Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • جہاز نے عازم حج  کے بنا اڑنے سے انکار کردیا، پائلٹ بے بس

    جہاز نے عازم حج کے بنا اڑنے سے انکار کردیا، پائلٹ بے بس

    لیبیا کے عازم حج پر جانے کیلئے ایئرپورٹ پہنچے لیکن پاسپورٹ میں مسئلہ آیا اور انہیں روک لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق جہاز نے 2 بار اڑان بھری لیکن فنی خرابی کے باعث اسے واپس لوٹنا پڑا لیبیا کے عامرالمھدی منصور القذافی کی حیران کن داستان نے سب کو حیران کر دیا حج کی سعادت حاصل کرنے والے لیبیا کے عازم عامرالمھدی ائیرپورٹ پہنچے تو انہیں کلیئرنس نہ ملی۔

    لیبیا ائیر پورٹ پر عامر کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب امیگریشن حکام نے ان کی کنیت ’قذافی ‘ کے سبب انہیں سکیورٹی مسائل کی بنا پر جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا،یہ کارروائی اتنی طویل ہوگئی کہ عامر کی نظروں کے سامنے ان کے گروپ کے تمام ارکان فلائٹ میں سوار ہوگئے لیکن عامر قذافی کاؤنٹر پر سفری کارروائیاں مکمل ہونے کا انتظار کرتے رہے حتیٰ کہ جہاز کے روانہ ہونے کا وقت آن پہنچا اور جہاز کے دروازے بند ہوگئے۔

    جب عامر کی سکیورٹی کارروائی مکمل ہوئی تب تک جہاز کے دروازے بند ہوچکے تھے جس کے بعد طیارے کے پائلٹ نے دروازے دوبارہ کھولنے سے انکار کر دیا اور یوں یہ طیارہ عامر قذافی کے بغیر روانہ ہو گیا طیارے کے جانے کے باوجود عامر قذافی کو اللہ پر یقین تھا اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ائیرپورٹ سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک کہ انشااللہ حج کی طرف روانہ نہ ہوجاؤں،اور پھر وہ معجزہ ہوا جس نے سب کو حیران کردیا –

    جہاز نے اڑان بھرلی جس کے بعد اچانک طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی اور اسے واپس لوٹنا پڑا پائلٹ نے عامر کو بٹھانے سے انکار بھی کر دیا تھا مگر مردِ مومن نہ تو مایوس ہوا نہ ہی گھر لوٹا، مرمت کے بعد طیارے کے پائلٹ سے عملے نے درخواست کی کہ ایک مسافر رہ گیا ہے، اسے سوار کردیں؟ لیکن پائلٹ نے اب بھی انکار کردیاعازم کا کہنا تھا کہ یہ جہاز میرے بغیر نہیں جائے گا، یہ پھر لوٹے گا جہاز نے پھر اُڑان بھری لیکن دوبارہ مسئلہ آگیا،طیارے کو واپس اتار لیا گیا۔

    بعد ازاں پائلٹ نے اس بار ہار مانتے ہوئے کہا کہ جب تک عامر نہیں جائے گا فلائٹ نہیں جائے گی،اس کے بعد حکام کی جانب سے جلد از جلد عامر کو سفر کے لیے کلیئر کیا گیا عامر المہدی بالاخر طیارے میں سوار ہوئے اور پھر طیارہ تیسری کوشش پر عامر کے ساتھ بغیر کسی فنی خرابی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگیا بغیر کسی فنی خرابی کے جہاز سعودی عرب میں لینڈ کرگیا ویڈیو میں عامرالمھدی لباسِ احرام پہنے نظر آئے اور کہا کہ الحمد للہ! میں بیت اللہ پہنچ چکا ہوں۔

  • پنجاب: یوم تکبیر پر اسکول کھلے رکھنے کا اعلان

    پنجاب: یوم تکبیر پر اسکول کھلے رکھنے کا اعلان

    پنجاب حکومت نے کل بروز بدھ یوم تکبیر پر اسکول کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    ترجمان وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ 28 مئی یوم تکبیر کی مناسبت سے اسکولوں میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، 29 مئی سے اسکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا آغاز ہوگا، پنجاب کے اسکول کھلے رکھنے کا محکمہ اسکولز ایجوکیشن نے تمام ضلعی ایجوکیشن اتھارٹیزکو مراسلہ بھیج دیا ہے، مارننگ اسمبلی میں اسپیشل پروگرامز، پاک افواج کوخراج تحسین پیش کیا جائے گا تمام مقابلے تمام سرکاری اسکولز میں ضلعی سطح پر ہوں گے، ضلعی سطح پر مقابلے جیتنے والوں کو 50 ہزار انعام دیا جائے گا۔

    پی آئی اے نجکاری، درخواستوں کی تاریخ میں 2 ہفتے کی توسیع

    عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    پاک بنگلادیش ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان

  • پی آئی اے نجکاری، درخواستوں کی تاریخ میں 2 ہفتے کی توسیع

    پی آئی اے نجکاری، درخواستوں کی تاریخ میں 2 ہفتے کی توسیع

    نجکاری کمیشن نے قومی ایئر لائن کی خریداری کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کروانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی۔

    نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق قومی ایئر لائن کی خریداری کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کروانے کی آخری تاریخ 19جون تک بڑھا دی گئی،آخری تاریخ سرکاری طور پر 15 دن کے لیے بڑھائی گئی ہے جو کہ پہلے 3 جون تھی، قومی ایئر لائن کی خریداری کے لیے دیگر تمام شرائط جوں کی توں رہیں گی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ عید کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق پاک بھارت کشیدگی اور عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے باعث سرمایہ کاروں کو اضافی وقت دیا گیانجکاری کے تحت پی آئی اے کے اکاون سے سو فیصد تک شیئرز فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے،اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن بھی 19جون تک جمع کرائی جا سکے گی۔

  • عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    عدلیہ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ انصاف کریں، علی امین گنڈاپور

    اسلام آباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔

    وفاقی دارالحکومت میں ہائیکورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ کو اس منصب پر بٹھایا اس لیے ہے کہ آپ انصاف کریں،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہم تھے اور رہیں گے، ہم عدلیہ کو کہتے ہیں کہ آپ انصاف پر فیصلے دیں، آج ہمیں 5 تاریخ کے لیے پیشی ملی ہے، کس طرح سے یہ لوگ پاکستان کے آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، عمران خان کے ساتھ ہم تھے ہیں اور رہیں گے۔

  • پاک بنگلادیش ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان

    پاک بنگلادیش ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان

    پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق آئی سی سی ایلیٹ میچ ریفریز پینل کے ممبر سری لنکا کے رنجن مدوگالے ہوں گےپہلے ٹی ٹوئنٹی کے لیے آصف یعقوب اور راشد ریاض وقار آن فیلڈ امپائر ہوں گے احسن رضا تھرڈ امپائر ہوں گے فیصل خان آفریدی فورتھ امپائر کے فرائض انجام دیں گے۔

    دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں راشد ریاض اور وقار فیصل خان آفریدی آن فیلڈ امپائرز ہوں گے، جبکہ احسن رضا تھرڈ امپائر ہوں گے اور آصف یعقوب فورتھ امپائر ہوں گے،تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں احسن رضا اور آصف یعقوب آن فیلڈ امپائر ہوں گے، فیصل خان آفریدی تھرڈ امپائر ہوں گے جبکہ راشد ریاض وقار چوتھے امپائر ہوں گے۔

  • ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا نے کا فیصلہ

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا نے کا فیصلہ

    ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا دیئے جائیں گے-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ٹریفک نظام میں بہتری سے متعلق اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت اقدامات کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد جرمانے 10 گنا تک بڑھا دیے جائیں گے۔ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر ان کے والدین کو ذمہ دار ٹھہرا کر مقدمات درج کیے جائیں گے وزیراعلیٰ نے گاڑیوں سے باہر خطرناک انداز میں لٹکتے سریے کو فوری طور پر روکنے اور ایسی گاڑیوں کو بند کرنے کی ہدایت کی، جب کہ ون ویلنگ یا خطرناک ڈرائیونگ پر بھی مقدمہ درج کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بیدیاں اور دیگر اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹوں کو فوری دور کرنے کا حکم دیا گیا۔ پنجاب کے 372 اور لاہور کے 77 پوائنٹس کی ری ماڈلنگ پر بھی غور کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو اور تصویری ثبوت منسلک کیے جائیں، اور ٹریفک جام کی پیشگی نشاندہی کے لیے روڈ سائیڈ پر ڈیجیٹل اسکرینز نصب کی جائیں دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر بھاری جرمانہ عائد کرنے پر بھی اصولی اتفا ق ہوا، جب کہ بند یا خراب ہیڈ لائٹس کے ساتھ گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اجلاس میں ٹریفک پولیس کی یونیفارم کی تبدیلی اور پانچ مختلف کیٹگریز میں تقسیم پر بھی غور کیا گیا۔ شفافیت کے لیے ٹریفک وارڈنز کو ان کیمرہ چالان کا اختیار دیا جائے گا وزیراعلیٰ نے ٹریفک پولیس کو جدید پٹرول گاڑیاں اور جدید ترین آلات فراہم کرنے کی منظوری بھی دی۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ٹریفک کے نظام میں بہتری نظر نہیں آ رہی، ہمیں ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرنا ہوں گےٹریفک حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے مؤثر اقدامات ہی کامیابی ہے، میں خود نکل کر مختلف سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہوں۔

  • پاک بھارت کشیدگی:  سفارتی کمیٹی کا دورہ امریکا طے

    پاک بھارت کشیدگی: سفارتی کمیٹی کا دورہ امریکا طے

    پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر پاکستان نے دنیا کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی سفارتی کمیٹی 2 جون کو امریکا کا دورہ کرے گی-

    ذرائع کے مطابق وفد کی قیادت سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کریں گے، وفد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے خصوصی ملاقات کرے گا، جبکہ واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، امریکی کانگریس کے اراکین، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے بھی ملاقاتیں طے کی گئی ہیں۔

    پاکستانی وفد ان ملاقاتوں میں خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات، خصوصاً سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور اس کے ممکنہ اثرات پر دنیا کو آگاہ کرے گا اس کے علاوہ پاک بھارت تناؤ پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے رکھا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس سفارتی سرگرمی کا مقصد بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پالیسیوں کے منفی اثرات کو اجاگر کرنا اور عالمی حمایت حاصل کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم نے حال ہی میں موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطح سفارتی کمیٹی تشکیل دی تھی جو مختلف ممالک کا اہم دورہ کرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں قائم سفارتی کمیٹی بھارت کے خلاف عالمی محاذ پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

  • خیبرپختونخوا پولیس کیلئے صوبائی حکومت سے تین گنا زائد بجٹ کا مطالبہ

    خیبرپختونخوا پولیس نے مالی سال 26-2025 کے لیے صوبائی حکومت سے تین گنا زائد بجٹ کا مطالبہ کر دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے نئے بجٹ میں 20 ارب روپے کی ڈیمانڈ پیش کی ہے، جس میں جدید ہتھیار، تھرمل گنز، بکتربند گاڑ یاں، آئی ٹی ساز و سامان اور ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے رواں مالی سال کی نسبت نئے بجٹ میں ترقیاتی منصو بوں کے لیے خطیر رقم مانگی گئی ہے بندوبستی اضلاع کے لیے 14.5 ارب روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی چیلنجز اور درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماضی کی نسبت تین گنا زیادہ بجٹ کی ڈیمانڈ کی گئی ہے تاکہ پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے،بجٹ تجاویز میں پولیس تھانوں، چیک پوسٹوں اور دیگر عمارتوں کی مرمت و تعمیر، جنوبی اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز، اور زیر التوا ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بھی شامل ہے۔

    نوشکی میں فائرنگ،پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ بجٹ ترجیحات میں جدید اسلحہ، اے پی سی گاڑیاں اور تھرمل گنز شامل ہیں، جبکہ ناکافی وسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار منصوبے اس بار ’ون ٹائم‘ بنیاد پر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

  • مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس: کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت میں وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟-

    سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پرسماعت جاری ہے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسے سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی سے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ ریویو کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟‘ آپ کو تو اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی، جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ہمارا انداز محبت والا ہے، ہم ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔

    بعد ازاں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ بھی روسٹرم پر آ گئے، اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایک بار پھر فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نظرثانی کو سپورٹ کر رہے ہیں یا مخالفت؟جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ میں جسٹس مندو خیل کے فیصلے کو کسی حد تک سپورٹ کر رہا ہوں، کبھی کبھار ہار کر بھی جیت جاتے ہیں، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثرہ آپ تھے، تو فیصل صدیقی نےکہاہمیں تو سب سے زیادہ خوشی ہے۔

    جسٹس مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس میں وہ پی ٹی آئی کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کو سپورٹ کر رہے تھے، جس پر وکیل حامد خان نے کہا کہ جان بوجھ کر پی ٹی آئی کو فریق نہیں بنایا گیا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ بینچ میں شامل اکثریت ججز نے مرکزی کیس نہیں سنا، اور موجودہ بینچ میں چھ نئے ججز شامل ہیں، یہ آٹھ ججز کا نہیں، گیارہ ججز کا فیصلہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست صرف اقلیتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی فیصل صدیقی نے کہا کہ نظرثانی درخوا ست میں جسٹس جمال مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے، میں اپنی سات گزارشات عدالت کے سامنے رکھوں گا‘۔

    فیصل صدیقی نے کہا پہلے اسی اعتراض کا جواب دوں گا کہ پی ٹی آئی فریق نہیں تھی تو ریلیف کیسے دیا گیا؟‘ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہیں کیے اور ان کا انتخابی نشان واپس لے لیا، یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے تنازعہ شروع ہوا۔

    جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ حقائق ہمارے سامنے نہیں ہیں،جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر میں یہ حقائق نہیں بتاؤں گا تو نئے ججز کو تنازعہ سمجھ نہیں آئے گا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا؟‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’سلمان اکرم راجہ نے چیلنج کیا، اس کا ذکر رپورٹڈ فیصلے میں موجود ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف انتخابی نشان کا فیصلہ کیا تھا، پارٹی برقرار تھی، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ دس ججز نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اس فیصلے کی غلط تشریح کو چیلنج کیا؟ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سلمان اکرم راجہ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،ریٹرننگ افسر نے سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی امیدوار تسلیم نہیں کیا، جس پر سلمان اکرم راجہ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور کیس ریمانڈ کر دیا گیا جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا سلمان اکرم راجہ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی؟

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے پی ٹی آئی نے خود ہی سمجھ لیا تھا کہ وہ سیاسی جماعت نہیں رہی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پی ٹی آئی خود کو پارٹی سمجھتی تھی تب ہی ٹکٹ جاری کیے تھے،فیصل صدیقی نے بتایا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے درخواست دائر کی، جبکہ ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی نے بھی درخواستیں دائر کیں جن میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دی جائیں بلکہ یہ نشستیں انہیں دی جائیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ اصل کیس تھا، فیصل صدیقی نے نشاندہی کی کہ ان جماعتوں کو ان کی متناسب نمائندگی کے مطابق نشستیں مل چکی تھیں، جبکہ مخصوص نشستوں سے متعلق قومی اور صوبائی اسمبلی کی 78 نشستیں ہیں جن پر تنازع ہے اگر یہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دے دی جائیں تو حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ متنازعہ دو تہائی اکثریت ہو گی، جس روز انتخابی نشان الاٹ ہونا تھا، اسی روز سپریم کورٹ نے انٹرا پارٹی انتخابات کا فیصلہ دیا-

    جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جی ہاں، جو رات تک کیس سنا گیا اور فیصلہ دیا گیا، فیصل صدیقی نے کہا کہ اسی روز تحریک انصاف نے ایک نشان پر الیکشن لڑنے کے لیے تحریک انصاف نظریاتی کے ٹکٹس جمع کرائے، کچھ دیر بعد پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین نے میڈیا پر آ کر ٹکٹس سے انکار کر دیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو نشان دینے سے انکار کر دیا۔

    وکیل فیصل صدیقی ن بتایا کہ مخدوم علی خان نے اعتراض اٹھایا تھا کہ یہ درخواست پشاور ہائیکورٹ میں قابلِ سماعت نہیں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کہا انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا یا سپریم کورٹ کا؟‘ جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تو صرف تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کا مقدمہ تھا۔

    فیصل صدیقی نے عدالت میں اکثریتی فیصلے کے پیرا گراف پڑھ کر سنائے اس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ حقائق پر تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ الیکشن کے دوران بھی تحریک انصاف نے سرٹیفیکیٹس جمع کروائے۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو حق دیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت میں جائیں، کیا بہتر نہ ہوتا کہ تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟ فیصل صدیقی نے جواب میں کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں، میری ہار میں ہی میری جیت ہے۔

    اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں، آپ پی ٹی آئی کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں؟‘ اسی نقطے پر مرکزی کیس میں بھی آپ سے سوال پوچھا گیا تھا، کیا آپ نے تحریک انصاف کی نمائندگی کے لیے اجازت لی ہے‘

    فیصل صدیقی نے وضاحت دی کہ کیس کے حقائق کی وجہ سے مجھے اس اجازت کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن نے عملدرآمد نہیں کیا، لہٰذا وہ امیدوار آج بھی سنی اتحاد کونسل کے ہیں، جب تک فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا، ان امیدواروں کو سنی اتحاد کونسل کا مانا جائے گا۔

    سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظرثانی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں انہوں نے آرٹیکل 63 اے کے نظرثانی کیس سمیت دیگر عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی صرف ان نکات پر ہوسکتی ہے جہاں فیصلے میں کوئی غلطی یا قانونی نقص ہو۔

    فیصل صدیقی نے عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ نظرثانی کن نکات پر ممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے خلاف دائر نظرثانی درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ ان میں وہ قانونی بنیاد موجود نہیں جس کی بنیاد پر نظرثانی کی جا سکے۔

    عدالت نے سماعت کے بعد کیس کو 29 مئی تک ملتوی کر دیا سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

  • ڈالر کا متبادل یورو بن سکتا ہے، صدر یورپی بینک

    ڈالر کا متبادل یورو بن سکتا ہے، صدر یورپی بینک

    یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کی پشت پناہی سے قائم عالمی معاشی نظام ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہو رہا ہے-

    عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برلن میں ہرٹی اسکول میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں عالمی معیشت نے کھلے پن اور کثیرالجہتی پر مبنی بنیاد پر ترقی کی، واشنگٹن کے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام اور ڈالر کی ریزرو کرنسی کے طور پر حمایت نے تجارت کو فروغ دینے اور مالیاتی نظام کو وسعت دینے کے لیے بنیاد فراہم کی۔

    کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ گزشتہ 80 برسوں سے امریکا کی قیادت میں قائم اس معاشی نظام نے یورپی یونین کو بے حد فوائد پہنچائے، لیکن آج یہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،عالمی معاشی نظام کی تحلیل یورپ کے لیے خطرات پیدا کرے گی،یورو ڈالر کا متبادل بن سکتا ہے-

    یورپی مرکزی بینک کی صدر کا یہ بیان بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اہم شراکت داروں پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی تجارتی کشیدگی کی طرف اشارہ تھا۔