Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • وفاقی کابینہ اجلاس میں ماہرین نے مونو  سوڈیم گلوٹا میٹ کو  انسانی صحت کے لیے محفوظ قرار دیا

    وفاقی کابینہ اجلاس میں ماہرین نے مونو سوڈیم گلوٹا میٹ کو انسانی صحت کے لیے محفوظ قرار دیا

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کی قومی پالیسی 2024، خصوصی عدالتوں کی حدود/دائرہ کار میں تبدیلی اور مونو سوڈیم گلوٹامیٹ (اجینو موتو) کی درآمد پر پابندی اٹھانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا،وفاقی کابینہ نے وزارت تجار ت کی سفارش پر مونو سوڈیم گلوٹامیٹ (اجینو موتو) کی درآمد پر پابندی اٹھانے کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر نظر ثانی در خو است دائر کرنے کی منظوری دے دی۔

    یہ فیصلہ ماہرین کی اس خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے جو وزیراعظم آفس کی ہدایت پر مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کی انسانی صحت پر اثرات کو جانچنے کے حوالے سے بنائی گئی تھی، اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مونو سوڈیم گلوٹا میٹ کو انسانی صحت کے لیے محفوظ قرار دیا ہے۔

    اس کمیٹی میں پاکستان سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالو جی ، انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ نیوٹریشنل سائنسز، وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور سرمایہ کاری بورڈ کے نمائندگان شامل تھے۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر یونیورسٹی آف کیمبرج، سینٹ انٹونیز کالج یونیورسٹی آف آکسفورڈ، یونیورسٹی آف جارڈن، پیکنگ یونیورسٹی چین، یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ جرمنی میں پاکستان چیئرز کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کی تجدید کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر سینٹر آف ایکسیلنس یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے بورڈ آف گورنرز میں ڈاکٹر حبیب الرحمان اور ڈاکٹر کامران انصاری کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹس نامزدگی کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر سینٹر آف ایکسیلنس ان منرالوجی، یونیورسٹی آف بلوچستان کوئٹہ کے بورڈ آف گورنرز میں ڈاکٹر ممتاز محمد شاہ اور ڈاکٹر محمد احمد فاروقی کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹس نامزدگی کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر اسلام آباد سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے تجویز کی اصولی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پُر تشدد انتہا پسندی کی روک تھام کی قومی پالیسی 2024 کی منظوری دے دی، کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر اور سندھ ہائیکورٹ کراچی کے احکامات کی روشنی میں خصوصی عدالتوں کی حدود / دائرہ کار میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر اور بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں اسپیشل کورٹس (کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ) کوئٹہ اور خضدار کے دائرہ کار میں تبدیلی کی بھی منظوری دے دی۔

    وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش اور پشاور ہائیکورٹ، لاہور ہائیکورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ، سندھ ہائیکورٹ کراچی، بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل سیشن ججز اور دوسری متعلقہ عدالتوں کو لائرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے تحت مقدمات سننے کا اختیار دینے کی بھی منظوری دے دی۔

  • فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ’’ای جی میٹال‘‘ نے جرمن کارساز کمپنی فوکس واگن کی جرمن فیکٹریوں کے ہزاروں ملازمین، ملازمتوں میں کمی کے منصوبے کے خلاف پیر دو دسمبر کو ہڑتال کی-

    باغی ٹی وی: ووکس ویگن کے ہزار وں کارکنوں نے بڑھتے ہوئے صنعتی تنازعہ میں پیر کو ہڑتال کر دی، یونینوں نے خبردار کیا کہ بحران سے متاثرہ جرمن آٹو کمپنی بڑے پیمانے پر چھانٹی اور فیکٹریاں بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یونین ذرائع نے بتایا کہ صبح کی شفٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے دو گھنٹے تک ہڑتال کی، جب کہ شام کی شفٹ میں کام کرنے والوں نے کار ساز کے مطالبات، جس میں اجرت میں 10 فیصد کٹوتی بھی شامل ہے، پر احتجاج کرتے ہوئے جلد کام چھوڑنے کا ارادہ کیا، وولفسبرگ میں ووکس ویگن کے مرکزی پلانٹ میں، جس میں 70,000 افراد کام کرتے ہیں، دو گھنٹے کی ہڑتال کا مطلب ہے کہ کئی سو کاریں نہیں بن سکتیں-

    جرمنی کا دیو پیکر کارساز ادارہ فوکس واگن شدید بحران سے دوچار ہے رواں سال ستمبر میں ہونے والے اس اعلان کے بعد کہ جرمنی میں اس کے متعدد پلانٹس کو بند کر دیا جائے گا، ٹریڈ یونینوں اور فوکس واگن کمپنی کے سرمایہ کاروں کے مابین سخت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جرمنی کے اندر فوکس واگن کے پلانٹس کو بند کرنے کے منصوبے سے براہ راست ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین متاثر ہو سکتی ہیں۔

    یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی نے اپنی 87 سالہ تاریخ میں جرمنی میں فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ یورپی مینوفیکچررز غیر ملکی مسابقت، اعلی پیداواری لاگت اور براعظم میں الیکٹرک گاڑیوں کی سست رفتاری سے لڑ رہے ہیں۔

    یورپ میں وی ڈبلیو کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے کیونکہ ڈیمانڈ اسٹالز اور صارفین پیٹرول موٹرز میں دلچسپی لے رہے ہیں،عالمی سطح پر، سال کے پہلے تین مہینوں میں فروخت میں تین فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ پٹرول موٹروں کی فروخت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔

    Stellantis – جو Vauxhall کا مالک ہے نے اس ہفتے کے شروع میں مینڈیٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جب اس نے لوٹن میں اپنی وین فیکٹری کو بند کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے 1,100 ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں۔ چیف ایگزیکٹیو کارلوس ٹاویرس نے اتوار کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا جب گروپ اس سال اپنی قیمت کا تقریباً 40 فیصد کھو دیا-

    فورڈ کے یوکے بازو کے باس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ برقی کاروں کی مانگ میں زبردست کمی کی وجہ سے برطانیہ کی کار انڈسٹری بحران کا شکار ہےفورڈ یو کے کی چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر لیزا برینکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلچسپی کو بڑھانے کے لیے فوری طور پر ‘مراعات’ متعارف کروائیں۔

    یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کے بحران نے جرمنی کو اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی ہلچل کے ساتھ ساتھ خطے کے کار ساز اداروں کے درمیان وسیع تر انتشار کے وقت متاثر کیا ہے۔

    جرمن زبان میں ”فوکس واگن‘‘ سے مراد عوامی گاڑی ہے، اس موٹر کار کا معیار اور اس کی پائیداری کی ضمانت یہ تھی کہ جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی گاڑی سمجھی جاتی رہی ہے، اب اس کار ساز ادارے کو سب سے بڑی زک جو پہنچی ہے اُس کا تعلق جرمنی کے اندر اس پر آنے والی بلند پیداواری لاگت ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ اور کلیدی مارکیٹ چین کے ساتھ سخت مقابلہ فوکس واگن کو پہنچنے والے سخت نقصانات کی اہم ترین وجوہات ہیں۔

    جرمنی کی آٹو موٹیو انڈسٹری واحد صنعت نہیں ہے جو توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور زیادہ اجرتوں جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے، فوکس واگن کو گھر میں اعلیٰ پیداواری لاگت، الیکٹرک گاڑیوں میں ہنگامہ خیز تبدیلی اور کلیدی مارکیٹ چین میں سخت مقابلے کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے چین کا عالمی معیشت میں بدلتا ہوا کردار اور ایک حریف، ایک سخت مدمقابل ہونا جرمن معیشت کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بنا ہے۔

    جرمنی کے معروف کار مینوفیکچررز کی گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ محض سال رواں کی پہلی ششماہی کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوکس واگن کی فروخت میں 14 فیصد، بی ایم ڈبلیو کی فروخت میں 15 فیصد اور مرسیڈیز بینز کی فروخت میں 16 فیصد کی کمی آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ یونین اور فوکس واگن کی ورکس کونسل نے کئی تجاویز پیش کیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ موٹر سازی کی فیکٹریوں یا سائٹس کی بندش کے بغیر لیبر کاسٹ یا مزدوری کے اخراجات میں 1.5 بلین یورو (1.6 بلین ڈالر) کی بچت ممکن ہے، ان میں انتظامیہ اور عملے کے لیے بونس ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

    یونین نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کچھ فیکٹریوں میں کام کے گھنٹے کم کرنے کے بدلے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بھی ختم کر سکتی ہےتاہم فوکس واگن نے کہا کہ ان تجاویز سے قلیل المدتی بنیادوں پرمدد مل سکتی ہے،مگر یہ معاشی مسائل کا طویل المدتی حل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی کمپنی کو اس سے ریلیف ملے گا۔

    فوکس واگن کے اس رویے کو جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ”ای جی میٹال‘‘ نے ”افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر ”ملازمین کے نمائندوں کی تعمیری تجاویز کو نظر انداز کرنے‘‘ کا الزام لگایا۔

    واضح رہے کہ جرمنی میں آٹوموٹیو سیکٹر ہی یورپ کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے اس ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پچھلے سال جرمنی نے 273 بلین یورو مالیت کی کاریں برآمد کیں جرمنی کی برآمدات میں موٹر گاڑیوں کا حصہ 17 فیصد سے زیادہ ہے، اس کے بعد مشینری، کیمیکل، الیکٹرانکس، دوا سازی، دھاتیں اور دیگر مصنوعات ہیں، اس کے علاوہ جرمن گاڑیوں کی فیکٹریا ں اندرون ملک کئی شہروں اور دیہات میں واقع ہیں اور ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں۔

  • بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنیوالے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی

    بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنیوالے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی

    کراچی:وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبرکرائم ونگ بلوچستان سے ریاست مخالف پروپیگنڈے کرنے والے 924 اکاؤنٹس کی نشاندہی کرلی، نشاندہی کے بعد اب تک 312 اکاؤنٹس کو پی ٹی اے کی جانب سے بلاک کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے کے کراچی آفس سے جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ سائبرکرائم ونگ بلوچستان زون کے ڈائریکٹرعمران محمود کی زیر سربراہی سوشل میڈیا پرریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث عناصر کےخلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں، ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ویسٹ عمران محمود کو 3 ماہ قبل تعینات کیا گیا تھا، جنہوں نے اپنی تقرری کے بعد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ اور تجز یے کے لیےخصوصی ٹیم تشکیل دی جس پر مذکورہ ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر فیس بک، انسٹاگرام،ٹویٹر،ٹک ٹاک اوردیگر پلیٹ فارمزپرمشکوک سرگرمیوں کی نگرانی شروع کی۔

    ترجمان ایف بی آر کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ بلوچستان نے ریاست مخالف مواد شئیرکرنے میں ملوث 924 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی،مذکورہ اکاؤنٹس کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کوتفصیلات فراہم کردی گئی ہیں،رپورٹ کردہ اکاؤنٹس میں 487 فیس بک ،190ٹک ٹاک، 147 ایکس (ٹوئٹر)، 88 انسٹاگرام اور 12 دیگر ایپلیکیشن کےاکاؤنٹس شامل ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق نشاندہی کے بعد اب تک 312 اکاؤنٹس کو پی ٹی اے کی جانب سے بلاک کیا گیا ہے جبکہ ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف 14 انکوائریاں درج کرکے تحقیقات کا آغازکردیا گیا علاوہ ازیں ایف آئی اے سائبر کرائم بلوچستان نے 28 مختلف سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کی نشاندہی کی ہے،جنہیں ریاست مخالف عناصر کے ذریعے گمنام رابطوں اورپروپیگنڈے کے لیےاستعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف عناصر کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،ملزمان کی گرفتاری کے لئےتمام تروسائل بروئے کارلائےجائیں گے،ملزمان کی نشاندہی کےلئےجدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔

  • ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر فرد ترقی کر سکے، بلاول بھٹو زرداری

    ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر فرد ترقی کر سکے، بلاول بھٹو زرداری

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ پسماندہ طبقات، بشمول معذور افراد کے حقوق کے تحفظ میں پیش پیش رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو نے کہا کہ روزگار کے لیے کوٹہ کو یقینی بنانے سے لے کر شمولیتی تعلیمی پالیسیوں کے نفاذ تک، ہم نے ہمیشہ معذور افراد کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں مساوی شراکت دار کے طور پر شامل کرنے کے لیے کام کیا ہے، معذور افراد کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور عوامی بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم تک رسائی دینا صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک ترقی پسند معاشرے کا اخلاقی فرض بھی ہے ہمیں ان سماجی تعصبات اور دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو عدم مساوات کو بڑھاتے ہیں اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ہر فرد ترقی کر سکے۔

    انہوں نے 2024 کے موضوع کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کو نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے بلکہ پائیدار مستقبل کے لیے قیادت کے لیے بھی بااختیار بنایا جائےمعذور افراد کا قائدانہ کرادر ایک حقیقی جامع پاکستان کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    انہوں نے وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ معذور افراد کے حقوق سے متعلق قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنائیں اور سندھ کی مثال سے سیکھیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تمام شہریوں کے لیے شمولیت، مساوا ت اور وقار کے فروغ کے اپنے مشن پر قائم ہے تاکہ کوئی شہری پائیدار ترقی کے حصول سے محروم نہ رہ جائے۔

  • بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    بانی پی ٹی آئی پارٹی قیادت کی طرف سخت مایوس ہیں،مشعال یوسفزئی

    اسلام آباد: مشعال یوسف زئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو۔

    باغی ٹی وی : بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسف زئی اور مریم ریاض وٹو نے برطانوی اخبار گارجئین کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ پارٹی رہنما، بانی کی ہدایات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے جس کے سبب بشریٰ بی بی کو عملی میدان میں آگے لایا گیا، فائنل کال کے احتجاج والے دن بھی بشریٰ بی بی نے صرف بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اور ان کے مفاد کیلئے کام کیا،عمران خان کو اپنی پارٹی کے “کمپرومائز” لیڈرز سے زیادہ بشریٰ بی بی پر اعتماد ہے۔

    مشعال یوسف زئی نے کہاکہ سابق وزیر اعظم 500 سے زائد دنوں سے جیل میں ہیں، انہیں 100 سے زائد الزامات کا سامنا ہےبانی پی ٹی آئی، پارٹی قیادت کی طرف سے اپنی ہدایات عوام تک نہ پہنچانے اور ان کے جوڑ توڑ سے سخت مایوس ہیں، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے کہا ہے کہ وہ اب ان کا پیغام براہ راست پہنچائیں، بشریٰ بی بی کو سیاست کا تجربہ نہ ہونے کے سبب انہیں قطعی ہدایات دی جائیں گی، بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ہی فائنل کال کا پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر حتمی احتجاج کرو بشریٰ بی بی کے سیاسی عزائم نہیں، وہ پرسکون روحانی شخصیت ہیں، وہ صرف بانی اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کررہی ہیں۔

    بشریٰ بی بی بہن مریم ریاض وٹو نے الزام عائد کیاکہ بانی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، لگتا ہے کہ اپنے فائدے کیلئے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، بشریٰ بی بی پر احتجاج کے دوران اسلام آباد کے مرکز جانے سے روکنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔

    برطانوی اخبار کے مطابق مریم ریاض وٹو نے ہی 2015 میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا تعارف کرایا تھا، بانی کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر سیاسی اور پر اسرار روحانی شخصیت سمجھا جاتا ہے،پی ٹی آئی میں ایک عنصر بشریٰ بی بی کو پسند نہیں کرتا اور ان کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔

  • مہنگائی کم ہوئی ہے، اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے،وزیراعظم

    مہنگائی کم ہوئی ہے، اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دھرنوں نے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کردی تھی،دھرنے کی وجہ سے ایک دن میں اسٹاک مارکیٹ ساڑھے 3 ہزار پوائنٹ گری۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد مہنگائی کم ہوکر 4.9 فیصد پر آگئی ہےمہنگائی وہ معاملہ ہے جس سے غریب آدمی براہ راست متاثر ہوتا ہے، مہنگائی کم ہوئی ہے، امید ہے عام آدمی پر بوجھ کم ہوگا، اب ہمیں گروتھ کی طرف بڑھنا ہے، افراط زر اب مزید کم ہوگا تاہم یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک کو کرنا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے چینی کی برآمد کی اجازت دی لیکن قیمت نہیں بڑھنے دی، ، چینی برآمد ہونے کے باوجود قیمت میں کمی ہوئی، چینی برآمد کرنے سے ملک کو 500 ملین ڈالر کا فائدہ ہوا، چینی کی افغانستان اسمگلنگ صفر ہوگئی ہے، دھرنوں نے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کردی تھی، بالخصوص اسلام آباد میں ایک افراتفری کا عالم تھا، توڑ پھوڑ ہوئی، رینجرز اور پولیس والے شہید ہوئے، ان لوگوں نے اپنے غیرقانونی ہتھکنڈوں نے ملک کی بے عزتی کرائی-

    انہوں نے کہا کہ دھرنے کی وجہ سے ایک دن میں اسٹاک مارکیٹ ساڑھے 3 ہزار پوائنٹ گری،لیکن جیسے ہی دھرنے کے خلاف کارروائی ہوئی اور دھرنا ختم ہوا تو اسٹاک مارکیٹ اگلے دن دوبارہ کم بیک کرگئی پچھلا نقصان بھی پورا کیا اور مزید گین کیا، اس کا مطلب ہے کہ استحکام ہو تو معیشت بہتر ہوتی ہے، اس لئے ہمیں معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ہے،ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقتصادی اہداف حاصل کریں گے، معاشی بہتری کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید مثبت ہوں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہا گیا کہ پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں، پائلٹس کے جعلی ڈگری کے بیان سے بہت نقصان پہنچا،قومی ایئرلائن کی یورپ میں پروازوں کی بحالی پر خواجہ آصف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،ماضی کی حکومت کے وزیر نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکرغیرذمہ دارانہ بیان دیا، سابق وزیر کے بیان سے ملک کو اربوں کا نقصان پہنچا، میں خواجہ سعد اور اتحادیوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں، گزشتہ اتحادی حکومت نے بھی معاملے کیلئے بھرپور کاوشیں کیں۔

  • چیف جسٹس کا اِن چیمبر سماعتوں کیلئے ججز کی تعداد بڑھانے پر  اتفاق

    چیف جسٹس کا اِن چیمبر سماعتوں کیلئے ججز کی تعداد بڑھانے پر اتفاق

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا اور جنرل سیکرٹری سلمان منصور نے پیر کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وکلا کو درپیش مسائل کے حوالے سے مختلف امور زیر بحث آئے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بار ایسوسی ایشن کے بہت سے جائز مطالبات کی تائید کی چیف جسٹس نے ضمانت کی درخواستیں دائری کے فوری بعد سماعت کیلئےمقرر کرنے کی حامی بھری، چیف جسٹس نےعبوری و حکم امتناع کےمقدمات کی اِن چیمبر سما عت کی بحالی پر بھی حامی بھری۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نامزد ججز پورا ہفتہ اِن چیمبر سماعت جاری رکھیں گے چیف جسٹس نے اِن چیمبر سماعتوں کیلئے ججز کی تعداد بڑھانے پر بھی اتفاق کیا،چیف جسٹس نے وکلا کی ویڈیو لنک پر پیش ہونے کی درخواستیں سماعت کے روز ہی سننے کی منظوری دی۔

    پی ٹی آئی احتجاج:مظاہرین نے برازیلی ساختہ آنسو گیس کے شیل پولیس پر برسائے

    اعلامیے کے مطابق اس اقدام سے دور دراز علاقے سے عدالت میں پیش ہونے والے وکلاء کیلئے آسانی پیدا ہوگی، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے بہتر و مؤثر بنایا جا رہا ہے، آن لائن سہولیات کیلئے تمام ایڈووکیٹ اپنے ای میلز اور واٹس ایپ نمبرز درج کروائیں، چیف جسٹس نے قانونی برادری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    غزہ : اسرائیل انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر …

  • شامی باغی صدر بشار الاسد کے محل تک پہنچنے میں کامیاب

    شامی باغی صدر بشار الاسد کے محل تک پہنچنے میں کامیاب

    شامی باغی حلب میں صدر بشار الاسد کے محل تک پہنچنے اور اس میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : شامی باغیوں کی تنظیم ”حیات تحریر الشام“ (HTS) نےہفتے کو حلب شہر میں داخل ہونے کے بعد اس پر قابو پا لیا ہے، اور حکومتی حامی شامی افواج کو تقریباً گھیر لیا، جس کے نتیجے میں شامی دفاعی افواج کی کرد فورسز کو آنا پڑاشامی باغیوں نے صدر بشار الاسد کے محل کے ساتھ ساتھ قریبی حلب ملٹری اکیڈمی پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا، اس دوران باغیوں نے روسی فضائی دفاعی نظام پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا، حلب کا تقریباً پورا علاقہ اس وقت باغیوں کے قبضے میں ہے، سوائے شہر کے شمال میں واقع چند کرد محلو ں کے، جو اب بھی شامی افواج کے قبضے میں ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق کچھ رپورٹس نے اشارہ کیا کہ باغی اور شامی افواج، فوجیوں کے انخلا کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم ایس ڈی ایف نے اس کی تردید کی ہے حلب کی لڑائی (2012-16) کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسد حکومت شام کے دوسرے شہر کا کنٹرول کھو چکی ہے، جو حکومت کے کنٹرول میں سنگین بگاڑ کا اشارہ ہےرپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اسد کے تمام فوجیوں نے شہر کو خالی کر دیا ہے۔

    شام میں زمینی سطح پر تیزی سے پیش رفت کے بعد اور حلب پر مسلح دھڑوں کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے تناظر ایرانی وزارت خارجہ نے شامی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دمشق کی درخواست پر ایرانی فوجی مشیروں کی دمشق میں موجودگی برقرار رہے گی،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام اور خطے میں عدم تحفظ کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد دہشت گرد گروہوں کا دوبارہ متحرک ہونا محض ایک اتفاق یا حادثہ ہے، لیکن اگر ہم 2011ء اور 2012ء کے بعد شام میں دہشت گردی کے ابھرنے کی تاریخ پر نظر ڈالیں اور اس کے اور اسرائیل کے درمیان مشکوک تعلقات کو دیکھیں تو ہم ان واقعات کو محض اتفاق نہیں سمجھ سکتے۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی حکام بھی سمجھتے ہیں کہ شام میں ان تبدیلیوں نے "مزاحمت کے محور” کو کمزور کر دیا ہے،ہ ترکیہ کے حکام بھی شام میں ہونے والی پیش رفت پر اتنے ہی فکر مند ہیں جتنا کہ ایران ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "شام میں کسی بھی قسم کی عدم تحفظ یا دہشت گردی کا پھیلاؤ نہ صرف شام کو متاثر کرے گا بلکہ اس کے پورے خطے کی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے”۔

    بین الاقوامی اور علاقائی خدشات کے جلو میں شامی فوج کی پسپائی اور حلب میں تحریر الشام محاذ اور اس کے اتحادی دھڑوں کی طرف سے شہر پر مکمل کنٹرول کے بعد عراق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سرحدیں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور سکیورٹی فورسز چوکس ہیں۔

    عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل مقداد مری نے آج پیر کو بارڈر فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد صقر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ شام ۔ عراق سرحد کو تھرمل کیمروں سمیت تمام تکنیکی اور انسانی ذرائع سے محفوظ بنایا گیا ہے، آج کی عراق اور شام کی سرحد کا 2014ء کے حالات سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا”۔

    عراقی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے یونٹس نینویٰ کے مغرب میں شمالی سیکٹر کو بکتر بند اور مشینی یونٹوں کے ساتھ مدد فراہم کرنے کے بعد جنوب میں القائم سے اردن کی سرحد تک کھلی سرحد کی سکیورٹی کے لیے منتقل ہو گئے ہیں۔

    شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہا ہے کہ شام میں دہشت گردی میں اضافہ مشرق وسطیٰ کے خطے کو تقسیم کرنے اور مغربی مفادات کے مطابق دوبارہ نقشے تیار کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    شامی ایوان صدر کی طرف سے ٹیلی گرام پیج پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی صدر اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان فون کال کے دوران صدر الاسد نے اس بات پر زو دیا کہ شام میں "دہشت گردی میں اضافہ” ایک مخصوص منصوبے کے تحت کیا گیا ہے تاکہ خطے کو تقسیم کرنے کرکے اس کا نیا نقشہ جاری کیا جا سکے،پیشرفت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ خطے کے ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور امریکہ اور مغرب کے مفادات اور اہداف کے مطابق دوبارہ نقشے بنانے کی کوششیں ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے ملک کی جانب سے شام کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کیا،انہوں نے کہا کہ شام کے اتحاد کو نقصان پہنچانا خطے، اس کے استحکام اور اس کے ممالک کے اتحاد کے لیے ایک دھچکا ہو گا، انہوں نے زور دیا کہ ایران شام کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

    علاوہ ازیں ترکیہ اور ایران نے شام کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک شام کو دہشت گردی کا گڑھ نہیں بننے دیں گے، دمشق سے اپنے فوری دورے پر انقرہ پہنچنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    ترک وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں چیف ایرانی سفارت کار نے تہران اور انقرہ کے درمیان اس بات پر زور دیا کہ شام کو "دہشت گرد گروہوں” کی آماجگاہ بننے سے روکنے کی ضرورت ہے،انہوں نے شام میں "دہشت گرد تنظیمو ں” پر اسرائیل اور امریکہ سے تعاون حاصل کرنے کا الزام لگایا تاہم ان کے ترک ہم منصب نے یہ الزام مسترد کر دیا۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کی خطرناک صورتحال خطے کے تمام ممالک کو متاثر کرے گی، "آستانہ معاہدے” کے حوالے سے ترکیہ اور ایران کے موقف میں ہم آہنگی موجود ہے۔

    انہوں نے شام کے بارے میں علاقائی مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شامی حکومت اور اس کی فوج کی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا،انہوں نے وضاحت کی کہ ترکیہ کے ساتھ ان کی مشاورت بہت اچھی رہی، خاص طور پر چونکہ انہوں نے شامی سرزمین کے اتحاد اور خودمختاری کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

    ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سے شام میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہےانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں "دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے” کے حوالے سے ترکیہ اور ایرانی خیالات میں اتفاق پایا جاتا ہے،انہوں نے شام کی علاقائی سالمیت کے لیے انقرہ کی حمایت پر بھی زور دیا۔

    ترک وزیر خارجہ کہا کہ شام میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت حکومت اور دھڑوں کے درمیان کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو انقرہ کسی بھی بات چیت میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہےہم نہیں چاہتے کہ شام میں خانہ جنگی شدت اختیار کرے یا شہر تباہ ہوں، عام شہری مارے جائیں اور شام کے لوگ دوبارہ بے گھر ہونے اور ہجرت کرنے پر مجبور ہوں، دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے ان کے ملک کی حساسیت برقرار ہے شام میں استحکام ضروری ہے اور خطے میں خونریزی اور تباہی کو روکنا ضروری ہے۔

  • علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

    علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگا تو میں پی ٹی آئی سے نمٹ لوں گا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق کسی بات کا علم نہیں، ٹی وی سے پتا چلا کہ کابینہ اجلاس میں گورنر راج کی بات ہوئی، پیپلزپارٹی کو بھی گورنر راج کے بارے میں علم نہیں ہے، میں نے گورنر راج کی دھمکی نہیں دی بلکہ صرف کہا آپشن موجود ہے تاہم گورنر راج کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔

    گورنر خیبرپختونخو ا نے کہا کہ وزیراعلیٰ وفاق پر حملہ آور ہونے کی بات کرتا ہے، احتجاج میں مظاہرین کے پاس جو اسلحہ تھا وہ عام بازار سے نہیں خریدا جاسکتا، صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر لوگ جنازے اٹھا رہے ہیں، گزشتہ روز کوہاٹ میں کرم کی صورتحال پر جرگے کے لئے گیا، کوشش ہے کہ صوبے میں امن وامان قائم ہو، ابھی گورنر راج تو نہیں لگ رہا لیکن اگر لگا تو میں ان کے ساتھ نمٹ لوں گا۔

    عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی دھرنوں سے نہیں عدالتوں کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، علی امین گنڈا پور وکٹ کی دونوں طرف کھیلتے ہیں، وہ دھرنے کی بات کرتے ہیں اور پھر دامن کوہ کے راستے فرار ہوجاتے ہیں، احتجاج میں وزیراعلیٰ کے ساتھ سادہ لباس میں پولیس کے اہلکار موجود تھے،سہولتکاروں کے ساتھ میچ سنگجانی تک فکس تھا مگر ڈی چوک پہنچ گیا۔

    فیصل کریم کنڈی نے مشورہ دیا کہ حکومتی وزراکو غیرذمہ دارانہ بیانات نہیں دینے چاہئیں، وفاق کو ملک بند نہیں کرنا چاہئے بلکہ بات کرنی چاہئے، حکومت انٹرنیٹ، موبائل فون سروس اور راستے بند کرکے مشکلات پیدا کرتی ہے، پی ٹی آئی والوں کو آنے دیتے اور احتجاج کرنے دیتے۔

  • غزہ : اسرائیل  انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ : اسرائیل انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر منیر البرش نے کمزور اور لاچار فلسطینیوں پر استعمال ہونے والے اسرائیلی اسلحے سے متعلق ہولناک انکشافات کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں اسرائیل نے ظلم اور جبر کی نئی تاریخ رقم کردی، ایسے ممنوع ہتھیار استعمال کر رہا ہے کہ نسانیت دنگ رہ جائے، غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج ایسے ہتھیار استعمال کر رہی ہے جن سے مرنے والوں کی لاشیں بخارات بن جاتی ہیں۔

    غزہ کے ڈائریکٹر ہیلتھ نےکہا کہ اسرائیل نہتے فسطینی پناہ گزینوں پر خطرناک کیمیکل اور مواد والے بم برسا رہا ہے جس کے ہولناک اثرات سامنے آ رہے ہیں،عالمی قوتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے غزہ میں سیزفائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوری ڈیل کی تردید کی ہے،ایک بیان میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس غزہ میں سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کررہا ہے لیکن ہم اب تک حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ہم بہت متحرک ہوکر کام کررہے ہیں تاکہ یہ عمل جلد مکمل ہو اور ہم اس سلسلے میں خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے بھی قریبی رابطوں میں ہیں، اس حوالے سے مسلسل کام ہورہا ہے، اس سلسلے میں مزید بات چیت اور مشاورت کی ضرورت ہے، ہمیں امید ہےکہ ہم جلد ہی سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے لیکن اب تک ہم اس مرحلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں 44 ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ1 لاکھ 5 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔