Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل:قومی اسمبلی میں  تاریخی قرارداد منظور

    پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل:قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد منظور

    قومی اسمبلی نے پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کرلی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران چینی وفد کی مہمانوں کی گیلری میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجاکر وفد کا استقبال کیا، اسپیکر کی جانب سے چینی وفد کو خوش آمدید کہا گیا خاتون اوّل آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے چینی وفد کا پر جوش استقبال کیا گیا، انہوں نے مہمانوں کی گیلری میں جاکر چینی وفد کے شرکاء سے مصافحہ کیا۔

    ایوان نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پاک چین تعلقات کے 75سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہے، ایوان چینی وفد کو خوش آمدید کہتا ہے اور سی پیک پر پاک چین کوششوں کو سراہتا ہے قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ دنیا اگلے 75 سال میں پاک چین دوستی کو مزید مضبوط دیکھے گی۔

    قرارداد میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی، اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،قرارداد میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاک چین تعلقات کو خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں ایوان نے ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ سے مکمل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    قومی اسمبلی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا اور اس کے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل قانون ساز حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیاقرارداد میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین مسٹر کائی دافنگ اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور یکجہتی کا مظہر ہے، ایوان نے پارلیمانی سفارت کاری اور قانون سازی کے میدان میں تعاون کو پاک چین تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا-

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ دونوں ممالک علاقائی امن، عالمی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں، پاکستان نے امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران مثبت اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے۔

    اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ وہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر 31 مارچ کو ایک روزہ دورے پر بیجنگ گئے، جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی مشاور ت کے بعد 5 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا، جسے دنیا کے درجنوں ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اقوام متحدہ، شنگھائی تعاو ن تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور عالمی امن کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زراعت، آئی ٹی اور سماجی و اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ اس کے ثمرات ہر پاکستانی شہری تک پہنچ سکیں، سی پیک کا تصور 2013 کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا، جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف، وہ خود اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف چین گئے اور توانائی بحران و لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے چینی قیادت سے تعاون طلب کیا۔

    انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے غیر معمولی تعاون فراہم کیا جس پر پاکستانی قوم ہمیشہ چین کی شکر گزار رہے گی،پارلیمانی سفارت کاری پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

  • پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل،اسلام آباد میں  ثقافتی تقریب کا انعقاد

    پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل،اسلام آباد میں ثقافتی تقریب کا انعقاد

    اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا گیا-

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین منفرد آئرن برادرز ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، چینی قیادت اور عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ دونوں ممالک کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ہم اپنی آنے والی نسلوں کو پاک چین دوستی کی مثالیں دیں گے اور یہ دوستی آنے والی دہائیوں میں مزید مضبوط ہوگی، وزیراعظم سی پیک کے دوسرے مرحلے کی تکمیل میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز ہےبہار کے موسم کی طرح پاک چین تعلقات ہمیشہ بہتر سے بہترین ہوتے گئے اور دوستی کی 75 سالہ تاریخ میں کبھی خزاں کا موسم نہیں آیا، وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کی شراکت داری خطے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • چین اور روس کے دومیان 20 معاہدوں پر دستخط

    چین اور روس کے دومیان 20 معاہدوں پر دستخط

    چین اور روس نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک نے تقریباً 40 معاہدوں پر اتفاق کیا ہے، جن میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے-

    چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک سہارا بنے رہیں گے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کو بلا تعطل تیل اور گیس فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے چین اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    تقریب سے قبل دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے آغاز میں مصافحہ کیا، دستاویزات کا تبادلہ کیا اور تصاویر بنوائیں، جس کے بعد دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔ سب سے پہلے جس دستاویز پر دستخط کیے گئےوہ “جامع اسٹریٹجک رابطہ کاری” سے متعلق مشترکہ اعلامیہ تھا،، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے اور ہمسایہ و دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا،اس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے تجارت، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

    روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق روس اور چین کے درمیان طے پانے والے تقریباً 40 معاہدوں میں سے 20 دستاویزات پر صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جبکہ مزید 20 معاہدوں کا الگ سے اعلان کیا جائے گا۔

    کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات میں توانائی کے منصوبے بھی زیر بحث آئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک “اہم معاہدہ” طے پایا ہے، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

    مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد پیوٹن اور شی جن پنگ کی ملاقات کو عالمی سطح پر خاص توجہ سے دیکھا جا رہا ہے اور دونوں دوروں کے انداز اور نتائج کا تقابل بھی کیا جا رہا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور اب یہ ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کا رویہ اختیار کیا، جس کے باعث دوطرفہ تعلقات ایک ’نئے آغاز‘ میں داخل ہو گئے ہیں، بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک ستون بنے رہیں گے اور ہر سطح پر رابطوں اور تبادلوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    شی جن پنگ نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار عالمی طاقتوں‘ کے طور پر بین الاقوامی انصاف کے تحفظ اور یکطرفہ دباؤ یا ’تاریخ کو الٹنے والے اقدامات‘ کے خلاف مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہےدونوں ممالک کے درمیان تجارت عالمی منڈی کے منفی رجحانات اور بیرونی دباؤ سے محفوظ ہے، جبکہ روس چین کو تیل اور گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھے گا۔

  • وفاق نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کر دیا

    وفاق نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کر دیا

    وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیا ہےجبکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کی تعطیلات 26 مئی سے 28 مئی تک ہوں گی، اس دوران ملک بھر میں سرکاری دفاتر اور ادارے بند رہیں گے۔

    دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر امن و امان، انسانی جانوں کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے پیش نظر صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے پابندی کے تحت عوامی مقامات پر سری پائے جلانے، غیر قانونی مویشی منڈیوں کے قیام، نہروں اور دریاؤں میں نہانے سمیت مختلف سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت چار اقسام کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی ہے اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر سری پائے جلانے، نہروں، دریاؤں، ندی نالوں اور ڈیموں میں نہانے، جانوروں کے فضلے اور اوجھڑی کو مین ہولز، نالیوں یا نہروں میں پھینکنے اور نوٹیفائیڈ مویشی منڈیوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی ہوگی۔

    محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی کا اطلاق بدھ 27 مئی سے منگل 2 جون تک رہے گا، سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت ان احکامات جاری کیے ہیں،یہ فیصلہ عوامی تحفظ، صحتِ عامہ، امن و سکون اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ مذکورہ سرگرمیاں نہ صرف شہریوں کے لیے خطرے کا باعث بنتی ہیں بلکہ عوام میں بے چینی بھی پیدا کرتی ہیں۔

    محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران کسی کالعدم تنظیم کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ ادارے ہی کھالیں وصول کر سکیں گے صوبہ بھر کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے جلد ختم ہونے کے بیان کو قرار دیا جا رہا ہے۔

    مارکیٹ کے آغاز میں ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،صبح ایک موقع پر انڈیکس 163,459.05 کی سطح پر تھا، جو 562.37 پوائنٹس یعنی 0.35 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

    مارکیٹ میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور پاور جنریشن سیکٹرز میں خریداری دیکھی گئی۔ بڑے انڈیکس شیئرز جیسے حبکو، ماری، پی پی ایل، ایف ایف سی اور ایفرٹ بھی مثبت زون میں ٹریڈ ہوتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط ریکوری دکھائی تھی، جب امریکہ اور ایران مذاکرات سے متعلق جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اس روز کے ایس ای-100 انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کے ساتھ 162,896.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • راولپنڈی:اڈیالا جیل میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز ہونے کا انکشاف

    راولپنڈی:اڈیالا جیل میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز ہونے کا انکشاف

    اڈیالا جیل میں ہیوی جیمرز کی موجودگی کے باوجود حوالاتی سے موبائل فون برآمد ہونے پر حساس قیدیوں کی نگرانی اور جیل سیکیورٹی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

    اڈیالا جیل راولپنڈی میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والی چیکنگ کے دوران ایک حوالاتی کے قبضے سے موبائل فون برآمد کیا گیاجیل میں موبائل فون کی موجودگی نے انتظامیہ کی کارکردگی اور سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالا جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سمیت متعدد ہائی پروفائل قیدی موجود ہیں، جبکہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان بھی اسی جیل میں قید ہیں ایسی صورتحال میں قیدیوں کے پاس موبائل فونز کی دستیابی کو سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں موبائل سگنلز روکنے کے لیے ہیوی جیمرز نصب ہیں، تاہم اس کے باوجود موبائل فون کا استعمال سامنے آنا انتظامی غفلت یا سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے مزید تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ موبائل فون جیل کے اندر کیسے پہنچا، اس حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں-

  • مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کے خواہاں نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق اس سے پورے خطے میں ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بہت زیادہ پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں ممالک فوجی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز سے گریز چاہتے ہیں واشنگٹن کو یقین ہے کہ تہران معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے’ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ایرانی بھی ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔

    وینس نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی، جس میں امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خلیجی خطے کے دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی کوشش ہے کہ دنیا میں جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی مقصد کے تحت ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ضروری سمجھا جا رہا ہے، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک پر امریکا کے ساتھ تعاون کرے جس کے ذریعے مستقبل میں تہران دوبارہ اپنی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بحال نہ کر سکے،ہم مذاکرات کے ذریعے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا غزہ فلوٹیلا پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا غزہ فلوٹیلا پر حملہ

    فلوٹیلا ٹریکر کے مطابق اسرائیلی فوج نے’’انڈروس‘‘ نامی کشتی کو غزہ سے 82 ناٹیکل میل دور روک لیا، جبکہ اب تک گلوبل صمود فلوٹیلا کی 61 کشتیوں کو مختلف کارروائیوں میں روکا جا چکا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس وقت بھی 9 امدادی کشتیاں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں دوسری جانب امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے بعد خطےمیں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے فلوٹیلا منتظمین اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے کم از کم دو کشتیوں پر فائرنگ کی لائیو اسٹر یمنگ میں اسرائیلی فورسز کو کشتیوں کی جانب فائر کرتے دیکھا گیا، تاہم استعمال ہونے والے گولہ بارود کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران لائیو گولیاں استعمال نہیں کی گئیں متعدد انتباہات کے باوجود کشتیوں نے پیش قدمی جاری رکھی جس پر انہیں روکنے کے لیے “غیر مہلک ذرائع” استعمال کیے گئے کارروائی کا مقصد کشتی کو خبردار کرنا تھا، مظاہرین یا کارکنوں کو نشانہ بنانا نہیں، واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں، تاہم فلوٹیلا منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے باعث مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اور کارکنان سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اسرائیل ماضی میں بھی کئی امدادی مشنز کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روک چکا ہے۔

  • امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری  جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 روز بعد امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے، 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا،پینسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چند ری پبلیکن ارکان نے اس کی حمایت کی۔

    اس پیشرفت کو ان قانون سازوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ چھیڑنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے، اگرچہ یہ صرف ابتدائی منظوری ہے، تاہم قرارداد کو مکمل قانون بننے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظوری درکار ہوگی جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے 2 تہائی اکثریت بھی ضروری ہوگی۔

    قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کانگریس کے سامنے رکھیں صدر کو ایران کی جانب سے امن تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں قانون سازوں سے شیئر نہیں کر رہے۔

    1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، کیونکہ امریکی آئین جنگ کا اختیار صرف کانگریس کو دیتا ہے۔

  • سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز میں وائٹ واش کردیا

    سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز میں وائٹ واش کردیا

    بنگلادیش نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 78 رنز سے شکست دے کر سیریز میں وائٹ واش کردیا۔

    سلہٹ میں کھیلے جارہے میچ کے پانچویں روز پاکستان نے 316 رنز 7 وکٹوں کے نقصان پر کھیل کا آغاز کیا تو اسے جیت کے لیے مزید 121 رنز درکار تھےمحمد رضوان کے 94 ساجد خان کے 28 رنز بھی ٹیم کو فتح نہ دلوا سکے،437 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری ٹیم 358 رنز پر آؤٹ ہوگئی اور اس طرح بنگلادیش نے قومی ٹیم کو 78 رنز سے شکست دی۔

    کپتان شان مسعود اور سلمان آغا 71، 71، بابر اعظم 47، اذان اویس 21، عبداللہ فضل اور سعود شکیل 6، 6 جبکہ حسن علی اور خرم شہزاد بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے،بنگلادیش کی جانب سے تیج الاسلام نے 6، ناہید رانا نے 2 جبکہ شورف الاسلام اور مہدی حسن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    بنگلا دیش ٹیسٹ ٹیم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا مہمان ٹیم پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں ڈھاکا کے مقام پر 104 رنز جبکہ دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں سلہٹ میں 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔