزاح اور تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سرکاری چینل کی اینکر سحر امامی نے کچھ دن قبل اسرائیلی حملے کے باوجود کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نشریات جاری رکھیں، حملے کے تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ اسٹوڈیو آئیں اور پروگرام کو بحال کیا،ایرانی رپورٹرز کے مطابق وہ لوگ آخری لمحے تک نشریاتی فرائض انجام دیتے رہے،سوشل میڈیا صارفین نے سحر امامی کے حوصلے کو خوب سراہا اور کہا کہ جنگی صورتحال میں بھی جان کی پرواہ کئے بغیر پیشہ ورانہ ذمہ داری کو نبھانا قابل تحسین عمل ہے۔

  • اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا-

    قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ کو امن و امان سے متعلق اجلاس کے موقع پر گورنر ہاؤس کے دروازے بند تھے، جس کے باعث اہم اجلاس منعقد نہ ہو سکا اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ، آئی جی، چاروں ڈی آئی جیز، سی ٹی ڈی اور دیگر افسران کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم دفاتر نہ کھلنے پر اویس قادر شاہ اور دیگر افسران کو واپس جانا پڑا۔

    اویس قادر شاہ نے صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ذمہ داریوں سے روکنا عہدے کی توہین ہے، دفاتر بند رکھنا آئینی عمل میں مداخلت ہے، گورنر ہاؤس کا عملہ سندھ حکومت سے تنخواہیں لیتا ہے لیکن ایسی رکاوٹیں شرمناک ہیں۔

    واقعے کے بعد قائم مقام گورنر سندھ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا اور ایک درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری 2 جون سے بیرون ملک ہیں اور اویس قادر شاہ بطور قائم مقام گورنر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر انہیں گورنر ہاؤس میں دفتری امور سے روکا جا رہا ہے، جو آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے،درخواست کے ساتھ ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا گیا، جس میں گورنر ہاؤس عملے کی جانب سے عدم تعاون کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان گورنر ہاؤس نے واقعے کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے وضاحت دی کہ اجلاس کے لیے افسران کانفرنس روم میں موجود تھے اور قائم مقام گورنر کے لیے مخصوص دفتر پہلے ہی تیار تھا اگر مرکزی دفتر استعمال کرنا مقصود تھا تو بروقت اطلاع دی جاتی تو انتظامات مکمل کیے جا سکتے تھے گورنر کامران ٹیسور ی نے پرنسپل سیکرٹری کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت دے دی ہے، گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس ہمیشہ عوام کے لیے کھلا ہے، اور اویس قادر شاہ بطور اسپیکر اور ذاتی حیثیت میں میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔

  • ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ملزم کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ملزم کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    اسلام آباد:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا-

    قاتل عمر حیات کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ حفیظ احمد کی عدالت میں پیش کیا گیا پراسیکوشن کی جانب سے عدنان علی، راجہ نوید حسین اور مظہر بشیر پیش ہوئے۔

    پراسیکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ ملزم کے زیر استعمال گاڑی برآمد ہو چکی ہے اور موبائل فون برآمد کروانا مقصود ہے، ملزم انتہائی چالاک اور جرم کی سنگینی کو سمجھتا ہے اس لیے موبائل فون برآمد نہیں کروا رہا عدالت میں پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ ملزم کا مزید سات یوم کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے،جس پرعدالت نے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے دوبارہ 23 جون کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ ملزم کے خلاف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو قتل کرنے کے الزام میں تھانہ سمبل میں مقدمہ درج ہے۔ ملزم نے گھر میں گھس کے ثناء یوسف کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

    مہاجر ہونا کوئی جرم نہیں یہ ایک کرب ناک مجبوری ہے،مریم نواز

    لاہور ہائیکورٹ کا ٹرائل کورٹس میں گواہوں کے بیانات اردو میں لکھنے کا حکم

    پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

  • مہاجر ہونا کوئی جرم نہیں یہ ایک کرب ناک مجبوری ہے،مریم نواز

    مہاجر ہونا کوئی جرم نہیں یہ ایک کرب ناک مجبوری ہے،مریم نواز

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مہاجر ہونا کوئی جرم نہیں،کوئی شوق سے پناہ گزیں نہیں بنتا، اپنی مٹی چھوڑنا بہت کرب ناک مجبوری ہے۔

    پناہ گزیں افراد کے عالمی دن (ورلڈ رفیوجی ڈے) کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئی شوق سے پناہ گزیں نہیں بنتا، زندگی بچانے کے لیے اپنا آنگن، اپنی مٹی، اپنی چھت چھوڑنا پڑتا ہے مہاجر ہونا کوئی جرم نہیں یہ ایک کرب ناک مجبوری ہے، جنگیں ختم ہو جاتی ہیں مگر مہاجرین کی بے گھری نسلوں تک رہ جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‎فلسطین و شام کے دربدر مہاجرین انسانیت کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ دنیا کو ادراک ہونا چاہیے کہ پناہ مانگنے والا کمزور نہیں ، مظلوم ہوتا ہے پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود فراخ دلی سے لاکھوں مہاجرین کی با عزت طریقے سے میزبانی کی ہے پاکستان ہمیشہ مظلوموں کی آواز بنا ہے ،مہاجرین کی فلاح کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے، دعا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو، ظلم کا خاتمہ ہو اور ہر انسان کو سکون نصیب ہو۔

  • لاہور ہائیکورٹ  کا ٹرائل کورٹس میں گواہوں کے بیانات اردو میں لکھنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا ٹرائل کورٹس میں گواہوں کے بیانات اردو میں لکھنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں ٹرائل کورٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ گواہوں کے بیانات انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تحریر کیے جائیں-

    عدالت نے یہ فیصلہ محمد عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں سنایا تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محمد عرفان پر شہری عبدالناصر کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا الزام ہے، تاہم مقدمے کے دوران اہم قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے گواہوں کے بیانات کا اردو ترجمہ عدالتی ریڈر نے ملزم کی غیر موجودگی میں کیا، جو قانونی خلاف ورزی ہے پریزائیڈنگ آفیسر سے انگلش ٹائپنگ کی غلطی ہوئی جس سے بیان میں تضاد پیدا ہوا قانون کی منشا یہی ہے کہ ماتحت عدالتوں میں اردو زبان کا استعمال کیا جائے اور بیانات گواہوں کی مادری زبان میں درج کیے جائیں، تاکہ شفاف اور درست عدالتی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

    عدالت نے کیس میں موجود تضادات اور ترجمے کی خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا ساتھ ہی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی فیصلے کی کاپی تمام ماتحت عدالتوں کے ججز کو فوری طور پر بھجوائی جائے تاکہ آئندہ ایسے نقائص سے بچا جا سکے۔

  • جنرل مجید خادمی پاسدارانِ انقلاب کے نئے انٹیلی جنس چیف  مقرر

    جنرل مجید خادمی پاسدارانِ انقلاب کے نئے انٹیلی جنس چیف مقرر

    ایران نے اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی کے بعد جنرل مجید خادمی کو نیا انٹیلی جنس سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق جنرل خادمی پہلے وزارتِ دفاع میں انٹیلی جنس پروٹیکشن آرگنائزیشن کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور حساس سیکیورٹی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں یہ تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے حالیہ دنوں میں اسرائیل نے تہران پر حملے کیے تھے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی سینئر افسران شہید ہوئے۔

    https://x.com/TehranTimes79/status/1935785090400788642

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اتوار کے روز کیے گئے اسرائیلی حملے میں انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی، ان کے نائب جنرل حسن محقق اور ایک اور اعلیٰ افسر جنرل محسن باقری شہید ہوئے تھے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل مجید خادمی کی تقرری ایران کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی فوری بحالی اور اسرائیلی خطرات کا مؤثر جواب دینے کی کوششوں کا حصہ ہے ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اعلیٰ سطح پر انٹیلی جنس و دفاعی قیادت کی تبدیلی اسی عزم کا مظہر ہے۔

  • بھارت دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے راستے پر گامزن ہے، منیب احمد

    بھارت دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے راستے پر گامزن ہے، منیب احمد

    پاکستان کے نمائندے منیب احمد نے بھارتی جھوٹے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے میں بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے۔

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ پر ’انٹریکٹیو ڈائیلاگ‘ کے دوران جوابی حق کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے نمائندے منیب احمد نے بھارتی جھوٹے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے میں بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے بھارت نے واقعے کی آزاد اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کو مسترد اور تحمل دکھانے کی بین الاقوامی اپیلوں کو نظر انداز کیا-

    منیب احمد نے کہا کہ اس سے پہلے کہ اس کی اپنی تفتیشی ایجنسیاں شواہد کے لیے عوامی اپیل جاری کرتیں، بھارت نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم مزید تیز کر دیا اس سے بھی بدتر یہ کہ بھارت نے پاکستان میں شہریوں، رہائشی علاقوں اور عبادت گاہوں پر جان بوجھ کر اور بلاجواز فوجی حملے کیے‘۔

    منیب احمد نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) اور بین الاقوامی معاہدہ برائے معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق (آئی سی ای ایس سی آر) کے مشترکہ آرٹیکل 1 کے تحت خود ارادیت کے حق پر بھارت کے تحفظات اس (کشمیریوں کے) بنیادی حقوق سے انکار کا ایک بہانہ ہیں، مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر علاقوں پر بھارتی قبضے اور نئی دہلی کے ان علاقوں میں ظلم و ستم کے خلاف بڑی تعداد میں تحریکیں اٹھ رہی ہیں، لیکن بھارت جغرافیائی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے راستے پر گامزن ہے۔

    منیب احمد نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے، اس کا حل مستقبل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا جموں و کشمیر کا خطہ نہ کبھی بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا، یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متناز ع علاقہ ہے جب تک کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق خودارادیت کے اپنے ناقابل تنسیخ حق کا استعمال نہیں کرتے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان، اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے بھارتی سے بات چیت کے لیے تیار ہے اور بھارت کے برعکس ہمارے پاس اس معاملے پر ٹھوس بات چیت کے لیے ثبوت موجود ہیں،پاکستان یا مسلمانوں پر الزامات عائد کرنے کے بجائے ہم بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہندوتوا کی بالادستی کی اپنی حاکمانہ خواہش پر نظرثانی کرے، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرے اور اہم بات یہ کہ ایک عام ملک کی طرح اپنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کا رویہ اپنائے‘۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورہ امریکا کے دوران واشنگٹن ڈی سی میں معروف امریکی تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے محفوظ اور پرامن دنیا کی خاطر بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکا کے سرکاری دورے کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واشنگٹن ڈی سی میں سینئر اسکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندہ اداروں کے ساتھ تفصیلی اور بے لاگ تبادلہ خیال کیا۔

    امریکا کے ممتاز تھنک ٹینکس اور اسٹریٹجک امور کے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ اس ملاقات نے پاکستان کے اصولی موقف کو اہم علاقائی و عالمی امور پر اجاگر کرنے اور پاکستان کے اسٹریٹجک وژن کو بہتر طور پر سمجھانے کا موقع فراہم کیا۔

    آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کے فروغ میں ملک کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا، فیلڈ مارشل نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات اور تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے نقطۂ نظر کی وضاحت کی۔

    فیلڈ مارشل نے بعض علاقائی عناصر کی جانب سے دہشت گردی کو ہائبرڈ وارفیئر کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے منفی کردار پر روشنی ڈالی،آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشت گردی کی خلاف عالمی جنگ کی صفِ اول میں رہا ہے اور اس نے ایک محفوظ اور پرامن دنیا کی خاطر بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی بے پناہ صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، اور کان کنی و معدنیات کے شعبوں میں جو اب تک پوری طرح بروئے کار نہیں لائی گئیں، انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں کو ان شعبوں میں تعاون کے مواقع دریافت کرنے کی دعوت دی تا کہ مشترکہ خوشحالی کے امکانات کو کھولا جا سکے۔

    آرمی چیف نے علاقائی و عالمی تنازعات پر پاکستان کے متوازن مؤقف کی تفصیلی وضاحت پیش کی اور مذاکرات، سفارت کاری، اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا فیلڈ مارشل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرتا رہا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور باہمی سلامتی کے فریم ورک کو فروغ ملے۔

    بات چیت کے دوران پاکستان–امریکا شراکت داری کا بھی جائزہ لیا گیا، آرمی چیف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اشتراکِ عمل کو اجاگر کیا، خصوصاً انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی، اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں، انہوں نے زور دیا کہ باہمی احترام، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات، اور اقتصادی انحصار کی بنیاد پر ایک وسیع تر اور کثیرالجہتی تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔

    شرکا نے آرمی چیف کے مؤقف کی وضاحت اور شفافیت کو سراہا اور پاکستان کی مستقل و اصولی پالیسیوں کی تعریف کی، اس مکالمے کو دوطرفہ اسٹریٹجک گفتگو کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا، یہ ملاقات پاکستان کی شفاف سفارت کاری، عالمی روابط، اور اصولی و فعال مکالمے کے ذریعے پرامن بقائے باہمی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

  • جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت میں مزید 6ماہ کی توسیع کر دی، جو اب 30 نومبر 2025 تک کام کرے گی۔

    پاکستان کی جوڈیشل کمیشن (جے سی پی) نے اکثریتی ارکان کی منظوری سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت 30 نومبر 2025 تک بڑھا دی، اس بینچ کی مدت رواں ماہ ختم ہونے والی تھی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت، 5 نومبر 2024 کو سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس کی ابتدائی مدت 60 دن مقرر کی گئی تھی۔

    بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،بعد ازاں دسمبر میں اس بینچ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی،فروری میں بینچ کو توسیع دے کر اس کے ارکان کی تعداد 13 کر دی گئی تھی، جن میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم کو شامل کیا گیا۔

    جے سی پی نے جمعرات کو دو اجلاس منعقد کیے،کمیشن نے 23 جولائی سے مزید چھ ماہ کے لیے توسیع کی منظوری دی اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا کو نامزد کیا، جب کہ جسٹس آغا فیصل اور جسٹس ثنا اکرم منہاس کی جگہ لی گئی۔