بھارت میں کیرالا پولیس نے ہندی نیوزچینل زی نیوز کے ایڈیٹر ان چیف سدھیر چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔چودھری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ٹی وی شوڈی این اے میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی اور اسلام کی توہین کی ہے۔یہ ایف آئی آرکیرالاکے وکیل پی گاوس کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔ گاوس کمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکی ذیلی جماعت آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ریاستی سکریٹری بھی ہیں۔سدھیر چودھری پر آئی پی سی کی دفعہ 295اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ گاوس نے پولیس میں شکایت درج کرائی جس میں انہوں نے کہا کہ چودھری نے اپنے شو کے ذریعے مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایااور ایک متنازعہ چارٹ دکھایا۔ ان کامقصد فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹی وی شو آئین کے آرٹیکل 19(2) میں اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور یہ آئی پی سی کی دفعہ 153 اے، 153بی، 295اے، 502 اور 503 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ66اے کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ شکایت گزار نے کہا ہے کہ یہ ٹی وی پروگرام 2018 کے کیبل ٹی وی ریگولیشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔ گاوس نے اپنی شکایت میں نہ صرف چودھری کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے بلکہ زی نیوز کا لائسنس معطل کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ کیرالاپولیس کے انسپکٹر بینو تھا مس نے کہاہم نے شکایت کی بنیاد پر معاملہ درج کیا ہے جب کہ مزید تحقیقات ابھی جاری ہے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

کورونا کے نام پر مسلمانوں کو تنگ کرنے کا بھارتی حکومت کا سلسلہ
بھارتی حکومت نے کورونا کے نام پر مسلمانوں کو تنگ کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس حوالے سے دارالحکومت نئی دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کے دربار سے قرنطینہ سنٹر منتقل کئے گئے کئی افراد نے کھل کر احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔قرنطینہ کے نام پر تبلیغی جماعت کے اراکین کومارچ سے یہاں مختلف سنٹرز میں قید کررکھاگیا ہے۔ بھارتی شہر میرٹھ کے رہنے والے دو دوست محمد بابر اور محمدایاز 12ویں کا بورڈ امتحان دیکر تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہونے کے لیے 18 مارچ کو دہلی گئے تھے۔ان کی رہائش نظام الدین کے دربار پر ہی تھی جہاں کچھ ہی دن بعد کو رونا انفیکشن پھیلنے کاانکشاف ہوا اور جماعت کے دوسرے لوگوں کی طرح ان دونوں دوستوں کو بھی دہلی کے نریلا کورنٹائن سینٹر میں منتقل کر دیا گیا۔ انہیں یہاں آئے تقریباً 40 دن ہو گئے ہیں اور انہوں نے کورنٹائن میں رہنے کی مدت بھی پوری کر لی ہے، لیکن ابھی تک انہیں اپنے گھروں کو جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔بابر بتاتے ہیں کہ ان کا دو بار کو رونا کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور دونوں بار میری رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔اس کے باوجودا نہیں واپس نہیں جانے دیا جا رہا۔ جب انتظامیہ سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کب جانے دیں گے تو جواب ملتا ہے کہ بس کچھ دن اور رک جاؤ پھر چلے جانا۔یہ بے بسی صرف بابر کی ہی نہیں ہے، بلکہ یہاں لائے گئے جماعت کے کئی لوگوں نے الزام لگایاہے کہ ان کی ٹیسٹ رپورٹ نگیٹو آنے کے باوجود انہیں یہاں سے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔دہلی ڈویلپمنٹ تھارٹی کی اس 14 منزلہ عمارت کے فلیٹوں میں تبلیغی جماعت کے کل 932 لوگوں کو کورنٹائن کیا گیا ہے۔ ایک فلیٹ میں دو لوگ رہ رہے ہیں، جہاں دو کمرے اور ایک باتھ روم ہیں۔اس بلڈنگ کو تین بلاک اے، بی اور سی میں بانٹا گیا ہے، جہاں اے اور سی میں کورونانگیٹو لوگ ہیں اور بی بلاک میں پازیٹو، جن کی تعداد 472 ہے۔اٹھارہ سالہ بابر کہتے ہیں آپ ہی ذرا سوچئے کہ اگر ایک کمرے میں آپ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لیے بند کر دیا جائے تو کیا حالت ہوگی۔ ہمیں یہاں اخبار وغیرہ بھی نہیں ملتا ہے۔ ٹی وی بھی نہیں ہے۔ دین کی کتابوں کے سہارے دن کاٹ رہے ہیں۔بابر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کئی لوگوں کے فون آتے رہتے ہیں، وہ بڑی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ کن لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ہماری کیا غلطی ہے۔ مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، نہیں تو میں آتا ہی نہیں۔ اتراکھنڈ سے 34 لوگ جماعت کے اجتماع میں شامل ہونے آئے تھے۔ ان میں 31 سالہ محمد حسیب میکینکل انجینئر ہیں اور روڑکی کے بھگوان پور تحصیل میں ایک کوچنگ سینٹر چلاتے ہیں۔اس وقت وہ بھی نریلا کورنٹائن سینٹر میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں یہاں 31 مارچ کو لایا گیا تھا۔ میری کو رونا رپورٹ نگیٹو ہے۔ صرف میں ہی نہیں، میرے اس بلاک میں 280 لوگ ہیں اور سبھی کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔حسیب نے بتایا کہ ابھی صاف نہیں ہے کہ کب تک انہیں چھوڑا جائیگا۔وہ کہتے ہیں پہلے تو ہمیں یہاں یہ بول کر لایا گیا تھا کہ 14 دن رکھا جائیگا۔ بعد میں کہا کہ حکومت نے مدت بڑھاکر 28 دن کر دی ہے۔ اب وہ ٹائم بھی پورا ہو گیا ہے، تب بھی پتہ نہیں چل رہا کہ کب جانے دیں گے۔ اسٹاف کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ڈسچارج پیپر بنائے جا رہے ہیں، اس میں وقت لگے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اتنے دن بیت جانے کے بعد بھی انہیں نہ چھوڑنے کی وجہ سے ان کے گھر والے کافی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہاہم ایک بارقرنطینہ سنٹر کی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو کنٹرولر نے ڈانٹ دیا اور کہاکہ بند کرو اسے باہر نہیں دیکھنا ہے۔ اب کیا کریں، اسی حالت میں رہنا ہے یہاں۔ حسیب کا کہنا ہے کہ اسٹاف کاسلوک بھی اچھا رہا ہے۔ لیکن ان کی ٹیسٹنگ رپورٹ ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔ صرف بتا دیا گیا ہے کہ رپورٹ نگیٹو آئی۔تامل ناڈومیں ترچی کے رہنے والے 44 سالہ محمد حنیفہ کپڑے کے ایک دکان میں کام کرتے ہیں اور 19 مارچ کو اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ جماعت کے اجتماؑع میں شامل ہونے دہلی آئے تھے، لیکن مرکز میں کو رونا انفیکشن کی وجہ سے انہیں بھی کورنٹائن سینٹر آنا پڑا۔وہ بتاتے ہیں ہم سب کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔ گھر پر ان کی بیوی اور ایک بیٹا ہے بے حد پریشان ہیں۔اس سینٹر میں موجود دہلی حکومت کے ایک اہلکار نے نام نہ لکھنے کی شرط پر بتایایہاں کورنٹائن کئے گئے این آر آئی اور غیر ملکی لوگوں کو مدت ختم ہوتے ہی گھر بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت کے مسلمانوں کوابھی تک جانے نہیں دیا گیا ہے۔دہلی حکومت نے مارچ 2020 میں ڈی ڈی اے کی اس بلڈنگ کو کورنٹائن سینٹر میں بدل دیا تھا۔ شروع میں یہاں پر 250 غیر ملکی شہریوں کو رکھا گیا تھا۔ بعد میں اس کی صلاحیت بڑھائی گئی اور نظام الدین مرکز سے لائے گئے تقریباً 1000 لوگوں کو یہاں رکھا گیا۔دہلی میں تبلیغی جماعت کے کل 3013 ممبرکورنٹائن سینٹر میں رہ رہے ہیں۔ اس میں سے 567 غیر ملکی شہری اور 2446 بھارتی مسلمان ہیں۔کو روناانفیکشن کے معاملے سامنے آنے کے بعد حکومت نے نظام الدین مرکز کی بلڈنگ سے 2346 لوگوں کو نکالا تھا۔ اس میں سے 536 لوگوں کو اسپتال میں شفٹ کیا گیا اور باقی لوگوں کو کورنٹائن سینٹر بھیج دیا گیا تھا۔

سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سینے میں درد کے باعث ہسپتال داخل
بھارت کے سابق وزیر اعظم اور کانگریس کے اہم راہنما ڈاکٹر من موہن سنگھ کو طبیعت کی خرابی کے باعث نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے شعبہ کارڈیالوجی میں داخل کر دیا گیا ہے۔ انہیں سینے میں شدید تکلیف کے باعث نئی دہلی کی اس پریمئر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں فوری طور پر داخل کردیا۔ پروفیسر آف کارڈیالوجی ڈاکٹر نیتش نائیک نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کے اہم ٹیسٹ لے لئے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنے کے بعد صحیح صورتحال سامنے آئے گی۔ پاکستان کے شہر چکوال میں پیدا ہونے والے اوربھارتی ریاست راجستھان سے بھارتی راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر من موہن سنگھ 2010سے2014 تک بھارت کے وزیراعظم رہے۔ امرتسر میں سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹمپل میں سکھوں کے بڑی تعداد نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی جلد صحت یابی کے لئے پاٹھ شروع کر دیا ہے۔

کیا منفی 4 کے مقابلے میں منفی 1 چھوٹا ہوتا ہے؟ ریڈیو پاکستان نے بتا دیا
بھارت کی طرف پاکستانی علاقوں گلگت بلتستان، میر پور اور مظفرآباد کے موسم کا حال آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر پیش کرنے کے اعلان کے بعد ریڈیو پاکستان نے بھی گلگت کے موسم کی رپورٹ پیش کرنا شروع کر دی ہے لیکن گزشتہ روز گلگت کےشہر لداخ موسم کا جو حال پیش کیا گیا اس نے تمام پڑھے لکھے افراد کو اپنے میتھ کی کتابیں کھولنے پر مجبور کر دیا۔ ریڈیو پاکستان نے ٹوئٹر پر لداخ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت منفی چار ڈگری بتایا جب کہ ریڈیو ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک ڈگری رہا۔ میتھ کے مطابق منفی کے ساتھ اگر عدد بڑھتا رہے تو وہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے جب کہ ریڈیو کے ارباب اختیار کا میتھ اس کے برعکس ہے۔ بھارتی میڈیا نے ریڈیو پاکستان کی اس جلد بازی کو فوری طور پر اپنی خبروں کی ہیڈ لائیز میں شامل کر لیا جس کے بعد ریڈیو پاکستان نے اپنے اس ٹویٹ کو ہٹا دیا۔

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کیس کے حوالے سے بھارتی بیانات مسترد کر دیے۔
پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کیس میں بھارتی لیگل قونصل کے بیانات مسترد کر دیے۔اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بھارتی لیگل قونصل کے دوبارہ عالمی عدالت انصاف جانے کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی قونصل کے بیانات حقائق کے برعکس ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے بھارتی بیان میں کوئی حقیقت نہیں

نامور اداکارہ ماڈل اور گلوکارہ ہیر سنگھار کا انتقال
پاکستان کی نامور اداکارہ ماڈل اور گلوکارہ ہیر سنگھار طویل علالت کے بعد خان پور میں انتقال کر گئیں۔ہیر کافی عرصہ سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھیں اور کینسر سے جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئیں

معروف فلمی شاعر کیفی اعظمی کی 18 ویں برسی
برصغیر کےمشہور اردو شاعر کیفی اعظمی کی 18 ویں برسی آج منائی جارہی ہے وہ 10 مئی 2002 کو 83 سال کی عمر میں وفات پاگئے تھے۔ کیفی اعظمی جن کا اصل نام اختر حسین رضوی تھا اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں 14 جنوری 1919 کو پیدا ہوئے اور پہلی نظم 11 سال کی عمر میں تحریر کی۔1940 کے اوائل میں کیفی اعظمی بمبئی آ گئے اور صحافت کے شعبے سے منسلک ہوگئے اور یہیں ان کی شعری کا پہلا مجموعہ “جھنکار”شائع ہوا۔مختلف صلاحیتوں کے مالک کیفی اعظمی نے لاتعداد فلموں کے لئے نغمے لکھے، 1951 میں انہوں نے پہلی بار فلم بزدل کے لئے ایک گانا لکھا جس کے بول تھے، روتے روتے گزر گئی رات رے، فلم کاغذ کے پھول میں ان کے گانے“وقت نے کیا کیا حسیں ستم”کو بہت سراہا گیا۔ اس کے بعد پاکیزہ فلم کا گانا“چلتے چلتے کہیں کوئی مل گیا تھا”، ہیر رانجھا کا ”یہ دنیا یہ محفل“ اور ارتھ کے گیت“تم اتنا جو مسکرا رہے ہو”بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کی مقبولیت کی اصل وجہ ان میں جذبات کا بے پناہ اظہار، الفاظ کی خوبصورتی اور غیر منصفانہ معاشرے کے خلاف بغاوت کا عنصر تھا۔اردو شاعری کے فروغ کے لئے انتھک کام کرنے پر انہیں ساہتیا اکیڈمی فیلوشپ انعام سے نوازا گیا۔واضح رہے کہ کیفی اعظمی معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی کے والد اور شاعر جاوید اختر کے سسر تھے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیوں اور لاک ڈاون کو 279 روز بیت گئے
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیوں اور لاک ڈاون کو 279 روز بیت گئے. مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت نہ تھم سکی اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جوش اور جذبے میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی. مجاہدین کے کمانڈر ریاض نائکو کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے جوکڑی پابندیاں لگائی تھیں ان میں ابھی تک چوتھے روز بھی کسی قسم کی نرمی نہیں کی گئی. عوام کے موبائل فونز ابھی تک خاموش ہیں ، انٹرنیٹ کی سہولت منقطع ہے. کورونا وائرس کی سختیاں اور بھارتی فوج کی بربریت ہر آنے والے دن میں بڑھ رہی ہیں لیکن عوام کا حوصلہ بھی اسی رفتار سے بڑھ رہا ہے. گزشتہ روز حریت راہنماوں نے ریاض نائکو شہید اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں شہدا کو زبردست خراج عقیدت ہیش کیا . سخت پابندیوں کو پاوں تلے روندتے ہوئے کشمیری عوام کی بڑی تعداد بھی تقریب میں موجود تھی. عوام کے اس حوصلے اور جذبے کو دیکھتے ہوئے بھارتی فوج کے حوصلے بے حد پست ہو رہے ہیں. اب تک مجاہدین کے خوف سے تقریبآ 13 ہزار بھارتی فوجی کشمیر سے بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں. اکثر فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اس لئے ان کی خاطر وہ موت کو گلے سے نہیں لگا سکتے.ان فوجیوں کی دہائی سن کر ان کے جذبہ حب الوطنی کو داد دینی پڑتی ہے کہ ان کے نزدیک بھارت کی عزت کوئی معنی نہیں رکھتی انہیں صرف اپنے بچے عزیز ہیں. اس صورتحال کو دیکھنے کے بعد اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ موبقضہ کشمیر کے عوام جلد آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے.

سٹیٹ بینک کے کھاتے دار لٹ گئے
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں میجر بھوپندر سنگھ نگر کے علاقے میں واقع سٹیٹ بینک آف انڈیا کی برانچ میں کھاتے داروں کے ہزاروں روپے نامعلوم افراد نے لوٹ لئے. بینک کے باہر بیسیوں افراد اپنی شکایات لے کر برانچ کے باہر پہنچ گئے ہیں . ان کا کہنا کہ کہ کل سے ان کے اکاونٹ میں سے بذریعہ اے ٹی ایم ہزاروں روپے نکل چکے ہیں جب کہ ان کے اے ٹی ایم کارڈز ان کے پاس ہی موجود ہیں اور انہوں نے کوئی رقم نہیں نکلوائی.کھاتے داروں کا کہنا ہے کہ بینک برانچ والے ان کی شکایات سننے کو تیار نہیں، تاہم وہ بینک حکام سے ملنے کے بعد ہی وہاں سے روانہ ہوں گے.

وزیراعلیٰ کا کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافے نے حکمرانوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے.کورونا کی معمولی علامات ظاہر ہونے پر نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی فکر لاحق ہو گئی ہے کہ کہیں وہ بھی تو کورونا کی لپیٹ میں نہیں آگئے. آج نئی دہلی میں ایک تقریب میں انہیں کھانسی شروع ہو گئی جس کے بعد وہ فوری طور پر تقریب کو چھوڑ کر اپنی گاڑی میں جا بیٹھے. گاڑی میں بیٹھنے کے بعد بھی انہیں کھانسی کی شکایت رہی جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر اپنا اور اپنے پریوار کا کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے. نئی دہلی میں وزیراعلیٰ ہاوس کے ذرائع نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ اگر وزیراعلیٰ کا ٹیسٹ مثبت آگیا تو وزیراعلیٰ ہاوس کے تمام اسٹاف کو بھی فوری طور پرکورونا ٹیسٹ کروانا ہو گا. دریں اثنا وزیراعلیٰ ہاوس کے اسٹاف نے گزشتہ تین روز کے دوران وزیراعلیٰ سے ملنے والے تمام افراد کی فہرستیں مرتب کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ وزیراعلیٰ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں ان تمام افراد کو بھی ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاسکے.









