Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • فوجی پھسل کر موت کی وادی میں پہنچ گیا

    فوجی پھسل کر موت کی وادی میں پہنچ گیا

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کپواڑہ ضلع کے سرحدی علاقے مھچل سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک کتوار گلی پر اس وقت ایک بھارتی فوجی کی موت واقع ہو گئی جب فوج کی گشتی پارٹی معمول کے مطابق کتوار گلی پر گشت کررہی تھی۔ اس دوران لائن آف کنٹرول پرموجود ایک بھارتی فوجی کا پیر اچانک پھسل گیا اور وہ ایک گہری کھائی میں گر گیا۔ ڈیوٹی پر معمور دوسرے فوجیوں نے اسے بچانے کی کوشش کی اور اسے گہری کھائی سے نکال کر نزدیکی فوجی اسپتال پہنچایا ۔تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکرموت کے منہ میں چلا گیا۔ مارے گئے فوجی کی پہچان امر حسین ساکنہ اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے۔فوج نے اس معاملہ میں نزدیکی فوجی اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی۔ واضح رہے کہ کپواڑہ ضلع کے سرحدی علاقے مھچل میں اس طرح کے درجنوں حادثات پیش آئے ہیں اور کئی فوجیوں کی موت واقع ہو چکی ہے ۔

  • تنازعہ کشمیر کو دوبارہ زیرِغورلانےپر سلامتی کونسل کاخیرمقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم

    تنازعہ کشمیر کو دوبارہ زیرِغورلانےپر سلامتی کونسل کاخیرمقدم کرتے ہیں۔ وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ‏وہ تنازعہ کشمیر جو 70برس سےزائد عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے،کو دوبارہ زیرِغورلانےپر سلامتی کونسل کاخیرمقدم کرتے ہیں۔اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کےچارٹرکےتحت محض عالمی امن و سلامتی کےتحفظ ہی کی نہیں بلکہ اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنانےکی بھی ذمہ دار ہے۔ ‏پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ جموں و کشمیر کے مسئلے کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں جو اہلِ کشمیر کو ایک آزاد اور شفاف استصوابِ رائے کے ذریعے خودارادیت کا حق دیتی ہیں، ہی کی روشنی میں حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ‏اہل کشمیر کو یہ بنیادی حق ملنےتک پاکستان ان کی ہر ممکن مدد اور معاونت جاری رکھے گا۔

  • گورنر کا استعفی۔ اصل وجوہات سامنے آگئیں

    گورنر کا استعفی۔ اصل وجوہات سامنے آگئیں

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیرقانونی اور غاصبانہ قبضہ کے ٹھیک ایک سال مکمل ہونے پر لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو کے اچانک استعفے کے سرپرائز پر بھارتی ایوانوں میں ابھی تک ہلچل مچی ہوئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق مرمو نے اپنی کرسی اس لئے گنوا دی کیونکہ وہ نوکر شاہی میں دو مضبوط گروہوں کے مابین بڑھتےہوئے تنازعہ کی جانچ نہیں کرسکے۔ جموں و کشمیر کے ایک اعلی ترین بیوروکریٹ کے ساتھ بھی ان کا اچھا معاملہ نہیں تھا جس کی وجہ سے کشمیر میں معاملات چلانے اور بڑی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مرمو نے عوامی بھلائی کے کئی اہم اعلان کرنے کے بعد بھارتی حکومت کے دباو پر مجبورا کچھ فیصلے واپس لے لیے۔ مرمو نے بیان دیا تھا کہ وادی میں انٹرنیٹ فور جی کی بحالی پرانہیں کوئی اعتراض نہیں لیکن عوامی بھلائی کے حوالے سے ان کے بیان کو مودی حکومت نے اچھا نہیں سمجھا کیونکہ حکومت نے کچھ دن قبل سپریم کورٹ میں حلف نامہ پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وادی میں سیکیورٹی کی صورتحال کنٹرول میں رکھنےکے لئے انٹرنیٹ فور جی کی بحالی ممکن نہیں جب کہ مرمو کے بیان سے حکومت کو شرمندگی اٹھانی پڑی۔ اس طرح مرمونے حال ہی میں منعقدہ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں اپنی تیاریوں کے بارے میں ایک متنازعہ بیان دیا جس کو مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن نے اچھا نہیں سمجھا۔ مرمو نے بھارتی سرکار کے ساتھ اختلافات کے بعد جب محسوس کیا کہ اب انہیں گورنر کے عہدے سے ہٹایے جانے کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ مودی سرکار اور کشمیر میں اس کےتعینات کئے گئے بیورو کریٹس کے داو پیچ کی تاب نہیں لا سکیں گے تو عین 5 اگست کو جب بھارتی حکام خوشیاں منا رہے تھے انہوں نے استعفی دے کر دنیا بھر کے لئے یہ پیغام چھوڑا کہ بھارتی حکمران کشمیر پر اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کے لئے کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ اپنا حکم نہ ماننے والے سرکاری افسران یہاں تک کہ خود گورنر کو بھی دباو میں رکھنا چاہتی ہے۔

  • ایک بڑی حکومت کی دھوکہ بازی کونہ کبھی بھولا جائےگا نہ معاف کیا جائےگا

    ایک بڑی حکومت کی دھوکہ بازی کونہ کبھی بھولا جائےگا نہ معاف کیا جائےگا

    بھارتی مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے جموں وکشمیر پر بھارت کے غیرقانونی اور غاصبانہ قبضے کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے کہا ہےکہ اس دھوکہ بازی کو کبھی نہ بھولا جائےگا نہ معاف کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی حکومت نے دن دھاڑے جموں وکشمیر کو برباد کرکے لوٹ لیا ہے۔
    التجا مفتی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا: ‘ایک سال پہلے ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑی حکومت نے جموں و کشمیرکو مسخ کیا اور اس کو دن دھاڑے لوٹ لیا۔ موسم بدل جائیں گے، لیکن اس دھوکہ دہی کو کبھی بھولا جائے گا نہ معاف کیا جائےگا۔ مسلط کردہ طویل خاموشی جذبات کو ہمیشہ کے لئے دبا کر نہیں رکھ سکتی ہے’۔
    قبل ازیں انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں انتظامیہ کی طرف سے کرفیو ہٹانے کے باوجود کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہونے کے متعلق ایک ٹوئٹ میں کہا: ‘انتظامیہ کی طرف سے گزشتہ شب کرفیو ہٹانےکا حکم نامہ محض ایک دھوکہ تھا۔ جب بات اجتماعی سزا کی آتی ہے تو جموں و کشمیر انتظامیہ اور پولیس بغیر کوئی کاغذی ثبوت چھوڑے غیر اعلانیہ طور پرکرفیو نافذ کرکےلوگوں کو بند رکھنےکو یقینی بناتے ہیں’۔
    واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے پانچ اگست کو ایک سال مکمل ہونے پر ممکنہ عوامی احتجاجوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کےلئے دو روزہ کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ وادی میں منگل کے روزکرفیو نافذ رہا۔انتظامیہ نے کرفیو ہٹانے کا اعلان بھی کیا تھا، لیکن وادی میں بدھ اور جمعرات کے روز بھی کرفیو سے بھی سخت پابندیاں عائد رہیں۔

  • بھارت اور چین کے مابین جاری سرحدی کشیدگی کے باوجودکاروبار جاری

    بھارت اور چین کے مابین جاری سرحدی کشیدگی کے باوجودکاروبار جاری

    بھارت اور چین کے مابین جاری سرحدی کشیدگی کے باوجود انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے چینی کمپنی سے جانچ کٹ خریدی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف  سے اس جانچ کٹ کے لیے آرڈر حاصل کرنے والوں کی فہرست میں چینی کمپنی واحد غیرملکی کمپنی ہے جب کہ بھارت نے چینی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہی کٹ بھارت میں بھی بنائی جارہی ہے۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے کووڈ 19جانچ کےلیے ایچ ایل ایل انفرا ٹیک سروسز لمٹیڈ کے ذریعے 8 مئی 2020 کو ایک ٹینڈر جاری کیا تھا۔ اس ٹینڈر کے نتائج کا اعلان 8 جون 2020 کو ہوا تھا۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے چینی کمپنی M/s Zybio. Inc سے 13.35 کروڑ روپے کی قیمت کے 13.10 لاکھ آراین اے ایکسٹریکشن کٹ خریدنے کا آرڈر دیا ہے۔ ایچ ایل ایل کی جانب سے جاری خریداری کے آرڈر کے مطابق ایک کٹ کی قیمت جی ایس ٹی کو ملاکر 101.92 روپے ہے جب کہ بھارت میں تیار ہونے والی کٹ پر80روپے کی لاگت آتی ہے۔ان کٹس کو ہندوستان  لانے کی ذمہ داری میڈیکل آلات  کی امپورٹر کمپنی لکھنؤ میں واقع  پی اوسی ٹی سروسز پرائیویٹ لمٹیڈ کو دی گئی ہے۔کمپنی کو جاری آرڈر میں کہا گیا ہے کہ کل پانچ مرحلوں میں ان کٹس کی فراہمی  کی جائےگی۔ دریں اثنا بھارتی وزارت صحت چینی کمپنی کو آرڈر دئے جانے کی تحقیقات کررہی ہے۔

  • شہباز شریف آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

    شہباز شریف آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

    مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے نام وزیراعظم آزاد جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر نےخط لکھا ہے اور انہیں آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کی دعوت دی ہے. شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کی دعوت قبول کرلی ہے

    اور وہ کل دو بجے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مودی سرکار کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے آئینی ترمیم سے مسئلہ کشمیر کی مسلمہ عالمی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے اورمتنازعہ قوانین سے کشمیر میں مذہبی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ راجہ فاروق حیدرنے مزید لکھا ہے کہ انکی خواہش ہے کہ بھارتی کوششوں کے تناظرپر آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے کل ہونے والے خصوصی اجلاس میں خطاب کریں۔ راجہ فاروق حیدربطور وزیر اعظم آزادجموں و کشمیران کی خواہش ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ایک ایک نمائندے کو دعوت دیں تاکہ کشمیری عوام کی ایک مشکل گھڑی میں نفسیاتی ڈھارس بندھانے کا باعث بن سکے۔

  • سیکیورٹی کونسل کےتمام ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نےاس سال تیسری مرتبہ کشمیرکی صورتحال پرگفتگوکی۔ شاہ محمود قریشی

    سیکیورٹی کونسل کےتمام ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نےاس سال تیسری مرتبہ کشمیرکی صورتحال پرگفتگوکی۔ شاہ محمود قریشی

    وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نےاقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں کشمیر کے حوالے سے منعقدہ بحث کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ وہ سیکیورٹی کونسل کےتمام میمبران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نےاس سال تیسری مرتبہ کشمیرکی صورتحال پرگفتگوکی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پانچ اگست کےدن ہندوستان نےیکطرفہ اقدامات کااعلان کیا تھا جس کوپاکستانی اور کشمیریوں نےمسترد کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں بےحدممنون مشکور ہوں چین کاجنہوں نےپاکستان کی حوصلہ افزائی کی۔ چین کابہت مفصل بیان بھی سامنے آیا۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ پندرہ میں سے14میمبران نےاپنےخیالات ریکارڈکرائے۔ بہت سےممالک نےبھی اپنانقطہ نظرپیش کیا۔ہمارا موقف پہلےدن سےواضح رہا انہوں نے کہا کہ ہندوستان غیر قانونی اقدامات سے اجتناب کرے۔ورنہ خطےکاامن و استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ کشمیریوں کوواضح پیغام دیناچاہتاہوں کہ آپ کامسئلہ حقیقی ہے اورپاکستان آپ کےمسئلےکےحل کیلئے کاوشیں کرتارہےگا۔ یہ مسئلہ، سلامتی کونسل کےایجنڈے پر مسلسل چلتارہا۔ صرف دوطرفہ بحث سےمعاملات کو آگے بڑھایاجاسکتاہے۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ہندوستان کاغیرذمہ دارانہ رویہ مسلسل رہا جس سےجنوبی ایشیا کےخطےکاماحول خراب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے وزیراعظم عمران خان سیکیورٹی کونسل کےاجلاس میں پاکستان کا واضح موقف پیش کرچکےہیں۔

  • بھارتی حکومت سے شدید اختلافات۔ مقبوضہ کشمیر کے گورنر نے استعفی دے دیا

    بھارتی حکومت سے شدید اختلافات۔ مقبوضہ کشمیر کے گورنر نے استعفی دے دیا

    بھارتی حکومت سے شدید اختلافات کے بعد مقبوضہ کشمیر کےلیفٹیننٹ گورنرگریش چندر مرمو نے اپنا استعفی دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنا استعفی بھارتی صدررام ناتھ کووند کو بھجوا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرپر غاصبانہ قبضہ کے حوالے لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے تحفظات بھارتی حکومت کو بھجوائے تھے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، مسلسل کرفیو اور لاک ڈاون کے حوالے سے کشمیری عوام کی مشکلات سے حکومت کو آگاہ کیا تھا۔اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر گزشتہ روز بھارتی قبضہ کوٹھیک ایک سال پورا ہونے پر لیفٹیننٹ گورنر نے اپنا استعفی صدر کو بھجوا کر بھارتی حکومت کو حیران کن سرپرائز دے دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر کے استعفی کے بعد پاکستان کو بھارت کے خلاف کشمیرکے حوالے سے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے میں مزید آسانی پیدا ہوگی

  • زاہد حفیظ کو دفتر خارجہ کا نیا ترجمان مقرر کر دیا گیا

    زاہد حفیظ کو دفتر خارجہ کا نیا ترجمان مقرر کر دیا گیا

    تازہ ترین:وزارت خارجہ نے زاہد حفیظ کو نیا ترجمان مقرر کر دیا۔اس سے قبل محترمہ عائشہ فاروقی پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی حیثیت سے کام کررہی تھیں۔ وہ ٹریننگ کورس کے لئے جائیں گی جسے مکمل کرنے کے بعد انہیں21 ویں گریڈ میں ترقی دی جائے گی

  • انڈیا سے ہندیا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وزیرخارجہ کا سینیٹ میں خطاب

    انڈیا سے ہندیا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وزیرخارجہ کا سینیٹ میں خطاب

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا سینیٹ کے اجلاس سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ آج سینیٹ جو وفاق کا نمائندہ ہے اس نے ایک خصوصی اجلاس آج کے دن کے حوالے سے منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کا شکر گزار ہوں کہ کشمیر کے مسئلے پر سب نے یکجہتی دکھائی۔ آج چیرمین سینٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی نے یوم استحصال 5 اگست کے حوالے سے واک میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آپ کی وساطت سے پوری پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس طرح پوری قوم نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور جس طرح بھارتی یکطرفہ اقدامات کی مذمت کی گئی وہ قابلِ تحسین ہے۔
    آج تمام صوبوں میں بلکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں لوگوں نے کشمیریوں کے حق میں جلوس نکالے۔ پاکستان کے دنیا بھر میں سفارت خانوں نے 200 کے قریب پروگرام آج کے دن کے حوالے سے منعقد کیے۔ تمام سفراء کو خصوصی ہدایت دی گئی کہ پاکستانی کمیونٹی اور یونیورسٹی کے طلباء کو انگیج کریں اور یہ پیغام ان تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کو ایک سال بیت گیا۔ ہندوستان کی حماقتوں نے مسئلہ کشمیر کو خود بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس ایک سال میں جتنے مضامین چھاپے اور بھارت پر جس قدر تنقید کی گئی اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ آزاد کشمیر مظفرآباد میں اس وقت وزیر اعظم عمران خان موجود ہیں۔ آج آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے جس یکجہتی کا اظہار کیا وہ بھی قابل تعریف ہے۔ پوری کشمیری قوم نے بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے اندر سے آوازیں آٹھ رہی ہیں۔ انڈیا سے ہندیا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ 5 اگست کو ناصرف غاصبانہ قبضہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ آج مودی بابری مسجد کو شہید کر کے راج مندر کی بنیاد رکھ رہا ہے تمام مذہبی رہنماؤں اور علماء کو اس اقدام کی کھل مذمت کرنی چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہندوستان دلوں اور ذہنوں کی جنگ ہار چکا ہے کشمیری ان کے رویے سے متنفر ہو چکے ہیں کشمیریوں کا بھارت نے بے پناہ معاشی نقصان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان سب اکابرین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہماری درخواست پر لبیک کہا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جے یو آئی ف بھی اس میں شامل ہو جاتی۔ مولانا فضل الرحمن خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اس فورم پر ایک مرتبہ پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان، مظلوم کشمیریوں کی معاونت جاری رکھے گا۔ اور کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گا۔