Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مودی سرکار پاکستان پر دوبارہ حملہ آور ہونے کیلئے سو بار سوچے گی،وزیراعظم

    مودی سرکار پاکستان پر دوبارہ حملہ آور ہونے کیلئے سو بار سوچے گی،وزیراعظم

    مظفرآباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مودی سرکار پاکستان پر دوبارہ حملہ آور ہونے کے لیے سو بار سوچے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مظفر آباد میں بھارتی حملے میں شہید اور زخمی افراد کے اہل خانہ میں رقومات کے چیکس تقسیم کئے، شہید کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو دس سے بیس لاکھ روپے دیئے گئے جو لوگ رہ گئے ہیں انہیں بھی زرتلافی مل جائے گا، تقریب میں وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ چند دن قبل پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایسی جنگ چھڑی جو کسی بھی وقت خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی جس کے نتائج بھیانک ہوتے، پہلگام کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے مگر ہندوستان نے اس کی آڑ میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کردی۔

    پی آئی اے کا لاہور سے پیرس کیلیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری دنیا کو باور کرایا کہ یہ جھوٹا الزام ہے اور سازش کا حصہ ہے جو خطے کے امن کو برباد کرسکتا ہے، چنانچہ ہم نےواقعے کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ اورتعاون کی پیشکش کی مگر ہندوستان کو یہ ہضم نہ ہوا اور اس نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جواب میں پاکستان نے نہتے شہریوں کے بجائے بھارتی کے چھ جہاز گرائے جن میں رافیل اور مگ 29 شامل تھے، الفتح میزائل نے ہندوستان کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا، مگر ہندوستان باز نہ آیا اور پاکستان پر حملے جاری رکھے، ہندوستان کو غرور تھا کہ دنیا کی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوگئیں مگر ایسا نہ ہوا۔

    صرف پاگل ہی 24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے جوابی حملے کے بعد آرمی چیف نے مجھے فون کرکے پیغام دیا کہ بھارت سیز فائر کرنے یعنی گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہے، اب مودی سرکار پاکستان پر دوبارہ حملہ آور ہونے کے لیے سو بار سوچے گی، ہماری تینوں افواج مل کر بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تینوں افواج نے اس موقع پر آج 1971 کا بدلہ لے لیا۔

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

  • پی آئی اے کا لاہور سے پیرس کیلیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

    پی آئی اے کا لاہور سے پیرس کیلیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

    لاہور:قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے لاہور سے پیرس کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کی لاہور سے پیرس کے لیے پہلی پرواز 18 جون کو اڑان بھرے گی جبکہ ہفتہ وار پرواز بدھ کے روز براہ راست روانہ ہوا کرے گی پی آئی اے پہلے ہی اسلام آباد سے پیرس کے لیے ہفتہ وار دو پروازیں آپریٹ کر رہی ہے۔ اس پرواز کے آغاز سے ہفتہ وار تین براہ راست پروازیں پی آئی اے کے آپریشن کا حصہ بن جائیں گی قومی ایئر لائن اپنے عوام کی ضروریات اور سہولت کے لیے بہت جلد یورپ کے دوسرے شہروں کے لیے بھی پروازوں کا آغاز کرے گی۔

  • وزیرِ خزانہ سےعالمی بینک کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ خزانہ سےعالمی بینک کے وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی-

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان آج وزارتِ خزانہ میں ملاقات ہوئی، عالمی بنک کے وفد کی قیادت بنک کی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز اینا بیئر ڈے کر رہی تھیں۔

    بیان کے مطابق ملاقات کا مقصد دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا، عالمی بینک کی مالی امداد کے منصوبوں کا جائزہ لینا، اور حال ہی میں ورلڈ بینک کے اشتراک سے شروع کیے گئے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) پر عمل درآمد میں تیزی لانا تھا۔

    بات چیت میں خاص طور پر سی پی ایف میں شامل ترجیحی شعبوں بالخصوص ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت اور آبادی کے نظم و نسق جیسے اہم موضوعات پر بات ہوئی۔دونوں فریقین نے پاکستان میں پائیدار ترقی اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے سی پی ایف کی اہیمت اور کردار پر اتفاق کیا۔

    اینا بیئرڈے نے مشکل لیکن ضروری معاشی اصلاحات کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے حکومتِ پاکستان کے مسلسل عزم کو سراہا، اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے حکومتی کوششوں کی تعریف کی۔

    وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے سی پی ایف کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو معاشی منصوبہ بندی کا مرکزی جزو قرار دیا۔

    انہوں نے سی پی ایف پر عمل درآمد کے لیے وزارت خزانہ اور دیگر تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک کو مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیر خزانہ نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے سی پی ایف پر موثر عمل درآمد کے لیے جامع فریم ورک کی تیاری اور سارے عمل کو مؤثر اور مربوط بنانے کے لیے کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کی درخواست کی۔

    بیئرڈے نے سی پی ایف کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی بینک کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اورمعاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام، توانائی، اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں بنک کے تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے پاکستان کے انسا نی وسائل کو مضبوط کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کی بھی حمایت کی۔

    ملاقات کے آخر میں دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آنے والے مہینوں میں سی پی ایف کے مؤثر نفاذ انداز اور پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے مضبوط شراکت داری پر مبنی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

  • وزیراعظم سے آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ میکرو اکنامک سطح پر اصلاحات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات میں بھی تیزی لائی جائے-

    وزیراعظم سے عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کی جہاد اظہور کی قیادت میں ملاقات ہوئی، ملاقات کے دوران پاکستان میں جاری آئی ایم ایف کے پروگرام پر گفتگو ہوئی ملاقات میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    ملاقات میں حکومت کی آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے حوالے سے معاشی اصلاحات اور مثبت نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، وزیرِاعظم نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہےحکومت کی اولین ترجیح ہے کہ میکرو اکنامک سطح پر اصلاحات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات میں بھی تیزی لائی جائے،وفد نے پاکستان کے اصلاحات اور معاشی استحکام و ترقی میں آئی ایم ایف کی جانب سے تعاون جاری رکھنے کا اظہار کیا۔

    جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں،مریم نواز

    صرف پاگل ہی 24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

  • جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں،مریم نواز

    جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں،مریم نواز

    سرگودھا:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے کہا ہےکہ جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا اور کچھ لوگوں نے بہکاوے میں کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں، اس سیاسی شخصیت کا ٹارگٹ بھی ہماری مسلح افواج تھیں-

    سرگودھا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جس طرح لیپ ٹاپ کو بچا کر رکھتے ہیں کہ اس میں کوئی وائرس نہ آجا ئےاس طرح ذہن کو بھی بچا کر رکھنا ہے کہ اس میں کوئی پولیٹیکل وائرس نہ آجائےجو کچھ 9 مئی کو ہوا اور جو کچھ بھارت نے کیا اس میں زیادہ فرق نہیں شخصیت سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر 9 مئی کو فوجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا ان کا نشانہ بھی ہماری فوج تنصیبات تھیں ، اس جماعت نے وہ کیا جو دشمن دہائیوں میں نہ کرسکا۔

    صرف پاگل ہی 24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ان کا کہنا تھا کہ جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا اور کچھ لوگوں نے بہکاوے میں کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں، اس سیاسی شخصیت کا ٹارگٹ بھی ہماری مسلح افواج تھیں، جن تنصیبات کو آگ لگائی گئی تھی اسی فضائیہ نے دشمن کے 5 جہازوں کو مار گرایا نوجوانوں کبھی فتنہ فساد کا ایندھن نہ بننا، کبھی اپنے وطن کے خلاف زبان نہیں چلانا، نقصان نہیں پہنچانا، دھرتی ماں کے خلاف قدم نہ اٹھانا، اپنے ملک کی آہنی دیوار بنو۔

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

  • صرف پاگل ہی  24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    صرف پاگل ہی 24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستانی فوج نے بھارت پر برتری حاصل کی ہے اور حالیہ حملے میں بھارت کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی فوج کو ایسا سبق سکھایا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولیں گے بھارتی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے جو عسکری حکمت عملی اپنائی گئی ہے وہ کئی دہائیوں تک زیر مطالعہ رہے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کا حوصلہ اور بھارت پر حاصل کی گئی برتری نے عوام کے دلوں میں فوج کی محبت کو بڑھا دیا ہے اور اب فوج عزت اور فخر کی علامت بن چکی ہے،معاملہ صرف عسکری میدان تک محدود نہیں ہے، نہ ہی یہ محض فضائی اور زمینی لڑائیوں تک محدود ہے، اس تنازع میں پاکستان نے جھوٹ، فریب، دباؤ، جارحیت اور بھارت کے دیگر کئی پہلوؤں کا پردہ چاک کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے ایک فرضی کہانی گھڑی اور پاکستان کا مطالبہ بہت سادہ تھا، اگر آپ کے پاس کسی پاکستانی شہری کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ہے تو براہِ کرم وہ ثبوت پیش کریں، اسے بین الاقوامی برادری، کسی تیسرے فریق یا کسی معتبر ادارے کے حوالے کریں تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں، بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور آج تک وہ اس کا جواب نہیں دے سکا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ ( بھارت) اپنی فضائیہ کی پوری طاقت اور دستیاب دفاعی نظام کے ساتھ اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر آئے، ہم نے ان کے 6 ہوائی جہاز گرا دیئے، لہٰذا ہمیں وہاں برتری حاصل رہی اور ہم نے انہیں سخت ترین سزا دی، دنیا نے دیکھا کہ بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول اور دوسری سرحدوں پر کئی مقامات پر سفید جھنڈے لہرائے ہم نے بھارت پر حملہ نہیں کیا، ہمارا جواب رات کے اندھیرے میں نہیں تھا جیسا کہ بزدل کرتے ہیں، ہم نے اعلان کیا کہ ہم جواب دیں گے، اس لیے تیار رہیں، ہم نے 26 اہداف منتخب کیے اور الحمدللہ، 26 کو نشانہ بنایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی کہتے ہیں کہ انہوں نے کراچی کی بندرگاہ پر حملہ کیا، کئی ہوائی جہاز گرائے اور کہتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم کو محفوظ جگہ منتقل کر دیا گیا ہے، یہاں تک کہ ان کے ہائی کمشنر نے جعلی لوگوں کی تصاویر دکھائیں اور کہا کہ وہ دہشت گرد ہیں، جن میں ایک نمازی بھی تھا جو اصل میں ایک عام شہری تھا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتیوں نے کہا کہ جوہری تابکاری ہوئی ہے، کچھ ہوا ہے اور عالمی ٹیکنالوجی کے ماہرین کو فوراً مداخلت کرنی چاہیے، لیکن یہ سب جھوٹ تھا، کوئی بھی معتبر اور سنجیدہ ادارہ بھارتی دعوؤں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ خود پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ اعتماد کہاں سے آیا، ان کے پاس غلط اندازے اور مفروضے تھے کہ وہ شہری مقامات، مساجد پر حملہ کریں گے اور کچھ نہیں ہوگا، پاکستان جواب نہیں دے گا، لہٰذا اب وہ فرضی کہانیاں بنا رہے ہیں اور وہ اس میں ماہر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس بہت طاقتور میڈیا ہے جب کہ تھیٹر اور فلموں میں بھی وہ پاکستان سے بہت آگے ہیں، پھر بھی، وہ مختلف کہانیاں پیش کرتے رہتے ہیں، مثال کے طور پر کل انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا، جو کہ بہت ہی مضحکہ خیز بات ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم اپنی حفاظت کر رہے ہیں، پنجاب کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس علاقے کی تمام مقدس جگہوں اور تمام مذہبی فرقوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہمارے اور سکھوں کے درمیان مشترکہ ثقافت، محبت اور ایک پنجابی زبان ہے، ہمارا طریقہ نہیں کہ ہم کسی بھی شہری یا مذہبی جگہ پر حملہ کریں، یہ ہمارے اصولوں اور دین کے خلاف ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ میرے خیال میں بھارتیوں کو پہلے اپنی ساکھ بنانی ہوگی اور ساکھ ہزاروں ویب سائٹس بند کرنے، میڈیا پر پابندیاں لگانے یا حکومت پر تنقید کرنے والوں کو قید کرنے سے نہیں بلکہ سچ بولنے سے بنتی ہے اس کے برعکس کیا آپ نے حالیہ تنازع کے دوران دیکھا کہ پاکستان نے کوئی صحافی گرفتار کیا؟ نہیں، آپ ایسا نہیں پائیں گے، ہم نے ایسا نہیں کیا، یہی ہمارا پیغام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صرف ایک پاگل ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ انسانوں کا پانی روک سکتا ہے، کوئی ایسا نہیں کر سکتا، ہمیں حقائق کو سمجھنا ہوگا حقیقت یہ ہے کہ کشمیر سے 6 دریا بہتے ہیں، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع علاقہ ہے، 1960 میں طویل مذاکرات کے بعد ورلڈ بینک نے ثالثی کر کے ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت 3 دریا پاکستان کو اور 3 دریا ہندوستان کو دیئے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس معاہدے کی پابندی نہیں کرنا چاہتا، تو یاد رہے کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، اگر کل کشمیر اپنے عوام کی مرضی کے مطابق پاکستان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، تو یہ تمام 6 دریا پاکستان کے ہوں گے اور بھارت کو ایک بھاری بوجھ اٹھانا پڑے گا، ہم دیکھیں گے کہ اس کا ہم کس طرح مقابلہ کرتے ہیں، یہی حقیقت ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے یہ انسانی ضمیر پر ایک سیاہ داغ ہے، وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمیں بحیثیت پاکستان اور بحیثیت عسکری حکام ایک سبق سکھاتا ہے کہ آپ کے پاس اپنی طاقت ہونی چاہیے، آپ کو مضبوط کھڑا ہونا چاہیے اور ان کے سامنے ثابت قدم رہنا چاہیے جو سمجھتے ہیں کہ وہ مداخلت کر سکتے ہیں یا اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اسی لیے ممالک کو اپنی حفاظت کرنی چاہیے اور امت کو اپنی طاقت کو بڑھانا چاہیے، کیونکہ بدقسمتی سے اس دنیا میں کچھ مخصوص سیاسی ذہنیتیں موجود ہیں جو نہ صرف ایسے نسل کشی کے واقعات کا سوچ سکتی ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ بھی پہنا سکتی ہیں، جیسا کہ ہم غزہ میں دیکھ رہے ہیں اور جیسا ظلم کشمیر کے مسلمانوں اور بھارت میں اقلیتوں پر ہو رہا ہے

  • راولپنڈی: گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف

    راولپنڈی کے ایک گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کاانکشاف ہوا ہے۔

    راولپنڈی میں صادق آباد کے علاقے میں گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف ہوا اور اس حوالے سے اسکول انتظامیہ نے منشیات کے استعمال سے متعلق پولیس کو آگاہ کردیا اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ساتویں کلاس کی طالبہ کے بیگ سے بوتل برآمد کی گئی، نشہ آورچیز کلاس میں بچیوں کو پلائی گئی جس سےوہ بے ہوش ہوگئیں جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے متعلقہ بچی کے والدین کو بلاکر سارا واقعہ بتایا 20 مئی کو بچی کے والدین اور کچھ دیگر افراد نے اسکول انتظامیہ پرحملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جب کہ حملے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہوئی، پولیس نے اسکول انتظامیہ کی درخواست پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    نئی بابا وانگا’ کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    26 نومبر احتجاج : گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور

  • بانی پی ٹی آئی کا  تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا۔

    لاہور سے آنے والی 13 رکنی تفتیشی ٹیم جو 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل پہنچی تھی، بانی پی ٹی آئی کے انکار کے بعد واپس روانہ ہو گئی، یہ تیسری مرتبہ ہے جب بانی پی ٹی آئی نے تفتیشی عمل میں تعاون سے گریز کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک، فوٹو گرامیٹرک اور وائس میچنگ ٹیسٹ انتہائی ضروری ہیں، اور ان کے بغیر تفتیش آگے نہیں بڑھ سکتی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق بانی پی ٹی آئی پر 11 مقدمات درج ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم بار بار تفتیش سے انکار تفتیشی عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے9 مئی کے واقعات کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی قیادت کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور حساس تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔

  • نئی بابا وانگا’  کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    نئی بابا وانگا’ کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    ریو تاتسوکی کو جاپان کی ‘نئی بابا وانگا’ کہا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی ماضی کی کئی پیشگوئیاں، جیسے 2011 کا توہوکو زلزلہ اور فریڈی مرکری کی موت، درست ثابت ہو چکی ہیں،اب انہوں نے جاپان میں آنے والی بڑی تباہی کی پیشگوئی کی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ ریو تاتسوکی کی ایک نئی پیشگوئی نے دنیا کی تشویش میں اضافہ کر دیا، جس کے باعث جولائی 2025 میں جاپان آنے والے ہزاروں سیاحوں نے اپنے سیاحتی دورے منسوخ کر دئیے ہیں-

    ان کی نئی کتاب ”دی فیوچر آئی سا“ کے مطابق جولائی 2025 میں جاپان اور فلپائن کے درمیان سمندر میں ایک بڑا زلزلہ اور سونامی آنےکاامکان ہےجو 2011 کے تباہ کن سونامی سے 3 گنا زیادہ طاقتور ہوگا اس پیشگوئی کے بعد ہانگ کانگ کی ایک مشہور ٹریول ایجنسی WWPKG نے کہا کہ جاپان جانے والے سیاحوں میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہےسیاحوں میں خوف، اضطراب اور سونامی جیسے خطرات کے خوف نے سفری رجحانات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    اگرچہ جاپانی حکام نے تاتسوکی کی پیشگوئی کو تسلیم نہیں کیا، تاہم چینی سفارتخانے نے اپریل 2025 میں جاپان میں موجود اپنے شہریوں کو قدرتی آفات کے خلاف ہوشیار رہنے کی ہدایت جاری کی تھی، جس سے خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔

    دوسری جانب ماہرین نے اس پیشگوئی کی سائنسی بنیادوں کی کمی پر زور دیا ہے سیکیا ناؤیا (Sekiya Naoya)، جو ٹوکیو یونیورسٹی میں قدرتی آفات کی روک تھام کے ماہر ہیں، نے جاپان ڈیلی کو بتایا کہ آج کے سائنسی معیار کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ ہم بالکل بتا سکیں کہ زلزلہ کب اور کہاں آئے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اگر جولائی میں کوئی زلزلہ آتا ہے تو وہ محض ایک اتفاق ہوگا اور اس افواہ کی تصدیق نہیں ہو گی میاگی گورنر یوشی ہیرو مورائی (Yoshihiro Murai) نے اپریل 23 کو عوامی تشویش کے جواب میں کہا کہ وہ غیر سائنسی دعووں کو نظرانداز کرنے کی تر غیب دیتے ہیں کیونکہ اس سے سیاحت کا نقصان ہوسکتا ہے۔

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    اسلام آباد: حکومت نے عوام کو ریلیف کے لیے متبادل ذرائع سے آمدن کا پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے متعلق مذاکرا ت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حکومت نے بجٹ میں سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبو ں کو ریلیف دینے کی تجویز کے تحت متبادل ذرائع سے ریونیو اکٹھا کرنے کا پلان آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے ان ریلیف اقدامات سے متعلق سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور ابھی تک حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کسی ریلیف پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے آئی ایم ایف نے صوبائی اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے اور زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ادارے نے زور دیا ہے کہ اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ریونیو کا توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف طبقوں کے لیے ٹیکس ریلیف چاہتی ہے تاہم آئی ایم ایف اس حوالے سے فراہم کردہ ڈیٹا اور حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا فی الوقت آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت سے ہر تجویز پر ڈیٹا طلب کر رہی ہے اور معاشی ٹیم کی جانب سے مسلسل جوابات دیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الحال کسی نئی شرط پر بھی اتفاق نہیں ہوا ہے آئی ایم ایف نے عدالتی مقدمات سے حاصل ممکنہ ریونیو کو بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی ہے اس وقت مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق 770 ارب روپے کے مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 30 جون تک 250 ارب روپے کے مقدمات کے فیصلے حکومت کے حق میں آنے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سالانہ ٹیکس ہدف دو حصوں میں تقسیم ہوگا اور 14 ہزار ارب روپے سے زائد کا ہدف تجویز کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کم از کم 500 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے فیصلے آئندہ مالی سال میں یقینی بنائے جائیں تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پابند ہے اور تمام فیصلے باہمی رضامندی سے کیے جائیں گے۔