Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایئر انڈیا طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات

    ایئر انڈیا طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات

    12 جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز ”AI171“، صرف 98 سیکنڈ کی پرواز کے بعد زمین بوس ہوگئی تھی،بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے-

    بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ ہوائی اڈے کی باڑ پھلانگنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 241 مسافر اور عملہ سمیت زمین پر موجود 19 افراد جاں بحق ہوگئے۔ صرف ایک شخص معجزاتی طور پر زندہ بچا،بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرِ عام پر آ چکی ہے جس نے حادثے کی وجوہات، جہاز کے تکنیکی ریکارڈ، پرواز کے لمحات، اور پائلٹس کی آخری گفتگو کا تفصیلی جائزہ لیا ہے-

    رپورٹ کے مطابق 1:38PM (انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ ٹائم) پر AI171 نے ٹیک آف کی اجازت حاصل کی،32 سیکنڈ میں طیارہ فضا میں بلند ہو چکا تھا ،4 سیکنڈ بعد جہاز نے زمین سے مکمل علیحدگی حاصل کی،اگلے 3 سیکنڈ میں ایئر اسپید 334 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، اسی وقت دونوں انجن بند ہو گئے،Ram Air Turbine (RAT) خودکار طور پر متحرک ہوئی تاکہ بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکے،مے ڈے کال 1:39 PM پر دی گئی، محض 6 سیکنڈ بعد جہاز زمین پر گر چکا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق حادثے سے چند سیکنڈ پہلے دونوں انجنوں کے فیول کٹ آف سوئچز کو ”RUN“ سے ”CUTOFF“ پر منتقل کر دیا گیا، یعنی ایندھن کی فراہمی بند کر دی گئی یہ حرکت جہاز کے بلند ہونے کے محض چند سیکنڈ بعد ہوئی انجن فوراً بند ہو گئے اور طیارہ نیچے گرنے لگا۔

    کاک پٹ وائس ریکارڈر کے مطابق ایک پائلٹ نے دوسرے سے پوچھا کہ ”تم نے فیول کیوں بند کیا؟“ جواب آیا: ”میں نے بند نہیں کیا!،یہ مکالمہ اس قیاس کو تقویت دیتا ہے کہ یا تو ایک پائلٹ نے غلطی سے فیول بند کر دیا یا کسی تکنیکی خرابی کے باعث فیول کٹ آف سوئچز نے خودکار طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔

    تحقیقات کے مطابق RAT یعنی ”Ram Air Turbine“ صرف اس صورت میں متحرک ہوتی ہے جب جہاز کو مکمل برقی یا ہائیڈرولک طاقت سے محرومی کا سامنا ہو۔ RAT کی حرکت نے اس بات کی تصدیق کی کہ جہاز کے دونوں انجن مکمل طور پر بند ہو چکے تھے اور سسٹمز ناکارہ ہو چکے تھے،بعد ازاں پائلٹس نے فیول سوئچز دوبارہ ”RUN“ پر کر دییئ جس سے ایک انجن نے جزوی بحالی کی کوشش کی لیکن وقت کی کمی اور رفتار کے شدید زوال کے باعث طیارہ سنبھالا نہ جا سکا۔

    فیول کٹ آف سوئچز خود بخود ”CUTOFF“ پر کیوں گئے؟کیا کوئی سسٹم گلیچ (glitch) تھا جس نے انجن بند کیے؟ RAT جیسے آخری ہنگامی نظام کا ابتدائی مرحلے میں حرکت کرنا خود ایک خطرے کی علامت ہے اگر ایک پائلٹ نے غلطی سے سوئچ بند کیے، تو دوسرے نے فوری ردعمل کیوں نہ دیا؟تربیت یافتہ پائلٹس کے درمیان اس سطح کی کنفیوژن کیسے ممکن ہوئی؟پائلٹس نے جہاز کے مکمل سسٹم کو بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن وقت اور اونچائی دونوں ان کے خلاف تھے،پرواز سے قبل تمام تکنیکی چیک مکمل تھے-

    تحقیقات کے مطابق صبح 6:40 بجے تکنیکی کلیئرنس دی گئی تھی، پائلٹس نے 6:25 پر بریتھ انالائزر ٹیسٹ پاس کیا،روانگی سے پہلے جہاز میں کوئی میکانیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طیارہ پرواز کے لیے تکنیکی لحاظ سے تیار تھا۔

    ایئر انڈیا نے AAIB کی رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ تاحال تحقیقات کے مراحل میں ہے اور وہ مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں بوئنگ اور GE (جنہوں نے انجن فراہم کیے) کو تاحال کوئی حفاظتی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں درج ذیل نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں تکنیکی خرابی کے امکانات موجود ہیں، خاص طور پر اگر فیول سوئچز خودبخود ”CUTOFF“ پر گئے ہوں انسانی غلطی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سوئچز کی حرکت، کاک پٹ کی کنفیوژن، اور تاخیر سے بحالی کی کوششیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں سسٹم ڈیزائن کی پیچیدگی بھی ایک عنصر ہو سکتی ہے اگر پائلٹس حادثاتی طور پر سوئچز بند کر بیٹھے تو یہ ایک ”Human-Machine Interface“ کی ناکامی ہے-

    1AAIB اب مزید تکنیکی اجزاء کا تجزیہ کرے گا، جنہیں حادثے کے مقام سے برآمد کر کے محفوظ کھا گیا ہے کاک پٹ آڈیو، پرواز کے ڈیٹا، اور میکانیکی نظام کی گہرائی سے جانچ کی جائے گی تاکہ اصل وجہ سامنے آ سکےایئر انڈیا کا AI171 طیارہ حادثہ ایک المناک سانحہ ہے جس میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ تکنیکی نظام پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں ابتدائی رپورٹ دونوں پہلوؤں — انسانی اور تکنیکی — کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن حتمی ذمہ داری کا تعین مزید تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتیں،عظمی بخاری

    وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتیں،عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے محرم الحرام کے سلسلے میں مجالس اور جلوسوں کے لائسنس ہولڈرز اور امن کمیٹی کے اراکین نے ملاقات کی-

    ملاقات میں محرم کے دوران عزادارانِ امام حسینؑ کے لیے کیے گئے مثالی انتظامات پر حکومتِ پنجاب کا شکریہ ادا کیا گیا، اس موقع پر شیعہ علماء کرام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ذاتی نگرانی میں کیے گئے بہترین انتظامات اور سہولیات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، شیعہ علماء کونسل پنجاب کے وفد نے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے’’ایوارڈ امام حسین‘‘ بھی پیش کیا، جو محرم الحرام کے دوران غیر معمولی انتظا می کارکردگی کا اعتراف ہے،ملاقات میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی بھی موجود تھے۔

    عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر کہا کہ محرم کے انتظامات پر مجالس اور جلوسوں کے منتظمین کا مطمئن ہونا حکومت کی کامیابی ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام انتظا مات کی لمحہ بہ لمحہ خود مانیٹرنگ کی اور یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں شہریوں کو ہر تہوار پر منفرد اور نمایاں انتظامات نظر آتے ہیں، اہل تشیع کمیونٹی کی جانب سے حکو مت پنجاب سے اظہارِ تشکر ایک مثبت روایت ہے وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی ٹیم اور پنجاب کی انتظامیہ ہر وقت میدانِ عمل میں مصروف رہتی ہے۔

    ملاقات کرنے والے وفد میں علامہ کاظم رضا نقوی، شبیہ شیرازی، قاسم علی (فوکل پرسن)، یوسف جوہری، حافظ اقبال، الیاس یزدانی، صغیر ورک، کامران نقو ی، اصغر حسین، ملک ناصر، ملک شاہد، واجد علی، عمار نقوی اور صفدر جعفری شامل تھے۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی میت گھر کے بجائے سیدھا قبرستان لائی گئی وہیں نماز جنازہ ادا ہوئی اور تدفین کردی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق مرحومہ حمیرا اصغر کی نماز جنازہ بعد نماز عصر قبرستان میں ہی ادا کی گئی اور تدفین کردی گئی، ان کی میت گھر نہیں لائی گئی بلکہ براہ راست قبرستان لائی گئی،اداکارہ کی آخری آرام گاہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کے کیو بلاک کے قبرستان میں بنائی گئی جہاں تدفین ہوئی اس موقع پر خاندان کے قریبی افراد، عزیز و اقارب اور شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے چند قریبی ساتھیوں نے شرکت کی۔

    اداکارہ کی اچانک اور پُراسرار موت سے ان کے مداح اور ساتھی فنکار شدید رنج و غم میں مبتلا ہیں اداکارہ کی وفات پر فنکاروں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی لاش ایک یا دو ماہ نہیں بلکہ 8 سے 10 ماہ پرانی ہے اور بالکل گل سڑ چکی ہے ان کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں ملی جبکہ کسی قسم کے تشدد یا زیادتی کے نشانات بھی نہیں پائے گئے، لاش مکمل طور پر ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی اور چہرے سمیت جسم کے کئی حصے پٹھوں سے خالی تھے۔

    ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ چند دن قبل اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی،ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا نے بتایا تھا کہ پولیس ٹیم نے جب فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر اداکارہ کی لاش ملی تھی۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق لاش گلنے سڑنے کے انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں،پولیس اداکارہ کی موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے-

    نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

  • ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کو بتایا ہےکہ ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اس حوالے سے اخبارات میں اشتہار دے دیا ہے، جبکہ چالیس کے لگ بھگ ریلوے اسٹیشنوں پر فری وائی فائی لگانے جارہے ہیں۔

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس رائے حسن نواز کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں کمشنر ڈی جی خان کی جانب سے مظفر گڑھ کی ریلوے زمین پر کمیٹی ارکان کو بریفنگ دی گئی، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے استفسار کیا کہ یہ زمین کس کی ہے؟ کمشنر ڈی جی خان نے بتایا کہ یہ زمین کاغذوں میں وفاقی حکومت کی ملکیت ہے، رکن کمیٹی جمشید دستی نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے جھوٹی رپورٹ دینے پر کمشنر ڈی جی خان پر تحریک استحقاق بنتی ہے۔

    اس موقع پرحنیف عباسی نے کہا کہ سول بیوروکریسی کو سب سے زیادہ تعاون عدالت کے فیصلوں سے ملتا ہے،جو ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے، اسے من و عن تسلیم کرکے اراضی ریلوے کو واپس کی جائے، ڈی جی خان میں ہماری جو زمین ہے، اسے واپس کریں اور تجاوزات کے خاتمے میں مدد کریں، کمشنر ڈی جی خا ن نے کہا کہ اس معاملے کو بورڈ آف ریونیو نے ٹیک اپ کر رکھا ہے، چیئرمین کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔

    صدر آر آئی یو جے طارق ورک گرفتار،صحافی برادری میں تشویش کی لہر

    بعد ازاں اجلاس میں ریلوے حکام کی طرف سے ریلوے اسٹیشنوں پر پینے کے صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹ پر بریفنگ دی گئی، رکن کمیٹی وسیم حسین نے بتایا کہ حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اس کا ایک وزٹ کرلیں۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی نے کہا کہ حیدرآباد اسٹیشن پر کل سے ہی کام شروع کروا دیتے ہیں، رکن کمیٹی نزہت صادق نے سوال کیا کہ ریلوے میں سفر کے دوران میڈیکل ایمرجنسی کے حوالے سے کیا صورتحال ہوتی ہے: جس پر ریلویز حکام نے جواب دیا کہ اگر ٹرین میں کوئی میڈیکل ایمرجنسی ہوتی ہے تو ٹرین میں اسٹاف ہوتا ہے، ٹرین میں ہی فرسٹ ایڈ مہیا کردی جاتی ہے بڑے ریلوے اسٹیشن پر ہسپتال اور ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں، ڈاکٹرز کے مشورہ کے بعد ہی مسافروں کو آگے سفر کی اجازت دی جاتی ہے۔

    اجلاس میں رابطہ ایپ کے غیر مؤثر ہونے اور ریلوے میں ڈیجیٹلائزیشن کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا جس پر حنیف عباسی نے بتایا کہ رابطہ ایپ پہلے زیادہ صحیح سے کام نہیں کررہی تھی، ریلوے حکام نے بتایا کہ ریلوے میں ڈیجیلائزیشن کے حوالے سے وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دی تھی، ایم پی اسکیل پر رابطہ ایپ کو موثر کرنے کے لیے افسران کی بھرتی کا عمل کیا جائے گا، آئی ٹی ٹیم کو جولائی تک کا وقت دیا ہے، 15 جولائی تک رابطہ ایپ ایکٹو ہوجائے گی۔

    انڈر18 ہاکی ایشیا کپ :پاکستان فائنل میں پہنچ گیا

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کے تمام گیسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس کرنے جارہے ہیں، اس حوالے سے اخبارات میں اشتہار دے دیا ہے، معروف فرمز کو گیسٹ ہاؤسز آؤٹ سورس کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستان ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ ہو گیا، ریلوے کی 78 سالہ تاریخ میں یہ آمدن کی بلند ترین سطح ہے۔

    مالی سال 25-2024 کا اختتام پر پاکستان ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلویز نے 93 ارب روپے آمدن حاصل کرلی ہے مسافر ٹرینوں سے ساڑھے47 ارب، مال گاڑیوں سے ساڑھے 31 ارب روپے حاصل ہوئے، ملٹری ٹریفک سے ڈیڑھ ارب،کوچنگ ذرائع سے 3 ارب آمدن ہوئی، متفرق ذرائع سے ساڑھے 9 ارب روپے حاصل ہوئے، ریلوے کی 78 سالہ تاریخ میں یہ آمدن کی بلند ترین سطح ہے۔

    آپریشن سندور،مودی سرکار نے "جھوٹ” پر مبنی کتاب شائع کر دی

    ترجمان نے کہا کہ پچھلے سال پاکستان ریلویز نے 88 ارب روپے کمائے تھے،پسنجر سیکٹر سے کراچی ڈویژن پونے 15 ارب آمدن سے سب سے آگے ہے۔لاہور سوا 11 ارب سے زائد آمدن کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ہیڈکوارٹرز ڈویژن نے سوا پانچ،ملتان ڈویژن نے پانچ ارب روپے کمائے، سکھر کی آمدن 4.8 ارب جبکہ راولپنڈی کی آمدن 4.7 ارب رہی، پشاور نے سوا 1 ارب اور کوئٹہ نے 52 کروڑ روپے آمدن حاصل کی، فریٹ سیکٹر میں کراچی نے 28 ارب جبکہ ملتان نے 1 ارب حاصل کیا، لاہور 83 کروڑ، پشاور 77 کروڑ، راولپنڈی 31 کروڑ، سکھر 28 کروڑ اور کوئٹہ نے 10 کروڑ کمائے وزیر ریلوے نے کہا کہ اگلے سال مال گاڑیوں سے 70 فیصد تک انکم جنریشن ممکن بنائیں گے-

  • نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

    نعمان اعجاز کا حمیرا اصغر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیے جانے پر افسوس کا اظہار

    اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی افسوسناک موت کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز کے وائرل ہونے پر سینئر اداکار نعمان اعجاز نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی بوسیدہ لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ لاش تقریباً 8 سے 10 ماہ پرانی ہے، یہ واقعہ ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو غمزدہ کر گیا ہے۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پر اداکارہ کی لاش اور فلیٹ کی کئی ایسی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جو انتہائی دردناک اور دل دہلا دینے والی ہیں، نعمان اعجاز نے اداکارہ حمیرا اصغر کی موت پر ردعمل دیتے ہوئے انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ براہِ کرم اداکارہ حمیرا اصغر علی کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا بند کریں وہ چھ ماہ تک تکلیف میں رہیں اور کسی کے آنے اور انہیں پہچاننے کا انتظار کرتی رہیں، تاکہ انہیں ’مٹی کا سکون‘ مل سکے اور آپ سب ان کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرکے ان کے گناہوں اور تکلیف میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

    نعمان اعجاز نے لکھا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ کس طرح چھیپا کے ڈرائیور نے ان کی میت کی ویڈیو شیئر کی،لوگ کتنے بے حس ہو گئے ہیں؟ اب وہ خود کے لیے بول بھی نہیں سکتیں، اسی لیے یہ پاگل پن بند کریں اور براہِ کرم ان کے لیے دعا کریں۔

  • انڈر18 ہاکی ایشیا کپ :پاکستان فائنل میں پہنچ گیا

    انڈر18 ہاکی ایشیا کپ :پاکستان فائنل میں پہنچ گیا

    انڈر 18 ایشیا ہاکی کپ میں پاکستان نے ملائیشیا کو ہرا کر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا،پاکستان نے ملائشیا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر 3-4 گول سے شکست دی۔

    چین کے شہر ڈازھو میں جاری انڈر18 ہاکی ایشیاء کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان اور ملائیشیا کا تین، تین گول سے برابر رہا، ملائشیا نے دو اور پاکستان نے ایک پنالٹی شوٹ ضائع کی، انڈر۔18 ایشیا کپ کا فائنل پاکستان اور جاپان کے درمیان اتوار کو ہوگا-

    گروپ کے آخری میچ میں گرین شرٹس نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد میزبان چین کو ایک کے مقابلے میں 2 گول سے زیر کر کے ناقابل شکست رہنے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اس سے قبل ٹیم نے بنگلہ دیش، سری لنکا اور ہانگ کانگ کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی ، دوسرا سیمی فائنل جاپان اوربنگلہ دیش کے درمیان کھیلا جائے گا۔

  • ملک بھر میں 13 جولائی سے موسلادھار بارشوں کا امکان

    ملک بھر میں 13 جولائی سے موسلادھار بارشوں کا امکان

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 13 سے 17 جولائی کے لیے مون سون سسٹم کا الرٹ اور ہائیڈرولوجیکل آؤٹ لک جاری کر دیا۔

    ملک کے مختلف حصوں میں نیا مون سون سسٹم معتدل سے لے کر بھاری شدت کی بارشوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ سسٹم کی شدت بحیرہ عرب سے ملنے والے نمی کی وجہ سے بڑھ سکتی ہے،مغربی لہر کے نتیجے میں تمام بڑے دریاؤں، خاص طور پر دریائے سندھ، کابل، جہلم (اوپر منگلا) اور چناب میں بہاؤ میں اضافہ متو قع ہےاس وقت تربیلا، تونسہ اور گڈو بیراج نچلے سیلاب کی سطح پر ہیں جبکہ کالاباغ اور چشمہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ تونسہ میں بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی سطح بڑھنے کی توقع ہے۔

    آنے والے ہفتے کے دوران دریائے سندھ کے اسٹیشنوں میں کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے مرالہ اور خانکی کے مقام پر دریائے چناب میں نچلی سطح پر سیلاب کی توقع ہے نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں بھی سیلاب کی سطح نچلی سطح تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے دریائے سوات اور دریائے پنجکوڑہ سے منسلک ندی نالوں میں بارش کی وجہ سے طغیانی متوقع ہے۔

    بلوچستان میں جھل مگسی، کچھی، سبی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور موسیٰ خیل سمیت شمال مشرقی اضلاع میں ندی نالوں میں تیز بہاؤ کا امکان ہے۔ جنوبی بلوچستان کے اضلاع جیسے خضدار، آواران، لسبیلہ اور قلات کے ندی نالوں میں مقامی سطح پر سیلاب کی توقع ہےاس وقت تربیلا ڈیم میں 74 فیصد اور منگلا ڈیم میں 44 فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔

    این ڈی ایم اے دریاؤں، ندی نالوں اور نالے کے قریب رہنے والے رہائشیوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ پانی کی سطح میں اچانک اضافے کے لیے چوکس رہیں۔ خاص طور پر شدید بارش اور رات کے وقت سیلاب زدہ علاقوں میں کمیونٹیز کو انخلاء کے محفوظ راستوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

    گھریلو اشیاء، گاڑیوں اور مویشیوں کو بلند مقامات پر محفوظ رکھنا چاہیے، اور ہنگامی کٹس تیار کرنی چاہیے جن میں ضروری سامان بشمول خوراک، پانی اور ادویات 3 سے 5 دن کے لیے کافی ہوں ضلعی انتظامیہ خاص طور پر شمال مشرقی اور وسطی پنجاب میں، شدید بارشوں کی وجہ سے جمع ہونے والے پانی کو منظم کرنے کے لیے ڈی واٹرنگ کا سامان تیار کرے۔

    عوام سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ٹیلی ویژن، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے نشر ہونے والی سرکاری سیلاب کی وارننگ کے ذریعے اپ ڈیٹ رہیں،تمام شہریوں کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ کاز ویز، کم پلوں اور سیلاب زدہ سڑکوں کو عبور کرنے سے گریز کریں،این ڈی ایم اے صورتحال پر نظر رکھنے اور الرٹس کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

  • پاکستان اور ویتنام کے مابین تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور ویتنام کے مابین تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور ویتنام کے وزرائے تجارت کے درمیان ملاقات ہوئی ،جس میں تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق طے پاگیا۔

    دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے ویتنامی ہم منصب سے دو طرفہ تجارتی شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں مختلف شعبہ جات میں تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

    ملاقات کے دوران فریقین نے ٹیکسٹائل، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور دواسازی کے شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ ترجیحی تجار تی معاہدے (PTA) کی جانب پیش رفت پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ تجارتی رکاوٹوں کو کم کر کے باہمی درآمدات و برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

    ویتنام نے پاکستانی چاول، ٹیکسٹائل مصنوعات اور چمڑے کے سامان میں گہری دلچسپی ظاہر کی جب کہ پاکستان نے ویتنام کو وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی منڈیو ں تک رسائی کی پیشکش کی، جس سے ویتنامی برآمدات کو نئی جہت مل سکتی ہے، دونوں وزرائے تجارت نے مشترکہ منصوبوں، نجی شعبوں کے درمیان روابط اور کاروباری روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ طویل المدتی معاشی شراکت داری کو عملی شکل دی جا سکے۔

    فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان موجودہ تجارتی حجم کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے سرکاری و نجی سطح پر مسلسل رابطے جاری رکھے جائیں گے، ملاقات ایک خوشگوار اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی اقتصادی ا شتراک کے فروغ کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا۔

  • مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ

    مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ

    رواں مالی سال 2025-26 کے دوسرے ہفتے میں بھی ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان جاری ہے، 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

    وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق، حالیہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں 0.95فیصد اضافہ جبکہ اس سے پچھلے ہفتے بھی 0.73 فیصد اضافہ ہو تھا، اسی طرح حالیہ ہفتے میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 1.23 فیصد رہی ہے ۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں 19اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 6اشیا سستی اور 26 کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے،حالیہ ایک ہفتے کے دوران آلو کی قیمتوں میں 2.79فیصد،پیاز کی قیمتوں میں6.25 فیصد، ٹماٹرکی قیمتوں میں13.45 فیصد،لہسن کی قیمتوں میں2.36 فیصد، گڑکی قیمتوں میں 1.89 فیصد، چینی کی قیمتوں میں1.90 فیصد،باسمتی ٹوٹا چاول کی قیمتوں میں0.84 فیصد اور چکن کی قیمتوں میں22.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں2.56 فیصد،سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.81 فیصد،دال مونگ کی قیمتوں میں0.41 فیصد، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں0.20 فیصد، گھی کی قیمتوں میں0.02 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں0.02 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.06فیصد اضافے کے ساتھ منفی1.83 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیہے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.10فیصد اضافے کے ساتھ منفی 2.79فیصد رہی۔

    پاکستان میں اسٹار لنک سروس کی لانچنگ تقریب میں ایلون مسک کی شرکت متوقع

    جبکہ 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.99فیصداضافے کے ساتھ منفی1.41فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.02 فیصد اضا فے کے ساتھ منفی 0.59فیصد رہی جب کہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کےل یے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.88 فی صداضافے کے ساتھ منفی 0.04فیصدرہی ہے۔

    یو اے ای کی معروف ائیرلائن کا ٹکٹ اب کرپٹو کرنسی سے بھی خریدا جاسکے گا

  • فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    فلسطین کے حق میں امریکی طلبہ کے مظاہروں کی قیادت کرنے والے طالبعلم رہنما محمود خلیل نے امیگریشن حکام کی جانب سے گرفتاری اور حراست میں رکھنے پر سابق صدر ٹرمپ کی حکومت کے خلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا، سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس محمود خلیل کی قانونی معاونت کر رہا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر قانونی منصوبے کے تحت محمود خلیل کو خوفزدہ کرنے کے لیے انہیں گرفتار کیا، حراست میں رکھا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی، خلیل کو اس واقعے کے باعث شدید ذہنی صدمے، مالی نقصان اور ساکھ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا، محمود خلیل نے مقدمے کو احتساب کی جانب پہلا قدم قرار دیا، میری زندگی کے وہ 104 دن کبھی واپس نہیں آ سکتے، جو صدمہ مجھے سہنا پڑا، اپنی بیوی سے جدائی اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا لمحہ جس میں شریک نہ ہو سکا، وہ سب ناقابلِ تلافی ہیں سیاسی انتقام اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ضرور جوابدہی ہونی چاہیے۔

    محمود خلیل پہلے بھی اپنی حراست کے دوران گزرے تکلیف دہ حالات کا ذکر کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ ’میں 70 سے زائد افراد کے ساتھ ایک تنگہ جگہ میں رہ رہا تھا، جہاں نہ کوئی پرائیویسی تھی، نہ کبھی روشنی بند ہوتی تھی۔