Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے،سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے،سپیکر ایرانی پارلیمنٹ

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر، محمد باقر نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کر دیا،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر عمل کرے گا ایران ہر جارحانہ عمل کا متناسب اور فوری جواب دے گا، ایران بغیر کسی ہچکچاہٹ اور بغیر کسی استثنیٰ کے جوابی کارروائی کرے گا اور اگر انہوں نے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ہم بھی اسی انداز میں جواب دیں گے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر، محمد باقر نے تقریباً 12 مارچ 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید علاقائی تنازعے کے درمیان بیان بازی کو بڑھاتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔ ان کا یہ بیان خلیج فارس میں ایران کے زیر کنٹرول جزیروں کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف براہ راست انتباہ تھا، خاص طور پر جزیرہ خرگ (ایران کا مرکزی آئل ٹرمینل) یا ابو موسی، گریٹر تنب اور کم تنب کے متنازعہ جزیروں پر ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملوں کے جواب میں سامنے آیا-

    وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    "ایرانی جزیروں کی سرزمین کے خلاف کوئی بھی جارحیت تمام تحمل کو توڑ دے گی،ہم تمام تحمل کو ترک کر دیں گے اور خلیج فارس کو حملہ آوروں کے خون سے رنگ دیں گے،امریکی فوجیوں کا خون ٹرمپ کی ذاتی ذمہ داری ہے،یہ تبصرے 2026 کے اوائل میں ایک وسیع تر، انتہائی بڑھتی ہوئی صورتحال کا حصہ تھے جہاں ایران نے اپنی سرزمین پر حملوں کے بعد "بے قابو نتائج” سے خبردار کیا تھا۔

    گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ

  • وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف آج چند گھنٹوں کے سرکاری دورے پر سعودی عرب پر روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کررہے ہیں وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کریں گے،ملاقات میں خطے میں جاری کشیدگی اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال ہوگا،اس دورہ سے پاکستان کا سفارتی میدان میں مثبت کردار واضح ہورہا ہے اور پاکستان یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

    عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

  • عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ،اور ان کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائےعدالت نے اپنے حکم میں ہدایت دی کہ چیف کمشنر اسلام آباد میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو بانی تحریک انصاف کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا اور ان کی صحت کے حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طبی معائنے کا عمل جامع اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کا دوبارہ مکمل طبی معائنہ کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، عدالت نے ہدایت کی کہ معائنے کے بعد تیار ہونے والی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے، جیل رولز کے مطابق عمران خان کی فیملی کو طبی معائنے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ بھی اس عمل سے باخبر رہیں۔

    عدالت نے مزید ہدایت دی کہ ڈاکٹر ندیم قریشی عمران خان کی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں اور طبی معائنے سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرتے رہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے دی جائے تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے اس پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ آپ علاج کروا رہے ہیں۔

    جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے طبی ٹیسٹ کروائے جائیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ٹیسٹ ایک یا 2 گھنٹے میں ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں وہاں لے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت کے پاس اب تک عمران خان کی کوئی باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی،اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت کے سامنے صرف سپرنٹنڈنٹ جیل کا بیان موجود ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اسی بیان کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟-

    درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف طبی مسائل درپیش ہیں اور جیل میں موجود طبی سہولتیں ان کے مکمل علاج کے لیے ناکافی ہیں،وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی بنیادوں پر انہیں فوری طور پر کسی مناسب اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں طبی عملہ موجود ہے اور بوقت ضرورت ڈاکٹرز بھی معائنہ کرتے ہیں۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنائے گی، سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے مختلف قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔

    
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

  • گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ

    گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ

    ایم کیو ایم پاکستان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر اعتماد میں نہیں لیا تاہم اس ضمن میں پارٹی کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے فوری طورپر وفاقی حکومت سے راہیں جدا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان ایم کیو ایم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں گورنر سندھ کی تبدیلی کا علم ذرائع ابلاغ سےہوا ہےوفاق کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کو اس فیصلے پراعتماد میں نہیں لیاگیا اور ایم کیو ایم پاکستان اس فیصلے پر جلد اپنالائحہ عمل طے کرے گی۔

    دوسری جانب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے گورنر سندھ کی تبدیلی کے معاملے پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو گورنری کے آئینی حق سے محروم کیا جا رہا ہےایم کیو ایم اس وقت مسلم لیگ ن کی حلیف جماعت ہے اور روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم پاکستان کا ہوتا ہے۔

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    انہوں نے کہا کہ اس روایت اور اتحادی سیاست کے اصولوں کے باوجود گورنر سندھ کی تبدیلی سے متعلق یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں،اگر اس طرح کے فیصلے کیے جائیں تو پارٹی کے لیے حکومت میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتاایم کیو ایم پاکستان کو اس صورتحال میں فوری طور پر وفاقی حکومت سے الگ ہو جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے کامران ٹیسوری کو ہٹا کر ان کی جگہ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کیا ہےوزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سمری منظوری کے لیے صدر پاکستان کو بھجوا دی ہے۔

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

  • آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران خلیج میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان میں تیل کے ٹینکر، کارگو اور دیگر کمرشل جہاز شامل ہیں یہ حملے مختلف ملکوں کے جھنڈوں والے جہازوں پر ہوئے جن میں تھائی لینڈ، مالٹا، مارشل آئلینڈز، جاپان اور پاناما کے جہاز شامل ہیں، جنگ کے پہلے دن، یعنی 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے خلیج فارس میں نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ایران کے جوابی حملوں میں متعدد غیر ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی ترسیل تقریباً رک گئی۔

    اس دوران ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا ابتدائی دنوں میں ہونے والے ان حملوں نے خطے کے کئی ممالک کو اپنی تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور کیا اور عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    یکم مارچ کو مارشل آئی لینڈز کا ایم کے ڈی وی وائے او ایم تیل کا ٹینکر عمان کے ساحل کے نزدیک پروجیکٹائل لگنے سے حملے کا شکار ہوا جس میں ایک عملے کا رکن ہلاک ہوا اسی دن جبرالٹرز کے پرچم والا ہرکولیس اسٹار اورپلاؤ کے پرچم والا سکائی لائٹ بھی حملے کا نشانہ بنے اور عملے کو نکالنا پڑا۔

    2 مارچ کو امریکی جھنڈے والا اسٹینا امپریکٹو بحرین میں حملے سے آگ پکڑ گیا اور عملے کو ایمرجنسی طور پر نکالا گیا اسی طرح 3 مارچ کو مارشل آئی لینڈز کے لبرا ٹریڈر اور پاناما کے گولڈ اوک نے متحدہ عرب امارات کے فجیرا کے قریب معمولی نقصان اٹھایا4 مارچ کو مالٹا کا سفین پریسٹیج ٹینکر بھی نشانہ بنایا گیا، جب کہ 5 مارچ کو عراق کے خور ال زبیر بندرگاہ کے قریب سونانگول نیمبی کو دھماکے سے نقصان پہنچا اسی طرح 6 اور 7 مارچ کو مزید حملے ہوئے، جن میں ایک ٹگ بوٹ اور سعودی عرب کے شمال میں ممکنہ ڈرون حملہ شامل ہیں۔

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    11 مارچ کو آبنائے ہرمز میں کئی جہاز حملے کا شکار ہوئے، جن میں تھائی لینڈ کا میری ناری، جاپان کا ون میجسٹی، مارشل آئی لینڈز کا اسٹارگونیتھ اور تیل کے ٹینکر سیف سی وشنو اورزیفروس شامل ہیں 12 مارچ کو عراقی سمندری حدود میں الفاو بندرگاہ کے قریب دو ٹینکروں پر حملہ ہوا جس میں عملے کا رکن ہلاک ہوا جبکہ 25 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔ بحری حکام کے مطابق خلیجی پانیوں میں مزید چار جہاز بھی پروجیکٹائل حملوں کا شکار ہوئے۔

    ان حملوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایل این جی کی نقل و حمل کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی مصنوعا ت گزرتی ہیں ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اس تنگ پانی سے گزرنے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل اور ایل این جی کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی اور بین الاقوامی تجارت میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام طویل ہوا تو دنیا بھر میں ایندھن اور شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے شہر پشاور میں اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کر نے کا اعلان کیا ہے-

    دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ نے کانگریس کو رواں ہفتے بندش کے ارادے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اہ وہ پاکستان کے شہر پشاور میں اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کر دے گا، جو افغان سرحد کے قریب امریکا کا سب سے اہم سفارتی مشن رہا ہے اور 2001 کے افغانستان پر حملے سے قبل، دوران اور بعد میں اہم آپریشنل اور لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا رہا، اس اقدام سے ہر سال تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی، جبکہ امریکی قومی مفادات کی تکمیل یا پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

    ذرائع کے مطابق اس بندش پر غور ایک سال سے زائد عرصے سے کیا جا رہا تھا، جس کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں وفاقی محکموں کے حجم کو کم کرنے کے سلسلے میں ہوا تھا،یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا حالیہ مظاہروں سے متعلق نہیں ہے، جن کے دوران کراچی اور پشاور میں امریکی قونصل خانے عار ضی طور پر بند کیے گئے تھے گذشتہ برس امریکی حکومت نے محکمہ خارجہ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی تھیں، جس میں کئی ہزار سفارتکاروں کی برطرفی اور یو ایس ایڈ کے عملے کی تقریباً مکمل برخاستگی شامل تھی تاہم پشاور کا قونصل خانہ محکمہ خارجہ کی تنظیم نو کی وجہ سے بیرون ملک پہلی مکمل بند ہونے والی سفارتی مشن قرار پایا۔

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور قونصل خانے میں 18 امریکی سفارتکار اور دیگر سرکاری اہلکار، جبکہ 89 مقامی عملہ کام کرتا ہے قونصل خانے کو بند کرنے پر تقریباً 3 ملین ڈالر خرچ ہوں گے، جس میں سے 1.8 ملین ڈالر عارضی دفتر کے طور پر استعمال ہونے والے مضبوط ٹریلرز کی منتقلی پر خرچ ہوں گے۔باقی رقم قونصل خانے کے موٹر پول، الیکٹرانک اور ٹیلی کمیونیکیشن سازوسامان، اور دفتری فرنیچر کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی اور لاہور کے باقی قونصل خانوں میں منتقل کرنے پر خرچ کی جائے گی۔

    پشاور قونصل خانے کی افغان سرحد اور کابل کے قریب موجودگی نے اسے زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان جانے کے لیے کلیدی مرکز بنایا اور شمال مغربی پاکستان میں امریکی شہریوں اور افغان شہریوں کے لیے رابطے کا اہم نقطہ بھی رہا، جو امریکی امداد کے لیے رابطہ کرتے تھے۔

    حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہریوں اور دیگر افراد کے لیے قونصلر خدمات اب اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، جو پشاور سے تقریباً 114 میل (184 کلومیٹر) کی دوری پر واقع ہے۔

    محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ قونصل خانے کی بندش امریکی قومی مفادات کے فروغ، شہریوں کی مدد یا بیرونی امدادی پروگراموں کے مناسب نگرا نی کی صلاحیت پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالے گی، کیونکہ یہ تمام کام اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے جاری رہیں گے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

  • ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    ایران کی دھمکی؛ دبئی اور قطر میں متعدد بینک بند، ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کئی بینکوں نے خلیجی ممالک میں اپنے دفاتر خالی اور ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    ایران میں بینک کی عمارت پر حملے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کے ’سٹی بینک‘ نے متحدہ عرب امارات میں اپنی بیشتر برانچز اور مالیاتی مراکز عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بینک کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے۔

    بینک کے مطابق دبئی کے مرکزی علاقے میں واقع مال آف دی ایمریٹس میں موجود سٹی بینک کی شاخ اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوگی اور معمول کے مطا بق کام جاری رکھے گی اور متاثرہ تمام شاخوں کو 16 مارچ سے دوبارہ کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے بین الاقوامی بینک ’ایچ ایس بی سی‘ نے قطر میں اپنی تمام شاخیں تاحکمِ ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    بینک کی جانب سے صارفین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ حفاظتی اقدامات کے تحت کیا گیا ہے اسی طرح اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بھی دبئی میں اپنے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر گھر سے کام کریں، اس حوا لے سے ملازمین کو باضابطہ ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔

    بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ کے بڑے مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے بھی دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں موجود اپنے عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    گزشتہ دنوں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تہران میں واقع بینک سپاہ بینک کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا منگل کے روز بیروت میں حزب اللہ سے منسلک مالیاتی ادارے ’القرض الحسن‘ کی ایک عمارت بھی حملے کا نشانہ بنی تھی ان حملوں کے بعد بدھ کے روز ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی بینکوں پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گوگل، مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، این ویڈیا اور اوریکل جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ایرانی حملوں کے اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث سرمایہ کاروں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور امریکی بینکوں کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہےایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہو سکتا ہے پاسدارانِ انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورت حال کے باعث تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے جنرل ابراہیم جباری نے کہا ہے کہ اگر ایران کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو تہران بھرپور ردعمل دے گا ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے ہمارے مرکزی مقامات پر حملہ کیا تو ہم خطے کے تمام اقتصادی مراکز کو ہدف بنائیں گے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    جنرل ابراہیم جباری کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور موجودہ صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان کے مطابق اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے اور امکان ہے کہ یہ 200 ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

    ادھر عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو حالیہ عرصے میں بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    مشرق وسطی میں کشیدگی، فلائٹ آپریشن بدستور متاثر

  • حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پہلی بار تہران کو دھمکی دی-

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت پہلے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ایران اس طرح کے حملوں میں ملوث ہے اور اگر تصدیق ہو گئی تو ایران کو پاکستان سے سخت جواب دیا جائے گابھارت دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کو بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے نہیں بخشا جائے گا۔”

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بھارت جانے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جسے بعض ماہرین ایران کے ممکنہ ردعمل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تھائی لینڈ کے مال بردار جہاز مے یوری ناری کو اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا اس جہاز پر بھارت کے شہر گجرات کے لیے سامان لے جایا جا رہا تھاحملے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عملے کے کئی ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و بھارت تعلقات میں موجود پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے ایران بھارت کی اس پالیسی سے ناراض ہے جس میں وہ بیک وقت ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر اسرائیل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران حالیہ بعض اقدامات کو اپنے خلاف بھارتی صف بندی کا حصہ سمجھ رہا ہے، اسی لیے بھارت جانے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کو ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار

    امریکی بحریہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی اسکواڈ فراہم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے یہ راستہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش کے باعث دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہےاس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بحریہ کا کہنا ہے کہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے اس لیے فی الحال جہازوں کو فوجی حفاظت فراہم کرنا ممکن نہیں،امریکی بحریہ کا یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتا ہے، ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو فوجی محافظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیر کو فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی ٹینکروں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزاریں گے تاہم ابھی تک کسی جہاز کو اسکواڈ نہیں دیا گیا-

    امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین نے کہا کہ فوج اس حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاہم ایک امریکی اہلکار کے مطابق ابھی تک کسی بھی تجارتی جہاز کو امریکی بحریہ کی طرف سے اسکواڈ فراہم نہیں کیا گیا۔

    رہنما مسلم لیگ ن نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ

    اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ جہاز اس راستے سے گزرے ہیں، لیکن زیادہ تر جہاز رانی معطل ہے اور سینکڑوں جہاز سمندر میں لنگر انداز ہو کر انتظار کر رہے ہیں دنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر رہی تو عالمی تیل منڈی کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کو محفوظ بنانا آسان نہیں ایران سمندری بارودی سرنگیں اور کم قیمت حملہ آور ڈرون استعمال کر کے جہاز رانی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

    یورپی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈیز آن دی مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ کے سربراہ عادل باکوان کے مطابق ’فی الحال امریکا، فرانس یا کوئی بھی عالمی اتحاد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    گزشتہ ہفتے ایران نے مبینہ طور پر بارودی مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی کے ذریعے عراقی پانیوں میں لنگر انداز ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچایا تھا ماہر ین کا کہنا ہے کہ اگر جہازوں کو فوجی اسکواڈ دیا بھی جائے تو تیز رفتار کشتیوں یا ڈرون کے جتھوں کے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا۔

  • اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟

    سیاست کے کھیل نے ریاست اور عوام کو تنہا چھوڑ دیا قومی مفاد کی بلند آواز اب نہیں تو کب؟

    نعروں اور دعووں کی سیاست بمقابلہ حقیقی عوامی خدمت پاکستان کی قیادت کے لیے خود احتسابی کا ایمرجنسی الارم

    مہنگائی، بے روزگاری، توانائی و تعلیمی بحران، کب آئے گی سنجیدہ سیاست اور ٹھوس حکمت عملی؟

    ذاتی مفادات یا قومی ترقی؟ پاکستان کی سیاست کا المیہ مستقبل کے فیصلے کا وقت آج ہے

    پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ چند مخلص اور سنجیدہ سیاستدانوں کو چھوڑ دیا جائے تو اکثریت ایسی راہوں کا انتخاب کرتی دکھائی دیتی ہے جن میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل تو محفوظ رہے، مگر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت اور ریاستی استحکام ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست اکثر ذاتی مفادات، اقتدار کے کھیل اور وقتی فائدوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

    اگر پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ملک اس وقت کئی بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی بحران، مہنگائی کی بلند ترین سطح، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، تعلیمی پسماندگی اور امن و امان کے مسائل ایسے بنیادی معاملات ہیں جن پر قومی سطح کی سنجیدہ اور طویل المدتی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد ان مسائل پر ٹھوس حکمت عملی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، الزام تراشی اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہتی ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب سیاستدان اپنی ترجیحات میں ریاست اور عوام کے مسائل کو ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور عوامی فلاح کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر رکھا اور طویل المدتی پالیسیاں بنا کر اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ پاکستان میں بھی اگر سیاستدان سنجیدگی کے ساتھ قومی مسائل پر متفقہ حکمت عملی اپنائیں، اداروں کو مضبوط کریں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا اصل مقصد بنا لیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    بصورت دیگر اگر سیاست کا محور صرف اقتدار اور ذاتی مفاد ہی رہا تو ریاست اور عوام دونوں کو مشکلات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر سیاستدان اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پاکستان کا مستقبل زیادہ مستحکم اور روشن ہو سکتا ہے۔