Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیاں، متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی گئی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیوں کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی، جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے تمام کمیٹیوں اور تقرریوں کے الگ الگ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیئے-

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ 14 فروری جمعہ کو سپریم کورٹ کے 7 نئے ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا یا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے نئے ججز سے حلف لیا تھا، سپریم کورٹ کے 6 مستقل اور ایک عارضی جج نے حلف اٹھایا تھا، جن ججز نے حلف لیا ان میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس شفیع صدیقی، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا قائم مقام جج سپریم کورٹ کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا –

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں 7 نئے ججز کی تعیناتیوں کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے متعدد انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل نو کر دی، رپورٹ کے مطابق تشکیل نو سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی جس کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی خیبر پختونخوا کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کی نگران جج مقرر کردی گئیں، جسٹس ملک شہزاد پنجاب، جسٹس ہاشم کاکڑ بلوچستان کی انسداد دہشتگردی عدالتوں کے نگران مقرر کیے گئے۔

    لنڈی کوتل: پاک افغان شاہراہ پر ٹریفک بحال، غیر قانونی لین دین ختم،پریس کانفرنس

    جبکہ جسٹس صلاح الدین پنور سندھ اور جسٹس عامر فاروق اسلام آباد کی اے ٹی سی عدالتوں کے نگران مقرر ہوئے اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ کمیٹی کی سربراہی جسٹس جمال مندوخیل کو دی گئی، جبکہ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق بلڈنگ کمیٹی کے ممبران ہوں گے، چیف جسٹس یحیحی آفریدی آئی ٹی کمیٹی کی سربراہی خود کریں گے، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس میاں گل حسن آئی ٹی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    اس طرح ریسرچ سینٹر کمیٹی کی سربراہ جسٹس شاہد بلال حسن، جبکہ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس عامر فاروق ریسرچ سینٹر کمیٹی کے ممبرا ن ہوں گے، جسٹس محمد علی مظہر لاء کلرک پروگرام کمیٹی کے سربراہ جبکہ جسٹس میاں گل حسن ممبر ہوں گے۔

    علاوہ ازیں مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سننے کیلئے پانچ ججز کو نامزد کر دیا گیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس ہاشم کاکڑ جسٹس صلاح الدین پنور اور جسٹس شکیل احمد مختلف نوعیت کی چیمبر اپیلز سنیں گے، جبکہ سپریم کورٹ آرکائیو اینڈ میوزیم کمیٹی کی سربراہی جسٹس حسن اظہر رضوی کو دی گئی، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آرکائیو کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    فوری انصاف اور ماڈل کورٹس سے متعلق کمیٹی کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد جبکہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنور، جسٹس اشتیاق ابراہیم ماڈل کورٹس کمیٹی کے رکن ہوں گے جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سکیورٹی جج تعینات کیا گیا، سکیورٹی جج سپریم کورٹ بلڈنگ، برانچ رجسٹر یا اور ججز کالونی کے سکیورٹی امور دیکھیں گے جسٹس میاں گل حسن فیملی اور بچوں کی حوالگی کیسز میں پاک برطانیہ پروٹوکول کے رابطہ کار جج تعینات کیے گئے، سپریم کورٹ عملے کے یونیافارم کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے قائم کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔

    میجر جنرل ایال ضمیر اسرائیلی فوج کانیا سربراہ مقرر

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس مینجمنٹ کمیٹی کی نئی تشکیل کردی، چیف جسٹس یحیی خان آفریدی 6 رکنی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،کمیٹی میں جسٹس نعیم افغان جسٹس شاہد بلال حسن،شفیع صدیقی شامل ہیں، کیس مینجمنٹ کمیٹی میں ایڈیشنل رجسٹرار اور ڈائریکٹر آئی ٹی شامل ہیں۔

  • سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے،شرجیل میمن

    سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے،شرجیل میمن

    کراچی: وزیر اطلاعات سندھ، شرجیل انعام میمن نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہا ہے کہ سیہون حادثے پر پنجاب حکومت نے سیاست کرنے کی کوشش کی،سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: شرجیل میمن نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں گورنر کی جانب سے اعتراضات کے باوجود جو بلز واپس کیے گئے تھے، وہ سب جلد منظور کر لیے جائیں گےکابینہ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں عمر میں 5 سال کی رعا یت دی جائے گی، جس سے سندھ بھر کے نوجوانوں میں امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔

    وزیر اطلاعات سندھ نے سیہون روڈ پر انسانی جانوں کے ضیاع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اس روڈ کے لیے 7 ارب روپے دیئے تھے لیکن اب تک اس پر کوئی کام نہیں ہوا انہوں نے الزام عائد کیا کہ ن لیگ کی نااہلی کی وجہ سے قومی شاہراہوں پر حادثات پیش آ رہے ہیں وفاق میں سب سے زیادہ حکومت مسلم لیگ ن کی رہی ہے اور اگر روڈز مکمل نہیں ہوئے تو یہ ان کی وفاقی حکومت کی نااہلی ہے،سیہون حادثے پر پنجاب حکومت نے سیاست کرنے کی کوشش کی، پنجاب کی وزیر اطلاعات جب شعلہ بیانی کرتی ہیں تو یہ سمجھ لیں کہ جواب بھی آئے گا، ہم جھوٹی باتیں نہیں کریں گے، ہم صرف آپ کو سچ بتائیں گے
    ۔

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا سندھ میں حقیقی مینڈیٹ ہے اور عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کی حکومتی کارکردگی کو سراہا ہے آج خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے بھی چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کے خلاف بیان دیا پی ٹی آئی کی سیاست میں ملک کو نقصان پہنچانے کی کوششیں شامل ہیں اور آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کی طرف سے اس کا آغاز کیا گیا تھا۔

    سندھ دریا سے نہریں نکالنا نامنظور، 23 فروری کو سندھ،پنجاب بارڈر پر دھرنے کا اعلان

    شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں فیصلے کیے ہیں اور 9 مئی کا انتشار عمران خان کی سازش تھی، انہو ں نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا والے ہم پر تنقید کرنے سے پہلے خود اپنی کارکردگی دیکھیں وہاں ڈر اور خوف کا ماحول ہے، اور 5 بجے کے بعد لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے، پی ٹی آئی کی حکومت کی 15 سالہ کارکردگی کے باوجود خیبر پختونخوا کے لوگ ملازمتوں کے لیے سندھ آتے ہیں، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں عوام کو ریلیف نہیں ملا، آپ کا وزیراعلیٰ عوام کی خدمت چھوڑ کر عمران خان کو نکالنے میں مصروف ہے۔

    رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان، چینی اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں آسمان پر، حکومتی دعوے ٹھس

    شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بلیک میلنگ کی سیاست نہیں کی اور نہ ہی ن لیگ کا ساتھ شوق میں دیا بلکہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں غیرمشروط حمایت کی پی ٹی آئی نےکسی جماعت سےبات نہ کرنےکا بیان دیا تھا سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے۔

  • ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دن رات محنت کی ہے،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں نفرت کا کلچر پروان چڑھا۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے دن رات محنت کی ہے اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے مزید محنت درکار ہے، تاہم عوام کو بہتر معیشت کے ثمرات مل رہے ہیں ہم نے سفار شی کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کی، جب ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو حالات انتہائی مشکل تھے اور سیاسی جھگڑوں سے نفرت پھیلتی ہے جو ملک کے لیے نقصان دہ ہے، پی ٹی آئی کے دور میں نفرت کا کلچر پروان چڑھا، اور اسی نفرت کے کلچر نے ملک کو نقصان پہنچایا، باہمی اتفاق و اتحاد سے ہی ملک کو ترقی دی جا سکتی ہے۔

    سندھ دریا سے نہریں نکالنا نامنظور، 23 فروری کو سندھ،پنجاب بارڈر پر دھرنے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ گئی ہے اور بینکوں کا مارک اپ ریٹ بہتر ہوا ہے، آنے والے دنوں میں مہنگائی کا گراف مزید کم ہوگا مہنگائی کو کم کرنے میں پوری ٹیم کی کوششیں شامل ہیں، سرکاری افسران کو بھی دن رات محنت کرنا ہو گی، اور ملکی ترقی کے لیے اسٹیک ہولڈر کو خلوص نیت سے کام کرنا ہو گا، فوج ملکی سلامتی کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہی ہے۔

    رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان، چینی اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں آسمان پر، حکومتی دعوے ٹھس

  • ڈمپرز روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے شہریوں کو اڑا رہے کیا وہ بھی وفاق کا مسئلہ ہے؟عظمیٰ بخاری

    ڈمپرز روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے شہریوں کو اڑا رہے کیا وہ بھی وفاق کا مسئلہ ہے؟عظمیٰ بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ واحد وزیراعلیٰ ہیں جنہیں اپنے حلقے میں کام کروانے کیلئے بھی وفاق کی ضرورت پڑتی ہے۔

    باغی ٹی وی : عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت میں ترجمانوں پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلی سندھ اپنے نئے 100 ترجمانوں کو زمینی حقائق پر بریفننگ بھی دیں ان نا تجربہ کار ترجمانوں کو جو جھوٹی سچی پرچیاں دی جاتی وہ وہی بول دیتے ہیں، جب کارکردگی اور کام بولتے ہوں تو ترجمانوں کا لاؤ لشکر رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کارکردگی اچھی ہوتو کام بولتا ہے جیسے مریم نواز کا کام بول رہا ہے۔

    وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ مراد علی شاہ واحد وزیراعلیٰ ہیں جنہیں اپنے حلقے میں کام کروانے کیلئے بھی وفاق کی ضرورت پڑتی ہے پنجاب حکومت کے 90 فیصد منصوبے اپنے فنڈ سے مکمل ہو رہے ہیں، سیہون میں وزیراعلیٰ سندھ کے علاقے میں ہونے والے حا دثے کو وفاق پر مت ڈالا جائے۔

    ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پچھلے 16 سال سے سندھ پر حکومت پیپلز پارٹی کی ہے مسلم لیگ ن کی نہیں، سندھ نے جو 956 ارب کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا تھا اللہ کرے وہ جلد از جلد لگ جائے، مالی سال ختم ہونے والا ہے ابھی تک وزیراعلیٰ سندھ اپنے علاقے کی گلیاں اور سڑکیں اور ہائی وے نہیں بنا سکے۔

    امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    انہوں نے کہا کہ ڈمپرز روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے شہریوں کو اڑا رہے کیا وہ بھی وفاق کا مسئلہ ہے؟، وفاق سے ہر سال معمول کے مطابق سندھ کو ان کے حصے کے فنڈز ملتے ہیں،وفاق اور صوبوں کےمعاملات میں چچا بھتیجی کےرشتے کا کیا تعلق اور اسکا حوالہ کیوں؟، اگر سندھ ان اربوں روپے کے فنڈز سے بھی اپنی سڑکیں نہیں بناسکتا تو پھر آپکا اللہ حافظ، مریم نواز پنجاب میں اپنے صوبے کے وسائل سے درجنوں بڑی سڑکیں مکمل کرچکی ہیں-

    یوکرین میں جنگ بندی کیلئےسعودی عرب میں جلد مذاکرات شروع ہونے کا امکان

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے  ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے دو وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق ریپبلکن رہنما اینڈریو کلائیڈ نے امریکی ضلعی جج جان جے میک کونل جونیئر کے خلاف مواخذے کی تحریک پر کام شروع کر دیا ہے میک کونل نے ٹرمپ حکومت کے وفاقی اخراجات منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، میک کونل نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حکومتی اخراجات پر عائد پابندی کو ختم کرے، جسے ریپبلکن اراکین “سیاسی انتقام” قرار دے رہے ہیں۔

    اسی طرح، ریپبلکن رکنِ کانگریس ایلی کرین نے جج پال اینگلمائر کے خلاف بھی مواخذے کی تیاری شروع کر دی ہے، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو محکمہ خزانہ کے ریکارڈ تک رسائی دینے سے روک دیا تھا جس پر ریپبلکن حلقوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ تاہم، ان فیصلوں کے حوالے سے میک کونل اور اینگل مائر نے کسی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی ججز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ شاید ان ججز کو بھی “دیکھنے کی ضرورت ہے” کیونکہ یہ ایک “سنگین خلاف ورزی” ہے،اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ ایلون مسک بھی موجود تھے، انہوں نے بھی عدلیہ کے فیصلوں پر برہمی کا اظہار کیا تھا ،سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ صرف ایک نہیں، بلکہ متعدد ججز کے خلاف فوری مواخذے کی ضرورت ہے۔

    اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ججز کے خلاف مواخذے کی تحریک کو ایوان نمائندگان میں تو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا جا سکتا ہے، لیکن سینیٹ میں اس کی منظوری کے امکانات نہایت کم ہیں موجودہ سینیٹ میں ریپبلکن اراکین کی تعداد صرف 53 ہے، جبکہ کسی بھی جج کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    مریکہ میں عدالتی مواخذے کے کیسز نایاب ہوتے ہیں اور عام طور پر انہیں بدعنوانی، جھوٹی گواہی یا سنگین ذاتی بدعملی کی بنیاد پر لایا جاتا ہے۔ آخری بار 2010 میں کسی جج کو مواخذے کے ذریعے برطرف کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ 120 سالوں میں صرف 15 وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی ہے، جن میں سے 8 کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

    اس پیشرفت نے امریکہ میں عدلیہ اور ایگزیکٹو برانچ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے مبصرین کے مطابق، یہ معاملہ ریپبلکن پارٹی اور وفاقی عدلیہ کے درمیان کھلی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

    ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ان عدالتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو انتظامیہ کے قانونی اختیارات پر کنٹرول کا حق نہیں دیا جا سکتا،” وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بھی ان ججز کو “سیاسی سرگرم کارکن” قرار دیاد جبکہ اٹارنی جنرل پم بونڈی نے عندیہ دیا کہ محکمہ انصاف ایلون مسک اور ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل حمایت کرے گا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ فوری طور پر ججز کے خلاف مواخذے کا امکان نہیں ہے۔

    دوسری جانب،ریپبلکن سینیٹرز کا اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، سینیٹر چک گراسلی نے کہا کہ “ہمارا آئینی نظام چیکس اینڈ بیلنس پر مبنی ہے، اور ہمیں اسی اصول پر چلنے دینا چاہیے ،جبکہ سینیٹر جان کینیڈی نے کہا کہ “میں عدالتوں کے ہر فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن میں عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔”

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    برینن سینٹر فار جسٹس کے سینئر وکیل ڈگلس کیتھ کے مطابق اگر کانگریس ججز کو ہٹانے کے عمل کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے، تو ججز حکومتی فیصلوں کے خلاف فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہوگا۔

  • یوٹیلیٹی اسٹورز یونین  کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    اسلام آباد: ملازمین کی برطرفی کے خلاف یوٹیلیٹی اسٹورز یونین نے 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی :رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہیڈ آفس بلو ایریا کے سامنے دن 2 بجے احتجاج ہوگا جبکہ ملک بھر کے پریس کلبز کے سامنے بھی مظاہرے کیے جائیں گےوفاقی دارالحکومت میں دھرنے کا امکان ہے، مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، یونین عہدیداران کا کہنا ہے کہ برطرفی کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا احتجاج شدت اختیار کر سکتا ہے اور ملک بھر میں اسٹورز بند کرنے کی وارننگ بھی دے دی گئی۔

    مالی میں سونے کی کان بیٹھ جانے سے 48 کان کن ہلاک

    واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے 2500 سے 2600 ڈیلی ویجز ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا یو ایس سی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پہلے ہی ان ملازمین کو نکالنے کی منظوری دے دی تھی اور اب متعلقہ زونز کو اس پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں یہ اقدام حکومتی "رائٹ سائزنگ پالیسی” کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اداروں میں غیر مستقل ملازمین کی تعداد کم کرنا ہے اس پالیسی کے تحت ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر کام کرنے والے 2600ڈیلی ویجز ملازمین کو برطرف کیا جائے گا۔

    آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، آرمی چیف

  • مالی میں سونے کی کان بیٹھ جانے سے 48 کان کن ہلاک

    مالی میں سونے کی کان بیٹھ جانے سے 48 کان کن ہلاک

    باماکو: افریقی ملک مالی میں سونے کی کان بیٹھ جانے سے درجنوں کان کن ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ” اے ایف پی” کے مطابق مغربی مالی میں غیر قانونی طریقے سے ایک کان سے سونا نکالا جا رہا تھا جس دوران وہ بیٹھ گئی کان بیٹھ جانے سے اس کے اندر کام کرنے والے کم از کم 48 کان کن ہلاک ہوگئے۔

    مالی افریقا میں سونا برآمد کرنے والے چند بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور وہاں کانوں میں اکثر جان لیوا حادثات ہوتے رہتے ہیں حکام کو غیر قانونی کان کنی کو روکنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہےاور اسی وجہ سے مالی دنیا کےچند غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے۔

    رہائی پانیوالے فلسطینیوں نےزبردستی پہنائی گئی اسرائیلی نشانات اور نعروں والی شرٹس جلا دیں

    مقامی پولیس کے ذرائع کے مطابق مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 48 ہے،کچھ افراد پانی میں ڈوب گئے تھے متاثرین میں بنیادی طور پر نوجوان خواتین ہیں، جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی جس کی کمر پر ایک بچہ بندھا ہوا تھا۔

    ایک عہدیدار نے حادثے کی تصدیق کی جبکہ Kenieba gold miners ایسوسی ایشن نے بھی بتایا کہ حادثے میں 48 افراد ہلاک ہوئے یہ حادثہ 15 فروری کو ایک ایسے مقام پر پیش آیا جو ماضی میں ایک چینی کمپنی کی ملکیت تھا مگر اب اسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔

    آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، آرمی چیف

    وائس آف امریکا کے مطابق ایک مقامی ماحولیاتی تنظیم کے سربراہ نے اے ایف پی کو بتایا، "یہ ایک غیر قانونی سائٹ ہے خطے میں اس قسم کی سائٹ کے استحصال میں بہت سی پیچیدگیاں ہیں متاثرین کی تلاش جاری ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری میں بھی جنوبی مالی میں سونے کی ایک کان میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اور متعدد لاپتہ ہو گئے، جن میں زیادہ تر خواتین تھیں،جبکہ ٹھیک ایک سال پہلے، اسی علاقے میں سونے کی کان کنی کے مقام پر ایک سرنگ ہفتے کے دن لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں گر گئی تھی، جس میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    4 خواتین کو سعودیہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، پنجاب پولیس کی سابق ملازم ملوث نکلی

  • رہائی پانیوالے فلسطینیوں نےزبردستی پہنائی گئی اسرائیلی نشانات اور نعروں والی شرٹس جلا دیں

    رہائی پانیوالے فلسطینیوں نےزبردستی پہنائی گئی اسرائیلی نشانات اور نعروں والی شرٹس جلا دیں

    ہفتے کے روز،تین اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 369 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا،اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینیوں نے زبردستی پہنائی گئی اسرائیلی نشانات اور نعروں والی ٹی شرٹس جلا دیں۔

    باغی ٹی وی: رہائی پر فلسطینیوں کا شاندار استقبال کیا گیا اسرائیل کی جانب سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کو ایسے شرٹس پہننے پر مجبور کیا گیا، جن پر اسٹار آف ڈیوڈ کا نشان اور عربی میں ”ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے“ لکھا تھااس اقدام کو ایک ”نسلی جرم“ قرار دے کر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

    ہفتے کے روز، تین اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 369 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا رہائی سے قبل اسرائیلی جیل سروس نے کچھ فلسطینی قیدیوں کی تصاویر جاری کیں، جن میں انہیں ان متنازعہ شرٹس میں ملبوس دکھایا گیارہائی کے دوران متعدد فلسطینیوں نے ان پیغامات کو چھپا نے کے لیے اپنی شرٹس الٹی پہن لی تھیں۔

    israel

    آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، آرمی چیف

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی جانب سے غزہ میں بنائی گئی فوٹیج میں کچھ فلسطینیوں کو خان یونس کے یورپی غزہ اسپتال پہنچنے کے بعد ان شرٹس کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا،حماس نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بہادر قیدیوں کے لباس پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کرنے اور ان کے ساتھ ظالمانہ اور پرتشدد سلوک کی سخت مذمت کرتے ہیں، جو انسانی قوانین اور اصولو ں کی کھلی خلاف ورزی ہے، یہ عمل قابض افواج کی پستی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ فلسطینی مزاحمت قیدیوں کے ساتھ اخلاقی اقدار کی پاسدار ی کرتی ہے۔

    لبنان میں اقوام متحدہ کے قافلے پر حملہ، 25 سے زائد افراد گرفتار

    جبکہ فلسطینی اسلامی جہاد نے بھی اس اقدام کو ایک ”نسلی جرم“ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ،اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، اسرائیل میں بھی اس متنازعہ لباس پر تنقید کی گئی ہے،ایک اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ فیصلہ سیاسی قیادت کو اطلاع دیئے بغیر اسرائیلی جیل کمشنر کوبی یعقوبی نے خود کیا تھا۔

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    قیدیوں کےتبادلے میں سہولت فراہم کرنیوالی بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) نے تمام فریقین سے زیادہ ”باعزت“ طریقے سے رہائی کا مطالبہ کیاان کے بیان میں کہا گیا کہ ہم بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ تمام منتقلیاں وقار اور رازداری کے ساتھ انجام دی جائیں، لیکن اس عمل کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقین، بشمول ثالثوں، کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔‘

  • آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، آرمی چیف

    آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے پاکستان بھر کی مختلف جامعات سے آئے طلبا نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: اس موقع پر خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی عوام بالخصوص نوجوانوں کا پاک فوج سے ایک انتہائی مضبوط رشتہ ہے، ملک دشمن عناصر کی فوج اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنے کی کوشش ہمیشہ ناکام رہی ہے اور رہے گی، جب تک قوم خصوصاً نوجوان ساتھ کھڑے ہیں پاک فوج کبھی نہیں ہارے گی، ہم کامریڈز کی طرح لڑتے ہیں، ہمارے لیے پاکستانیت سب سے اہم ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہب، تہذیب اور روایات پر فخر ہے، پاکستان کے آئین کا آغاز بھی ”اِنَّ الحکم اِلَّاللّٰہ“ (حاکمیت صرف اللّٰہ کی ہے) سے ہوتا ہے یہ فتنہ الخوارج کس شریعت اور دین کی بات کرتے ہیں؟ ہم کبھی بھی فتنہ الخوارج کو اپنی فرسودہ سوچ ملک پر مسلط نہیں کرنے دیں گے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے غیور لوگ دہشتگردوں کے خلاف آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

    ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    انہوں نے کہا کہ آرمی آج بھی فتنہ الخوارج سے روزانہ کی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، ہم مذہب کی ان کی تشریح سے متفق نہیں ہیں، اسلام دنیا میں سب سے پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو عزت دے کر آسمان تک پہنچایا، چاہے ایک عورت ماں ہو، بیوی یا بہن کسی بھی کردار میں اسلام نے عورت کو عزت دی ہے فتنہ الخوارج کون ہوتے ہیں اس مقام کو چھیننے والے؟ تمہیں یہ اختیار کس نے دیا؟ اسے کوئی نہیں چھین سکتا، ہم اس قسم کے گمراہ گروہ کو کبھی بھی اپنے ملک پر اپنی اقدارمسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    4 خواتین کو سعودیہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، پنجاب پولیس کی سابق ملازم ملوث نکلی

    آرمی چیف نے کہا کہ ہم فتنہ الخوارج کے فسادیوں سے لڑ رہے ہیں، یہ عناصر اسلام کی غلط تشریح کررہے ہیں، خارجی عناصر اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کررہے ہیں، فسادیوں کے بارے میں اسلام کے احکامات بہت واضح ہیں، ریاست کے سامنے سرینڈر کرنے والے رحم کی توقع کرسکتے ہیں،جنرل عاصم منیر نے طلباء پر ’پاکستانیت‘ کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کی فکری نشوونما میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت اور اقدار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

  • ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایلون مسک کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں کٹوتی کی مہم کے تحت 9500 سے زائد وفاقی ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایلون مسک کی جانب سے امریکی بیوروکریسی کو یکسر کم کرنے کی مہم جمعہ کو پھیل گئی، جس میں 9,500 سے زائد کارکنوں کو برطرف کر دیا گیا جنہوں نے وفاقی زمینوں کے انتظام سے لے کر فوجی سابق فوجیوں کی دیکھ بھال تک سب کچھ سنبھالا۔

    اس برطرفی مہم میں وزارت داخلہ، توانائی، ویٹرنز افیئرز، زراعت اور صحت کے محکمے متاثر ہوئے، جبکہ امریکی فاریسٹ سروس، نیشنل پارک سروس، اور انٹرنل ریونیو سروس میں بھی ہزاروں نوکریاں ختم ہونے کا امکان ہے،اپنے پہلے سال میں پروبیشنری ملازمین کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے پاس ملازمت کے تحفظات کم ہیں۔

    امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    روئٹرز اور دیگر بڑے امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس کی طرف سے اطلاع دی گئی فارغ کئے گئے تقریباً 75,000 کارکنوں کے علاوہ ہیں جنہوں نے بتایا ہے کہ ٹرمپ اور مسک نے انہیں رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کی پیشکش کی ہے، وائٹ ہاؤس کے مطابق۔ یہ 2.3 ملین افراد شہری افرادی قوت کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی حکومت غیر ضروری اخراجات میں جکڑی ہوئی ہے اور اور بہت زیادہ رقم ضائع اور دھوکہ دہی میں ضائع ہو گئی ہے حکومت 36 ہزار ارب ڈالر کے قرضے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال 1800 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا، جسے کم کرنے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔

    امریکا سے 2 ہزار ٹن وزنی بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی

    ایلون مسک کی پالیسیوں اور اثر و رسوخ پر کئی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں، کیونکہ ان کے فیصلوں سے سرکاری محکمے اور عوامی خدمات متاثر ہو رہی ہیں بعض رپورٹس کے مطابق، یو ایس ایڈ اور کنزیومر فنانشل پروٹیکشن بیورو جیسے اداروں کو تقریباً مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ وفاقی اخراجات پر کانگریس کے اختیار میں مداخلت کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کی اکثریت نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ ملازمتوں میں کمی سے اہم سرکاری خدمات متاثر ہوں گی، خاص طور پر ٹیکس جمع کرنے، جنگلاتی آگ پر قابو پانے اور صحت عامہ سے متعلق پروگراموں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

    ٹرمپ کا غزہ پر حملےکامنصوبہ: 390 یہودی ربیوں نے اسرائیل کیخلاف مذمتی اشتہار دے دیا

    یہ معاشی اصلاحات امریکہ کی وفاقی بیوروکریسی میں ہلچل مچا چکی ہیں، اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔