Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • آیت اللہ خامنہ ای کی  تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی –

    تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں، نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔

  • ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے-

    ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

    ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے،یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضما نت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • نئی دہلی کے ہوٹل میں آتشزدگی، 21 افراد ہلاک،متعدد زخمی

    نئی دہلی کے ہوٹل میں آتشزدگی، 21 افراد ہلاک،متعدد زخمی

    بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں ایک ہوٹل میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

    بھارتی حکام کے مطابق بدھ کی صبح جنوبی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں واقع ”فلورش اسٹے بی اینڈ بی“ نامی ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ لگنے کےبعد عمارت میں پھنسے افراد میں بھگدڑ مچ گئی دہلی فائر سروس کو صبح تقریباً 9 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیا ں، واٹر ٹینکرز، واٹر باؤزرز اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق آگ اور دھوئیں سے بچنے کے لیے عمارت میں موجود افراد نے شدید خوف و ہراس میں باہر نکلنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دو خواتین کو جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    ریسکیو حکام نے عمارت میں پھنسے 40 سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، ابتدائی طور پر تہہ خانے سے تین افراد کو زندہ نکالا گیا تھا ریسکیو آپریشن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور بعد ازاں حکام نے 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔

    ذرائع کے مطابق ہوٹل کو دہلی حکومت کی بیڈ اینڈ بریک فاسٹ اسکیم کے تحت صرف 6 کمروں کے آپریشن کی اجازت دی گئی تھی، تاہم مبینہ طور پر وہا ں 25 کمرے چلائے جا رہے تھے، جن میں کچھ تہہ خانے میں بھی قائم تھے، اس انکشاف کے بعد حفاظتی ضوابط اور لائسنس کی خلاف ورزیوں کے حوا لے سے سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

    آگ پر قابو پانے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں عمارت کا اگلا حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا، جبکہ کئی منزلوں کی کھڑکیاں دھوئیں اور شعلوں سے سیاہ ہو گئی تھیں آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فائر سیفٹی قوانین پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔

    دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ بھارتی روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

  • امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکا کی معروف یونیورسٹی کی جانب سے مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے امریکی بحریہ کو لاشیں فروخت کر نے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    امریکی ریاست نیواڈا میں میڈیکل کیس مینیجر کے طور پر کام کرنے والی مریم وولپن کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا یعنی یو ایس سی کے ایک طالب علم صحافی کی طرف سے ایک ایسا پیغام ملا جس نے انہیں شدید پریشان کر دیا یہ طالب علم جینیفر نیہرر اس ٹیم کا حصہ تھیں جو اس سنگین الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کو عطیہ کیے جانے والے انسانی جسم مبینہ طور پر امریکی مسلح افواج کو فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ان میں سے کچھ لاشیں اسرائیلی فوج کے سرجنوں کے پاس بھی پہنچائی گئی ہیں.

    مریم وولپن نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا، میری 101 سالہ والدہ جینیٹ کا انتقال 2021 میں ہوا تھا، وہ دوسری جنگ عظیم میں فلائٹ نرس کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا جسم یو ایس سی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب مجھے یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں میری والدہ کا جسم بھی غزہ کی جنگ جیسے تنازعات کے لیے فوجی ٹیموں کی جراحی کی تربیت میں تو استعمال نہیں ہوا.

    اس حوالے سے بنائی گئی دستاویزی فلم ’ڈائریکٹ فرام‘ میں ایسے کئی خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے پیاروں کی باقیات فوجیوں کی تربیت کے لیے استعمال ہوئیں طالب علم صحافیوں کی اس ٹیم نے 2025 میں اس کہانی کو بے نقاب کیا تھا، اور ان کی رپورٹ کے مطابق یو ایس سی سدرن کیلیفورنیا کے ان دو اداروں میں سے ایک ہے جو امریکی بحریہ کو اسرائیلی سرجنوں کی تربیت کے لیے لاشیں فراہم کرتے رہے ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ 2018 سے اب تک یو ایس سی نے امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی معاہدوں کے تحت کم از کم 90 کے قریب تازہ لاشیں فراہم کی ہیں اگرچہ اس اسرائیلی تربیتی پروگرام کی عوامی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن 2020 میں یو ایس سی اور امریکی بحریہ کے انسٹرکٹرز کے لکھے گئے ایک طبی مقالے سے اس عمل کی اندرونی تفصیلات سامنے آتی ہیں.

    اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ان سرجنوں کو جنگ میں جراحی کی مہارت کا چار روزہ کورس کرایا جاتا ہے جو بالکل فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں اس تربیت کے دوران عطیہ شدہ جسموں میں ایک خاص طریقے سے مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل زندہ انسانوں کی طرح نظر آئیں اور میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کی طرح ان کے جسم سے خون بہتا ہوا دکھائی دے.

    اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ان لاشوں پر گولیوں کے زخم اور دھماکا خیز مواد سے لگنے والی چوٹوں کی نقل تیار کر کے فوجیوں کو تربیت دی جاتی ہےاس حساس معاملے پر جب یو ایس سی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس تربیت کے دوران تجربہ کار ٹراما سرجن جراحی کے آلات کی مدد سے پیچیدہ زخموں کے نمونے تیار کرتے ہیں تاکہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے دوسری جانب کئی ماہر سرجنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار عام تعلیمی پروگراموں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انتہائی مخصوص فوجی تربیت کے لیے ہی ہوتا ہے.

    رپورٹ کے مطابق، وفاقی معاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے اور اسرائیلی فوجی ڈاکٹرز 2013 میں ہی اس تربیت کے لیے لاس اینجلس پہنچنا شروع ہو گئے تھےیو ایس سی نے اپنے ایک ای میل جواب میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی فوجی پروگرام ہے، بلکہ اسے ایک تعلیمی کورس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل اسرائیلی طبی عملہ فوج سے تعلق نہیں رکھتا تھا.

    تاہم رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو یعنی یو سی ایس ڈی کی مدد لینا پڑی، اور طلبہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2024 سے 2026 کے اوائل تک 124 لاشیں یو سی ایس ڈی سے یو ایس سی منتقل کی گئیں، یو سی ایس ڈی نے بھی اس با ت کی تردید کی ہے کہ یہ ملٹری ٹریننگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اس کورس کی غلط عکاسی کرتا ہے.

    اس تنازع نے اب عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ عطیہ کے دستاویزات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے جسم امریکی یا غیر ملکی فوج کی تربیت کے لیے استعمال ہوں گے.

    یو ایس سی سے وابستہ ایک ڈاکٹر محمد رعد نے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا مریض کو اس بات کا علم تھا، اور کیا وہ غیر ملکی فوجوں کے ساتھ اس طرح کے طریقہ کار کو جان کر کبھی اس کی اجازت دیتے؟

    اسی طرح جینیفر گومز، جن کی دادی نے 2012 میں اپنا جسم عطیہ کیا تھا، انہوں نے بھی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھاکہ ہم بین الاقوامی افواج کو اپنے خاندان کےجسموں پر تربیت کے لیے یہاں بلا رہے ہیں،خاص طور پر ان افواج کو جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں، میری دادی جیسے لوگ یہ سوچ کر جسم عطیہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہے ہیں، یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کسی ملٹری فورس کو زیادہ طاقتور بنائیں گے.

    اس انکشاف کے بعد انگریزی کی پروفیسر ونڈی سمتھ نے بتایا کہ اب وہ اپنا جسم عطیہ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنا چاہتیں، اور انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں.

    اس تمام صورتحال پر ریسرچ کے حامیوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے لاشوں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن مریم وولپن جیسے لواحقین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس معاملے میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے.

    طالب علم صحافیوں نے یونیورسٹیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، طالب علم صحافی ساشا ریو کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد ایجنڈا صرف سچائی کو سامنے لانا تھا، جبکہ ان کے ساتھی تھامس مٹھی نے بتایا کہ جن خاندانوں سے انہوں نے بات کی ہے وہ اس صورتحال سے شدید صدمے میں ہیں.

    دستاویزی فلم کے سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیلتھ نے اپنے سوال و جواب کے صفحے پر یہ نئی معلومات شامل کی ہیں کہ عطیہ کردہ جسموں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور انہیں ملٹری میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس پر لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے دفاع کی ایک کوشش ہےاس تمام احتجاج کے باوجود، امریکی بحریہ نے یو ایس سی کے ساتھ اس پروگرام کے معاہدوں کی 2029 تک تجدید کا ارادہ ظاہر کیا ہے.

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے سرکردہ AI ڈویلپرز سے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری سائبرسیکیوریٹی ٹیسٹوں کے لیے اپنے انتہائی قابل ماڈلز کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلےوفاقی حکومت کو پیش کریں، ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کیونکہ واشنگٹن میں طاقتور نئے AI سسٹمز جیسے کہ Anthropic’s Mythos پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سےپہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا،اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

    اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

    یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہےسرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والےتھےیہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

    کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا، اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

  • وزیراعظم  نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔

    کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔

    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تا کہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

  • بجٹ 27-2026: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجاویز تیار

    بجٹ 27-2026: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجاویز تیار

    بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز دے دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، جنہیں بجٹ کا حصہ بنایا جا سکتا ہےفائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی سفارش بھی تیار کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاہم آئی ایم ایف ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کر رہا ہے حکومتی مؤقف ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور تعمیرات سے وابستہ شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، حکومت کو امید ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری آئے گی۔

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار  روپے مقرر کرنے کی سفارش

    کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

    اسلام آباد : پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔

    اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے 12.5 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔

    پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

  • اسلام آباد ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ

    اسلام آباد ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ

    اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے سے متعدد بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہو گئیں-

    ترجمان اسلام آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مطابق گلگت جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی کے 603 ،جدہ جانے والی ایئرسیال PF 728 ،دبئی جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی کے 211 کی روانگی منسوخ ہوئی-

    اسی طرح کوئٹہ جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی کے 325 ،کابل جانے والی کام ایئر RQ 928 ،کراچی جانے والی فلائی جناح 9ص 677 منسوخ ہوئی،کراچی کے لئے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی کے 369 کی روانگی منسوخ ہوئی،علاوہ ازیں کوئٹہ کے لئے فلائی جناح 9ص 860 ،ریاض جانے والی ایئر بلیو PA 274 منسوخ ہوئی-

    جبکہ کراچی کیلئے فلائی جناح 9ص 675،جدہ کے لئے ایئرسیال PF 718 ، کراچی کیلئےپاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی کے 319،کوالالمپور کیلئے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پی کے 894،ابوظہبی کیلئے ایئر بلیو PA 230 اور جدہ کیلئے ایئر بلیو | پی اے 272 بھی منسوخ کی گئیں-

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع

    اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع

    اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

    انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے اوقات کار کے مطابق اسلام آباد میں دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے ریسٹورینٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے جب کہ ٹیک اوے اورڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی اس کے علاوہ شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اورٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔