Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • اسرائیل اور ایران کی دشمنی کیسے شروع ہوئی؟

    اسرائیل اور ایران کی دشمنی کیسے شروع ہوئی؟

    تاریخ گواہ ہے کہ سنہ 1979 تک اسرائیل اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی خوشگوار تھے ۔ ان تعلقات میں دراڑ انقلاب ایران کے بعد آئی ۔ 1948 میں جب عالمی طاقتوں نے فلسطین کی تقسیم کا منصو بہ پیش کیا تو ایران نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی ایران کی مخالفت کے باوجود عالمی طاقتوں نے اپنے اس منصوبے پر عملدرآمد کیا اور یوں 1948 میں اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی مصر کے بعد ایران وہ دوسرا اسلامی ملک تھا جس نے اسرائیل کو فوری طور پر تسلیم کیا تھا۔اس وقت ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت تھی ۔

    پہلوی خاندان مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہم اتحادیوں میں شامل تھا۔ اسرائیل کے پہلے سربراہ ڈیوڈ بین گورین نے پڑوسی عرب ریاستوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جب ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو شاہ ایران نے فوراً اسرائیل کو گلے سے لگا لیا۔ سنہ 1979 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انقلاب نے شاہ کا تختہ الٹ دیا ۔ایران کی اس نئی حکومت نے نہ صرف امریکا کی مخالفت کا نعرہ بلند کیا بلکہ امریکا کے اتحادی اسرائیل کو مسترد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ نئی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لیے۔اسرائیلی شہریوں کے پاسپورٹ کو تسلیم کرنا بند کر دیا تہران میں اسرائیلی سفارت خانے پر قبضہ کر کے اسے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے حوالے کر دیا۔ پی ایل او اس وقت اسرائیلی حکومت کے خلاف فلسطینی ریاست کی قیادت کر رہی تھی وقت گزرتا گیا اور اسرائیل کے خلاف دشمنی نئی ایرانی حکومت کی شناخت بن گئی۔

    نئے ایران نے خود کو ایک اسلامی طاقت کے طور پر پیش کیا اور اسرائیل کے خلاف فلسطینی مسئلے کو اٹھایا جسے عرب مسلم ممالک بھول چکے تھے ۔ان دنوں تہران میں حکومتی سرپرستی میں فلسطین کے حق میں مظاہرے معمول بن چکے تھے لیکن اس کے باوجود نوے کی دہائی تک اسرائیل نے کبھی ایران کو اپنا دشمن تسلیم نہیں کیا تھا۔کیونکہ اس وقت تک صدام حسین کے عراق کو بڑا علاقائی خطرہ سمجھا جاتا تھا۔

    سنہ 1980 سے 1988 کے درمیان جب ایران عراق جنگ جاری تھی تب اسرائیلی حکومت نے "ایران ۔کنترا” کے نام سے مشہور ایک خفیہ پروگرام کو ممکن بنایا۔ اسرائیل نے اس پروگرام کے ذریعے ایران کو عراق کیخلاف لڑنے کیلئے جدید امریکی اسلحے کی فراہمی یقینی بنائی ۔عراق میں صدام حسین کا اقتدار ختم ہوتے ہی اسرائیل نے ایران کو اپنے وجود کے لیے ایک اہم خطرے کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ۔ کچھ ہی عرصے میں دونوں کے درمیان دشمنی زبانی جنگ سے نکل کر حقیقی جنگ تک چلی گئی۔ اسی دور میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک "شیڈو وار” کا آغاز ہو ا جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے ۔ اس حکمت عملی کے تحت ایران اور اسرائیل سامنے آئے بغیر دوسرے ممالک میں ایک دوسرے کے مفادات پر حملے کر رہے ہیں۔

    ایران اس بات سے آگاہ ہے کہ وہ سنی عرب اسلامی دنیا میں واحد فارسی شیعہ ملک ہے انقلاب کے بعد ایران کو خدشہ تھا کہ ایک دن اس کے دشمن اس کی سرزمین پر حملہ کر دیں گے ۔ اپنی تنہائی کے احساس کے پیش نظر ایرانی حکومت نے ایک حکمت عملی تیار کرنا شروع کی اس حکمت عملی کے تحت پورے خطے میں تہران کے ساتھ منسلک عسکری تنظیموں کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا گیا ۔ ان تنظمیوں میں لبنان کی حزب اللہ سب سے نمایاں ہے جس نے ایرانی مفادات کے تحفظ کیلئے کئی بڑی فوجی کارروائیاں کی ہیں ۔ آج اس ” ایرانی مزاحمت” کا محور‘ لبنان، شام، عراق اور یمن تک پھیلا ہوا ہے۔

    اسرائیل بھی اس عرصے میں خاموش نہیں بیٹھا رہا اس نے ایران اور اس کے اتحادیوں پر کئی بار حملے کیے ۔اس نے بھی خطے میں ایران مخالف مسلح گروہ کھڑے کئے ۔ ان کی مالی معاونت کی ، انہیں ہتھیار اور عسکری تربیت بھی فراہم کی ۔ اس شیڈو وار حکمت عملی کے تحت ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر کئی بار حملے کئے ۔ لیکن دونوں ممالک نے ان حملوں میں شرکت کا باضابطہ اعتراف کبھی نہیں کیا۔

    ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہمیشہ سے اسرائیل کا جنون رہا ہے ۔ وہ شروع دن سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنا چاہتا ہے ۔اسرائیل ایران کے اس موقف پر یقین نہیں کرتا کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے ۔ ماضی میں اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر "سٹکسنیٹ” نامی ایک کمپیوٹر وائرس تیار کیا تھا ۔اس وائرس کے ذریعے اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر خوفناک سائبر حملہ کیا اور انہیں شدید نقصان پہنچایا۔ اسرائیل نے کئی بار ایران کے جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے ۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ قابل ذکر واقعہ محسن فخری زادہ کا سنہ 2020 میں قتل تھا۔ فخری زادہ کو ایرانی جوہری پروگرام کا ستون کہا جاتا تھا۔ اسرائیل کی حکومت نے کبھی بھی ایرانی سائنسدانوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا اعتراف نہیں کیا۔
    دوسری جانب اسرائیل پر جب بھی کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے یا اس کی سرزمین پر کوئی راکٹ داغا جاتا۔ اسے ان حملوں کے پیچھے ہمیشہ ایران کھڑا نظر آتا ہے ۔ اسرائیل نے کئی بار ایران پر سائبر حملوں کے الزامات بھی عائد کئے ہیں ۔سنہ 2011 میں شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی اسرائیل اور ایران کی اسی محاذ آرائی کا نتیجہ تھی ۔مغربی انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والے باغیوں کے خلاف لڑنے کیلئے رقم، ہتھیار اور انسٹرکٹر بھیجے ۔ ایران کے اس اقدام کو اسرائیل نے اپنے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھا ۔ وہ ایک عرصے سے دعویٰ کرتا چلا آ رہا ہے کہ ایران شام کے راستے لبنان میں حزب اللہ کو اسلحہ اور دیگر سازوسامان پہنچا رہا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے اسرائیل اور ایران دونوں نے شام میں متعدد کارروائیاں کیں جن کا مقصد ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر حملے کرنے سے باز رکھنا تھا۔

    یہ ’شیڈو وار‘ سنہ 2021 میں زمین سے سمندر تک پہنچ گئی۔ اس سال خلیج عمان میں اسرائیلی جہازوں پر حملہ ہوا۔ اسرائیل نے ان حملوں کا الزام ایران پر لگایا ۔ اس کے بعد بحیرہ احمر میں ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس پر ایران نے اسرائیل کو موردالزام ٹھہرایا۔سات اکتوبر کو حماس نے جب اسرائیل کے خلاف حملوں کا آغاز کیا۔ تب سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ تنازع خطے میں ایک سلسلہ وار ردعمل کو ہوا دے گا۔ اور پھر ایک دن ایسا آئے گا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست ٹکرائو ہوگا ۔ آج یہ خدشات حقیقت میں بدل چکے ہیں۔غزہ،شام اور لبنان کے بعد اسرائیل اب تہران پر حملہ آور ہے ۔

    اسرائیلی حملے سے پہلے بہت سے تجزیہ کار سمجھ رہے تھے کہ حماس کے برعکس ایران ایک ریاست ہے اور بہت طاقتور ریاست ہے ۔ لیکن جس طرح اسرائیل نے پہلی اسٹرائیک میں ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت ، ایٹمی تنصیبات اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا ہے اس سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کا کچھ کچھ اندازہ ہو رہا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن عالمی پابندیوں کی وجہ سے وہ ایک عرصے سے معاشی مسائل کا شکار بھی ہے ۔ ان چیلنجز کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت کو عرصہ دراز سے ایک داخلی بحران کا سامنا بھی ہے ۔ حماس اور حزب اللہ میں اب وہ طاقت نہیں رہی کہ وہ اسرائیل کو کوئی نقصان پہنچا سکیں۔

    شام میں”الاسد خاندان” ایران کا اہم اتحادی تھا لیکن آج کل وہ خود پوری دنیا میں پناہ کیلئے مارا مارا پھر رہا ہے ۔ روس ایران کا سٹریٹیجک پارٹنر ہے لیکن وہ تو خود یوکرین میں پھنسا ہوا ہے ۔ ان حالات میں مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے خطے میں کچھ اہم اور بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل شام میں بھی ایک کھیل کھیلا گیا تھا۔ وہی کھیل اب ایران میں شروع کرنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ دیکھتے ہیں ایران اسرائیل کی اس جارحیت کا جواب کیسے دیتا ہے ۔؟

  • اسرائیلی فوج کا مسجد اقصٰی پر دھاوا، نمازیوں کو باہر نکال دیا

    اسرائیلی فوج کا مسجد اقصٰی پر دھاوا، نمازیوں کو باہر نکال دیا

    اسرائیلی فوج نے مسجد اقصٰی پر دھاوا بول کر نمازیوں کو نکال دیا۔

    فلسطینی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی سرپرستی میں اسرائیلی فوج نے جارحیت کی انتہا کرتے ہوئے مسجد پر دھاوا بول دیا،حملے کے بعد تمام نمازیوں کو زبردستی باہر نکال کر مسجد اقصٰی کے داخلی راستے بند کرکے فلسطینیوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔

    بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کی وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں کے دورے کے دوران بن گویر کے ہمراہ اسرائیلی پولیس کے کئی اعلیٰ افسران بھی تھے، جرمن خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس دوران مسجد کے ارد گرد تقریباً سو سکیورٹی اہل کار تعینات کئے گئے تھے۔

    ایران جوہری معاہدہ کرلے ورنہ اگلے حملے مزید وحشیانہ ہوں گے،ٹرمپ کی دھمکی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ عدالت

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی نئی عسکری قیادت کے نام سامنے آ گئے

  • ایران  جوہری معاہدہ کرلے ورنہ اگلے حملے مزید وحشیانہ ہوں گے،ٹرمپ  کی دھمکی

    ایران جوہری معاہدہ کرلے ورنہ اگلے حملے مزید وحشیانہ ہوں گے،ٹرمپ کی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہےکہ وہ جوہری معاہدہ کرلے ورنہ اگلے حملے مزید وحشیانہ ہوں گے، سب سخت گیر ایرانی اب مر چکے اور اب آگے بھی بدتر ہی ہوگا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو کہا تھا معاہدہ کرلو لیکن انہوں نے نہیں کیا، معاہدے کی کوششیں ہوئیں، معاہدے کےقریب بھی پہنچے لیکن وہ معاہدہ نہ ہوسکا ایران کے کچھ سخت گیر عہدیداروں نے بہادری سےبات کی لیکن وہ نہیں جانتے تھےکہ کیا ہونے والا ہے، سب سخت گیر ایرانی اب مر چکے اور اب آگے بھی بدتر ہی ہوگا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے کاموقع دینےکے بعد ایک اور موقع دیاگیا، ایران کومعاہدہ کرلینا چاہیےاس سے پہلے کہ کچھ نہ بچے امریکا دنیا میں سب سے مہلک ہتھیار بناتا ہے اور اسرائیل کے پاس ان ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ہے اور وہ اسے چلانا جانتے ہیں لہٰذا وقت ہے کہ اس صورتحال کا خاتمہ کیا جائے، ورنہ پہلےسےطے شدہ حملے زیادہ سنگین ہوں گے۔

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ عدالت

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوالات کے جوابات طلب کر لیے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے سوال کیا کہ کیا حکومتِ پاکستان امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق عدالتی معاونت کا جواب جمع کروائے گی؟حکومت عافیہ صدیقی کی اپنی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست میں بطور معاون عدالتی بیان جمع کرانے کے لیے تیار ہے تاکہ انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کیا جا سکے؟۔

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ امریکہ میں عدالتی معاونت پر رضا مندی ظاہر کرے، اس جواب میں حکومت نے عافیہ صدیقی کی دائر درخواست کے مندرجات کی حمایت یا تصدیق نہیں کرنی۔

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی نئی عسکری قیادت کے نام سامنے آ گئے

    وکیل عمران شفیق نے کہا کہ حکومت پاکستان سے محض اتنا مطالبہ ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کی درخواست کے مندرجات سے قطع نظر محض مختصر سی استدعا کرے کہ عافیہ صدیقی کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اس معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟، پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان گزشتہ ایک پیشی پر اسی عدالت میں بیان دے چکے ہیں۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل پہلے کہہ چکے ہی کہ حکومت امریکہ میں عدالتی معاونت کی درخواست دائر کرے گی تو پھر اب کیا مسئلہ ہے؟، اگلی سماعت پر حکومتی موقف سے آگاہ کریں اور عدالت کو دلیل سے مطمئن کریں کہ اس میں حکومت کا نقصان کیا ہے؟۔

    گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ جب میاں صاحب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم کو خطوط لکھے کہ عافیہ کی رہائی کے لئے قانونی اقدامات کریں، عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت کے بعد حالات میں ایسی کیا تبدیلی ہے کہ حکمرا ن جماعت کا موقف بدل گیا؟ ایسی نظیریں موجود ہیں کہ حکومت پاکستان ماضی میں ایسے معاون عدالتی بیان داخل کر چکی ہے،جب پہلے معاون عدالتی بیان داخل ہوتے تھے تو اب کیا قانونی پیچیدگی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ہدایات لےکر عدالت کو مطمئن کریں، کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔

  • اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی نئی عسکری قیادت  کے نام سامنے آ  گئے

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی نئی عسکری قیادت کے نام سامنے آ گئے

    سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کو ایرانی مسلح افواج کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر نیوز” کے مطابق، موسوی اس سے قبل ایرانی فوج کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں ملکی سلامتی کی نازک صورتحال میں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اسی حکم نامے کے تحت بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور کو پاسداران انقلاب کا نیا کمانڈر مقرر کر دیا گیا ہے، وہ اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورسز کے کمانڈر تھے۔

    میجر جنرل غلام علی راشد کی شہادت کے بعد، بریگیڈیئر جنرل علی شادمانی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انہیں خاتم‌الانبیاﷺ سینٹرل ہیڈکوارٹرز کا نیا کمانڈر تعینات کیا گیا ہے۔

    گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    یہ تعیناتیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب اسرائیل نے حالیہ دنوں ایران کے جوہری اور عسکری ٹھکانوں پر بڑے حملے کیے ہیں، جن میں متعدد سینئر ایرانی عسکری شخصیات شہید ہوئیں، یہ نئی تقرریاں ایران کی جوابی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں-

    گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

  • گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بجٹ اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط سے انکار کر دیا۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری ملی ہے، جسے دیکھ رہا ہوں، آئین کے مطابق 14 روز تک سمری پر دستخط کرنے کا پابند ہوں، سمری پر آج ہی دستخط کرنے کا پابند نہیں ہوں، کسی کا پابند نہیں کہ ہر صورت سمری پر دستخط آج ہی کروں۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یا کسی اور کی دھمکیوں اور دباؤ میں آکر کبھی سمری پر دستخط نہیں کروں گا، ریاست پر حملے کرنے والے انتشاری ٹولے سے ڈرنے والا نہیں،خیبرپختونخوا میں کرپشن کا بازار گرم کرنے والوں کی دھمکیوں سے کوئی ڈر نہیں، وزیر اعلیٰ اپنی گیڈر بھبکیوں سے باز آجائیں۔

    بھارتی حکمران جماعت بی جے پی دھڑوں میں تقسیم

    اسرائیلی حملے میں جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تصدیق ہو گئی

    سینیٹ میں اسرائیلی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • بھارتی حکمران جماعت بی جے پی دھڑوں میں تقسیم

    بھارتی حکمران جماعت بی جے پی دھڑوں میں تقسیم

    بھارتی حکمران جماعت ’بی جے پی‘ اس وقت اندرونی خلفشار کا شکار ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق پارٹی کے اندر نظریاتی اور تنظیمی سطح پر تقسیم واضح ہوتی جا رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں پارٹی کی کارکردگی اور عوامی تاثر پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہےبی جے پی اس وقت ایک قیادت کے بحران سے بھی دوچار ہے، کیونکہ موجودہ پارٹی صدر جے پی نڈا کی مدت صدارت اپنے اختتا م کے قریب ہے نڈا اس وقت صحت کی وزارت کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، جس کے باعث وہ پارٹی کی تنظیمی امور پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے پارٹی میں قیادت کی تبدیلی کے معاملے پر جاری مشاورت نے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    ہندوتوا نظریے کے شدت پسند حامی سخت گیر قیادت کے متمنی ہیں، جو پارٹی کی پالیسیوں میں زیادہ جارحانہ انداز اپنانے کے خواہاں ہیں، جبکہ کچھ حلقے نسبتاً معتدل اور ہم آہنگی پر مبنی قیادت کی تلاش میں ہیں۔

    اسرائیلی حملے میں جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، تصدیق ہو گئی

    اگرچہ قیادت کی تبدیلی سے متعلق حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا، لیکن بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی جنوبی بھارت سے کسی مضبوط چہرے کو سامنے لانے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہاں کے ووٹ بینک کو مزید مستحکم کیا جا سکے اس تناظر میں مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر و ناتھی سری نواسن کو ممکنہ امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،سنیل بنسل، ونود تاوڑے اور دشینت گوتم جیسے کئی دیگر نام بھی زیر غور ہیں، جنہیں تنظیمی تجربہ اور پارٹی کے مختلف طبقات میں اثر و رسوخ حاصل ہے-

    سینیٹ میں اسرائیلی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

  • ایئرانڈیا کی فلائٹ میں بم کی اطلاع، طیارے کی تھائی لینڈ میں ہنگامی لینڈنگ

    ایئرانڈیا کی فلائٹ میں بم کی اطلاع، طیارے کی تھائی لینڈ میں ہنگامی لینڈنگ

    پھوکٹ سے دہلی جانے ہونے والے ایئرانڈیا کے مسافر طیارے کو دورانِ پرواز بم کی دھمکی ملنے پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی۔

    عالمی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے پروٹوکولز پر عمل درآمد کرتے ہوئے طیارے میں موجود تمام 156 مسافروں کو نکال کر بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔

    فلائٹ ریڈار کے مطابق ایئر انڈیا کی پرواز ’اے آئی 379‘ بھارتی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 9 بجے تفریحی جزیرے پھوکٹ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئی، لیکن مسافر طیارے نے بم کی اطلاع ملتے ہی بحیرہ انڈمان پر ایک لمبا چکر کاٹنے کے بعد واپس تھائی لینڈ کے جنوبی آئی لینڈ پربحفاظت لینڈ کر لیا۔

    سینیٹ میں اسرائیلی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تھائی لینڈ ایئرپورٹ حکام نے تاحال بم کی دھمکی سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ ایئرانڈیا نے بھی اس حوالے سے تاحال اپنے مؤقف سے آگاہ نہیں کیا۔

    بھارتی ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں کو گزشتہ سال جعلی بم دھمکیوں کی ایک لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس کے دوران پہلے 10 ماہ میں تقریباً ایک ہزار جعلی کالز اور پیغامات موصول ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی شہر احمد آباد میں ایئرانڈیا کا جہاز اُڑان بھرتے ہی گِر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

  • کرم میں فتنہ الخوارج کا فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 7 زخمی

    کرم میں فتنہ الخوارج کا فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 7 زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے سرحدی علاقے حسین میلہ میں فتنہ الخوارج نے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 اہلکار شہید اور 7 زخمی ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق اپر کرم میں افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملحقہ ضلع کرم کے لقمان خیل تنگی کے علاقے حسین میلا میں فتنہ الخوارج سے داخل ہوکر فورسز کے پوسٹ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا فتنہ الخوارج کے حملے کے نتیجے میں اہلکار لانس نائیک سلیم موقع پر ہی شہید ہوگئے اور 8 اہلکار زخمی ہو گئے، بعد ازاں دوران علاج ایک اور اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    زخمیوں میں حوالدار موالی خان ، حوالدار جہاد حسین طوری ، لانس نائیک یوسف ، سید ایوب ، سپاہی ابرار ، سپاہی عثمان ، نائب صوبیدار جاوید حسین شامل ہیں جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا-

    واقعے کے بعد فورسز نے بھی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جب کہ قریبی علاقوں میں مقیم قبائل نے لاؤڈ اسپیکروں پر دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے لیے اعلانات کیے جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا، تاہم دیگر حملہ اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئےگرفتار دہشتگرد نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں اسلحہ طالبان نے فراہم کیا تھا اور پوسٹ پر حملے کا کہا تھا۔

    پاکستان اپنی حکمرانی کو درست کر لے تو اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ،بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    ضلع کرم سے رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے کہا ہے کہ ضلع کے قبائل سے حکومت نے اسلحہ بھی جمع کر لیا ہے جب کہ افغانستان سمیت مختلف علاقوں سے دہشت گرد اس قسم کاروائیاں کر رہے ہیں حمید حسین نے ذمہ دار حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک-افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں مقیم قبائل کو سرکاری طور پر اسلحہ دیا جائے تاکہ وہ ملک و قوم کی دفاع میں حکومت کا ساتھ دے سکیں اور اپنی دفاع کر سکیں۔

    حکمرانوں کی ترجیحات ذاتی مفادات کی بجائے قوم کی خدمت ہونی چاہئے،قاری یعقوب شیخ

  • پاکستان اپنی حکمرانی کو درست کر لے تو اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ،بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    پاکستان اپنی حکمرانی کو درست کر لے تو اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ،بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کو تینوں عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے ۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی بھی پاکستان کی سفارتکاری کی تعریفیں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ، انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کو تینوں عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے ، امریکی صحافی جیکسن ہینکل نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روس نے مبینہ طور پر پاکستان کو ’’ برکس‘‘ (BRICS) کا مستقل ممبر بننے کی پیشکش کر دی ہے ۔

    https://x.com/PravinSawhney/status/1932967028446671167

    امریکی صحافی کے پیغام کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے کہا کہ جیسا کہ میں نے کہا، پاکستان کو تینوں عالمی طاقتوں (چین، امریکہ، روس) کی حمایت حاصل ہےمیری رائے میں اگر پاکستان اپنی حکمرانی کو درست کر لے تو اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی کیونکہ اس کے پاس عسکری قوت، بہترین جغرافیہ اور مہمان نوازی جیسی بے مثال سافٹ پاور موجود ہے۔‘‘

    مودی اور حسینہ خطے میں بے امنی اور انتشار کا بڑا سبب

    محض معیشت میں بہتری ہماری منزل نہیں، وزیر خزانہ

    سندھ میں گیس کے بڑے ذخائر دریافت