Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔

    بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے،بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر ہو گا۔

    سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

    حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔

    سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

  • گھریلو ملازمہ کی مبینہ گینگ ریپ ، اسقاط حمل کے دوران ہلاکت، مالکان کو دوبارہ شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ

    گھریلو ملازمہ کی مبینہ گینگ ریپ ، اسقاط حمل کے دوران ہلاکت، مالکان کو دوبارہ شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ

    لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی اور اسقاط حمل کے بعد گھریلو ملازمہ کی ہلاکت کے مقدمے میں دفعہ 302 شامل کیے جانے کے بعد مالکان کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مرنے سے قبل ویڈیو بیان میں لڑکی نے بتایا کہ نومبر2025 میں حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا جس کے بعد اس نے یہ والدین کو بھی بتایا لڑکی کےتحریری اور ویڈیو بیان پر اجتماعی زیادتی کامقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل کی دفعات کا اضافہ بھی کردیا گیا۔

    پولیس کے مطابق کیس کی ازسرِ نو تفتیش کے لیے مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ قتل کی دفعات شامل ہونے پر تفتیش جینڈر سیل سے انویسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دی گئی ہے، مالکان کو متاثرہ لڑکی کے عدالتی بیان کے بعد زیادتی کی دفعات میں بے گناہ قرار دیا گیا تھا کیس کی رپورٹ مر تب کرکے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو بھجوا دی گئی ہےمبینہ زیادتی کے مقدمے میں ایک ملزم ڈرائیور حسن گرفتار ہو چکا ہے، جسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جا چکا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ ملازمہ نے انتقال سے قبل عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرایا تھا، تاہم اس بیان میں اس نے مالکن کے بیٹے کو ملزم قرار نہیں دیا اسقاط حمل کے ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی طبیعت فیصل آباد میں خراب ہوئی، جس کے بعد اسے علاج کے لیے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا۔

    لاہور پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ موت کی حتمی وجوہات کا تعین کرے گی، جبکہ اسقاط حمل کے لیے آپریشن کرنے والے نجی اسپتال کے خلاف شواہد ملنے پر کارروائی کی جائے گی معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی اور جینڈر سیل کی غفلت سامنے آنے کی صورت میں محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

  • سونے کی مقامی اور عالمی قیمتوں میں اضافہ

    سونے کی مقامی اور عالمی قیمتوں میں اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونا 3944 روپے مہنگا ہونے کے بعد 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے کا ہو گیا ہے، جبکہ فی تولہ سونے کی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سو نے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں سونا 46 ڈالر بڑھ کر 4540 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان کے باعث سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے مقامی مارکیٹ میں بھی اسی عالمی رجحان کے اثرات سامنے آ رہے ہیں سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان نے بھی سو نے کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد زیورات کی مارکیٹ میں بھی صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور خریداروں کی دلچسپی میں کمی دیکھی جا رہی ہےماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔

  • آج مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ  ملک میں داخل ہوگا

    آج مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا

    پنجاب بھر میں آج سے 5 جون تک بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے اثرات کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش متوقع ہے بعض مقامات پر موسلا دھار بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہےبارشوں کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے، تاہم چند علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش سے معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہےممکنہ خطرات کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

  • آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار آم ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خبروں میں ہیں ماہرین کے مطابق فروٹ فلائیز (پھلوں پر حملہ کرنے والی چھوٹی مکھیاں) آموں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور گھریلو صفائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحال ہی میں بھارت میں آموں کے سیزن کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب جاپان نے وہاں سے آموں کی درآمد پر عارضی پابندی لگا دی۔

    یہ فیصلہ بھارت میں آموں کی برآمد کے لیے منظور شدہ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مرکز کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی اور حفظانِ صحت سے متعلق خامیوں کے بعد کیا گیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھلوں کو کیڑوں سے پاک کرنے والے مراکز کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگن پلی جیسی مشہور اقسام کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جاپانی قرنطینہ حکام نے مارچ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے رحمان پور میں واقع وی ایچ ٹی مرکز کا معائنہ کیا، جہاں دھونی کاری اور جراثیم کشی کے طریقۂ کار میں بعض خامیاں پائی گئیں دوطرفہ برآمدی معاہدے کے تحت جاپان بھیجے جانے والے تمام آموں کے لیے وی ایچ ٹی عمل سے گزرنا لازمی ہے تاکہ پھل کیڑوں اور فروٹ فلائی کے لاروؤں سے پاک ہو۔

    معائنے کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد جاری ہونے والے تصدیقی سرٹیفکیٹس کے حامل آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جاپانی حکام مطمئن نہیں ہو جاتے کہ متعلقہ مرکز مطلوبہ عملی اور نباتاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے مالی سال 25-2024 کے دوران قریباً 30 ہزار ٹن آم عالمی منڈیوں کو برآمد کیے، جن سے لگ بھگ 5 کروڑ 65 لاکھ ڈالر آمدنی حاصل ہوئی جاپان کو تازہ اور پراسیس شدہ آموں کی برآمدات کا حجم قریباً 15 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہا، جس میں گجرات کے کیسر آم کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔

    واضح رہے کہ جاپان نے 1986 میں بھی فروٹ فلائی کے خدشات کے باعث بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی طویل سائنسی جائزوں، نگرانی کے نظام اور وی ایچ ٹی سہولیات کی بہتری کے بعد 2006 میں بھارتی آموں کو دوبارہ جاپانی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

    موجودہ برآمدی انتظامات کے تحت بھارت کو الفانسو، کیسر، بنگان پلی، لنگڑا، چونسہ اور مالیکا سمیت 6 اقسام کے آم جاپان برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے یہ آم آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں قائم منظور شدہ مراکز سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

    ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی مکھیاں صرف آموں کو ہی خراب نہیں کرتیں بلکہ ان کے ذریعے پوشیدہ انڈے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں این ڈی ٹی وی کے مطابق اکلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ مکھیاں میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو سے بہت تیزی سے راغب ہوتی ہیں ایک مادہ مکھی ایک وقت میں پانچ سو تک انڈے دے سکتی ہے گرمی اور حبس کے موسم میں یہ انڈے بہت تیزی سے بچے بنتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر ان مکھیوں سے بھر جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور جب یہ زیادہ پک جاتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی خوشبو فروٹ فلائیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے آم ان کے لیے بہترین افزائش گاہ بن سکتے ہیں،بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فرو ٹ فلائیز صرف پھلوں کے قریب رہتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان مکھیوں کی افزائش کے لیے کچن کی سنک، کچرے کے ڈبے اور گیلے کپڑے یا اسفنج سب سے بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ مکھیاں گھروں کے گرم اور نمی والے ماحول جیسے کہ گٹر کے دہانے، کچرا تلف کرنے والی جگہوں اور ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں بہت زیادہ پھلتی پھولتی ہیں، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مکھیاں کاٹتی نہیں ہیں اس لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ فلائیز مچھروں کی طرح کاٹتی نہیں، لیکن یہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

    یہ مکھیاں گندی جگہوں، نالیوں اور خراب کھانے سے خطرناک جراثیم جیسے کہ ای کولائی اور سالمونیلا اپنے ساتھ لاتی ہیں اور جب یہ ہمارے تازہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو یہ جراثیم وہاں منتقل کر دیتی ہیں اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کچن میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں یا اسفنج پر اگر تھوڑا سا بھی کھانا یا مائع رہ جائے تو یہ مکھیاں وہاں کھینچی چلی آتی ہیں، اس لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

    ان مکھیوں سے گھر پر نجات پانے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آم، کیلے یا دیگر پھل جیسے ہی پک جائیں، انہیں باہر رکھنے کے بجائے فریج میں رکھ دیں کیونکہ ٹھنڈا درجہ حرارت ان مکھیوں کو دور رکھتا ہےپھلوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کریں جوس، شربت یا میٹھی اشیاء کے گرنے کی صورت میں فوراً صفائی کریں اس کے علاوہ کچن کو صاف ستھرا رکھنا، گندے برتن جلد دھونا اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر گھر میں فروٹ فلائیز کی تعداد بڑھ جائے تو سیب کے سرکے سے آسان جال تیار کیا جا سکتا ہے ایک چھوٹے پیالے یا بوتل میں سیب کا سرکہ ڈالیں اور اس میں برتن دھونے والے صابن کے چند قطرے ملا دیں۔

    اس پیالے کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ دیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کے سرکے کی میٹھی خوشبو ان مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جیسے ہی وہ سوراخوں کے راستے اندر جاتی ہیں، صابن کے محلول میں پھنس جاتی ہیں یوں چند دنوں میں فروٹ فلائیز کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    گلگت:صدر مسلم لیگ ن نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے علاوہ کسی جماعت نےگلگت بلتستان میں کام نہیں کیا، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا-

    گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔

    انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو، گلگت ائیر پورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کر کے یہاں کے ائیر پورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔

    صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ 2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کر دیاگیا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا،کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے

    انہوں نے کہا کہ یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی،لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے-

    انہوں نے کہا کہ سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی،دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔

  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگادی

    رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگادی

    حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگادی۔

    پولیس کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کاچالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگادی رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

    دوسری جانب ڈی پی او حافظ آباد کامران حمید کا ٹریفک چالان پر شہری کی جانب سے رکشے کو آگ لگانے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا،ڈی پی او کامران حمید نے واقعہ کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا،ڈی پی او کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

  • کراچی سے راولپنڈی جانیوالی تیزگام ایکسپریس  کی  پاور وین میں آتشزدگی

    کراچی سے راولپنڈی جانیوالی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آتشزدگی

    کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق آتشزدگی کا واقعہ خانیوال کے قریب پیش آیا پاور وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا پاور وین کو ٹرین سے الگ کیا گیا اور ریسکیو ٹیموں نے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کرآگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔

    چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

  • گوگل کا  3 کروڑ 20 لاکھ  مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل کا 3 کروڑ 20 لاکھ مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ

    گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں، گوگل کا یہ منصوبہ “ڈی بگ“ پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہےمچھر دنیا کے خطرناک ترین حشرات میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا ،رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔

    فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔

    ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعا ت میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔