مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے یورپین پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ مں بھارتی حکومت کے کشمیر کے متعلق اقدامات اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بد ترین امتیازی سلوک کو موثر انداز میں اُجاگر کیا گیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ابھی ہونا باقی ہے، عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے نا جائز اور غیر قانونی اقدامات پر صرف تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے ستر سال سے حل طلب اس تنازعہ کو حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ہفتہ کے روز یورپین پارلیمنٹری سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت میں بی جے پی حکومت اور اس کی نظریاتی اتحادی آر ایس ایس کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم اور امتیازی سلوک کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں شہریت قانون میں تبدیلی کے نام پر ایسے قوانین لائے گئے کہ اب بھارت میں کسی شہری کے حقوق کا تعین اُس کے مذہب کی بنیاد پر ہو گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھارت کے سیکولر ازم کی موت ہے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر آبادی کے تناسب میں تبدیلی لانے کے لیے کوشش کر رہا ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اُنہوں نے کہا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ جو ہندو ہے بس وہی ہندوستانی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی حکومت کے اقدامات کے خلاف عوامی رد عمل کو براہ راست کچلنے کے بجائے مودی اب نسلی اور مذہبی کارڈ کھیلتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں مخالف جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کوشش میں وہ کشمیر کے سوال کو اپنی مسلم دشمن مہم میں خاص طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کے روز مقبوضہ کشمیر پر حملہ کر کے جو محاصرہ کرفیو اور لاک ڈاون لگایا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ اس محاصرے اور لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج نے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بند کیا جہاں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ان سب کی زندگیاں خطرات سے دو چار ہیں۔ اب کرونا وائرس وبا پھوٹنے کے بعد بھارت نے ایک بار پھر پہلے سے محصور مقبوضہ ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کر کے کشمیر کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ اور اس لاک ڈاؤن کی آڑ میں کشمیری نوجوانوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کر کے اُنہیں دہشت گرد، عسکریت پسند اور علیحدگی پسند کا نام دیا جا رہا ہے۔ یورپین پارلیمانی ریسرچ سروس کی رپورٹ پر مذید تبصرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ رپورٹ کا یہ حصہ خاص طور پر قابل توجہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں جمہوریت، برداشت، قانون کی حکمرانی اور مختلف مذاہب کے مابین ہم آہنگی کا تصور مکمل طور پر اب تبدیل ہو رہا ہے اور اس کی جگہ اب ہندو بالا دستی اور ہندو قوم پرستی نے لے لی ہے جو پورے خطہ کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ اور الارم ہے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid
-

گاؤ موتر پی کرکورونا سے معافی مانگ لی
بھارت میں کورونا وباکے اثرات سے بچنے کے لیے گائے کا پیشاب پینے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پارٹی منعقد کی گئی. جس میں شہر کے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی. سب شرکا کی کورونا سے بچنے کے لیے گاؤمُترسے تواضع کی گئی. اس پارٹی کا اہتمام سیاسی جماعت آل انڈیا ہندومہاسبھا کے صدر سوامی چکراپانی مہارکی جانب سے کیا گیا. تقریب کے شرکا نےگاؤ مُتر پی کر آگ کے گرد عبادتیں اور کورونا سے بچنے کے لیے پرارتھنا کی. سوامی چکراپانی مہاراج نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس ان سب کے لیے سزا بن کر آیا ہے جو سبزی دالوں کے بجائے جانوروں کو مار کر ان کا گوشت کھاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ان سب کی طرف سے کورونا وائرس سے معافی مانگتا ہوں اور عہد کرتا ہوں کہ آئندہ بھارت میں کوئی گوشت نہیں کھائے گا. انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کے سب ہی راہنما اور کارکن جب بیمار ہوتے ہیں تو اپنا علاج گاؤمُتر سے کرتے ہیں مگر وہ سب چھپ کر پیتے ہیں، گاؤ مُتر بھگوان کی طرف سے ایک تحفہ ہے پتہ نہیں کیوں ہمارے لیڈر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں، چُھپ کر پینے سے گاؤمتر کی تاثیر زائل ہو جاتی ہے۔
-

40 روز سے جبری طور پر آئسولیشن میں رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288 افراد نے ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مختلف آسو لیشن سنٹرز میں گزشتہ 40روز سے جبری طور پر رکھے گئے تبلیغی جماعت کے 3288افراد کی طرف سے نئی دہلی کی معروف سماجی کارکن خاتون صبیحہ قادری نے ہائی کورٹ میں ان کی افراد کی رہائی کے لئےدرخواست دی ہے. سینئر وکیل شاہد علی کی وساطت سے دی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئسولیشن کے نام پرمختلف ممالک سے دہلی میں حضرت نظام الدین کی درگاہ پر آنے والے ان افراد نے تین مرتبہ کورونا ٹیسٹ کروائے جو ہر مرتبہ منفی آئے. اس کے باوجود ان تمام افراد کو ان کے گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.اس کے علاوہ دو افرادان آئسولیشن سنٹرز میں انتقال بھی کر گئے لیکن انتظامیہ نے ان وفات پانے والے افراد کے بارے میں بھی نامناسب رویہ اختیار کیا اور انہیں وہیں سپرد خاک کر دیا گیا.درخواست میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی بنائی جائے کیونکہ دونوں افراد شوگر کے مریض تھے لیکن ان کی ادویات کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا گیا.واضح رہے کہ دہلی کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ 6 مئی کوآئسولیشن کی مدت پوری ہونے والے افراد کو ان کے گھروں میں بھیج دیا جائے گا لیکن اب تک 10 روز گزرنے کا باوجود انہیں گھروں کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی.
-

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پھنسی پاکستانی خاتون انتقال کر گئی. انصار برنی کا انکشاف
اقوام متحدہ میں سابقہ مشیر خاص برائے انسانی حقوق ایڈووکیٹ انصار برنی نے انکشاف کیا ہےکہ گزشتہ دس سے پندرہ سال کے دوران بھارتی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں سے شادیاں کرکے کشمیر میں جانے والی تین سو سے زائد پاکستانی خواتین ان کے بچے اور مرد انتہائی برے حالات میں زندگی بسر کر رہی ہیں. انہوں نے کہا کہ وہاں پھنسنے والوں میں سے ایک خاتون امبرین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئی ہے جسے مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی حکام نے سپرد خاک کر دیا ہے. جب کہ اس کے بارے میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کو بھی مطلع نہیں کیا گیا.انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈاون اور کرفیو کی وجہ سے وہاں پر موجود کئی پاکستانی خواتین کو اپنے شوہروں کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں پر ہیں جب کہ کچھ شوہروں کو اپنی خواتین کا پتہ نہیں کہ وہ کہاں اور کن حالات میں ہیں. بھارتی حکومت کی طرف سےمقبوضہ کشمیر میں طویل عرصہ سے نافذ کئے گئے کرفیو اورلاگ ڈاونکافی عرصہ بیت گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور جان بچانے والی ادویات کی کمی کے باعث ہزاروں کشمیریوں بشمول خواتین و بچوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور دن بدن انسان مرنے کے اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں لیکن پاکستانی حکومت نے وہاں پر پھنسے پاکستانیوں کی رہائی پر پوری طرح خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور خواتین بچوں مردوں کی عملی مدد کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے جو انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی آئین اور نئے قانوں کے تحت مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ 15 سال سے پھنسے پاکستانیوں کو وہاں کی شہریت نہیں مل سکتی اور جب شہریت نہیں ملتی تو ٹریولنگ کاغذات نہیں ملیں گے ان کی کوئی دادرسی نہیں کرتاانہوں نے کہاکہ جب بھارت میں انسانیت کی خلاف ورزی پر ہم کھلے عام مذمت کرتے ہیں آیا پاکستان میں کوئی ایسا وزیر کوئی ایسا شخص نہیں جو اس مسئلہ پر دو الفاظ بلند کرے،انصار برنی نے حکومت پاکستان سے انسانیت کے ناطے ایک مرتبہ پھر پر زور اپیل کی کہ خدارا بھارت سے احتجاج کیا جائے کہ
کشمیر میں پھنسی تین سو سے زائد پاکستانی خواتین، ان کے بچوں اور شوہروں کی واپسی کیلئے فوری طور پراقدامات کئے جائیں. -

شاہ محمود قریشی کا جاپان کے وزیر خارجہ توشی مِٹسو موٹیجی سے ٹیلیفونک رابطہ
پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جاپان کے وزیر خارجہ توشی مِٹسو موٹیجی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کرونا وبائی چیلنج اور اس کے مضمرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا. قریشی نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جاپانی حکومت کی جانب سے کیے گئے بروقت اور موثر اقدامات کی تعریف کی. انہوں نے کرونا وبا کے باعث جاپان میں ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاپانی وزیر خارجہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ موجودہ وبائی چیلنج، اس صدی میں انسانیت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. وزیر خارجہ نے کرونا وبا اور ٹڈی دل حملے کے دوران، پاکستان کی معاونت پر جاپانی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان، اپنے محدود وسائل کے ساتھ ایک طرف کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور دوسری جانب اپنے عوام کو بھوک سے بچانے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہا ہے. وزیر خارجہ نے کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے اور اس مشکل وقت میں، ترقی پذیر ممالک کیلئے معاشی معاونت کی فراہمی کیلئے، وزیر اعظم عمران خان کے مجوزہ "گلوبل ڈیٹ ریلیف” کے خدوخال سے جاپانی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا. انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ جاپان جی 7 اور جی 20 کا اہم رکن ہونے کے ناطے، اس گلوبل ڈیٹ ریلیف، تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا. وزیر خارجہ نے اپنے جاپانی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دنیا کرونا وبا سے نمٹنے میں مصروف عمل ہے تو دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے. انہوں نے کہا کہ موجودہ وبائی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ 9 ماہ سے جاری بدترین کرفیو کے خاتمے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ 80 لاکھ نہتے، مظلوم کشمیریوں کو خوراک اور ادویات کی فراہمی ممکن ہو سکے. وزیر خارجہ نے بھارتی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کو کرونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دینے اور ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات پر،جاپانی وزیر خارجہ کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا. دونوں وزرائے خارجہ کے مابین پاک جاپان تعلقات کے فروغ اور سفارتی تعلقات کی سترہویں سالگرہ بھرپور طریقے سے منانے پربھی اتفاق کیا گیا.
-

لاک ڈاون کے دوران پرایئویٹ اداروں کو ملازمین کو پوری تنخواہ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا. سپریم کورٹ
بھارتی سپریم کورٹ نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پرایئویٹ فرموں اور فیکٹریوں کو اپنے ملازمین کو لاک ڈاون کے دوران پوری تنخواہیں دینے کے حوالے سے جاری کردہ سرکلر کو 15 روز کے لئےمعطل کر دیا ہے. اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے یہ احکامات بھی جاری کئے ہیں کہ حکومت پوری تنخواہ نہ دینے والے اداروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرے.سپریم کورٹ نے یہ احکامات ایک پرایئویٹ ٹیکسٹائل فیکٹری کی طرف سے دی گئی درخواست پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جاری کئے. درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان کی ٹیکسٹائل مل بند پڑی ہے جس سے انہیں ہر ماہ تقریبآ دو کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے جب کہ انہیں وزارت ڈاخلہ کی طرف سے تمام مستقل، غیرمستقل اور ڈیلی ویجرملازمین کو لاک ڈاون کے دوران پوری تنخواہیں دینے کے احکامات جاری کئے ہیں.درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی مل ملازمین کو پونے دو کروڑ روپے تنخواہیں ادا کر کے مزید نقصان اٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی. ان حالات میں وزارت داخلہ کے سرکلر کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں.
-

نئی دہلی میں برف باری
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پڑنے والے غیر معمولی اولوں] سے پورے شہر نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔ شہر میں درجہ حرارت میں یک دم گراوٹ آگئی اور لوگ گرم کپڑے پہننے پر مجبور ہو گئے۔ نئی دہلی پہاڑی مقام شملہ کا منظر پیش کرنے لگا۔ موسم کی خرابی سے قبل شہر کا درجہ حرارت 38 ڈگری سنٹی گریڈ تھا جو اولے پڑھنے کے بعد 9 ڈگری سنٹی گریڈ تک گر گیا۔ شہر کی اکثر سڑکوں پر منچلے نوجوان نکل آئے اور برف کے مجسمے بناڈالے جو نئی دہلی کی تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ تھا۔ اولے پڑنے کا سلسلہ تقریبا 20 منٹ تک جاری رہا۔
[/video -

بھارت کی سب سے بڑی الیکٹرانکس کمپنی ‘ویڈیو کون”اور باغی ٹی وی میں دھماکہ خیز معاہدہ
بھارت میں الیکٹرونکس مصنوعات کی مینو فیکچرنگ کے حوالے سے سب سے بڑی کمپنی ویڈیو کون اور پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ویب ٹی وی باغی ٹی وی ڈاٹ کام کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ویڈیو کون کمپنی طرف سے تحریری طور پر باغی ٹی وی ڈاٹ کام کو آگاہ بھی کر دیا گیا ہے جس کے تحت باغی ٹی وی ڈاٹ کوم ویڈیو کون کی مصنوعات کو پاکستان سمیت دنیا بھی میں متعارف کروائے گا۔ 1985بھارت کے شہر اورنگ آباد میں اپنے کام کا آغاز کرکے اس وقت دنیاکے کئی ممالک میں اپنا نام پیداکرنے والی تقریباً 6ارب ڈالرز مالیت کی کمپنی ویڈیو کون کے چیئرمین وینو گوپال دھوت اور باغی ٹی وی ڈاٹ کام کے روح رواں مبشر لقمان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے بعد اس بات پرباہمی طور پر اتفاق کیا گیا کہ ویڈیو کون کی مصنوعات کے اشتہارات آئندہ ایک سال تک باغی ٹی وی ڈاٹ کام کی زینت بنیں گے جب کہ مختلف ٹاک شوز اور اہم ویڈیو پروگراموں میں ویڈیو کون کے اعلیٰ افسران نہ صرف اپنی مصنوعات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کریں گے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے حوالے سے بھی دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کو اپنے قیمتی مشوروں سے روشناس کریں گے۔ ویڈیو کون کمپنی اس وقت بھارت میں ٹیلی وژن سیٹ، واشنگ مشین، ایئر کنڈیشنرز، ریفریجریٹرز، مائیکرو ویو اوون اور الیکٹرونکس کی دیگر کئی مصنوعات تیار کر رہی ہے۔ اس وقت ویڈیو کون کمپنی کے بھارت میں 17شہروں میں مینو فیکچرنگ پلانٹس موجود ہیں۔ بھارت کے علاوہ ویڈیو کون کمپنی کے مین لینڈ چائنہ، میکسیکو، پولینڈ اور اٹلی میں بھی مینو فیکچرنگ پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ویڈیو کون کمپنی 2009سے بھارت میں موبائل فونز بنانے اور ڈی ٹی ایچ سروس کا آغاز بھی کر چکی ہے اس کے علاوہ ٹیلی کمیونی کیشن اور پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بھی ویڈیو کون کمپنی اپنا لوہا منوا چکی ہے جب کہ موجودہ کورونا وبا سے بچاؤ کے حوالے سے وینٹی لیٹرز، ماسک اور سینی ٹائزر نو پرافٹ نو لوس کے اصول پر تیار کر رہی ہے۔
-

لاک ڈاؤن میں حکومتی خامیوں کی رپورٹ کرنے والے6 صحافیوں کے خلاف 14ایف آئی آر درج
نئی دہلی: کو رونا وائرس کے حوالے سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں حکومتی نااہلی کی رپورٹنگ کرنے والےچھ صحافیوں کے ایف آر درج کر لی گئی.ہماچل کے ایک مقامی اخبارکے رپورٹر 38 سالہ اوم شرما کے خلاف اب تک تین ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ ان پر پہلی ایف آئی آر 29 مارچ کو سولن ضلع کے لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے مہاجر مزدوروں کے مظاہرہ کو فیس بک پرلائیونشر کرنے کی وجہ سے درج کی گئی۔ ان کے خلاف دوسری ایف آئی آر26 اپریل کو فیس بک پر ایک میڈیا ہاؤس کی خبرشیئر کرنے کے لیے درج کی گئی جب کہ ان کے خلاف تیسری ایف آئی آر 27 اپریل کو بدی، بروٹیوالا اور نالاگڑھ میں کرفیو میں نرمی کئے جانے کے ضلع مجسٹریٹ کے احکامات میں کئی خامیوں کے حوالے سے فیس بک پر تنقیدکرنے پردرج کی گئی۔ شرما نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد ان کے اخبار کی سرکولیشن بند ہونے کی وجہ سے میں فیس بک پر تمام رپورٹنگ لائیو کر رہے تھے۔ ایف آئی آر درج ہونے کا بعد میرا کرفیو پاس بھی منسوخ کر دیا گیا ہے . ایک دوسرے اخبار کے رپورٹر 34 سالہ رپورٹر جگت بینس کے خلاف بھی لاک ڈاؤن کے دوران انتظامی خامیوں کو اجاگر کرنے کےجرم میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جب کہ ایک تیسے اخبار کے 44 سالہ صحافی اشونی سینی پر لاک ڈاؤن کے دوران پانچ مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ایک نیشنل نیوزچینل سے جڑے ڈل ہاؤس کے صحافی وشال آنند کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان تمام صحافیوں پرتقریبآ ایک جیسی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہیں.۔ ان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کے آرٹیکل 54، آئی پی سی کی دفعات 182 188، 269 (ایک خطرناک بیماری کا انفیکشن پھیلانے کے لیے لاپروائی سے کام کرنے کا امکان)، 270(کسی جان لیوا بیماری کو پھیلانے کے لیے کیا گیا خطرناک کام)اور 336(زندگی یا دوسروں کی ذاتی تحفظ کو خطرے میں ڈالنا)، آئی ٹی ایکٹ، 2000 کی دفعہ66 سمیت کئی دوسری دفعات شامل ہیں۔
-

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں متنازعہ بیانات دینے کا جرم. ڈاکٹر کفیل کی قید میں مزید توسیع
نئی دہلی: علی گڑھ ضلع انتظامیہ نے گورکھپور میڈیکل کالج کے معطل کئے گئے ڈاکٹر کفیل خان پر لگائے گئے نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کی مدت تین مہینے کے لیے بڑھا دی ہے۔علی گڑھ کے ایک سینئرایڈمنسٹریٹو افسر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر کفیل کورہا کئے جانےکی صورت میں امن وامان کی صورتحال کو خطرہ ہوسکتا ہے.یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات دینے کے جرم میں ڈاکٹر کفیل کو ممبئی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔ کفیل کو گزشتہ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی، لیکن آرڈر کے تین دن بعد بھی جیل انتظامیہ نے انہیں رہا نہیں کیا تھا۔اس کے بعد کفیل کے اہل خانہ نے علی گڑھ کی چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں توہین عدالت کی دائر کی تھی۔ عدالت نے 13 فروری کو دوبارہ رہائی کاآرڈر جاری کیا تھا، مگر اگلی روزضلع انتظامیہ نے کفیل پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کر دی تھی۔ جس کے بعد سے کفیل نئی دہلی کی متھرا جیل میں قید ہیں۔ کفیل کے بھائی عدیل خان نے این ایس اے کی مدت بڑھائے جانے کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن ہے۔ سارے کالج، یونیورسٹی اور ہوائی اڈے بھی بند ہیں، ایسے میں ڈاکٹر کفیل کیسے اور کہاں جاکر امن و امان بگاڑ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کفیل دل کے مریض بھی ہیں جب کہ ان کو جیل میں 102 دن ہو گئے ہیں لیکن ان کا ابھی تک کسی اسپیشلسٹ سے علاج نہیں کرایا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ آگرہ جیل میں 14 افراد کو رونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ جس سے دیگرقیدیوں میں کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے۔
