Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    دنیا بھر میں چائے کا عالمی دن (International Tea Day) ہر سال 21 مئی کو منایا جاتا ہے ، اس دن کو منانے کا مقصد چائے کی عالمی تجارت کو فرو غ دینا، اس کی پیداوار میں پائیداری لانا اور لاکھوں کسانوں کی معاش میں بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

    چائے کا عالمی دن منانے کا مقصد بھوک اور غربت سے لڑنے کیلئے پسماندہ ممالک میں فروغ پاتی ہوئی چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقوامِ عالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے تحت ہر سال مختلف تقاریب کے ذریعے عوام الناس میں شعور اجاگر کیاجاتا ہے۔

    گرمی ہو یا سردی چائے پاکستان سمیت دنیا بھر کا ایک مقبول ترین مشرو ب ہے دن بھر کی تھکان میں چائے کی چسکیاں سارے مسائل حل کردیتی ہیں پاکستان میں تو ویسے بھی چائے پیش کرنا ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، مہمان آئیں یا بزرگوں کی سیاسی بیٹھک ہو، خوشی کا موقع ہو ہو یا دکھ کی گھڑی، چائے پیش کرنا ہماری تہذیبی روایات میں شامل ہو چکا ہےمہمانوں کے چائے بمعہ لوازمات پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    چائے کا استعمال عام طور پر صبح ناشتے میں کیا جاتاہے جبکہ کچھ افراد ایسے دن بھر کی تھکاوٹ سے چھٹکارا اور ذہن کو تروتازہ رکھنے کیلئے کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چائے ایک مقبول ترین مشروب کا درجہ اختیار کر چکی ہے، روزانہ دو ارب لوگ اپنے دن کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں۔

    اس ہر دلعزیز مشروب کا آغاز ہزاروں سال قبل قدیم چین سے ہوا، جہاں اسے آغاز میں ایک جڑی بوٹی اور دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چائے کا پودا، جسے سائنسی زبان میں کیمیلیا سائنینسز کہا جاتا ہے، سرحدیں عبور کرتا ہوا پوری دنیا میں پھیل گیا۔

    اجناس کی تاریخ میں چائے کی تجارتی اور سیاسی اہمیت اتنی زیادہ رہی ہے کہ اس نے سلطنتوں کے عروج و زوال اور مختلف تہذیبوں کے سماجی رنگ ڈھنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ آج سبز چائے کے روایتی اور پرسکون انداز سے لے کر، برصغیر کی کڑک، دودھ اور مصالحہ جات سے بھرپور ”مسالہ چائے“ تک، یہ مشروب دنیا کے ہر کونے میں اپنے الگ ذائقے، خوشبو اور پہچان کے ساتھ راج کر رہا ہے۔

    چینی روایات کے مطابق اس مشروب کی دریافت کا تعلق شین نونگ سے جوڑا جاتا ہے، جو زراعت اور جڑی بوٹیوں کے علم کے بانی مانے جاتے ہیں، تقریباً پانچ ہزار سال قبل شین نونگ ایک دن کھلے آسمان تلے گرم پانی پی رہے تھے اسی دوران قریبی درخت سے چائے کے چند پتے اڑ کر ان کے پیالے میں آ گرے۔ جب انہوں نے وہ پانی پیا تو اس کا ذائقہ، خوشبو اور جسم میں پیدا ہونے والی تازگی انہیں بہت پسند آئی۔ یوں اس روایت کے مطابق چائے کی پہلی پیالی کا تصور سامنے آیا شروع میں چائے کو موجودہ دور کی طرح ایک عام تفریحی مشروب کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ ایک قیمتی دوا سمجھی جاتی تھی۔

    قدیم چینی طبیبوں کا ماننا تھا کہ چائے کے پتوں کو ابال کر پینے سے جسمانی تھکن دور ہوتی ہے، نظر تیز ہوتی ہے اور ہاضمے کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ صدیوں تک چینی لوگ اسے صرف مختلف بیماریوں کے علاج اور ذہنی توانائی اور چستی بڑھانے کے لیے ایک ٹانک کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ بعد میں ہان خاندان کے دور میں یہ شاہی درباروں سے نکل کر عام لوگوں کے روزمرہ کے پینے کا مشروب بنی۔

    چینی تاجروں کے ذریعے چائے کا یہ سفر آگے بڑھا اور یہ یورپ تک پہنچ گئی۔ 17ویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انگریز اس مشروب کے دیوانے ہو چکے تھے لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ تھا چائے کی پوری عالمی تجارت پر چین کی اجارہ داری تھی اور برطانوی سلطنت اس اجارہ داری کو توڑنا چاہتی تھی یہی وہ ضرورت تھی جو چائے کو بڑے پیمانے پر ہندوستان میں لے کر آئی۔

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شروع میں چین سے چائے کے بیج لا کر ہندوستان میں کاشت کرنے کی کوشش کی، لیکن اصل کامیابی اس وقت ملی جب آسام کے جنگلوں میں چائے کے پودے پائے گئے اس دریافت کے بعد آسام، دارجیلنگ اور نیلگیری جیسے علاقوں میں چائے کے وسیع باغات پھیل گئے حیرت کی بات یہ ہے کہ شروع میں یہ تمام چائے صرف باہر کے ملکوں میں برآمد کرنے کے لیے اگائی جاتی تھی اور مقامی لوگ خود چائے پینے کے عادی نہیں تھے، یہ تو 20ویں صدی میں چائے کی تشہیر کے لیے چلائی جانے والی بڑی مہمات کا نتیجہ تھا کہ چائے برصغیر کے ہر گھر کی بنیادی ضرورت بن گئی۔

    جب چائے مقامی لوگوں کے ہاتھ لگی، تو انہوں نے اس کی پوری شخصیت ہی بدل دی۔ جہاں چینی لوگ چائے کو بالکل سادہ پینا پسند کرتے تھے، وہیں یہاں کے لوگوں نے اس میں دودھ، چینی، ادرک، الائچی اور مختلف مصالحہ جات شامل کر دیے۔ اس ملاپ سے ”مسالہ چائے“ نے جنم لیا، جو ذائقے میں زیادہ بھرپور، کڑک اور خوشبودار تھی۔

    چینی چائے ہلکی، دھیمی اور پھولوں یا مٹی کی خوشبو جیسی ہوتی ہے، جسے بہت سکون اور گہرائی سے محسوس کیا جاتا ہے اس کے برعکس برصغیر کی چائے کڑک، تیز اور بھرپور ہوتی ہے، جو انسان کو فوری طور پر بیدار کرنے والی کیفیت رکھتی تھی حتیٰ کہ ان کو پینے کے انداز میں بھی واضح فرق ہے چین میں چائے نوشی کا مطلب خاموشی، تامل اور فکری سوچ ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف چائے کا مطلب گفتگو، رونق اور چائے کے ساتھ کھانے کے مختلف لوازمات ہیں یہاں چائے خاندانی باتوں، دفتری وقفوں، ٹرین کے سفر اور رات دیر تک ہونے والی محفلوں کا بہانہ بنتی ہے۔

  • ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    ایران سے ممکنہ ڈیل:ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان منگل کو ایران جنگ کے معاملے پر ایک کشیدہ ٹیلیفونک گفتگو ہوئی-

    امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کے باعث گفتگو میں تناؤ پیدا ہوا یہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی گفتگو نہیں تھی اتوار کو ہونے والی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا تھا کہ وہ ہفتے کے آغاز میں ایران پر نئے ہدفی حملوں کی منظوری دینے کا امکان رکھتے ہیں، بتایا گیا کہ اس مجوزہ کارروائی کو نیا نام آپریشن سلیج ہیمر دیے جانے کی تیاری بھی کی جارہی تھی۔

    تاہم ابتدائی گفتگو کے تقریباً 24 گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ منگل کو متوقع حملے روک رہے ہیں ان کے مطابق یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کیا گیا امریکی اہلکار اور معاملے سے واقف ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دنوں خلیجی ممالک وا ئٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم ایران کے معاملے کے آخری مراحل میں ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہےیا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہم کچھ ایسے اقدامات کریں گے جو کافی سخت ہوں گے، لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ان جاری مذاکرات سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے تہران کے خلاف زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تاخیر صرف ایران کے مفاد میں جا رہی ہے۔

    امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کی گفتگو میں صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ متوقع حملے موخر کرنا ایک غلطی ہے اور امریکا کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔

    ایک اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے ٹرمپ پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا اسرائیلی حکام کے مطابق اختلاف واضح تھا، کیونکہ ٹرمپ معاہدے کے امکانات دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو کسی اور سمت میں پیش رفت کی توقع کررہے تھے۔

    سی این این کے مطابق وائٹ ہاؤس سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی جبکہ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے اس کشیدہ فون کال کی خبر سب سے پہلے دی تھی اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو کے قریبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسرائیلی حکومت کی اعلیٰ سطح پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی خواہش موجود ہے اور اس بات پر بڑھتی ہوئی مایوسی پائی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کو سفارتی عمل کے ذریعے وقت دے رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کی امریکی حکمت عملی، خصوصاً ٹرمپ کی جانب سے دھمکیوں کے بعد اچانک توقف اختیار کرنے پر ناراضی کوئی نئی بات نہیں امریکی حکام ماضی میں بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے مقاصد مکمل طور پر یکساں نہیں۔

    بدھ کو صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ انہوں نے گزشتہ شب نیتن یاہو سے کیا کہا تھا تو انہوں نے جواب دیا، میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا،ایران کے ساتھ معاملات انتہائی نازک مرحلے میں ہیں اور اگر چند روز کی سفارت کاری سے جانیں بچ سکتی ہیں تو اسے موقع دینا چاہیے۔

    ادھرایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ایران کے ابتدائی 14 نکاتی متن کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے، امریکی مؤقف موصو ل ہوچکا ہے اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

  • بنگلہ دیش میں ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہو سے مشابہ دو بھینسے سوشل میڈیا پر وائرل

    بنگلہ دیش میں ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہو سے مشابہ دو بھینسے سوشل میڈیا پر وائرل

    بنگلہ دیش میں 700 کلو گرام وزنی اس نایاب گلابی البینو (Albino) بھینسے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر معمولی مشابہت کی وجہ سے انہی کا نام دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نگلادیش سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشابہت رکھنے والے 2 بھینسے سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں منفرد گلابی بھینسا، جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، عیدالاضحیٰ سے قبل عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے 700 کلو وزنی اس بھینسے کے سنہری اور گھنے بالوں کی وجہ سے اسے “ٹرمپ” کا نام دیا گیا، جو ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں ایک فارم پر موجود ہے۔

    مالک ضیاء الدین مردھا کے مطابق بھینسے کا یہ نام اس کے غیر معمولی بالوں کی وجہ سے رکھا گیا بڑی تعداد میں لوگ، خصوصاً بچے اور سوشل میڈیا صارفین، اس بھینسے کو دیکھنے اور تصاویر بنانے کے لیے فارم کا رخ کر رہے ہیں مالک کیمطابق بھینسے کو دن میں چار مرتبہ نہلایا جاتا ہے، جو اس کی واحد “آسائش” ہے، میرے چھوٹے بھائی نے اس کے سر پر سنہرے رنگ کے بال دیکھ کر مذاق میں اس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھ دیا، بھینسا بہت پرسکون طبیعت کا حامل ہے، تاہم مسلسل رش اور توجہ کے باعث اس کے وزن میں کمی واقع ہوئی ہے جس پر اب عوام کے آنے پر کچھ پابندیاں لگائی گئی-

    اس فارم پر موجود دیگر بھینسوں کو بھی دلچسپ نام دیے گئے ہیں، جن میں “طوفان”، “فیٹ بوائے” اور “سویٹ بوائے” شامل ہیں، جبکہ ایک سنہری بالوں والے بھینسے کو برازیلین فٹبالر نیمار کے نام سے موسوم کیا گیا ہےضیاء الدین مردھا نے کہا کہ وہ اس بھینسے کو یاد کریں گے، تاہم عیدالاضحیٰ کا اصل مقصد قربانی ہی ہے۔

    سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جانور کی کوئی حتمی یا سرکاری قیمت طے نہیں کی گئی، تاہم یہ اس وقت دنیا کا سب سے مقبول بھینسا ہونے کا اعزاز پا چکا ہے،محکمہ لائیوسٹاک حکام کا کہنا ہے کہ البینو بھینسے انتہائی نایاب ہوتے ہیں اور ان میں میلانین کی کمی کے باعث ان کا رنگ سفید یا گلابی دکھائی دیتا ہے۔

    بنگلہ دیش میں عیدالاضحیٰ کی تیاریوں کے سلسلے میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد جانوروں کی قربانی متوقع ہے، جس دوران کم آمدن والے افراد کو بھی گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔

    دوسری جانب نارائن گنج میں ایک اور البینوبھینسا جس کا وزن 750 کلوگرام سے زیادہ ہے،اس کے بال اور آنکھیں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے مشا بہت رکھتی ہیں اور یہ مبینہ طور پر جارحانہ رویے کا مالک ہے۔ایس ایس کیٹل فارم کے ایک مینیجر نے کہا کہ نیتن یاہو بہت شرارتی اور اس کی ذہانت مکار ہے یہاں تک کہ جب ہم اسے کھانا کھلانے جاتے ہیں، تو یہ ہمیں گھورنے کی کوشش کرتا ہے۔

  • عید الاضحیٰ  پر 3 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

    عید الاضحیٰ پر 3 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

    پاکستان ریلویز نے عید الاضحیٰ کے موقع پر 3 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے، اسپیشل عید ٹرینوں میں 7 سے 8 کوچز ہوں گی۔

    شیڈول کے مطابق پہلی ٹرین کوئٹہ سے کراچی 23 مئی کو چلے گی اور دوسری عید ٹرین کراچی سے راولپنڈی براستہ ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا 24 مئی کو چلے گی،اسی طرح، تیسری اسپیشل عید ٹرین کراچی سے لاہور کے لیے 25 مئی کو رروانہ ہوگی،جبکہ پہلی بار عید کے موقع پر پشاور کو نظر انداز کر دیا گیا، پشاور کے لیے کراچی، لاہور اور کوئٹہ سے کوئی عید ٹرین نہیں چلے گی۔

    امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا

    ذرائع کے مطابق اسپیشل ٹرینوں کو اکانومی کلاس تک محدود رکھنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی جا سکے،پاور پلانٹس کی عدم دستیابی کے باعث اس بار عید اسپیشل ٹرینوں کی تعداد محدود رکھی جا رہی ہے، تاہم حتمی شیڈول اور بکنگ سے متعلق اعلان جلد متوقع ہے۔

    پرنس رحیم آغا خان پنجم کا دورہ پاکستان، وزیراعظم شہباز سے ملاقات

  • امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا

    امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا

    امریکا نے کیوبا کے سابق صدر اور انقلابی رہنما راؤل کاسترو کے خلاف باضابطہ فوجداری الزامات عائد کر دیے ہیں، جن میں 1996 میں ایک امریکی مخالف تنظیم کے 2 طیاروں کو مار گرانے کے واقعے میں مبینہ کردار شامل ہے۔

    امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 94 سالہ راؤل کاسترو پر الزام ہے کہ انہوں نے ’برادرز ٹو دی ریسکیو‘ نامی کیوبا سے جلاوطن امریکی تنظیم کے طیاروں کو مار گرانے کی اجازت دی تھی یہ واقعہ 24 فروری 1996 کو پیش آیا جب کیوبا کے ایم آئی جی لڑاکا طیاروں نے فلوریڈا کے قریب بین الاقوامی فضائی حدود میں 2 سیسنا طیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

    واشنگٹن میں فریڈم ٹاور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے بتایا کہ راؤل کاسترو اور دیگر کیوبن فوجی حکام پر ’امریکی شہریوں کے قتل کی سازش اور طیاروں کی تباہی‘ سمیت 4 الگ الگ قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،جبکہ ان کے ساتھ مزید 5 سابق کیوبن فوجی افسران بھی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 4 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 امریکی شہری اور ایک قانونی مستقل رہائشی شامل تھا ڈپٹی ڈائریکٹر ایف بی آئی کرس رییا نے کہا کہ چاہے 5 ماہ ہوں، 5 سال یا 5 دہائیاں، امریکا اپنے شہریوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کا پیچھا جاری رکھے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھے گا جب تک کیوبا کے عوام کو آزادی نہیں مل جاتی۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کینل نے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ان کے مطابق یہ مقدمہ ’امریکی طاقت کے غرور اور کیوبا کے انقلاب کے خلاف سیاسی مہم‘ کا حصہ ہے کیوبا کے سفارت خانے نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1994 سے 1996 کے دوران طیاروں کی پروازوں کے حوالے سے متعدد بار امریکا کو آگاہ کیا گیا تھا ’اس لیے کسی کو لاعلمی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔‘

    یہ مقدمہ امریکا کی ان پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی فوجداری کارروائیاں شامل رہی ہیں۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت،  امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لیں، بصورت دیگر فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک داخلی سفارتی مراسلے میں، جسے ’حساس مگر غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، یروشلم میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ریاض منصور کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدواری ’کشیدگی میں اضافہ‘ کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اگر فلسطینی وفد نے نائب صدارت کی امیدواری واپس نہ لی تو امریکا فلسطینی اتھارٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

    واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کے تحت انتظامی امور چلاتی ہے۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    امریکی سفارت کاروں کو فراہم کردہ نکات میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ستمبر 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مشن سے وابستہ اہلکاروں پر ویزا پابندیاں نرم کی تھیں مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ’دستیاب آپشنز پر دوبارہ غور کرنا بدقسمتی ہوگی۔

    اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، البتہ ویزا ریکارڈ کی رازداری کے باعث مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا امن منصوبہ، جو 2 برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، حماس کی جا نب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علا قے پر قابض ہیں، جہاں بیشتر عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور شہریوں کو علاقوں سے انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ریاض منصور پہلے ہی فروری میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے چکے ہیں، تاہم نائب صدارت کے منصب پر منتخب ہونے کی صورت میں بھی وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرسکتے ہیں اگر فلسطینی امیدوار دوڑ سے دستبردار نہ ہوئے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران فلسطینی نمائندہ اہم اجلاسوں کی صدارت کرسکتا ہے، جسے واشنگٹن خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 16 نائب صدور کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو ہوگی فلسطینی وفد اقوام متحدہ میں ’ریاستِ فلسطین‘ کے نام سے نمائندگی کرتا ہے، تاہم اسے مکمل رکنیت حاصل نہیں 193 رکنی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹی کن سٹی کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔

  • شاہ رخ کی فلم  میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ میرا نے انکشاف کیا ہے کہ شاہ رخ کی فلم ’جب تک ہے جان‘ میں کترینہ کا کردار پہلے انہیں آفر ہوا تھا۔

    ایک انٹرویو میں اداکارہ میرا نے کہا کہ بھارت میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا تھا اور وہ کئی معروف شخصیات سے ملاقات بھی کر چکی ہیں جن میں امیتابھ بچن، گوری خان، کرن جوہر، سنجے دت شامل ہیں اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ وہ دس دن تک دلیپ کمار کے گھر میں بھی رہیں،جبکہ شاہ رخ کی فلم ’جب تک ہے جان‘ میں کترینہ کا کردار پہلے انہیں آفر ہوا تھا،یش چوپڑا نے انہیں شاہ رخ خان کے ساتھ کاسٹ کیا تھا فلم کی شوٹنگ لندن میں ہونا تھی اور انہیں اس کردار کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے میرا کے اس بیان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا بعض صارفین نے ان کے دعوؤں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا اکثر خبروں میں رہنے کے لیے غیر متوقع بیانات دیتی ہیں جبکہ کچھ مداحوں نے ان کے ماضی کے بین الاقوامی روابط کو حقیقت قرار دیا ہے۔

    پنکی کے قریبی ساتھی سےتحقیقات کے لیے پولیس کا عدالت سے رجوع

  • عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    اسلام آباد میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کردیا گیا۔

    چیف ٹریفک آفیسر کی جانب سے جاری کردہ پلان کے مطابق شہر بھر کی مویشی منڈیوں کے اطراف خصوصی ٹریفک انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے 350 سے زائد افسران اور جوان فرائض انجام دیں گے۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مویشی منڈیوں میں روڈ پر گاڑیاں پارک کرنے سے گریز کریں اور صرف مختص پارکنگ مقامات پر ہی گاڑیاں کھڑی کریں۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اضافی نفری بھی مختلف مقامات پر تعینات کی جائے گی تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جاری کردہ ٹریفک پلان پر عمل کریں اور اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ عیدالاضحیٰ کے دوران شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اداکارہ مومنہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ، ایم پی اے کی طلبی ہو گئی

  • ترک اور امریکی صدور  کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترک اور امریکی صدور کے درمیا ن ٹیلیفونک رابطہ

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران سے جنگ بندی، شام اور لبنان کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترک صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع امور کا معقول اور سفارتی حل ممکن ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ترکیہ خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تعمیری اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر اردوان نے شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مستقل استحکام کا قیام پورے خطے کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ شام کے استحکام اور تعمیر نو کے لیے اپنی حمایت بلا تعطل جاری رکھے گا جبکہ انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہاں حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔

    صدر اردوان نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اجلاس کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسجد پر حالیہ حملے پر صدر ٹرمپ سے تعزیت بھی کی اور کہا کہ ترکیہ کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی مخالفت کرتا ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست میری لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیا اور ترک صدر کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو سراہا ٹرمپ نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ میرے تعلقات بعض مضبوط رہنماؤں کے ساتھ ہیں، اردوان ایک مضبوط شخصیت ہیں اور میرے ان کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جیسے کسی اور کے نہیں، انہوں نے اچھا کام کیا ہے، صدر اردوان امریکا کے اہم اتحادی رہے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس پر شبہ کرتے ہیں، لیکن ان کے بقول ترکیہ ایک بہترین اتحادی ثابت ہوا ہے اور ترک عوام اپنے صدر کا بے حد احترام کرتے ہیں

  • اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز بھی زبردست تیزی کا رجحان برقرار رہا،کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں ہی انڈیکس 3,000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔

    صبح 10:10 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 167,892.19 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 3,060.77 پوائنٹس یعنی 1.86 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے،مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھی گئی،بڑے انڈیکس شیئرز میں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک، فوجی فرٹیلائزر، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت متعدد کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی، جب سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,934.74 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 164,831.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔