Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • امن مذاکرات:ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،مارکو روبیو

    امن مذاکرات:ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حل کے لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید خبریں آج سامنے آسکتی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس وقت چار روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں انہوں نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب جے شنکر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کہ میرے خیال میں امکان موجود ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر ملے گی، تاہم انہوں نے ممکنہ اعلان کی تفصیلات بیان نہیں کیں،امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد جنگی صورتحال کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا ہے ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے اور اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات پر کام جاری ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست ایران ہے، ایران عوام کی فلاح، سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت پر وسائل خرچ کرتا ہے، ایران بین الاقوامی آ بی گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور شہری جہازوں کو یرغمال بنا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت اور سمندری سلامتی کو خطرات لاحق ہیں،امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس حوالے سے جاری مذاکرات میں ایران کی رضامندی اور مکمل عملدرآمد ضروری ہوگا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگی صورتحال کا خاتمہ ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کئی اہم امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔

    برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا معاہدہ ضروری ہے جو تنازع کا خاتمہ کرے اور آبنائے ہرمز میں غیر مشروط اور آزاد بحری آمد و رفت یقینی بنائے انہوں نے زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر علاقائی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں کہا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے سفار ت کاری اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ترکی ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

    ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو ایک جامع فریم ورک معاہدے تک پہنچنا چاہیے جو جنگ بندی کو مضبوط بنائے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ یقینی کرے اور خطے کے تمام ممالک کے سکیورٹی مفادات کا تحفظ کرے۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو خطے میں امن اور سفارتی حل کے مشترکہ مقصد کے مزید قریب لے جانے والا اہم قدم ہے پاکستان خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور استحکام کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

    پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد اسلام آباد میں کی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف علاقائی ممالک سفارتی رابطوں میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • پاک و چین  کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

    پاک و چین کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جہاں پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، وہیں ان کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

    ہانگژو میں آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت کے موضوع پر منعقدہ ‘پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس’ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری دوستی بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں، وقت کی آزمائشوں اور علاقائی چیلنجز کے سامنے ہمیشہ پورا اتری ہے، مجھے اس بات پر خاصی مسرت ہے کہ ہمارے تاریخی حکومتی سطح کے (جی ٹو جی) تعلقات کو اب ایک متحرک اور پھیلتی ہوئی تجارتی و کاروباری (بی ٹو بی) شراکت داری سے مزید تقویت مل رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تجربات سے سیکھنے پر مبنی چین کا معاشی ماڈل پاکستان کے لیے بہترین سبق فراہم کرتا ہے و زیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے ایک پرعزم ایجنڈے پر گامزن ہے بیرونی چیلنجز کے باوجود گزشتہ 4 سالوں کے دوران معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے اور آج ملکی معیشت کا رخ مضبوطی سے اوپر کی طرف ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ پاکستان میں اصلاحات ہو رہی ہیں اور پاکستان ابھر رہا ہے، وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے روایتی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہوئے اب معاشی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا دیا ہے ، چین کے ساتھ ہمارا بڑھتا ہوا کاروباری (بی ٹو بی) رابطہ اس نئی سمت کی ایک بہترین اور واضح مثال ہے۔

    نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک ہم چین میں 2 اور پاکستان میں 2 بی ٹو بی کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں اور مخصوص شعبوں پر مرکوز یہ اس سلسلے کی پانچویں کانفرنس ہےمجموعی طور پر اب تک 300 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تقریباً 3 درجن مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کی کل مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

    نائب وزیر اعظم نے شرکا کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں ‘آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز’ کا افتتاح کیا ہے۔ بیجنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ آئی بی آئی کے چیئرمین کیان کی ملاقات کے بعد محض 8 ماہ سے بھی کم عرصے میں آئی بی آئی نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر کے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے،آئی بی آئی کے گزشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    اسحاق ڈار نے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کے لانگ مارچ ٹائرز کے درمیان کامیاب مشترکہ منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو 5 سال کے اندر اب پا کستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے والی ایک ارب ڈالر کی جائنٹ وینچر کمپنی بننے جا رہی ہے،کہا کہ تمام کامیابیاں وزیر اعظم کی رہنمائی میں پاکستان کے متعد د اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں، میں اس مشن میں حصہ ڈالنے والے ہر فرد اور ادارے کو سراہتا ہوں، میں بالخصوص سفیرِ پاکستان خلیل ہاشمی کی تعریف کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے ترجیحی شعبوں میں بی ٹو بی کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے،خوشی ہے کہ اس ہال میں دونوں اطراف سے 500 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں اور جن شعبوں کو اس کانفرنس کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی اور صنعتی جدید کاری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صوبہ ژجیانگ کے گورنر لیو جی، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین، صنعت و پیداوار کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سروس گروپ آف پاکستان کے سی ای او عمر سعید، لانگ مارچ ٹائر کے چیئرمین جن یونگ شینگ، آئی بی آئی گولیان گوفن کے صدر کیان شیاؤجون اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (ژجیانگ پروونشل کمیٹی) کے چیئرمین چن جیان ژانگ بھی موجود تھے۔

  • وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو  ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس کے باہر سیکرٹ سروس کے چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں 21 سالہ نوجوان کی شناخت منظر عام پر آ گئی ،حملہ آور کو نسائر بیسٹ کو حملہ آور کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے قبل یا دوران خود کو ’’حضرت عیسیٰ ‘‘ کا اوتار قرار دیا اور ذہنی طور پر غیر مستحکم سمجھا جا رہا تھاجبکہ وہ پہلے بھی وائٹ ہاؤس کے اطراف مشکوک سرگرمیوں اور غیر قانونی داخلے کی کوششوں کے باعث متعدد بار نشان دہی میں آ چکا تھا، جبکہ اسے پہلے بھی گرفتا ر کیا گیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال اسے دو مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے جیسے الزاما ت شامل تھے اس کے خلاف وائٹ ہاؤس کے قریب جانے پر عدالتی پابندی بھی عائد تھی، جس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی گئی واقعے کے دن سیکر ٹ سروس اہلکاروں نے اسے 17ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ کے قریب مشکوک حالت میں دیکھا، جہاں اس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک راہ گیر شدید زخمی ہوا۔

    جوابی کارروائی میں سیکرٹ سروس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو موقع پر ہی بے اثر کر دیا بعد ازاں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

  • روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلسنکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین، خصوصاً دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ہائپرسونک ’’اوریشنک ‘‘ بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں روس مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جنگ کو طول دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ممکنہ جارح ممالک کے لیے خطرنا ک مثال بھی قائم کر رہا ہے انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روکا جا سکے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں طلبہ کے ہاسٹل پر ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا تھا تاہم یوکرینی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    روس اس سے قبل بھی دو مرتبہ “اوریشنک” ہائپرسونک میزائل استعمال کر چکا ہے روسی صدر پیوٹن اس میزائل کو ناقابلِ روک قرار دے چکے ہیں، کیونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً دس گنا زیادہ بتائی جاتی ہے روس نے پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کی ایک فوجی فیکٹری کو نشانہ بنانے کے لیے ’’اوریشنک‘‘ میزائل داغا تھا اس وقت یوکرینی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل میں اصلی دھماکا خیز مواد کے بجائے ڈمی وار ہیڈز نصب تھے، جس کے باعث نقصان محدود رہا،جبکہ دوسرا حملہ جنوری 2026 میں مغربی یوکرین کے علاقے لیف میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے مغربی یوکرین میں ’’اوریشنک‘‘ میزائل کے استعمال کو ’’اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا تھا۔

  • ملک بھر میں فضائی آپریشن متاثر، 83 پروازیں منسوخ

    ملک بھر میں فضائی آپریشن متاثر، 83 پروازیں منسوخ

    پاکستان بھر میں فضائی آپریشن متاثر رہا جس کے باعث اندرون اور بیرون ملک مجموعی طور پر 83 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ صرف 430 پروازیں آپریٹ ہو سکیں۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی، اسلام آباد اور لاہور سمیت بڑے شہروں سے سینکڑوں پروازیں آپریٹ کی گئیں تاہم فلا ئٹ شیڈول میں انتظامی اور آپریشنل وجوہات کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں متاثر ہوئیں کراچی سے 20، لاہور سے 15، اسلام آباد سے 19 اور ملتان سے 11 پروازیں منسوخ کی گئیں،اسی طرح کوئٹہ، فیصل آباد، پشاور، سکھر اور گلگت کی متعدد پروازیں بھی منسوخ یا ری شیڈول ہوئیں۔

    جبکہ ملتان سے 23، پشاور سے 16، سیالکوٹ سے 20، فیصل آباد سے 4 اور کوئٹہ سے 10 پروازیں آپریٹ کی گئیں، تاہم مجموعی طور پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری نہ رہ سکا علاوہ ازیں بعض روٹس پر لوڈ میں کمی کے باعث جدہ کی 20 سے زائد پروازیں بھی منسوخ کی گئیں ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی نگرانی جاری ہے اور شیڈول کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔

    ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھاماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہےتاہم یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

  • بہاولپور: کھیتوں میں بکریاں جانے پر ملزمان کا خاتون پر تشدد،  گھر نذرِ آتش کردیا

    بہاولپور: کھیتوں میں بکریاں جانے پر ملزمان کا خاتون پر تشدد، گھر نذرِ آتش کردیا

    بہاولپور کے علاقے یزمان میں کھیتوں میں بکریاں داخل ہونے کے تنازع پر مبینہ طور پر ملزمان نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے گھر کو آگ لگا دی۔

    پولیس کے مطابق بہاولپور کے نواحی علاقے یزمان میں کھیتوں میں بکریاں جانے کے تنازع پر مبینہ طور پر خاتون کے گھر کو آگ لگا دی گئی آگ نے مزید دو گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے پہلے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اس کے گھر کو آگ لگا دی آگ تیزی سے پھیلی اور قریبی دو مکانات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا متاثرہ گھروں میں موجود نقدی، زیورات اور دیگر سا ما ن جل کر خاکستر ہوگیا متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان جاتے ہوئے 30 بکریاں بھی ساتھ لے گئے۔

    متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • ملک کے  مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں آج شدید گرمی اور موسم خشک رہنے کا امکان ہے جبکہ کشمیر، گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا –

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور کے چند علاقوں میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے، جس سے موسم میں قدرے بہتری آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہےمحکمہ موسمیات نے شہریوں کو موسم کی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    آئندہ ہفتے کے دوران پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع میں موسم مزید گرم ہونے کا امکان ہے، جبکہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث شہریوں کو احتیا طی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے دوسری جانب خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے محکمہ موسمیات کے مطابق دیر، سوات، چترال اور بنوں کے مختلف علاقوں میں بارش ہونے کا امکان ہے، جس سے گرمی کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔

  • ثاقب چدھڑ نے  کروڑوں روپے کے انتہائی قیمتی تحائف مومنہ اقبال کو دیئے،ارشاد بھٹی کا بڑا دعوٰی

    ثاقب چدھڑ نے کروڑوں روپے کے انتہائی قیمتی تحائف مومنہ اقبال کو دیئے،ارشاد بھٹی کا بڑا دعوٰی

    معروف صحافی ارشاد بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کو دیے گئےکروڑوں کی مالیت کے تحائف اور سفری اخراجات کی قانونی طور پر واپسی چاہتے ہیں۔

    ارشاد بھٹی نے ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سابق ایم پی اے نے شادی کی نیت سے مومنہ اقبال کو انتہائی قیمتی تحائف دیئے تھےان تحائف میں ایک فارچیونر گاڑی، ایک ہونڈا سوک اور 84 لاکھ روپے مالیت کی ایک قیمتی گھڑی سمیت دیگر لگژری اشیاء شامل ہیں ارشاد بھٹی کے مطابق فارچیونر گاڑی آج کل مومنہ کی والدہ کے زیر استعمال ہے اس کے علاوہ شمار ٹریولنگ اور سفری اخراجات کی ایک لمبی فہرست ہے۔

    ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چڈھر کے وکیل میاں علی اشفاق نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان تقریباً پانچ سال تک تعلقا ت رہے اور بات شادی تک پہنچ گئی تھی ثاقب چدھڑ اداکارہ کے گھر رشتہ لے کر بھی گئے تھے اور دونوں خاندان اس رشتے پر رضامند بھی تھے تاہم بعد ازاں ثاقب چدھڑ کو معلوم ہوا کہ مومنہ اقبال کی پہلے بھی دو شادیاں ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک سے طلاق پہلے ہو چکی تھی جبکہ دوسری شادی کا خاتمہ بھی اسی دوران ہوا جب دونوں کے درمیان تعلقات موجود تھے۔

    ارشاد بھٹی کے مطابق وکیل کا کہنا ہے کہ انکشافات سامنے آنے کے بعد دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم بعد میں معاملات دوبارہ بہتر ہو گئے اور شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی تھیں لیکن صورتحال اس وقت دوبارہ خراب ہوئی جب ثاقب چدھڑ کو مبینہ طور پر مومنہ اقبال کی کسی اور جگہ شاد ی طے ہونے کا علم ہوا۔

    ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے وکیل کے مطابق جب انہوں نے مومنہ اقبال سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو بعد ازاں مومنہ کے ہونے والے شوہر کی جانب سے انہیں مبینہ دھمکیاں دی گئیں، جن کے خلاف ثاقب چدھڑ نے باقاعدہ مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے جس کا دونوں فریقین اعتراف کر چکے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال یکم جون 2026 کو شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں، ان کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام تنازعات اور خبروں کے باوجود مومنہ کی شادی اپنی مقررہ تاریخ پر ہی ہوگی اوردھوم دھام سے ہوگی۔

    ابتدائی طور پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ مومنہ اقبال کی جانب سے شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد ایم پی اے ثاقب چدھڑ مبینہ طور پر انہیں ہراساں کر رہے ہیں، تاہم ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چدھڑ کے وکیل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ثاقب چدھڑ مومنہ اقبال کو ہراساں نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنے دیئے گئے تحائف واپس مانگ رہے ہیں مومنہ اگر کسی اور سے شادی کر رہی ہیں تو انہیں اس پر کو ئی اعتراض نہیں، اب وہ ان تمام اخراجات اور تحائف کی باقاعدہ واپسی کے لیے درخواست دینے جا رہے ہیں۔

  • ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری  پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے دو امریکی حکام کے جاری مغربی ایشیائی تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے وسیع تر امن معاہدے کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

    اس پیش رفت کو مذاکرات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

    یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

    مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔