Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • اردو بولنے والوں کی اکثریت کے باوجود سرکاری سطح پر اردو زبان نظرانداز

    اردو بولنے والوں کی اکثریت کے باوجود سرکاری سطح پر اردو زبان نظرانداز

    جنوبی ہند کی ریاست تامل ناڈو میں اردو بولنے والوں کی اکثریت موجود ہے۔ ریاست کے کئی تعلیمی اداروں میں اردو پڑھائی جاتی ہے۔ چنئی، وانمباڑی اور دیگر شہروں میں اردو ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کی خاصی تعداد موجود ہے۔ لیکن علاقائی زبان "ٹامل” کے غلبہ کی وجہ سے یہاں اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ گزشتہ 6 سالوں سے اردو اکیڈمی کا تشکیل نہ دیا جانا اس تلخ حقیقت کی ایک مثال ہے۔ تامل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی کے صدر ملک العزیز کاتب نے کہا کہ اردو اکیڈمی کی تشکیل کیلئے موجودہ وزیر اعلی ای کے پلانی سوامی سے دو مرتبہ ملاقات کرتے ہوئے تحریری طور پر یادداشت پیش کی گئی ہے، لیکن حکومت نے اب تک اردو والوں کے اس مطالبہ پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

    قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق رکن ملک العزیز کاتب نے کہا کہ ریاست میں2011 میں اردو اکیڈمی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ کمیٹی 2014 تک قائم رہی، لیکن اس دوران حکومت کے بدلنے اور دیگر وجوہات کی بنا پر اردو اکیڈمی سرگرم عمل نہیں رہی۔ سابقہ اکیڈمی کی تین سالہ معیاد کے دوران اردو کا ایک بھی پروگرام منعقد نہیں ہوا۔ ملک العزیز نے کہا کہ سال 2014 سے اردو اکیڈمی کے قیام کیلئے کئی مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں۔ ریاست کی کابینہ میں موجود واحد مسلم وزیر نیلوفر کفیل سے بھی کئی بار درخواست کی گئی ہے، لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ملک العزیز نے کہا کہ ریاست کی وزیر محنت نیلوفر کفیل اردو علاقے وانمباڑی سے ایم ایل اے منتخب ہوئی ہیں اور وہ خود اردو داں ہیں، لیکن اس کے باوجود اب تک ریاست میں اردو اکیڈمی کا نہ بننا حیرت اور تشویش کا باعث ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں کی خاموشی کے بعد تامل ناڈو اردو رابطہ کمیٹی نے ایک بار پھر اردو اکیڈمی کے قیام کیلئے مہم شروع کی ہے۔ ریاست کے معروف شاعر اور اردو ادیب علیم صبا نویدی کہتے ہیں کہ حکومت کی سطح پر اردو کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے اردو ادیبوں، شاعروں، فنکاروں کو کسی بھی طرح کی مدد حاصل نہیں ہے۔

  • بھارت میں11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت : ذمہ دار بھارتی حکومت

    بھارت میں11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت : ذمہ دار بھارتی حکومت

    پاکستان ہندو کونسل نے بھارتی شہر جودھ پور میں11 پاکستانی ہندو مہاجرین کی پراسرار موت کا ذمہ دار بھارتی حکومت کو قرار دے دیا۔ سربراہ پاکستان ہندو کونسل ورکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت میں ہندوتارکین وطن کی پراسرار موت افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان اس اندوہناک واقعے کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ ڈاکٹر رمیش کمارنے کہا کہ ہندو خاندان 2012 میں سندھ سے بھارت نقل مکانی کرگیا تھا۔ افسوس بھارت میں انہیں بے رحم حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متنازع بھارتی شہریت قانون سیکولرازم پر سوالیہ نشان ہے۔ رمیش کمار نے بتایا کہ مرنے والے ہندوخاندان کا تعلق شہدادپور کے گاؤں کی بھیل کمیونٹی سے ہے۔

  • انڈس واٹر کمیشن اجلاس منعقد کرنے کا معاملہ: بھارت نے پاکستانی تجاویز مسترد کردیں

    انڈس واٹر کمیشن اجلاس منعقد کرنے کا معاملہ: بھارت نے پاکستانی تجاویز مسترد کردیں

    بھارت کے ساتھ سندھ آبی معاہدے کے تحت زیر التواء امور پر تبادلہ خیال کے لئے پاکستان کی درخواست پر مارچ کے آخری ہفتے میں ایک اجلاس طے کیا گیا تھا لیکن بھارت نے موجودہ وبائی بیماری کورونا کی وجہ سے اجلاس موخر کر دیا اور پاکستان کواس سلسلے میں تحریری طور پر آگاہ کردیا۔ بھارت نےپاکستان کو تجویز دی ہے کہ انڈس آبی معاہدے کے تحت زیر التوا معاملات پر تبادلہ خیال کے لئے کورونا وائرس وبائی بیماری کے پیش نظر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات کی جائے تاہم پاکستانی انڈس کمشنر نے بھارت کو بھیجے گئے اپنے جوابی خط میں تجویز دی کہ واہگہ اٹاری جوائنٹ چیک پوسٹ پر روایتی اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے تاہم بھارت نے پاکستان کی اس تجویز کو بھی مسترد کردیا۔ انڈس کمشنر آف انڈیا نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک خط میں کہا ہے کہ وبائی امراض کی وجہ سے اٹاری جوائنٹ چیک پوسٹ پر اجلاس منعقد کرنا مناسب نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سفر دوبارہ شروع کرنے اور صورتحال کو معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ہندوستانی کمشنر نے جولائی کے پہلے ہفتے میں ویڈیو کانفرنس یا کسی متبادل ذرائع سے اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔
    ہندوستانی کمشنر نے جواب دیا کہ ہندوستان میں صورتحال ابھی بھی اپنے وفد کے سفر اور اٹاری جے سی پی میں اجلاس کے انعقاد کے لئے موزوں نہیں ہے جیسا کہ ان کے ہم منصب نے تجویز کیا تھا اور اٹاری جے سی پی یا نئی دہلی میں اس طرح کی میٹنگ کی اجازت دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ بھارتی انڈس کمشنر نے پاکستان سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ زیر التواء اور نئے امور پر تبادلہ خیال کے لئے ورچوئل میٹنگ کے ایک قابل عمل آپشن کے طور پر غور کریں۔

  • قتل، خود کشی یا اتفاقی حادثہ بھارتی شہر جودھپور میں11 پاکستانیوں کی موت

    قتل، خود کشی یا اتفاقی حادثہ بھارتی شہر جودھپور میں11 پاکستانیوں کی موت

    قتل، خود کشی یا اتفاقی حادثہ بھارتی شہر جودھپور میں پاکستان سے آئے 11 ہندو مہاجرین کی موت معمہ بن گئی۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جودھ پور کے علاقے اچلاوتہ میں تھانہ ڈھیچو کی حدود میں گھر کے ایک ہی کمرے میں ملنے والی 5بچوں، 4عورتوں اور 2 مردوں کی لاشوں نے علاقے میں کہرام مچادیا۔ یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ زہریلی گیس کے اخراج سے دم توڑ گئے کیونکہ یہ واقعہ جس علاقے میں پیش آیا ہے اس میں کیڑے مار ادویات کی بو آ رہی ہے۔ تاہم پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور علاقے کے مکینوں کو کوئی بھی بیان دینے سے روک دیا ہے۔ میڈیا والوں کی وہاں تک رسائی روکنے سے معاملہ مشکوک ہوگیا ہے
    یہ خاندان پاکستان کے صوبہ سندھ سے آیا تھا اور ہندوستان میں اپنی شہریت حاصل کرنے کا منتظر تھا۔ گذشتہ رات گھر پر نہ ہونے کے سبب کنبہ کاایک رکن اس سانحے سے بچ گیا۔ مرنے والے تمام افراد 2012 میں سندھ سے بھارت گئے تھے۔

  • اورنگ آباد میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ

    اورنگ آباد میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ

    بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہراورنگ آباد میں انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے ۔ یہاں ایک بیٹے نے اپنی 90 سال کی بوڑھی ماں کو جنگل میں پھینک دیا اور وہاں سے فرار ہوگیا ۔ خبر ہے کہ عمر رسیدہ خاتون کورونا پازیٹیو تھی ، جس کی وجہ سے گھر کے اراکین ان کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ بعد میں اہل خانہ نے رات کے اندھیرے میں بوڑھی خاتون کو اورنگ آباد کے کچی گھاٹی علاقہ کے جنگل میں پھینک دیا اور گھر آگئے ۔ پولیس نے معاملہ درج کرکے اہل خانہ کی تلاش شروع کردی ہے۔
    اطلاعات کے مطابق اورنگ آباد کے کچی گھاٹی علاقہ کے جنگل میں لوگوں کو ایک بوڑھی خاتون پڑی ملی ۔ 90 سال کی بوڑھی خاتون کو ایک چادر میں جنگل کے درمیان چھوڑ دیا گیا تھا ۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پرپولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اس عمر رسیدہ خاتون کو اسپتال میں داخل کیا تو معلوم ہوا کہ وہ کورونا پازیٹیو ہے ۔ بوڑھی خاتون سے پوچھ گچھ میں پتہ چلا کہ کورونا کی خبر اہل خانہ کو ہوگئی تھی اور اس کے بعد اہل خانہ نے اس معمر خاتون کو جنگل میں پھینک دیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔
    پولیس کے مطابق معمر خاتون ایک گھنٹے تک جنگل میں تڑپتی رہی ۔ خاتون کو ضلع اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔ سن رسیدہ خاتون کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے ۔ پولیس نے اس پورے واقعہ کے سلسلہ میں معاملہ درج کرلیا ہے اور اہل خانہ کی تلاش تیز کردی ہے ۔

  • وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات.. اہم فیصلے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات.. اہم فیصلے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورت حال اورجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد اختر ملک،چیف وہیپ قومی اسمبلی ایم این اے عامر ڈوگر،ایم این اے زین قریشی،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مکمل فعال کرنے کے لئے فوری طورپر انتظامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلی نے وزیرخارجہ کو یقین دلایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں مختلف محکموں کے سیکرٹریز کو جلد تعینات کر دیا جائے گا جب کہ محکموں کے سیکرٹریز مکمل با اختیار ہوں گے۔ عثمان بزدار نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو انتظامی و مالیاتی لحاظ سے خود مختاری دی جائے گی جب کہ ملتان ڈویژن، بہاولپورڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے متعلقہ امور مقامی طورپر نمٹائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ملتان میں 100بستروں پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔ یہ ہسپتال غلہ منڈی کی پرانی عمارت کی جگہ پر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملتان میں واسا اور سیوریج سے متعلقہ مسائل فوری حل کئے جائیں گے۔ عثمان بزدارنے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام تحریک انصاف کی حکومت کا بڑا اقدام ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے لوگوں کو کام کے سلسلے میں لاہور نہیں آنا پڑے گاجب کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو کھوکھلے نعروں سے بہلایا گیا۔عثمان بزدارنے کہا کہ سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کی ترقی کے نام پر لئے گئے فنڈ اپنے حلقوں پر لگائے۔جنوبی پنجاب کے عوام نے ترقی کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عام انتخابات میں بری طرح مسترد کیااور تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب میں شاندار مینڈیٹ ملا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے دئیے گئے مینڈیٹ کی لاج رکھیں گے۔ اس موقعہ پر وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کے عوام سے کئے گئے وعدے نبھا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے مقامی لوگوں کو ریلیف ملے گا۔ عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہوں گے اورگورننس بہتر ہوگی۔
    عثمان بزدار اور شاہ محمود قریشی نے بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی سرکار کے بد ترین لاک ڈاؤن اور ظلم وستم کی شدید مذمت کیاور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستانی قوم نے یوم استحصال کشمیر پر ہر سطح پر بھارتی مظالم کو اجاگر کیا-عثمان بزدارنے کہا کہ پوری قوم نے یوم استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منایا۔
    لاہورسمیت پنجاب کے ہر ڈویژن میں ایک سڑک کو سرینگرکے نام سے منسوب کریں گے-عثمان بزدار نئ کہا کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی لازوال جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،کشمیر کاز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ مودی نے 5اگست2019ء کو اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑا دیں۔عثمان بزدار نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اورغیر قانونی اقدام کو ہر سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بغیرادھورا ہے۔مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کرکے سفاکیت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ22کروڑپاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • واہگہ بارڈر کوایک بارپھرخصوصی طورپرکھولاجائےگا

    واہگہ بارڈر کوایک بارپھرخصوصی طورپرکھولاجائےگا

    کورونالاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان میں رکے ہوئے 118 بھارتی شہریوں کو 10 اگست کو واہگہ سرحد کے راستے بھارت واپس بھیجا
    جائے گا جبکہ نوری ویزا پربھارت سے واپس پاکستان آئے ہوئے 350 شہریوں کی فہرست بھی دفترخارجہ کوبھیج دی گئی ہیں جن کی واپسی کا شیڈول آئندہ چندروز میں فائنل کردیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس اورلاک ڈاؤن کیوجہ سے پاکستان میں مقیم 118 بھارتی شہریوں کا آخری گروپ10 اگست کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس انڈیا بھیجا جائیگا۔ سفارتی ذراٰئع کے مطابق پاکستان میں موجود بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستانی وزارت خارجہ سے بھارتی شہریوں کی واپسی کی درخواست کی گئی ہے۔ بھارتی شہریوں کی واپسی10 اگست کو واہگہ کے راستے ہوگی اس حوالے سے واہگہ بارڈر پربھی حکام کوآگاہ کردیا گیا ہے، بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے واہگہ بارڈر کوایک بارپھر خصوصی طورپرکھولاجائے گا، کسٹم اور امیگریشن حکام کوبھی ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ 10اگست کو واہگہ بارڈرپرپہنچیں۔ دوسری طرف پاکستان میں مقیم ایسے افراد جو پاکستانی شہری ہیں لیکن بھارت میں شادی ہونے یاپھر دیگر وجوہات کی بناپر پاکستان چھوڑ چکے ہیں اوراب دوبارہ اپنے خاندانوں سے ملنے واپس پاکستان آئے تھے۔ ایسے 350 افراد کی فہرست بھی بھارتی سفارتخانے کی طرف سے پاکستان کی وزارت خارجہ کو بھیجی گئی ہے تاکہ ان کی واپسی کا شیڈول بھی طے کیا جاسکے۔ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان چھوڑ کربھارت گئے لیکن انہیں ابھی تک بھارتی شہریت نہیں مل سکی ہے۔ان افرادکو بھارت سے واپس پاکستان آنے کے لئے بھارتی حکومت کی طرف سے نوری ویزا (نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا) دیاجاتا ہے، جس کی مدت سے چالیس سے ستردن تک ہوتی ہے۔ نوری ویزاپرپاکستا ن آنے والوں کی بڑی تعداد سندھ کے مختلف شہروں میں مقیم ہے۔ان میں زیادہ ترہندوبرادری کے لوگ ہیں جبکہ کچھ تعداد مسلمان خواتین کی بھی ہیں جن کی شادیاں بھارت میں مقیم اپنے رشتہ داروں میں ہوئی ہیں اوراب وہ اپنے بھارتی سسرالی ممبران اوربھارتی شہریت کے حامل بچوں کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں۔

  • کورونا کے ساتھ ساتھ لیپٹو اسپائروسس کا خطرہ

    کورونا کے ساتھ ساتھ لیپٹو اسپائروسس کا خطرہ

    بھارتی شہر ممبئی میں طوفانی بارش رکنے کے بعد شہر میں کورونا وبائی مرض کے ساتھ ساتھ موسمی بیماریوں کے پھیلنے کاخطرہ بھی بڑھ گیا ہے جس میں لیپٹو اسپائروسس کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ یہ بیماری بارش کے جمع شدہ پانی یا پانی میں زخمی شخص کے گزرنے سے پھیلتی ہے۔ موسلادھاربارش کے بعد اب وبائی مرض کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرہ کے بعد لیپئو اسپائروسس کا بھی خطرہ بڑھ گیا ہے اس لئے بی ایم سی نے شہریوں کو گمبوٹ پہن کر پانی میں گزرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ پانی میں زخمی شخص کے گزرنے سے لیپٹو اسپائروسس ہونے کا خطرہ لاحق ہے اس لئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ لیپٹو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے احتیاط ضروری ہے۔ اگر کوئی زخمی شخص بارش کے پانی میں گزرتاہے تو اس سے بھی لیپٹو اسپائروسس کا پھیلاؤ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں زخمی شخص کو 24 یا 72 گھنٹے میں طبی احتیاط کے تحت طبی امداد فراہم کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ زیادہ وقت تک بارش کےجمع پانی میں رہتے ہیں ایسے افراد اور بی ایم سی عملہ کے لئے ڈاکٹر کے مشورہ کے بعد وہ ادویات کا استعمال کرسکتےہیں جن کاچھ ہفتہ استعمال کیاجاسکتا ہے۔کیونکہ زیادہ دیرتک پانی میں رہنا بھی خطرناک ہے اسلئے احتیاط ضروری ہے۔ ممبئی عظمیٰ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، موسم باراں میں بخار، ڈینگو اور ملیریا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے چھوٹی یا معمولی بیماری کو بھی نظر انداز نہ کریں بلکہ فورا ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر آپ پانی سے گز ررہے ہیں تو پیر کو صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔ اگر بخار ہے تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ گھروں اور آس پڑوس میں کچرا جمع نہ کریں اور چوہوں سے حفاظت کے لئے صاف صفائی اور پانی جمع نہ ہونے دیں کیونکہ پانی کے سبب ہی یہ بیماری پھیلتی ہے۔

  • ہر آٹھ افراد کے لئے ایک فوجی

    ہر آٹھ افراد کے لئے ایک فوجی

    پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر منیر اکرم نے عالمی برادری کی طرف سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو ختم کرنے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیا ہے. انہوں نے کہا کہ”ہم ، سب سے پہلے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو برقرار رکھنے کے لئے او آئی سی کے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر انحصار کریں۔”ان اقدامات سے نہ صرف ہندوستان کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی جو کسی بھی "فریق” کو یکطرفہ کارروائی کرنے سے روکتے ہیں۔ ان قرار دادوں کے تحت ، تنازعہ کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ جموں و کشمیر کے عوام نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک مباحثے کے ذریعے کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج کی تعداد 900،000 کردی – ہر آٹھ کشمیریوں کے لئے ایک فوجی۔ اس نے فوجی محاصرے ، 24 گھنٹوں کا کرفیو اور مواصلات کا مکمل خاتمہ نافذ کردیا۔ منیر اکرم نے کہا کہ کشمیر میں تمام سیاسی قائدین اور ممتاز کشمیریوں کو قید میں رکھا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پورے ہندوستان میں تیرہ ہزار نوجوانوں اور لڑکوں کو اغوا کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ بہت سے افراد پر تشدد کیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اپنے آئین کے آرٹیکل 35 کو ختم اور ڈومیسائل "قواعد” کو تبدیل کرکے ہندوستان نے اس طرح کی آبادیاتی تبدیلی کی راہیں کھول دی ہیں۔ 400،000 سے زیادہ ہندوستانی فوجی اور سویلین اہلکار اور ان کے اہل خانہ پہلے ہی کشمیر میں رہائشی حقوق حاصل کر چکے ہیں۔ مقبوضہ علاقے کا یہ "آبادیاتی سیلاب” سلامتی کونسل کی قراردادوں ، چوتھے جنیوا کنونشن اور نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ منیر اکرم نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ہیومن رائٹس کونسل کے متعدد خصوصی نمائندوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ اسی طرح ، او آئی سی سیکرٹریٹ اور او آئی سی سے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے بھی ایک دن پہلے ہی بیانات جاری کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستان کے غیرقانونی اقدامات کی برسی کے موقع پر ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تاریخی بابری مسجد کے ایودھیا مقام پر ہندو مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا جسے اسی بی جے پی نے غیر قانونی طور پر تباہ کردیا تھا۔ – آر ایس ایس کے جنونی جن کو ہیکل کی تعمیر کا حق دیا گیا ہے۔ منیر اکرم کا کہنا تھا کہ کشمیر اور ایودھیا اسلام کی میراث کو ختم کرنے اور ہندوستان کو ہندو “راشٹر” (ریاست) میں تبدیل کرنے کے لئے بی جے پی آر ایس ایس ڈیزائن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اپنے جرائم کا جواز پیش کرنے کے لئے ، نئی دہلی کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی مزاحمت کو "دہشت گردی” کے طور پر پیش کرتے ہوئے نوآبادیاتی پلے بوک سے قرض لیا ہے۔ دیہی کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کے جواز کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ”دراندازی” کے بھارتی الزامات کے جواب میں ، پاکستان نے جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کو ایسے تمام الزامات کی تصدیق کرنے کی پیش کش کی ہے ، لیکن ہندوستان نے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ، لیکن انہوں نے متنبہ کیا کہ "ہم کسی بھی بھارتی جارحیت کا اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ جواب دیں گے۔ ایٹمی مسلح ریاستوں کے مابین جنگ کا بھی نہیں سوچا جانا چاہئے۔” منیر اکرم نے کہا کہ”ہمیں خوشی ہے کہ سلامتی کونسل نے بدھ کے روز تیسری مرتبہ (ایک سال میں) کشمیر میں بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں کی ملاقات کی ، انہوں نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب مودی ہندو مندر کے افتتاح کے موقع پر ہندو مندر کی شروعات کررہے تھے۔

  • ’’20 لاکھ کے اعداد پار، غائب ہے مودی سرکار‘‘

    ’’20 لاکھ کے اعداد پار، غائب ہے مودی سرکار‘‘

    بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے کورونا وائرس کے حوالہ سے مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کوروناوائرس کے کیسز 20 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں لیکن حالات کو قابو کرنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا ئے جارہے ہیں۔ راہول گاندھی نے جمعہ کو طنزیہ لہجے میں حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ’’20 لاکھ کے اعداد پار، غائب ہے مودی سرکار‘‘۔انہوں نے 17جولائی کو کورونا کیسز کے بارے میں ایک ٹویٹ پوسٹ کیا تھا ، جس میں انہوں نے کہا تھا’’1000000 کے اعداد پار ۔ اسی تیزی سے کووڈ۔ 19 پھیلا تو 10 اگست تک ملک میں 2000000 سے زیادہ متاثرین ہوں گے‘‘۔ انہوں نے اس وقت یہ مشورہ دیا تھا کہ حکومت اس وبا کو روکنے کے لئے ٹھوس اور منظم طریقے سے اقدامات کرے۔ واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 62 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ جمعہ کے روز وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 2027075 ہوگئی ہے اور 886 افراد کی ہلاکت کے ساتھ ہی اموات کی مجموعی تعداد 41585 ہوگئی ہے