بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہراورنگ آباد میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے ۔ یہاں ایک بیٹے نے اپنی 90 سال کی بوڑھی ماں کو جنگل میں پھینک دیا اور وہاں سے فرار ہوگیا ۔ خبر ہے کہ عمر رسیدہ خاتون کورونا پازیٹیو تھی ، جس کی وجہ سے گھر کے اراکین ان کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ بعد میں اہل خانہ نے رات کے اندھیرے میں بوڑھی خاتون کو اورنگ آباد کے کچی گھاٹی علاقہ کے جنگل میں پھینک دیا اور گھر آگئے ۔ پولیس نے معاملہ درج کرکے اہل خانہ کی تلاش شروع کردی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اورنگ آباد کے کچی گھاٹی علاقہ کے جنگل میں لوگوں کو ایک بوڑھی خاتون پڑی ملی ۔ 90 سال کی بوڑھی خاتون کو ایک چادر میں جنگل کے درمیان چھوڑ دیا گیا تھا ۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پرپولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اس عمر رسیدہ خاتون کو اسپتال میں داخل کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کورونا پازیٹیو ہے ۔ بوڑھی خاتون سے پوچھ گچھ میں پتہ چلا کہ کورونا کی خبر اہل خانہ کو ہوگئی تھی اور اس کے بعد اہل خانہ نے اس معمر خاتون کو جنگل میں پھینک دیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق معمر خاتون ایک گھنٹے تک جنگل میں تڑپتی رہی ۔ خاتون کو ضلع اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔ سن رسیدہ خاتون کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے ۔ پولیس نے اس پورے واقعہ کے سلسلہ میں معاملہ درج کرلیا ہے اور اہل خانہ کی تلاش تیز کردی ہے ۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

اورنگ آباد میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات.. اہم فیصلے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورت حال اورجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد اختر ملک،چیف وہیپ قومی اسمبلی ایم این اے عامر ڈوگر،ایم این اے زین قریشی،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مکمل فعال کرنے کے لئے فوری طورپر انتظامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلی نے وزیرخارجہ کو یقین دلایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز کو جلد تعینات کر دیا جائے گا جب کہ محکموں کے سیکرٹریز مکمل با اختیار ہوں گے۔ عثمان بزدار نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو انتظامی و مالیاتی لحاظ سے خود مختاری دی جائے گی جب کہ ملتان ڈویژن، بہاولپورڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے متعلقہ امور مقامی طورپر نمٹائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملتان میں 100بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔ یہ ہسپتال غلہ منڈی کی پرانی عمارت کی جگہ پر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملتان میں واسا اور سیوریج سے متعلقہ مسائل فوری حل کئے جائیں گے۔ عثمان بزدارنے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام تحریک انصاف کی حکومت کا بڑا اقدام ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے لوگوں کو کام کے سلسلے میں لاہور نہیں آنا پڑے گاجب کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو کھوکھلے نعروں سے بہلایا گیا۔عثمان بزدارنے کہا کہ سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کی ترقی کے نام پر لئے گئے فنڈ اپنے حلقوں پر لگائے۔جنوبی پنجاب کے عوام نے ترقی کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عام انتخابات میں بری طرح مسترد کیااور تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب میں شاندار مینڈیٹ ملا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے دئیے گئے مینڈیٹ کی لاج رکھیں گے۔ اس موقعہ پر وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام سے کئے گئے وعدے نبھا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے مقامی لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہوں گے اورگورننس بہتر ہوگی۔
عثمان بزدار اور شاہ محمود قریشی نے بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی سرکار کے بد ترین لاک ڈاؤن اور ظلم وستم کی شدید مذمت کیاور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستانی قوم نے یوم استحصال کشمیر پر ہر سطح پر بھارتی مظالم کو اجاگر کیا-عثمان بزدارنے کہا کہ پوری قوم نے یوم استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منایا۔
لاہورسمیت پنجاب کے ہر ڈویژن میں ایک سڑک کو سرینگرکے نام سے منسوب کریں گے-عثمان بزدار نئ کہا کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی لازوال جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،کشمیر کاز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ مودی نے 5اگست2019ء کو اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑا دیں۔عثمان بزدار نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اورغیر قانونی اقدام کو ہر سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بغیرادھورا ہے۔مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کرکے سفاکیت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ22کروڑپاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
واہگہ بارڈر کوایک بارپھرخصوصی طورپرکھولاجائےگا
کورونالاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان میں رکے ہوئے 118 بھارتی شہریوں کو 10 اگست کو واہگہ سرحد کے راستے بھارت واپس بھیجا
جائے گا جبکہ نوری ویزا پربھارت سے واپس پاکستان آئے ہوئے 350 شہریوں کی فہرست بھی دفترخارجہ کوبھیج دی گئی ہیں جن کی واپسی کا شیڈول آئندہ چندروز میں فائنل کردیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس اورلاک ڈاؤن کیوجہ سے پاکستان میں مقیم 118 بھارتی شہریوں کا آخری گروپ10 اگست کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس انڈیا بھیجا جائیگا۔ سفارتی ذراٰئع کے مطابق پاکستان میں موجود بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستانی وزارت خارجہ سے بھارتی شہریوں کی واپسی کی درخواست کی گئی ہے۔ بھارتی شہریوں کی واپسی10 اگست کو واہگہ کے راستے ہوگی اس حوالے سے واہگہ بارڈر پربھی حکام کوآگاہ کردیا گیا ہے، بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے واہگہ بارڈر کوایک بارپھر خصوصی طورپرکھولاجائے گا، کسٹم اور امیگریشن حکام کوبھی ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ 10اگست کو واہگہ بارڈرپرپہنچیں۔ دوسری طرف پاکستان میں مقیم ایسے افراد جو پاکستانی شہری ہیں لیکن بھارت میں شادی ہونے یاپھر دیگر وجوہات کی بناپر پاکستان چھوڑ چکے ہیں اوراب دوبارہ اپنے خاندانوں سے ملنے واپس پاکستان آئے تھے۔ ایسے 350 افراد کی فہرست بھی بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستان کی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی ہے تاکہ ان کی واپسی کا شیڈول بھی طے کیا جاسکے۔ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان چھوڑ کربھارت گئے لیکن انہیں ابھی تک بھارتی شہریت نہیں مل سکی ہے۔ان افرادکو بھارت سے واپس پاکستان آنے کے لئے بھارتی حکومت کی طرف سے نوری ویزا (نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا) دیاجاتا ہے، جس کی مدت سے چالیس سے ستردن تک ہوتی ہے۔ نوری ویزاپرپاکستا ن آنے والوں کی بڑی تعداد سندھ کے مختلف شہروں میں مقیم ہے۔ان میں زیادہ ترہندوبرادری کے لوگ ہیں جبکہ کچھ تعداد مسلمان خواتین کی بھی ہیں جن کی شادیاں بھارت میں مقیم اپنے رشتہ داروں میں ہوئی ہیں اوراب وہ اپنے بھارتی سسرالی ممبران اوربھارتی شہریت کے حامل بچوں کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں۔
کورونا کے ساتھ ساتھ لیپٹو اسپائروسس کا خطرہ
بھارتی شہر ممبئی میں طوفانی بارش رکنے کے بعد شہر میں کورونا وبائی مرض کے ساتھ ساتھ موسمی بیماریوں کے پھیلنے کاخطرہ بھی بڑھ گیا ہے جس میں لیپٹو اسپائروسس کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ یہ بیماری بارش کے جمع شدہ پانی یا پانی میں زخمی شخص کے گزرنے سے پھیلتی ہے۔ موسلادھاربارش کے بعد اب وبائی مرض کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرہ کے بعد لیپئو اسپائروسس کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے اس لئے بی ایم سی نے شہریوں کو گمبوٹ پہن کر پانی میں گزرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ پانی میں زخمی شخص کے گزرنے سے لیپٹو اسپائروسس ہونے کا خطرہ لاحق ہے اس لئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ لیپٹو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے احتیاط ضروری ہے۔ اگر کوئی زخمی شخص بارش کے پانی میں گزرتاہے تو اس سے بھی لیپٹو اسپائروسس کا پھیلاؤ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں زخمی شخص کو 24 یا 72 گھنٹے میں طبی احتیاط کے تحت طبی امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ زیادہ وقت تک بارش کےجمع پانی میں رہتے ہیں ایسے افراد اور بی ایم سی عملہ کے لئے ڈاکٹر کے مشورہ کے بعد وہ ادویات کا استعمال کرسکتےہیں جن کاچھ ہفتہ استعمال کیاجاسکتا ہے۔کیونکہ زیادہ دیرتک پانی میں رہنا بھی خطرناک ہے اسلئے احتیاط ضروری ہے۔ ممبئی عظمیٰ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، موسم باراں میں بخار، ڈینگو اور ملیریا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے چھوٹی یا معمولی بیماری کو بھی نظر انداز نہ کریں بلکہ فورا ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر آپ پانی سے گز ررہے ہیں تو پیر کو صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔ اگر بخار ہے تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ گھروں اور آس پڑوس میں کچرا جمع نہ کریں اور چوہوں سے حفاظت کے لئے صاف صفائی اور پانی جمع نہ ہونے دیں کیونکہ پانی کے سبب ہی یہ بیماری پھیلتی ہے۔

ہر آٹھ افراد کے لئے ایک فوجی
پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر منیر اکرم نے عالمی برادری کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو ختم کرنے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیا ہے. انہوں نے کہا کہ”ہم ، سب سے پہلے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو برقرار رکھنے کے لئے او آئی سی کے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر انحصار کریں۔”ان اقدامات سے نہ صرف ہندوستان کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی جو کسی بھی "فریق” کو یکطرفہ کارروائی کرنے سے روکتے ہیں۔ ان قرار دادوں کے تحت ، تنازعہ کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ جموں و کشمیر کے عوام نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک مباحثے کے ذریعے کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج کی تعداد 900،000 کردی – ہر آٹھ کشمیریوں کے لئے ایک فوجی۔ اس نے فوجی محاصرے ، 24 گھنٹوں کا کرفیو اور مواصلات کا مکمل خاتمہ نافذ کردیا۔ منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر میں تمام سیاسی قائدین اور ممتاز کشمیریوں کو قید میں رکھا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ہندوستان میں تیرہ ہزار نوجوانوں اور لڑکوں کو اغوا کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ بہت سے افراد پر تشدد کیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اپنے آئین کے آرٹیکل 35 کو ختم اور ڈومیسائل "قواعد” کو تبدیل کرکے ہندوستان نے اس طرح کی آبادیاتی تبدیلی کی راہیں کھول دی ہیں۔ 400،000 سے زیادہ ہندوستانی فوجی اور سویلین اہلکار اور ان کے اہل خانہ پہلے ہی کشمیر میں رہائشی حقوق حاصل کر چکے ہیں۔ مقبوضہ علاقے کا یہ "آبادیاتی سیلاب” سلامتی کونسل کی قراردادوں ، چوتھے جنیوا کنونشن اور نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ منیر اکرم نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ہیومن رائٹس کونسل کے متعدد خصوصی نمائندوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ اسی طرح ، او آئی سی سیکرٹریٹ اور او آئی سی سے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے بھی ایک دن پہلے ہی بیانات جاری کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستان کے غیرقانونی اقدامات کی برسی کے موقع پر ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تاریخی بابری مسجد کے ایودھیا مقام پر ہندو مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا جسے اسی بی جے پی نے غیر قانونی طور پر تباہ کردیا تھا۔ – آر ایس ایس کے جنونی جن کو ہیکل کی تعمیر کا حق دیا گیا ہے۔ منیر اکرم کا کہنا تھا کہ کشمیر اور ایودھیا اسلام کی میراث کو ختم کرنے اور ہندوستان کو ہندو “راشٹر” (ریاست) میں تبدیل کرنے کے لئے بی جے پی آر ایس ایس ڈیزائن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اپنے جرائم کا جواز پیش کرنے کے لئے ، نئی دہلی کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی مزاحمت کو "دہشت گردی” کے طور پر پیش کرتے ہوئے نوآبادیاتی پلے بوک سے قرض لیا ہے۔ دیہی کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کے جواز کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ”دراندازی” کے بھارتی الزامات کے جواب میں ، پاکستان نے جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کو ایسے تمام الزامات کی تصدیق کرنے کی پیش کش کی ہے ، لیکن ہندوستان نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ، لیکن انہوں نے متنبہ کیا کہ "ہم کسی بھی بھارتی جارحیت کا اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جواب دیں گے۔ ایٹمی مسلح ریاستوں کے مابین جنگ کا بھی نہیں سوچا جانا چاہئے۔” منیر اکرم نے کہا کہ”ہمیں خوشی ہے کہ سلامتی کونسل نے بدھ کے روز تیسری مرتبہ (ایک سال میں) کشمیر میں بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں کی ملاقات کی ، انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب مودی ہندو مندر کے افتتاح کے موقع پر ہندو مندر کی شروعات کررہے تھے۔

’’20 لاکھ کے اعداد پار، غائب ہے مودی سرکار‘‘
بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے کورونا وائرس کے حوالہ سے مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کوروناوائرس کے کیسز 20 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں لیکن حالات کو قابو کرنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا ئے جارہے ہیں۔ راہول گاندھی نے جمعہ کو طنزیہ لہجے میں حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ’’20 لاکھ کے اعداد پار، غائب ہے مودی سرکار‘‘۔انہوں نے 17جولائی کو کورونا کیسز کے بارے میں ایک ٹویٹ پوسٹ کیا تھا ، جس میں انہوں نے کہا تھا’’1000000 کے اعداد پار ۔ اسی تیزی سے کووڈ۔ 19 پھیلا تو 10 اگست تک ملک میں 2000000 سے زیادہ متاثرین ہوں گے‘‘۔ انہوں نے اس وقت یہ مشورہ دیا تھا کہ حکومت اس وبا کو روکنے کے لئے ٹھوس اور منظم طریقے سے اقدامات کرے۔ واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 62 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ جمعہ کے روز وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 2027075 ہوگئی ہے اور 886 افراد کی ہلاکت کے ساتھ ہی اموات کی مجموعی تعداد 41585 ہوگئی ہے

فوجی پھسل کر موت کی وادی میں پہنچ گیا
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کپواڑہ ضلع کے سرحدی علاقے مھچل سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک کتوار گلی پر اس وقت ایک بھارتی فوجی کی موت واقع ہو گئی جب فوج کی گشتی پارٹی معمول کے مطابق کتوار گلی پر گشت کررہی تھی۔ اس دوران لائن آف کنٹرول پرموجود ایک بھارتی فوجی کا پیر اچانک پھسل گیا اور وہ ایک گہری کھائی میں گر گیا۔ ڈیوٹی پر معمور دوسرے فوجیوں نے اسے بچانے کی کوشش کی اور اسے گہری کھائی سے نکال کر نزدیکی فوجی اسپتال پہنچایا ۔تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکرموت کے منہ میں چلا گیا۔ مارے گئے فوجی کی پہچان امر حسین ساکنہ اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے۔فوج نے اس معاملہ میں نزدیکی فوجی اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی۔ واضح رہے کہ کپواڑہ ضلع کے سرحدی علاقے مھچل میں اس طرح کے درجنوں حادثات پیش آئے ہیں اور کئی فوجیوں کی موت واقع ہو چکی ہے ۔

تنازعہ کشمیر کو دوبارہ زیرِغورلانےپر سلامتی کونسل کاخیرمقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر جو 70برس سےزائد عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے،کو دوبارہ زیرِغورلانےپر سلامتی کونسل کاخیرمقدم کرتے ہیں۔اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کےچارٹرکےتحت محض عالمی امن و سلامتی کےتحفظ ہی کی نہیں بلکہ اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنانےکی بھی ذمہ دار ہے۔ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ جموں و کشمیر کے مسئلے کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں جو اہلِ کشمیر کو ایک آزاد اور شفاف استصوابِ رائے کے ذریعے خودارادیت کا حق دیتی ہیں، ہی کی روشنی میں حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر کو یہ بنیادی حق ملنےتک پاکستان ان کی ہر ممکن مدد اور معاونت جاری رکھے گا۔

گورنر کا استعفی۔ اصل وجوہات سامنے آگئیں
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیرقانونی اور غاصبانہ قبضہ کے ٹھیک ایک سال مکمل ہونے پر لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو کے اچانک استعفے کے سرپرائز پر بھارتی ایوانوں میں ابھی تک ہلچل مچی ہوئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق مرمو نے اپنی کرسی اس لئے گنوا دی کیونکہ وہ نوکر شاہی میں دو مضبوط گروہوں کے مابین بڑھتےہوئے تنازعہ کی جانچ نہیں کرسکے۔ جموں و کشمیر کے ایک اعلی ترین بیوروکریٹ کے ساتھ بھی ان کا اچھا معاملہ نہیں تھا جس کی وجہ سے کشمیر میں معاملات چلانے اور بڑی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مرمو نے عوامی بھلائی کے کئی اہم اعلان کرنے کے بعد بھارتی حکومت کے دباو پر مجبورا کچھ فیصلے واپس لے لیے۔ مرمو نے بیان دیا تھا کہ وادی میں انٹرنیٹ فور جی کی بحالی پرانہیں کوئی اعتراض نہیں لیکن عوامی بھلائی کے حوالے سے ان کے بیان کو مودی حکومت نے اچھا نہیں سمجھا کیونکہ حکومت نے کچھ دن قبل سپریم کورٹ میں حلف نامہ پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وادی میں سیکیورٹی کی صورتحال کنٹرول میں رکھنےکے لئے انٹرنیٹ فور جی کی بحالی ممکن نہیں جب کہ مرمو کے بیان سے حکومت کو شرمندگی اٹھانی پڑی۔ اس طرح مرمونے حال ہی میں منعقدہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اپنی تیاریوں کے بارے میں ایک متنازعہ بیان دیا جس کو مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن نے اچھا نہیں سمجھا۔ مرمو نے بھارتی سرکار کے ساتھ اختلافات کے بعد جب محسوس کیا کہ اب انہیں گورنر کے عہدے سے ہٹایے جانے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ مودی سرکار اور کشمیر میں اس کےتعینات کئے گئے بیورو کریٹس کے داو پیچ کی تاب نہیں لا سکیں گے تو عین 5 اگست کو جب بھارتی حکام خوشیاں منا رہے تھے انہوں نے استعفی دے کر دنیا بھر کے لئے یہ پیغام چھوڑا کہ بھارتی حکمران کشمیر پر اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کے لئے کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ اپنا حکم نہ ماننے والے سرکاری افسران یہاں تک کہ خود گورنر کو بھی دباو میں رکھنا چاہتی ہے۔

ایک بڑی حکومت کی دھوکہ بازی کونہ کبھی بھولا جائےگا نہ معاف کیا جائےگا
بھارتی مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے جموں وکشمیر پر بھارت کے غیرقانونی اور غاصبانہ قبضے کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے کہا ہےکہ اس دھوکہ بازی کو کبھی نہ بھولا جائےگا نہ معاف کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی حکومت نے دن دھاڑے جموں وکشمیر کو برباد کرکے لوٹ لیا ہے۔
التجا مفتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا: ‘ایک سال پہلے ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑی حکومت نے جموں و کشمیرکو مسخ کیا اور اس کو دن دھاڑے لوٹ لیا۔ موسم بدل جائیں گے، لیکن اس دھوکہ دہی کو کبھی بھولا جائے گا نہ معاف کیا جائےگا۔ مسلط کردہ طویل خاموشی جذبات کو ہمیشہ کے لئے دبا کر نہیں رکھ سکتی ہے’۔
قبل ازیں انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں انتظامیہ کی طرف سے کرفیو ہٹانے کے باوجود کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہونے کے متعلق ایک ٹوئٹ میں کہا: ‘انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ شب کرفیو ہٹانےکا حکم نامہ محض ایک دھوکہ تھا۔ جب بات اجتماعی سزا کی آتی ہے تو جموں و کشمیر انتظامیہ اور پولیس بغیر کوئی کاغذی ثبوت چھوڑے غیر اعلانیہ طور پرکرفیو نافذ کرکےلوگوں کو بند رکھنےکو یقینی بناتے ہیں’۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے پانچ اگست کو ایک سال مکمل ہونے پر ممکنہ عوامی احتجاجوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کےلئے دو روزہ کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ وادی میں منگل کے روزکرفیو نافذ رہا۔انتظامیہ نے کرفیو ہٹانے کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن وادی میں بدھ اور جمعرات کے روز بھی کرفیو سے بھی سخت پابندیاں عائد رہیں۔









