Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بھارت خطرناک بحری تیاریوں میں مصروف ہے، عاصم افتخار

    بھارت خطرناک بحری تیاریوں میں مصروف ہے، عاصم افتخار

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ بھارت خطرناک بحری تیاریوں میں مصروف ہے۔

    سلامتی کونسل کے مباحثے میں مستقل مندوب عا صم افتخار نے کہا کہ ایک بڑی طاقت کا غیر محدود علاقائی بالادستی کا خواب دیکھنا تشویشناک ہے، بھارت بحری توسیع پسندی اور اہم آبی راستوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، پڑوسی ممالک کو علاقائی بحری سلامتی کے ڈھانچوں سے خارج کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دریاؤں کو ہتھیانے اور انہیں بطور ہتھیار استعمال کرنے کی روش بھی اپنا رہا ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور علاقائی آبی تعاون کے اصولوں کے منافی ہے۔

    لاہور :سی سی ڈی کی کارروائیاں،ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکو ہلاک

    پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا نوٹس لے اور خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔

    سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ

  • لاہور :سی سی ڈی کی کارروائیاں،ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکو ہلاک

    لاہور :سی سی ڈی کی کارروائیاں،ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکو ہلاک

    لاہور میں سی سی ڈی (کاؤنٹر کرائم ڈپارٹمنٹ) نے چھاپے مار کار ر وائیاں کیں جن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران متعدد ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو ڈاکو ہلاک ہو گئے-

    ترجمان سی سی ڈی کے مطابق رائیونڈ میں سی سی ڈی نے ایک چھاپہ مار کر عامر شہزاد نامی ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں سی سی ڈی کی جوابی فائرنگ سے عامر شہزاد موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ہلاک شدہ ملزم پر متعدد سنگین وارداتوں کا مقدمہ درج تھا۔

    ترجمان سی سی ڈی کے مطابق باٹا پور میں بھی سی سی ڈی اقبال ٹاؤن کی ٹیم نے ایک کارروائی کے دوران شوکت علی نامی ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، ملزم نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی، اور شوکت علی موقع پر ہلاک ہو گیاشوکت علی بھی مختلف ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث تھا۔

    سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ

    ترجمان سی سی ڈی کے مطابق یہ کارروائیاں شہر میں امن و امان قائم رکھنے اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے جاری مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔

    خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 4 بچے جاں بحق ، متعدد زخمی

  • سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ

    سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ

    اسلام آباد:وفاقی حکومت کی جانب سے جنرل سید عاصم منیر کی فیلڈ مارشل عہدے پر تقرری کے بعد سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    فیلڈ مارشل عہدے کی تقرری پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے عوام نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیاسوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے ان کی حب الوطنی، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی سلامتی کے لیے کردار کو سراہا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ ہر پاکستانی کے دل کی آواز اور اپنے سپہ سالار سے محبت کی عکاس ہےپاک فوج نے آرمی چیف کی قیادت میں بھارتی جارحیت پر 10 مئی کی صبح جارحانہ جواب دیا تھا جس پر دشمن جنگ بندی پر مجبور ہوا۔

    جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی، نوٹیفکیشن جاری

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں جنرل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے پارلیمانی حلقوں میں بھی ان کی عسکری قیادت اور قومی معاملات میں کردار کو مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔

    خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 4 بچے جاں بحق ، متعدد زخمی

  • خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 3بچوں سمیت 5 افراد شہید

    خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 3بچوں سمیت 5 افراد شہید

    خضدار میں زیرو پوائنٹ کے قریب دھماکے سے بس میں سوار 3بچوں سمیت 5 افراد شہید ہو گئےہیں

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایک اور بزدلانہ اور بھیانک حملے میں جس کی منصوبہ بندی بھارت کی دہشت گرد ریاست نے کی تھی اور بلوچستان میں اس کے پراکسیوں نے اسے انجام دیا تھا، آج خضدار میں اسکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا میدان جنگ میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد ان گھناؤنی اور بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے کے لیے بھارتی پراکسیوں نے میدان مار لیا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین معصوم بچے اور دو بالغ افراد شہید ہوئے اور متعدد بچے زخمی ہوئے ہیں آپریشن بنیان المر صوص میں ناکام ہونے کے بعد، ان بھارتی دہشت گرد پراکسیوں کو بھارت کی طرف سے پاکستان میں معصوم بچوں اور شہریوں جیسے نرم اہداف کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے ریاستی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    بھارتی سیاسی حکومت کی طرف سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال نفرت انگیز اور ان کی پست اخلاقی اور بنیادی انسانی اصولوں کو نظر انداز کرنے کا عکاس ہے اس بزدلانہ بھارتی اسپانسرڈ حملے کے منصوبہ سازوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور انجام دینے والوں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

    پاکستان کی مسلح افواج بہادر پاکستانی قوم کی حمایت کے ساتھ، اپنے تمام مظاہر میں پاکستان سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خضدار میں اسکول بس پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت
    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول بس پر دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز اور تعلیم دشمن کارروائی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں شہداء کے اہل خانہ سے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف پاکستان کے مستقبل، بلکہ تعلیم، امن اور ترقی پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ان دہشتگردوں نے اسکول بس کو نشانہ بنا کر درندگی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ "بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا یہ سفاکانہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور امن کے قیام سے خائف ہیں۔ معصوم بچوں پر حملہ ان کی گھناؤنی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔”

    انہوں نے متاثرہ بچوں کے والدین کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس کربناک سانحے پر غم زدہ ہے اور لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔وزیراعظم نے دہشتگردی میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ "ان سفاک دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ریاست پاکستان کسی صورت ایسے بزدلانہ حملوں کو برداشت نہیں کرے گی۔”انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے بھارتی ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔وزیراعظم نے اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ حملے کے ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کریں اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی دشمن قوت بچوں، تعلیمی اداروں یا پاکستان کے مستقبل کو نشانہ نہ بنا سکے۔

    ادھروزیر داخلہ محسن نقوی نے خضدار دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں، ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں-

  • ٹرمپ اور پاکستان کا نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان پر سخت ردعمل

    ٹرمپ اور پاکستان کا نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل کنٹرول کے اعلان پر سخت ردعمل

    پاکستان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کو مکمل کنٹرول میں لینے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے-

    پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے تسلسل، اسپتالوں اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے، اور اجتماعی انخلا کے احکامات کے نتیجے میں درجنوں فلسطینیوں کی شہادت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائیوں کی توسیع اور پورے غزہ پر ”مکمل کنٹرول حاصل کرنے“ کے اعلان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہےاس کے علاوہ، اسرائیل دانستہ طور پر اہم انسانی امداد کو لاکھوں ضرورت مند افراد تک پہنچنے سے مسلسل روکے ہوئے ہے، جو کہ محصور فلسطینی عوام پر اجتماعی سزا مسلط کرنے کے مترادف ہے۔

    اوکاڑہ: راؤف مارکیٹ کی بیکری میں ممنوعہ اجزاء کا استعمال، دو لاکھ روپے جرمانہ

    ادھر بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بند نہ کی گئی تو اسرائیل کو امریکہ کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سخت موقف خلیجی ممالک کی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے، اور اطلاعات ہیں کہ اسرائیل ایک حتمی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ اب واضح اور شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں نیتن یاھو کے دفتر میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے اس وقت واشنگٹن نہ صرف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالواسطہ بلکہ حماس سے براہ راست بھی بات چیت کر رہا ہے۔

    مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    واشنگٹن پوسٹ نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے قریبی معاونین نے اسرائیلی حکام کو صاف الفاظ میں پیغام دیا ہے، ’اگر جنگ بند نہ کی گئی تو امریکہ اپنی حمایت واپس لے لے گاذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ نیتن یاہو کو اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) اور عوام کی حمایت حاصل ہے، لیکن وہ سیاسی عزم کے فقدان کا شکار ہیں۔

    غزہ پر اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں مزید 46 فلسطینی شہید اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔

    اسرائیلی فورسز نے غزہ میں ایک گھنٹے کے اندر 30 فضائی حملے کئے، جس میں سیکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہو گئے ، اسرائیلی فوج نے اسرائیلی فوج نے خان یونس کے شہریوں کو جبری نقل مکانی کا حکم بھی دے دیا ہے۔

    ادھر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے غزہ کی پٹی میں قحط کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ افراد بھوک سے مر رہے ہیں،علاوہ ازیں برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے اسرائیل کو غزہ میں حملے بند نہ کرنے پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے جبکہ 22 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں تک امداد پہنچنے دے۔

  • مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    مودی سرکار کا سفارتی ساکھ کی بحالی کیلئے بنایا گیا وفد اختلافات کا شکار

    نئی دہلی: بھارت آپریشن سیندور میں ناکامی اور اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے دنیا بھر میں ہزیمت اٹھانے کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے لئے سرگرم ہو گیا اس حوالے سے مودی سرکار نے سیاسی رہنماؤں پر مشتمل گروپس تشکیل دے دئیے جو مختلف ممالک کے دورے کریں گے،متعدد سیاسی رہنماؤں نے اس وفد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

    ایک بڑے سفارتی حملے کے ایک حصے کے طور پر، مودی حکومت عالمی فورم پر اگلے ہفتے سے مختلف ممالک میں متعدد آل پارٹیز وفود بھیجے گی،اس مشق کا مقصد پہلگام واقعے کا ہندوستان کے موقف کو پیش کرنا ہے لیکن پاکستان کے ہاتھوں ناکامی کے بعد مودی حکومت نے اپنی عالمی ساکھ بحال کرنے کے لیے مختلف ممالک میں وفود بھیجنے کا منصوبہ بنایا، جو آغاز میں ہی اختلافات کی نذر ہو گیا۔

    انڈین میڈیا کاکہنا ہے کہ حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سمیت سینئر قائدین وفود میں شامل ہیں کچھ سابق وزراء مختلف جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے وفود کی قیادت دنیا بھر کے ممالک میں کریں گے اگرچہ وفود یا ان کے اراکین کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں تھی، لیکن کچھ رہنماؤں نے کہا کہ 30 سے ​​زیادہ اراکین پارلیمنٹ کو آؤٹ ریچ مشق میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    یہ وفود 10 روز کے لیے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ ارکان پارلیمنٹ مختلف ممالک کا دورہ کریں گے، جیسا کہ حکومت نے مختص کیا ہے وزارت خارجہ (ایم ای اے) ارکان پارلیمنٹ کو روانگی سے قبل بریف کرے گی، جن جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ وفد کا حصہ ہوں گے ان میں بی جے پی، کانگریس، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے، این سی پی (ایس پی)، جے ڈی یو، بی جے ڈی، شیو سینا (یو بی ٹی)، سی پی آئی (ایم) اور کچھ دیگر شامل ہیں۔

    سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور اوڈیشہ سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی حکمران پارٹی کے ارکان میں شامل ہیں جو وفد کا حصہ بنیں گے سابق مرکزی وزراء روی شنکر پرساد اور راجیو پرتاپ روڈی، بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ سمک بھٹاچاریہ اور برج لال کے بھی وفد میں شامل ہونے کی امید ہے۔

    حکومت کی فہرست میں شامل کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ میں ششی تھرور، منیش تیواری، سلمان خورشید اور امر سنگھ شامل ہیں اور پارٹی نے تصدیق کی ہے کہ وہ وفود کا حصہ ہوں گے۔ ٹی ایم سی کے سدیپ بندیوپادھیائے، جے ڈی یو کے سنجے جھا، بی جے ڈی کے سسمیت پاترا، سی پی آئی (ایم) کے جان برٹاس، شیو سینا (یو بی ٹی) کی پرینکا چترویدی، این سی پی (ایس پی) کی سپریا سولے، ڈی ایم کے کے کے کنیموزی، اے آئی ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی اور تائیس جیتنے والے بھی شامل ہیں۔

    جبکہ سابق وزیر خارجہ خورشید سے کہا گیا ہے کہ وہ سات ممبران پارلیمنٹ کے وفد کی قیادت کریں جو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک پر محیط ہے، بارامتی کے رکن پارلیمنٹ سولے مشرق وسطیٰ اور افریقہ بشمول عمان، مصر، کینیا اور جنوبی افریقہ کے وفد کی قیادت کریں گے، کانگریس لیڈر تیواری یورپ یا مشرق وسطیٰ جانے والے وفد کی قیادت کر سکتے ہیں ، تھرور ممکنہ طور پر امریکہ میں ایک وفد کی قیادت کریں گے۔

    جہاں ٹھاکر اس وفد کا حصہ ہوں گے جو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا دورہ کرے گا، ان کے ساتھی سارنگی جنوب مشرقی ایشیا کے وفد کا حصہ ہوں گے۔ ساہنی بھی اس وفد کا حصہ ہوں گے شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ چترویدی سعودی عرب، الجزائر، کویت اور بحرین کے وفد کا حصہ ہوں گے۔ اس وفد میں کانگریس کے امر سنگھ بھی شامل ہوں گےسابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد کے ایک وفد میں شامل ہونے کا امکان ہے ہر وفد کے سات سے آٹھ ارکان ہونے کا امکان ہے اور وہ چار سے پانچ ممالک کا دورہ کر سکتا ہے-

    india

    لیکن پاکستان سے سفارتی اور فوجی محاذ پر ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت کی سفارتی سطح پر ساکھ بحال کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

    معروف عالمی جریدے ’ٹیلیhttps://www.telegraphindia.com/india/shashi-tharoor-thrust-on-terror-modi-government-pick-triggers-bjp-congress-jousting-prnt/cid/2100422 گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق مودی کی جانب سے سفارتی سطح پر ساکھ بحال کرنے کے لیے تشکیل دیے گئے وفد پر بھی بھارت میں اختلافات سامنے آگئے ہیں بھارت میں سفارتی وفد کے سربراہ کے بیانات نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن جماعت کانگریس میں لفظی جنگ چھیڑ دی ہے۔

    وفد کے اراکین خود مودی سرکار پرشدید تنقید کر رہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ وفد میں تمام جماعتوں کی نمائندگی کیوں نہیں؟متعدد سیاسی رہنماؤں نے اس وفد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔

    اپوزیشن رہنما سنجے راوت کے مطابق مودی سرکار سفارتی کمیٹی سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی جانب سے بھیجے گئے نام بھی مودی سرکار نے مسترد کر دیے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ششی تھرور نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مرکزی حکومت نے مجھ سے وفد کی قیادت کرنے کے لیے میری رضامندی طلب کی تھی، میں نے فخر سے جواب دیا ’ہاں‘، میں پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کا سربراہ بھی ہوں یہ تنازع بی جے پی حکومت اور کانگریس کے درمیان ہے، پارلیمانی امور کے وزیر نے مجھے فون کیا تھا، میں نے اپنی پارٹی کو ان کی دعوت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

    کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے بی جے پی کی جانب سے ششی تھرور کے انتخاب کو ’باڈی لائن‘ سے تشبیہ دی، جو (33-1932 کی ایشز سیریز کے دوران انگلش فاسٹ باؤلرز کا آسٹریلوی بلے بازوں کے جسم کو نشانہ بنانے کا متنازع طریقہ) ہے، تاہم انہوں نے تھرور کے خلاف ممکنہ تادیبی کارروائی سے متعلق سوال کو نظرانداز کر دیا۔

    ششی تھرور نے وزیراعظم نریندر مودی کی آپریشن سندور اور پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کی تعریف کرکے اپنی پارٹی کو ناراض کر دیا ہے۔

    جب پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے 7 وفود کے سربراہان کے ناموں کا اعلان کیا تو تھرور کا نام سرفہرست تھا، باقی 6 میں سے 2 (ارکان پارلیمنٹ) حزب اختلاف سے تھے۔

    وفد کے 6 ارکان میں روی شنکر پرساد (بی جے پی)، بایجیانت پانڈے (بی جے پی)، سنجے کمار جھا (جے ڈی یو)، کنی موزی کروناندھی (ڈی ایم کے)، سپریا سولے (این سی پی۔ایس پی) اور شری کانت ایکناتھ شنڈے (شیو سینا) شامل تھے۔

    حکومت نے ابھی دیگر وفود کے اراکین کے ناموں کا اعلان نہیں کیا، لیکن کہا ہے کہ ہر وفد میں مختلف جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ، ممتاز سیاسی شخصیات اور نمایاں سفارت کار شامل ہوں گے تھرور کی تقرری بطور سربراہ اس کے باوجود ہوئی کہ کانگریس نے ان کا نام نامزد نہیں کیا تھا۔

    حکومت نے گزشتہ جمعے کو کانگریس سے کہا تھا کہ وہ اپنے 4 اراکین پارلیمنٹ کو وفود کا حصہ بنانے کے لیے نامزد کرے، کانگریس نے سابق وزیر آنند شرما، لوک سبھا میں ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی، ارکان پارلیمنٹ سید نصیر حسین اور راجا برار کے نام دیے تھے۔

    حکومت نے کانگریس کے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن بی جے پی کے سوشل میڈیا سربراہ امیت مالویا نے راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے مداخلت کی، انہوں نے ’ایکس‘ پر ششی تھرور کی فصاحت کی تعریف کی اور سوال اٹھایا کہ ان کی پارٹی نے انہیں نامزد کیوں نہیں کیا؟

    انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ششی تھرور کی فصاحت، اقوام متحدہ کے عہدیدار کے طور پر ان کے طویل تجربے، اور خارجہ پالیسی پر ان کی گہری بصیرت سے انکار نہیں کر سکتاتو پھر کانگریس پارٹی خاص طور پر راہول گاندھی نے انہیں کثیر الجماعتی وفود کے لیے نامزد کیوں نہیں کیا؟کیا یہ عدمِ تحفظ ہے؟ حسد ہے؟ یا پھر ’ہائی کمانڈ‘ سے بہتر نظر آنے والوں کے لیے عدم برداشت؟

    مالویا نے کانگریس کے دو نامزد اراکین راجیہ سبھا کے ایم پی حسین اور لوک سبھا کے ایم پی گوگوئی کی اہلیت پر بھی سوال اٹھایا کہ کیا وہ پاکستان سے متعلق معاملات پر بھارت کی نمائندگی کرنے کے قابل ہیں؟

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ سید نصیر حسین کے حامیوں نے ان کی راجیا سبھا میں جیت کے موقع پر کرناٹک اسمبلی کے اندر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے تھے انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے اس الزام کا بھی حوالہ دیا کہ گوگوئی نے اپنی بیوی کے ساتھ پاکستان میں 15 دن گزارے تھے ہیمنت سرما نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ گوگوئی کا نام فہرست سے نکال دیں۔

  • معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    معیشت میں درپیش چیلنجز ،حکومت جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام

    حکومت رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے لیے عبوری جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دے دی ہے رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی گروتھ 2.68 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ حکومت نے مالی سال کے آغاز میں 3 فیصد گروتھ کا ہدف مقرر کیا تھا یوں ہدف اور حاصل کردہ گروتھ کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے، جو معیشت میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے رواں مالی سال کے عبوری معاشی اشارئیے جاری کر دیئے ہیں، جن کے مطابق رواں مالی سال معیشت میں بتدریج بہتری کا رجحان دیکھا گیا ہےاعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں معاشی ترقی کی شرح 1.37 فیصد رہی، جب کہ دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں یہ شرح بڑھ کر 1.53 فیصد ہو گئی تیسرے سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2025 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.40 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2024 کے لیے مجموعی عبوری معاشی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی، جو کہ گزشتہ مالی سال 2023 کی منفی 0.21 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے مالی سال 2024 میں مکمل سال کے دوران معاشی ترقی کی شرح 2.51 فیصد رہی۔

    pak

    نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ملک کی مجموعی معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ فی کس آمدنی 1824 ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے یہ اعداد و شمار ملک کی اقتصادی پالیسیوں میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

  • ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہبازشریف کا کہنا ہےکہ ٹیکس چوری کرنےوالے افراد اور کاروبار کےخلاف مؤثر قانونی کاروائی کی جائےگی-

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں سیلز ٹیکس کی چوری کی روک تھام کے لیے ’’نیشنل ٹارگٹنگ سسٹم‘‘ متعارف کروایا جا رہا ہے اس نظام
    کے تحت مصنوعات کی نقل و حمل میں شامل گاڑیوں کو ای ٹیگ اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے براہ راست ٹریک کیا جائے گا۔

    ای بلٹی کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے جو کہ ایف بی آر کے سسٹم پر جاری کی جائے گی ملک کی تمام بڑی شاہراہوں اور شہروں میں داخلے کی جگہوں پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا اس اقدام سے اسمگلنگ و سیلز ٹیکس چوری کا خاتمہ ہوگا اور عام شہریو ں کو رکنے کی دقت سے نجات اور وقت کی بچت ہوگی مذکورہ نظام سے معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن ممکن ہوگی اور محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر درآمدات و برآمدات کی ڈیجیٹل و خودکار نگرانی کے لیے کسٹم ٹارگٹنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نظام کو مقامی و بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا اور مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس چوری و اسمگلنگ کی روک تھام کی جائے گی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کی افرادی قوت کو نئے نظام سے روشناس کروانے کے لیے انکی تربیت کا مؤثر انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کو دو مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کسی ایک بڑے شہر سے اس کے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔

    اجلاس کو سیمنٹ، ہیچریز، پولٹری فیڈ، تمباکو اور مشروبات کے شعبے میں سیلز ٹیکس کی نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی بتایا گیا کہ چینی کی صنعت پر نافذ کر دہ نگرانی کے نظام کی طرح تمباکو، مشروبات، اسٹیل و سیمنٹ کے شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے ایف بی آر اور معاون اداروں کے افسران و اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔

    پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کو جلد، مؤثر اور پائیدار طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت کی،ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دینے والے افراد اور کاروبار کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں گے لیکن ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ٹیکس چوری کر نے والے افراد اور کاروبار کے خلاف مؤثر قانونی کاروائی کی جائے گی ایف بی آر اور اس کے معاون قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور نظام کو خود کار بنانے کیلئے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، 70 برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

  • نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم کی سزائے موت کی اپیل پر فیصلہ سنادیا، عدالت نے مجرم ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنا دیا۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتی ہےسپریم کورٹ نے ریپ میں مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی، جبکہ اغوا کے مقدمہ میں 10 سال قید کی سزا کم کرکے ایک سال کردی گئی، اس کے علاوہ نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا گیا۔

    عدالت نے ظاہر جعفر کے مالی اور چوکیدارکی سزاؤں میں بھی کمی کردی فیصلے میں کہا گیا کہ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار جتنے سال کاٹ چکے کافی ہے،عدالت نے کہا کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائے گی۔

    نورمقدم کیس، جس فوٹیج پر آپ اعتراض اٹھا رہے ہیں اسکو آپ تسلیم کر چکے ہیں،عدالت

    وفاقی وزیر صحت کی چینی ہم منصب سے ملاقات

    بیٹی کے اغوا اور زیادتی کا جھوٹا کیس درج کروانے والا باپ گرفتار

  • بھارت کو سفارتی محاذ پر  ناکامی کا سامنا ،عالمی جریدے  کا انکشاف

    بھارت کو سفارتی محاذ پر ناکامی کا سامنا ،عالمی جریدے کا انکشاف

    عالمی جریدے "ٹیلی گراف”نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے آپریشن سندور میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا ہے۔

    "ٹیلی گراف” کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ بحال کرنے کے لیے جو سفارتی وفد تشکیل دیا، وہ اندرونی اختلافات کا شکار ہو چکا ہے اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ وفد میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کیوں نہیں رکھی گئی کئی سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے اس وفد کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

    اپوزیشن لیڈر سنجے راوت کا کہنا ہے کہ مودی سرکار سفارتی کمیٹی کو بھی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہےرپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ راہول گاندھی کی طرف سے دیئے گئے سفارتی ناموں کو مودی حکومت نے مسترد کر دیا، جس سے اپوزیشن میں مزید نارا ضگی پیدا ہوئی۔

    پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    دفاعی ماہرین کے مطابق آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد مودی حکومت عالمی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن داخلی خلفشار اور سیاسی مفادات نے اس سفارتی اقدام کو آغاز سے ہی ناکام بنا دیا ہے۔

    حکومتِ سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات دنیا بھر کیلئے مثال ہیں،شرجیل میمن