Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • فائنل کال احتجاج :لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی،شوکت یوسفزئی

    فائنل کال احتجاج :لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی،شوکت یوسفزئی

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے فائنل کال احتجاج کو لے کر پارٹی قیادت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پھٹ پڑے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے تصدیق کی کہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور مانسہرہ میں ہیں اور محفوظ ہیں،پی ٹی آئی لیڈرشپ نے مایوس کیا، علی امین کے علاوہ کوئی لیڈر سامنے نہیں آیا، لیڈر شپ میں مشاورت اور رابطہ کاری نظر نہیں آئی، پلاننگ کا بھی فقدان تھا،بیرسٹرگوہر اور سلمان اکرم راجہ کہاں تھے؟ شیر افضل مروت بھی غائب تھے، جب لیڈر شپ کے پاس فیصلےکا اختیار نہیں تھا تو اتنے زیادہ کارکنوں کو کیوں لےکرگئی؟

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کے اندر تحقیقات ہونی چاہیے کہ ڈی چوک کو ہی جانے کیلئے کیوں چناگیا،انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کا کہا تو کیوں نہیں کیے گئے؟ حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟-

    ایک اور بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ معاملات تو مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں،سنگجانی میں احتجاج سے متعلق غلط فہمی پیدا ہوئی البتہ ڈی چوک احتجاج کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا نہیں تھا، حکومت اور پی ٹی آئی دونوں سے غلطیاں ہوئیں، احتجاج میں صرف علی امین گنڈاپور نظر آئے۔ جبکہ پی ٹی آئی لیڈر شپ احتجاج میں نظر نہیں آئی جس پر افسوس ہے۔

  • آئینی بینچ کا پی ٹی آئی احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے سے انکار

    آئینی بینچ کا پی ٹی آئی احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے سے انکار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پُرتشدد احتجاج کے دوران ہلاکتوں کے معاملے پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا مسترد کردی-

    باغی ٹی وی : جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختوا ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختوا نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے بلیو ایریا میں احتجاج اور انتظامیہ کے گرینڈ آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز دونوں اطراف سے ہلاکتیں ہوئیں، آئینی بینچ ازخود نوٹس لے سکتا ہے لہٰذا آئینی بینچ ان واقعات پر ازخود نوٹس لے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش ہوکر سیاسی باتیں نہ کریں۔

    آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جو معاملہ ہمارے سامنے سرے سے ہے ہی نہیں اسے ہم نہیں دیکھ سکتے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے، اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

    بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں پر ازخود نوٹس لینے کی زبانی استدعا مسترد کر دی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے 24 نومبر سے شروع ہونے والے احتجاج میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکاروں کی شہادتیں ہوچکی ہیں،دوسری جانب سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شیلنگ سے کئی مظاہرین کی اموات ہوئی ہیں مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔ اپنی ناکامیوں اور کو تاہیوں کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کی اموات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ کل رات کے پولیس اور رینجرز آپریشن میں کسی قسم کے آتشی اسلحے کا استعمال نہیں کیا گیا۔

  • شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت میں پولیس نے شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا ریکارڈ پیش کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:مغل پورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے 5 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں ہوئی، انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی ،جس میں پولیس نے تمام مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر عمر دلائل کے لیے پیش نہیں ہوئے اس موقع پر معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ راستے بند ہیں ، سینئر وکیل آج دلائل کے لیے پیش نہیں ہو سکتے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ راستے تو کھل گئے ہیں، آپ تاریخ لینا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔

    بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے شاہ محمود قریشی کی 5 مقدمات میں ضمانتوں پر سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی۔

  • ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی تقرری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکی تقرری کے خلاف درخواست شہری ندیم سرور نے لاہورہائیکورٹ دائر کی، درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں ڈپٹی وزیراعظم کا کوئی عہدہ نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم مقرر کیا، وزیراعظم نے آئین کے برعکس اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیرا عظم مقرر کیا ہے ۔

    درخواست میں کہا گیا کہ ڈپٹی وزیراعظم پاکستان کے وزیراعظم کا نائب تصور کیا جاتا ہے، وزیراعظم کو اراکین قومی اسمبلی ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں، اسحاق ڈار سینیٹر ہونے کی بنا پر ڈپٹی وزیراعظم نہیں بن سکتے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو غیر آئینی طور پر ڈپٹی وزیراعظم کی مراعات دی گئیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سینیٹر اسحاق ڈار کی ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر تقرری کالعدم قرار دے اور فیصلے تک اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر کام سے روکنے کا حکم دے۔

    واضح رہے کہ اپریل 2024 میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو نائب وزیرِ اعظم مقرر کیا تھا۔

  • بشریٰ بی بی کو خود ڈی چوک نہیں آنا تھا ، صرف اُکسانا تھا،فیصل واوڈا

    بشریٰ بی بی کو خود ڈی چوک نہیں آنا تھا ، صرف اُکسانا تھا،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کی سیاست نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم کردی-

    باغی ٹی وی : فیصل واوڈا نے کہا کہ تمام صورتحال کے بعد بانی پی ٹی آئی کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی، علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی گرفتار ہوسکتے ہیں، پولیس بشریٰ بی بی کا تعاقب کررہی ہے، بشریٰ بی بی کو خود ڈی چوک نہیں آنا تھا ، صرف اُکسانا تھا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں پرپٹی بندھ گئی ، وہ بیگم سے آگے کچھ نہیں دیکھ رہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ کارکنان کو ہمیشہ کی طرح بے یارو مددگار چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئے، بشریٰ بی بی نے تباہی مچانی تھی ، تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، بشریٰ بی بی کی سیاست نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست ختم کردی،2، 3 دن پہلے بتا دیا تھا کوئی ڈی چوک آئے گا تو حکومت دھوئے گی۔

  • وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی،شرجیل میمن

    وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی،شرجیل میمن

    کراچی: وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کاکہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج 9مئی سے کم نہیں تھا، وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی-

    باغی ٹی وی : کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ پچھلے دوتین دن سے جو ہورہا ہے وہ نہایت افسوسناک عمل ہےبیلاروس کے صدر وفد سمیت پاکستان آئے، چین کا وفد بھی آیااہم موقعوں پر پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے پی ٹی آئی کے اس افسوسناک اقدام نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، اہم وقت میں اس قسم کی کالز دینا اچھی روایت نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے احتجاج کو لیڈ کیا، خیبرپختونخوا صوبے کی پوری مشینری استعمال کی گئی، پنجاب پولیس کو یرغمال بنایا گیا،تشدد کیا گیا، رینجرز اور ایف سی کے جوانوں کو شہید کیا گیا-

    شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، وزیر داخلہ کہتے آرہے ہیں کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے ان کو لاشیں ملیں، وفاقی حکومت،وزیر داخلہ صاحب بہت متحرک نظر آئے، وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی،بانی پی ٹی آئی کہتے تھے میری بیگم صاحبہ غیر سیاسی ہیں، پی ٹی آئی کی بیگم صاحبہ بہت ہی سیاسی نکلیں،وہ بانی پی ٹی آئی سے دو ہاتھ آگے نکلیں، بشریٰ بی بی ورکرز کے جذبات کو اُبھارتی رہیں۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ جب پولیس نے ایکشن شروع کیا تو سب سے پہلے علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی بھاگیں، ان کی اپنی اولادیں ملک سے باہر سکون والی زندگی گزار رہی ہیں، ان کی یہ کال 9مئی سے کسی صورت کم نہیں تھیں، سب کیلئے یہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے، بشریٰ بی بی کا کردار بہت منفی رہا، احتجاج سب کا حق ہے ،کوئی منع نہیں کرتا، لوگ منہ پر ماسک پہن کر آرہے ہوتے، ان کے مظاہرین کے ہاتھ میں آنسو گیس کے شیل ہوتے ہیں، کون سے ملک میں پولیس ،فورسز اور رینجرز پر حملہ کیا جاتا ہے؟ سرکاری املاک کو آگ لگانا کون سا احتجاج ہوتا ہے احتجاج کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسٹیٹ کو یرغمال بنالیں، ہم بھی عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں، آپ بھی عدالتوں کا سامنا کریں اور ریلیف لیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ہتھیار اٹھائیں اور ریاست کو چیلنج کریں، اب بھاگ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کہاں چلے گئے؟۔

    صوبائی وزیر نےکہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی سربراہی میں لانگ مارچ ہم نے بھی کیے، پورے پاکستان میں کہیں ایک جگہ بھی گملہ ٹوٹا ہوتو بتائیں؟ پنجاب میں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی، ہم نے کسی پولیس والے کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی، خیبرپختونخوا کے ایم این اے نے کہا ہمیں وزیراعلیٰ نے پیسے دیئے ہیں، یہ سرکار ی پیسہ تھا، ان کا یہ کردار تاریخ میں کالے حروف میں لکھا جائے گا،کسی کو گورنر راج کا مشورہ نہیں دوں گا، جو پچھلےدو تین روز میں خیبرپختونخوا حکومت کا کردار رہا ہے،سب نے دیکھا، پی ٹی آئی اس قا بل نہیں کہ ان کو حکومت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی اپنا یہ اختیار کھوچکی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا میں حکومت جاری رکھے۔

    دوسری جانب احتساب عدالت میں شرجیل انعام میمن کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی 4 دسمبر تک ملتوی کردی ،آئندہ سماعت پر ریفرنس کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ۔

  • ڈی جی خان:لاکھانی چیک پوسٹ پر رات گئے خوارجی دہشتگردوں کا حملہ

    ڈی جی خان:لاکھانی چیک پوسٹ پر رات گئے خوارجی دہشتگردوں کا حملہ

    ڈی جی خان میں پنجاب کے پی سرحد کی لاکھانی چیک پوسٹ پر رات گئے دہشتگردوں نے حملہ کیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کاکہنا ہے کہ 25سے زائد دہشتگردوں نے چیک پوسٹ پر راکٹ اور دستی بموں سے حملہ کیا،حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جوابی کارروائی پر دہشتگردفرارہوگئے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ وہوا کی سرحدی چوکی لکھانی پر خوارجی دہشت گردوں نے رات دیر گئے حملہ کردیا، خوارجی دہشت گردوں نے راکٹ، دستی بموں سمیت بھاری اسلحے کا استعمال کیا 25 سے 30 خوارجی دہشت گرد لکھانی چیک پوسٹ پر چاروں طرف سے حملہ آور ہوئے تاہم پنجاب پولیس نے خوارجی دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیے اور حملہ آور پسپا ہو کر فرار ہوگئے۔

    ترجمان نے کہا کہ تھرمل امیج کیمروں کی مدد سے خوارجی دہشت گردوں کی نشاندہی کی گئی، پولیس، ایلیٹ فورس، رینجرز اور سی ٹی ڈی نے مل کر خوارجی دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، پولیس کی جوابی کاروائی نے دہشت گردوں کو فرار پر مجبور کر دیا، موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گرد بھاری جانی نقصان اٹھا کر فرار ہو گئے، خیبرپختونخوا بارڈر پر تمام چیک پوسٹس پہلے سے ہائی الرٹ تھیں۔

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کرنے پر ڈیرہ غازی خان پولیس کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس قبل ازیں بھی خوارجی دہشت گردوں کے کئی حملے ناکام بنا چکی ہے، دہشت گردوں کو کسی بھی صورت پنجاب میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کینٹ پر نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کردیاسیکیورٹی فورسز اور شرپسندوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم فائرنگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، حملہ آوروں نے دریا کرم کی طرف سے فائرنگ کی جبکہ سیکیور ٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہوگئے۔

  • سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ

    سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ

    کراچی: سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستان سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 98 ہزار 160 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی آغاز ہوا، سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 541 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے انڈیکس 97 ہزار 538 کی سطح پر آ گیا،بعدازاں ایک بار پھر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے کو ملی اور پھر 100 انڈ یکس 99 ہزار کی حد عبور کر گیا، ایک موقع پر کاروبار کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1642 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 99 ہزار 820 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے کو ملی اور 100 انڈیکس میں 3506 پوائنٹس کی کمی ہو گئی جس کے بعد سٹاک مارکیٹ منفی زون میں 94 ہزار 181 پوائنٹس پر بند ہوئی۔

  • ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی چوک سے فرار علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے

    مانسہرہ: ڈی چوک میں احتجاج سے فرار ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈا پور اور بشریٰ بی بی نے مانسہرہ پہنچ کر پناہ لے لی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ عمر ایوب خان بھی موجود ہیں، علی امین خان گنڈا پور ،بشریٰ بی بی اور عمر ایوب خان مانسہرہ میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے،پریس کانفرنس سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی رہائش گاہ پر انصاف سکرٹریٹ میں 11 بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث مظاہرین کے خلاف اسلام آباد کے بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن کیا گیا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی موقع سے فرار ہوگئے، اطلاعات کے مطابق دونوں ڈی چوک ایریا سے اکھٹے فرار ہُوئے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اورعلی امین گنڈا پور کیسے اور کدھر فرار ہُوئے، حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا،بلیو ایریا میں گرینڈ آپریشن میں رینجرز، اے ٹی ایس کمانڈوز اور پنجاب پولیس شامل تھی، گرینڈ آپریشن میں ڈیڑھ ہزار کے قریب پنجاب اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا، خیبر چوک اور کلثوم پلازہ کے درمیان آپریشن کے دوران پولیس نے تمام ہٹائے گئے کنٹینرز کو واپس نصب کر دیا، تحریک انصاف کے مرکزی کنٹینر کو آگ لگ گئی، تحریک انصاف کے 450 سے زائد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

  • پی ٹی آئی احتجاج:اسلام آباد میں گرینڈ آپریشن مکمل ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگی

    پی ٹی آئی احتجاج:اسلام آباد میں گرینڈ آپریشن مکمل ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کے اعلان کے بعد موٹر وے کھول دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق موٹروے ایم 2 کو لاہور اسلام آباد ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،موٹروے ایم 11 کو لاہور سیالکوٹ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، موٹروے ایم 4 کو پنڈی بھٹیاں تا عبدالحکیم، موٹروے ایم 14 ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان، موٹروے ایم3 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد اور لاہور کے روڈ بھی ٹریفک کے لئے بحال کر دیئے گئے ہیں، اسلام آباد میں گرینڈ آپریشن مکمل ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگی جہاں کنٹینرز موجود ہیں انہیں ہٹانے کا عمل جاری ہے، اسلام آباد میں جہاں جہاں کنٹینرز لگا کر راستے بند کئے گئے تھے، ان رکاوٹوں کو ہٹا کر تمام سڑکیں ٹریفک کے لئے بحال کی جا رہی ہیں،جبکہ ڈی سی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں شاہر ا ہوں کی صفائی کا کام بھی جاری ہے، احتجاج کے باعث گزشتہ 3 روز سے معطل ہونے والی انٹر نیٹ سروس بھی بحال ہوگئی۔

    ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو علاقے میں موجود کنٹینرز ہٹانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے راستے فی الفورکھولے جا رہے ہیں، کوشش ہے کہ صبح ہونے سے قبل شہریوں کے لیے راستے کھول دیے جائیں گے-

    ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن نے تمام اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شہر کی تمام شاہراہوں پر صفائی ستھرائی کے انتظامات بھی صبح تک مکمل ہونے کو یقینی بنائے جائیں۔

    ادھر پی ٹی آئی احتجاج کے باعث 3 دن سے بند مری روڈ سے کینٹینرز ہٹائے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کے احتجاج پر 23 نومبر کی شب مری روڈ کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا مری روڈ فیض آباد، شمس آباد اور اسٹیڈیم روڈ کے کاروبار 3 دن سے بند ہیں، مری روڈ سے کینٹینرز ہٹانے کا عمل جاری ہے، گزشتہ 3 روز سے معطل ہونے والی انٹر نیٹ سروس بھی بحال کردی-

    دوسری جانب ترجمان لاہور ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستے کھلے ہیں، لاہور اسلام آباد، لاہور سیالکوٹ موٹروے، ایسٹرن بائی پاس بھی کھول دیا گیا ہے لاہور رنگ روڈ ٹریفک کیلئے کھلی ہے اور شہرکے اندر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے، دوسری جانب اسلام آباد میں ٹریفک بحال ہو گئی ہے۔