Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان کا فتح راکٹ سسٹم : بنیان مرصوص میں دشمن کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے کا واضح پیغام

    پاکستان کا فتح راکٹ سسٹم : بنیان مرصوص میں دشمن کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے کا واضح پیغام

    فتح راکٹ سسٹم نے نہ صرف دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کیا بلکہ ایک کے بعد ایک کاری ضرب لگا کر بھارتی افواج کی صفوں میں ہلچل مچا دی اوردشمن کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے واضح پیغام کے طور پر دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا یاہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی افواج نے حالیہ معرکہ بُنیان مَّرْصُوْص میں دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر دفاع وطن کی نئی تاریخ رقم کر دی اس بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی میں پاک فضائیہ نے دشمن کے 6 جدید لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں بھارت کے 3 جدید رافیل طیارے بھی شامل تھےیہ کارروائی نہ صرف دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب تھی بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ بھی تھی۔

    پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ جدید ہتھیار’’فتح راکٹ سسٹم‘‘نےاہم کردار ادا کیا دفاعی ماہرین کیمطابق فتح راکٹ سسٹم کی کامیاب شمولیت نے معرکہ بُنیان مرصوص میں فیصلہ کن برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    مسئلہ کشمیرجنوبی ایشیاکے عوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے،رضوان سعید شیخ

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق فتح راکٹ سسٹم گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم ہے، جو جدید پاکستانی ٹیکنالوجی سے لیس ہے یہ سسٹم 140 سے 700 کلومیٹر تک دوری پر دشمن کے مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اس جدید نظام میں موجود فتح ون سسٹم بیک وقت 8 راکٹس فائر کر کے 8 مختلف اہداف کو ہدف بنا سکتا ہے، جو اس کی رفتار اور ہدف پر ارتکاز کی غیر معمولی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    فتح ٹو سسٹم میں جدید ترین ایویونکس، نیویگیشن سسٹمز اور ایک خاص پرواز کی رفتار و ٹریجکٹری شامل ہے، جو اسے دفاعی لحاظ سے مزید موثر بناتے ہیں، اسی طرح فتح تھری کی مار 450 کلومیٹر جب کہ فتح فور کی رینج 700 کلومیٹر تک ہے، جو کہ خطے میں پاکستان کو ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر دفاعی حیثیت فراہم کرتی ہے۔

    ماہرین فلکیات نے نیا بونا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فتح راکٹ سسٹم جیسے جدید اور مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیار پاکستان کے دفاع کے ناقابل تسخیر ہونے کی علامت ہیں، معرکہ بنیان مرصوص نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب نہ صرف پوری قوت بلکہ جدید ترین صلاحیتوں سے دینے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔

  • مسئلہ کشمیرجنوبی ایشیاکے عوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے،رضوان سعید شیخ

    مسئلہ کشمیرجنوبی ایشیاکے عوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے،رضوان سعید شیخ

    واشنگٹن: امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر ابھرکر دنیا کےسامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی:پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا کے اہم سفارتی دورے پرہے، جس کا مقصد جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر امریکی قیادت کو آگاہ کرنا، مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کرنا اور خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کے موقف کو مضبوطی سے پیش کرنا ہے۔

    امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وفد کی امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے اہم ارکان کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں متوقع ہیں، جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں گی بلکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کریں گی۔

    ماہرین فلکیات نے نیا بونا سیارہ دریافت کر لیا

    امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیرجنوبی ایشیاکے عوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے پاک بھارت حالیہ کشیدگی کےبعد مسئلہ کشمیر ابھرکردنیا کے سامنے آیا ہے اور دنیا کی توجہ کئی دہائیوں سے حل طلب مسئلے کی جانب مبذول ہوئی اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد کی امریکی انتطامیہ، پالیسی سازوں اور دیگر حلقوں سے ملاقاتوں میں اس معاملے کو مزید اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔

    پاکستانی سفیر نے بھارت کے موجودہ طرز عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت داخلی و خارجی پالیسیوں میں ہندوتوا کے انتہا پسند اور دہشت گردانہ نظریے پر عمل پیرا ہے بھارت کی سیاسی قیادت مسلسل توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ عزائم کا کھلم کھلا اظہار کر رہی ہے۔

    پاک بنگلادیش ٹی 20 سیریز ٹرافی کی رونمائی ، آج سے آغاز

    رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارتی قیادت کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور بیانات کا مقصد اندرونی سیاسی ناکامیوں اور انتظامی بحرانوں سے توجہ ہٹانا ہے جوہری صلاحیت کےحامل اس حساس خطےمیں بلا جواز طبل جنگ بجانا کسی طور بھی ایک ذمہ دارانہ اقدام نہیں ہو سکتا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا داعی ہے لیکن اپنی خودمختاری، سلامتی اور کشمیری عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستانی وفد کا یہ دورہ عالمی سطح پر پاکستان کی مؤثر سفارتکاری اور مسئلہ کشمیر کے لیے جاری کوششوں کا تسلسل ہے، جس سے سفارتی محاذ پر مثبت نتائج کی امید کی جا رہی ہے۔

    یومِ تکبیر پر مسلح افواج اور سروسز چیفس کی قوم کو مبارکباد

  • ماہرین فلکیات نے  نیا بونا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نیا بونا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نظام شمسی کی بیرونی سرحدوں میں ایک ممکنہ نیا بونا سیارہ دریافت کیا ہے-

    ماہرین فلکیات کے مطابق نیا بونا سیارہ پلوٹو (Pluto) سے بھی کہیں زیادہ دور واقع ہے اس سیارے کو (2017 OF201) کا نام دیا گیا ہے جس کا قطر تقریباً 700 کلومیٹر (435 میل) ہے، جو اسے بونا سیارے (dwarf planet) کے زمرے میں لانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق یہ غیر معمولی سیارہ نما شے ایک انتہائی طویل اور بیضوی مدار میں گردش کرتی ہے، جسے مکمل کرنے میں تقریباً 25,000 سال لگتے ہیں اس کا قریب ترین فاصلہ سورج سے زمین کے مقابلے میں 44.5 گنا ہے، جبکہ دور ترین فاصلہ 1600 گنا سے بھی زائد ہے۔

    یہ دریافت پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات سیہاو چینگ، جیاسوان لی اور ایریٹس یانگ نے جدید کمپیوٹیشنل طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے کی، جنہوں نےآسمان میں اس خلائی شے کی مخصوص حرکت کو شناخت کیااس نئی دریافت کاباقاعدہ اعلان انٹرنیشنل آسٹرونو میکل یونین کے مائنر پلینٹ سینٹر نے 21 مئی 2025 کو کیا، اور اسی دن اس کا سائنسی خلاصہ arXiv پر بھی شائع کیا گیا۔

    ماہرین فلکیات سیہاو چینگ کے مطابق سورج سے مدار کا دور ترین نقطہ (aphelion) زمین کے مقابلے میں 1600 گنا زیادہ ہے، جبکہ پیری ہیلیون یعنی (سورج کے قریب ترین نقطہ) 44.5 گنا ہے جو پلوٹو کے مدار سے مشابہت رکھتا ہے۔

    ماہر فلکیات ایریٹس یانگ نے کہا کہ مدار کی یہ انتہا پسندی اس امکان کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس شے کو ماضی میں کسی دیوقامت سیارے سے قریبی تصادم کا سامنا ہوا ہوگا، جس کے نتیجے میں یہ اتنی دور کی سمت میں پہنچ گیا،یہ ایسا لگتا ہے کہ اس خلائی جسم نے ایک یا ایک سے زائد مرحلوں میں مائیگریشن کی، یعنی ممکنہ طور پر پہلے اسے نظام شمسی کے سب سے دور علاقے اوورٹ کلاؤڈ کی جانب پھینکا گیا اور پھر واپس بھیجا گیا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے دورے پر تہران میں موجود ہیں، انہوں نے ایرانی جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹا ف میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاک ایران عسکری قیادت کی خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات میں سرحدی سلامتی، دفاعی تعاون اور اقتصادی روابط پر بھی بات چیت ہوئی پاک ایران دفاعی تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور اس دوران دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا جب کہ پاک ایران بارڈر کو معاشی خوشحالی کے زون میں تبدیل کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے اتفاق رائے پایا گیا کہ ان اقدامات سے علاقائی استحکام اور خوشحالی میں مدد ملے گی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹرز تہران آمد پر ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا، ایرانی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

    اس سے قبل آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے ہمراہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنائی اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے بھی ملاقاتیں کیں، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم کے وفد کے ہمراہ تینوں دوست ممالک ترکی، ایران اور آذربائیجان کے سرکاری دورے پر ہیں۔

  • چین کی فیکٹری میں ہولناک دھماکا، قریبی عمارتوں کی کھڑ کیاں ٹوٹ گئیں

    چین کی فیکٹری میں ہولناک دھماکا، قریبی عمارتوں کی کھڑ کیاں ٹوٹ گئیں

    چین کے مشرقی صوبے شین ڈونگ کے شہر گاومی میں منگل کے روز ایک کیمیکل پلانٹ میں زوردار دھماکہ ہوا-

    سرکاری ٹی وی چینل سی سی ٹی وی کیمطابق چین کے مشرقی صوبے شین ڈونگ کے شہر گاؤمی میں منگل کے روز ایک کیمیکل پلانٹ میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں آسمان کی طرف دھوئیں کا سرمئی اور نارنجی رنگ کا بادل اٹھا، اور قریبی عمارتوں کی کھڑ کیاں ٹوٹ گئیں یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر سے کچھ دیر قبل شین ڈونگ یوڈاؤ کیمیکل کے ورکشاپ میں ہوا، ریسکیو اور طبی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاحال دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع دی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد دھواں بلند ہو رہا ہے اور اطراف کی صنعتی عمارتیں اس میں چھپ گئی ہیں، قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو سروسز کے232 اہلکار اور 55 گاڑیاں جائےحادثہ پر روانہ کی گئیں، جب کہ ایمرجنسی مینجمنٹ کی وزارت نے بھی ایک ورکنگ گروپ اور اضافی امدادی ٹیمیں روانہ کی ہیں۔

    شین ڈونگ یوڈاؤ کیمیکل، ہائمیل گروپ کی ملکیت ہے، جو کہ ایک معروف صنعتی کمپنی ہے۔ دھماکے کی خبر کے بعد ہائمیل مکینیکل کے حصص میں تقریباً 4 فیصد کمی دیکھی گئی، کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ ادارہ 2019 میں قائم ہوا، اور 46 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے، جہاں 300 سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔ یہ ادارہ زرعی ادویات، فارماسیوٹیکلز اور کیمیکل انٹرمیڈیٹس تیار کرتا ہے۔

  • سوئفٹ ایئر کا مال بردار طیارہ لینڈنگ کے دور ان حادثے کا شکار

    سوئفٹ ایئر کا مال بردار طیارہ لینڈنگ کے دور ان حادثے کا شکار

    سوئفٹ ایئر کا مال بردار طیارہ لینڈنگ کے دور ان حادثے کا شکارہو گیا –

    فرانسیسی تفتیش کاروں نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ ایک سوئفٹ ایئر بوئنگ 737 مال بردار طیارہ آندھی میں مونٹپیلیئر پراترا اور اس کا ا گلا حصہ جزوی طور پر پانی میں ڈوب گیا، ہوائی جہاز، بھاری بارش میں رات کو رن وے 12L تک VOR-DME اپروچ کرتے ہوئے، دہلیز سے 1,500 میٹر (2,600 میٹر رن وے سے آدھے سے زیادہ)نیچے چھو گیا –

    فرانسیسی تحقیقاتی اتھارٹی BEA کا کہنا ہے کہ طیارے کو آندھی کا سامنا کرنا پڑا جب یہ 200 فٹ سے 100 فٹ کی بلندی پر اترا 4s کی جگہ پر ہوا 350° سے 70° پر منتقل ہو گئی اور 30kt سے 8kt تک گر گئی، جس سے کافی ٹیل ونڈ کی جگہ ہلکے ہیڈ وِنڈ جزو نے لے لی ہوا کی تبدیلی نے ہوا کی رفتار اور لفٹ میں اضافہ کیا، لیکن عملے کے ذریعہ پرواز کے پیرامیٹرز پر نتائج کا "پتہ نہیں لگایا گیا،ہوائی جہاز صرف 1,100 میٹر رن وے کے ساتھ نیچے آیا۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس:سی ای او کے الیکٹرک اور کمیٹی ممبران میں تلخ کلامی

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت ختم

    پاک افواج کے سابق افسران اور ویٹرنز کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین

  • قائمہ کمیٹی اجلاس:سی ای او کے الیکٹرک اور کمیٹی ممبران میں تلخ کلامی

    قائمہ کمیٹی اجلاس:سی ای او کے الیکٹرک اور کمیٹی ممبران میں تلخ کلامی

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا منگل کو ہونے والے اجلاس کا ماحول کشیدگی اختیار کر گیا۔

    اجلاس میں نیپرا کے نمائندوں کی غیر حاضری پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ نیپرا کے لوگ کمیٹی میں کیوں نہیں آئے؟ جس پر سی ای او کے الیکٹرک نے جواب دیا کہ نیپرا کے لوگ شاید کابینہ اجلاس میں گئے ہیں۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے، آپ کی نیپرا سے بہت قربت ہے جس پر سی ای او کے الیکٹرک نے اعتراف کیا کہ ’جی بالکل، ہمارا چولی دامن کا ساتھ ہے، چیئرمین کمیٹی نے سخت انداز میں کہا کہ آپ کا تعلق عوام کے ساتھ نہیں ہے، شاباش ہے آپ پر، ہماری سفارشات کو اہمیت نہیں دی جارہی، اور یہ بھی اعلان کیا کہ سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ہر حد تک جائیں گےہم یہاں عوام اور اسمبلی کے نمائندے ہیں۔

    اجلاس میں اس وقت ماحول مزید کشیدہ ہوگیا جب سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی اور رکن قومی اسمبلی سید رضا علی گیلانی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی سید رضا علی گیلانی نے مونس علوی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ انسان کمیٹی میں ہے، میں یہاں نہیں بیٹھوں گا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سب سے پہلے آپ اپنے مقدمات واپس لیں، جواب میں سی ای او کے الیکٹرک نے دوٹوک کہا کہ ہم اپنے مقدمات واپس نہیں لے سکتے،سید رضا علی گیلانی نے کہا کہ آج آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟‘ جس پر مونس علوی نے کہا کہ آئی ایم سوری، لیکن یہ درست نہیں ہے‘۔

    رضا علی گیلانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا مطلب کہ یہ درست نہیں؟ خود کو سب سے بلند سمجھتے ہیں، ممبر کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے کہاکہ یہ بندہ برملا کہتا ہے کہ آپ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، یہ بندہ اکثر ایسا ہی رویہ رکھتا ہے ممبر مبین عارف نے کہا، ہمیں اپنی تحریک استحقاق کا اختیار استعمال کرنا ہوگا، سید رضا علی گیلانی نے مطالبہ کیا کہ سب سے پہلے ان کے رویے پر فیصلہ کریں۔

    بعد ازاں مونس علوی نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بات بری لگی ہے تو میں معذرت کرتا ہوں، رضا علی گیلانی نے جواب دیا، ’آپ ایک ممبر قومی اسمبلی سے ایسے بات نہیں کر سکتے۔

    اجلاس کے بعد صحافی نے مونس علوی سے پوچھا کہ اجلاس میں جھگڑے کی کیا وجہ بنی؟ جس پر مونس علوی نے جواب دیا کہ میں نے کہا کہ باقی لوگوں کو زوم پر بلایا، مجھے کراچی سے بلایا،یا انہیں بھی بلالیتے یا مجھے بھی زوم پر بلا لیتےمیں نے کوئی کیس واپس لینے کا وعدہ نہیں کیا تھا انہوں نے کمیٹی بنائی ہے، اس کی میٹنگز ہو رہی ہیں، وہ ان کو رپورٹ کرے گی میں کچھ نہیں کہہ سکتا، یہ پارلیمنٹ ہے، وہ سنیں گے تو پھر ناراض ہو جائیں گے۔

  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت ختم

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت ختم

    بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے رہنما اظہرالاسلام کو انسانیت کے خلاف جرم سے بری کردیا۔

    ذرائع کے مطابق بنگلادیشی سپریم کورٹ کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما اظہرالاسلام کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا جماعت اسلامی بنگلادیش کے رہنما اظہرالاسلام کو 3 ساتھیوں سمیت 2012 میں انسانیت کے خلاف جرم کے الزام میں پابند سلاسل کیا گیا تھا۔

    سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے دور حکومت میں ان کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے تحت ان کے دو ساتھیوں کو سزائے موت دے دی گئی جبکہ اظہرالاسلام کی سزا پر عمل درآمد ہونا تھا،تاہم سپریم کورٹ نے اظہرالاسلام کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔

    پاک افواج کے سابق افسران اور ویٹرنز کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین

    فیصلہ سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان نے اسے انصاف کی فتح قرار دیا کہا کہ ہم بدلہ نہیں بلکہ انصاف چاہتے تھے، یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا۔

    پی اے ایف کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنیکا بھارتی دعویٰ بے نقاب

  • پاک افواج کے سابق افسران اور ویٹرنز  کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین

    پاک افواج کے سابق افسران اور ویٹرنز کا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین

    پاک افواج کے سابق افسران، جنگی ہیروز اور ویٹرنز نے راولپنڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت، عسکری حکمت عملی اور پاکستان کی شاندار فتح کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

    پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے وار ویٹرنز نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ تین دہائیوں سے جاری خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ملک کو تنہائی سے نکالا ان کی ملٹری ڈپلومیسی اور اعلیٰ حکمت عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر قابلِ اعتماد ملک کے طور پر پیش کیا۔

    سائبر اسپیس، نیٹ ورک سینٹرک اور اسپیکٹرم وار فیئر میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی ویٹرنز نے کہا کہ یہ جنگ صرف فوج نے نہیں بلکہ پوری قوم نے مل کر جیتی ہے چین، ترکیہ، سعودی عرب اور آذربائیجان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا۔

    پریس کانفرنس میں وائس ایڈمرل (ر) احمد تسنیم نے کہا کہ ہمارے دل، خون اور خوابوں میں پاکستان بستا ہے۔ انہوں نےکہا کہ بھارت نے 1971 کی طرز پر کراچی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پاک بحریہ کی بروقت تعیناتی نے دشمن کی سازش ناکام بنا دی جو جذبہ 1965 میں دیکھا، وہی اس معرکہ حق میں نظر آیا۔آج کی جنگ ہم نے دماغ سے لڑی ہے۔ دشمن کے ریڈار اور ہتھیار کو جیم کرنا ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔

    ایئر وائس مارشل (ر) فہیم نے ایئر فورس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے میڈیا نے بھارتی بیانیہ کو ناکام بنایا۔ ایئر فورس نے عالمی سطح پر حیرت انگیز کارکردگی دکھائی،یہ ایک الیکٹرانک وار فیئر تھی یہ نہ نظر آنے والی جنگ تھی جو پاکستان نے جیتی۔ بھارت اب کم سے کم دس سال دوبارہ جنگ کی ہمت نہیں کرے گا۔

  • پی اے ایف کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنیکا  بھارتی دعویٰ بے نقاب

    پی اے ایف کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنیکا بھارتی دعویٰ بے نقاب

    بھارت کے انسٹی ٹیوٹ فار کونفلکٹ مینجمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اجے ساہنی نے بھارتی دعوؤں کی تردید کردی۔

    بھارتی صحافی سے گفتگو میں اجے ساہنی نے کہا کہ پاکستان ائیر فورس کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنے کا بھارتی میڈیا کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ نقصان 20 فیصد سے بہت کم ہے بھارتی حکومت میں عسکری معاملات میں سمجھنے والا کوئی بھی نہیں، بھارتی حکومت ہر کام کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کرتی ہے اور موجودہ صورت حال میں بھارت واضح طور پر ہار رہا ہے۔

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد اب تک بھارتی عوام کے سوالات کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ مودی کی جانب سے ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

    بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ پہلگام سری نگر سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سری نگر سے پہلگام کے راستے میں 11 سکیورٹی چوکیاں قائم ہیں، سوال یہ ہے کہ حملہ آور اس قدر سیکیورٹی کو عبور کرکے کیسے پہلگام پہنچ گئے؟ ہر آنے جانے والے شخص کو مکمل طور پر چیک کیا جاتا ہے، بسوں کو بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سختی سے چیک کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود حملہ آور اس علاقے میں داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوگئے، حملہ آوروں نے کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا اور حملہ کیا۔

    شہری کا کہنا تھا کہ اگر حملہ آور واقعی بیرونی تھے تو بی ایس ایف کی اتنی چوکیاں عبور کیسے کیں؟ مودی کی جانب سے بغیر کسی تحقیقات کے فوراً پاکستان پر الزامات عائد کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ پاکستان اور چین دونوں نے اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن بھارتی حکومت نے فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا،بھارت کے پاس حملے سے متعلق کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے، ثبوت تب ہوتا کہ بی ایس ایف والے اگر کسی کو پکڑ لیتے، ہر بار جو بھی حملہ آور آتے ہیں وہ فوجی وردی میں ہی کیوں آتے ہیں؟