Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ

    خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا،امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 97 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے،اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 95 ڈالر اور یو اے ای مربن کی فی بیرل قیمت 96 ڈالر ہو گئی۔

    ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، سپلائی سے متعلق خدشات اور عالمی طلب میں اضافے کے باعث سامنے آئی ہے۔

    امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا،گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔

    فوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی،دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔

  • 80 ہزارافراد کو سمندر میں بسانے کی تیاری

    80 ہزارافراد کو سمندر میں بسانے کی تیاری

    دنیا کے سب سے بڑے تیرتے ہوئے شہر کی تعمیر کا منصوبہ ،جسے ایک مکمل شہر کی حیثیت بھی حاصل ہوگی –

    ’’فریڈم شپ‘‘ نامی یہ مجوزہ منصوبہ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا بلکہ اسے ایک مکمل شہر کی حیثیت بھی حاصل ہوگی جہاں بیک وقت 80 ہزار افراد رہ سکیں گے فریڈم شپ کی لمبائی تقریباً ایک میل، چوڑائی 800 فٹ اور اونچائی 30 منزلہ عمارت کے برابر ہوگی اس دیوہیکل بحری شہر کی تعمیر پر تقریباً 12 ارب پاؤنڈ لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    جہاز میں 50 ہزار مستقل رہائشیوں کے لیے گھر موجود ہوں گے جبکہ 10 ہزار سیاحوں اور روزانہ آنے والے مہمانوں کے لیے بھی جگہ مختص ہوگی۔ اس کے علاوہ 20 ہزار افراد پر مشتمل عملہ اس شہر نما جہاز کے انتظامات سنبھالے گا،فریڈم شپ میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ تحقیقی اسپتال، اسکول، کالج، شاپنگ مالز، ریستوران، بینک، تجارتی مراکز اور مالیاتی ادارے قائم کیے جائیں گے منصوبے میں ایک 15 ہزار نشستوں والا اسپورٹس اسٹیڈیم، واٹر پارک، دو عجائب گھر، سمفنی ہال، کانفرنس سینٹر اور متعدد بلند و بالا ہوٹل بھی شامل ہیں۔

    city

    رہائشیوں اور سیاحوں کی تفریح کے لیے ایک وسیع ایکویریم، جدید نائٹ کلب، دو منزلہ فوڈ ہال اور سرسبز پارکس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ جہاز کے اندر مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے ٹرام سسٹم متعارف کرایا جائے گا جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے 15 میل طویل واک ویز اور تین ایکڑ پر مشتمل سبزہ زار بنائے جائیں گے۔

    فریڈم شپ کسی بندرگاہ پر مستقل طور پر نہیں رکے گا بلکہ بین الاقوامی سمندری حدود میں رہے گا اور تقریباً ہر دو سال بعد پوری دنیا کا چکر مکمل کرے گا چونکہ اس کا حجم موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہوگا، اس لیے مسافروں کو ساحل تک پہنچانے کے لیے خصوصی فیری سروس استعمال کی جائے گی۔

    فریڈم شپ کا تصور پہلی مرتبہ 1990 کی دہائی میں امریکی انجینئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا اب فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو راجر گوچ نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کا اعلان کیا ہے اس منصوبے میں دلچسپی اتنی زیادہ ہے کہ بیک وقت تین ایسے جہاز بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

    منصوبے کے مطابق جہاز کی تعمیر انڈونیشیا میں کی جائے گی اور اسے مختلف حصوں میں تیار کرکے سمندر میں جوڑا جائے گا، تعمیر مکمل ہونے میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں، تاہم انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ لوگ تعمیر کے دوران ہی اس پر رہائش اختیار کرنا شروع کر سکیں گے فریڈم شپ کو ماحول دوست منصو بہ بھی قرار دیا جا رہا ہے منتظمین کے مطابق اسے ممکنہ طور پر جوہری توانائی سے چلایا جائے گا جس سے کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی ساتھ ہی سمندر وں کی صفائی اور ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو فریڈم شپ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا بلکہ انسانی تاریخ کا پہلا مستقل تیرتا ہوا شہر بھی بن جائے گا جو رہائش، کاروبار، تعلیم اور تفریح کا ایک منفرد عالمی مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔

  • دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے عالمی پیشگوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکا ن 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیا تی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے، بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکا میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے،ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر 2سے7 سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

    صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتےعوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی، یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی، اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا،بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا،اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفانی بارش،20 سے زائد افراد زخمی

    سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفانی بارش،20 سے زائد افراد زخمی

    سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں،طوفان اور بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا –

    رپورٹس کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید مٹی کے طوفان اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے شدید گرمی کی لہر کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے اس موسم کی تبدیلی کے نمایاں اثرات سامنے آئے ہیں-

    اسلام آباد ،لاہور ،جہلم،سرگودھا ،گجرات ،رحیم یار خان ، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی ہے خیبرپختونخوا میں تیز ہوا ئیں،طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئےتھرپارکر میں بارش اور سکھر میں ژالہ باری ہوئی جبکہ لاڑکانہ ،حیدرآباد، مٹیار ی، ہالہ،نیو سعیدآباد ، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچائی، جبکہ تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پارا چنار، ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی، تھرپارکر اور دیگر علاقوں میں بھی متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے ہیں۔

  • قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں –

    آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.

    ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا،ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا، ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

    امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے،یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.

    اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.

  • لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جب کہ 2005 میں طلاق ہوگئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کرسکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے، کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جب کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا،لاہور ہائیکورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

  • حزب اللہ  اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی تجویز کے تحت جزوی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

    لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے رابطے کے بعد لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کی سفیر ندا معوض کو بتایا کہ نیتن یاہو بھی اس منصوبے پر آمادہ ہیں۔

    واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کے مطابق حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی جبکہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے بند کرے گا، منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو پورے لبنان تک توسیع دینے پر بات چیت کی جائے گی، اس سے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہےاعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانےکا امکان ہےقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔