Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • شنگھائی تعاون تنظیم وزراءخارجہ کونسل کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے شاہ محمود قریشی کا خطاب

    شنگھائی تعاون تنظیم وزراءخارجہ کونسل کے غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے شاہ محمود قریشی کا خطاب

    ایس سی او وزراءخارجہ کونسل کا غیرمعمولی ورچوئل اجلاس سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خطاب کا مکمل متن
    عزت مآب وزیرخارجہ سرگئے لاوروف
    ایس سی او رکن ممالک کے معزز شرکاء
    عزت مآب سیکریٹری جنرل ویلاد میر نوروف
    خواتین وحضرات

    آج دنیا نظر نہ آنے والے نامعلوم دشمن سے برسرپیکار ہے۔

    ہفتوں کے اندر ہی کورونا وائرس جنگل کی آگ کی مانند تمام معاشروں اور صحت عامہ کے نظام میں پھیل چکا ہے اور پہلے ہی قلیل وسائل کو مزید ختم کررہا ہے، قیمتی جانیں لے رہا ہے اور معیشت کو اپاہج بنارہا ہے اور دنیا بھر کے کاروبار کو مفلوج بنا رہا ہے

    اس پیمانے پر کچھ بھی اس صدی میں نہیں دیکھاگیا۔

    4.1 ملین لوگ اس سے متاثر ہیں اور 3 لاکھ کے قریب لوگ موت کی وادی میں جاچکے ہیں۔

    چند دن کے اندر ہی دنیا میں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ۔

    آج جب ہم یہاں موجود ہیں آن لائن طریقے سے ، کورونا کا انسانی زندگی، معاش اور تمدن پر حملہ جاری ہے۔

    معزز شرکاءکرام

    اس افسوسناک صورتحال میں، میں ان تمام خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہوں جن کے پیارے کورونا وباءکی نذر ہوگئے ہیں۔ ہم ان کے غم میں شریک ہیں ۔

    میں روس کی جانب سے بروقت اجلاس منعقد کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتا ہوں۔

    مجھے اعتماد ہے کہ یہ وڈیو کانفرنس ایس سی او کو کورونا کے خلاف ایک مضبوط اور اجتماعی کاوشوں کا محور بنائے گی۔

    معزز خواتین وحضرات

    یہ اجلاس فسطائیت، عسکریت اور متشدد قومیت پسندی کے خلاف فتح اور اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے۔

    کورونا وباءکی صورت میں اقوام متحدہ کو ان 75سال میں اپنی افادیت کے سب سے مشکل ترین امتحان کا سامنا ہے۔

    یہ امر باعث اطمنان ہے کہ ایس سی او نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کو مقدم رکھا ہے اور کثیرالقومیتی مقصد کو آگے بڑھایا ہے۔

    دنیا کی 40 فیصد آبادی کے مسکن اور اس کے چوتھائی جی ڈی پی کے طورپر ایس سی او خطہ ٹیکنالوجی، مادی، انسانی اور مالی وسائل سے مالامال ہے جن کی مدد سے کورونا جیسی سخت مشکل کے خلاف کوششوں میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
    مشترکہ مفاد، باہمی اعتماد واحترام کے شنگھائی جذبے کا مظہر ایس سی او درپیش چیلنج سے نمٹنے میں جامع تعاون استوار کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہے۔

    عوامی جمہوریہ چین اس جنگ میں خاص طورپر ایک کامیاب، موثر اور قابل تقلید مثال ہے ۔

    پاکستان اس بحران سے نبردآزما ہونے میں چین کی انتہائی ذمہ دارانہ کاوشوں کو خراج تحسین پیش پیش کرتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وباءکی روک تھام میں مدد کی فراہمی کو سراہتا ہے۔

    محترم حاضرین کرام

    26 فروری 2020کو پہلا کورونا کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان وباءکی روک تھام کے لئے انتہائی احتیاط پر مبنی موثر حکمت عملی پر کاربند ہے۔

    ٹیسٹ، ٹریس اور کورنٹین کی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاون کو اختیار کیا۔ رضاکار نوجوانوں کی ایک ریلیف فورس بنائی گئی ہے تاکہ ضرورت مندوں کی مدد کی جاسکے۔ 8 ارب امریکی ڈالر کا معاشی امدادی پیکج دیاگیا ہے۔

    ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں نے ہمارے سماجی تحفظ کے پروگرام سے استفادہ کیا ہے۔

    لاک ڈاون اور طلب میں کمی کے باعث روزگار کے مسائل سے دوچار افراد کو10 ارب درخت (بلین ٹری سونامی منصوبہ) کے ذریعے روزگار فراہم کیاجارہا ہے۔

    مزدور پیشہ صنعتوں کے لئے مراعات کا پیکج دیاگیا تاکہ معیشت کا پہیہ رواں رہے۔

    صحت کے نظام کو استوار رکھنے کے لئے کورونا وباءسے نمٹنے اور اس کے موثر مقابلے کے لئے 595 ملین ڈالر مالیت کی حکمت عملی (پی۔پی۔آر۔پی) کا اجرا کیاگیا ہے۔

    پاکستان میں اب تک کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ کورونا کا مرض پاکستان میں اپنی انتہاءکو پہنچ چکا ہے۔

    ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافے کے ساتھ اگرچہ متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہم نے متاثرین کی مقدار میں بہت بڑی تعداد میں اضافہ نہیں دیکھا۔ اموات کی تعداد بھی محدود ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ احتیاط کا دامن ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں خبردار رہنا ہے۔

    غالباً صحت سے بڑھ کر معاشی چیلنج بھی درپیش ہے۔ ترقی پزیر ممالک کورونا وباءکے باعث سنگین مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔

    عالمی بنک، آئی ایم ایف اور جی 20 کی جانب سے قرض کی ازسرنوتشکیل کے اقدام کا پاکستان خیرمقدم کرتا ہے لیکن ہم سجھتے ہیں کہ اس ضمن میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے ترقی پزیر ممالک کے ذمے واجب الادار قرضوں میں ریلیف کے عالمی اقدام کا مقصد ایک جامع منصوبہ کا اجراءہے تاکہ غریب ممالک کو قرض میں سہولت ملے اور وہ اپنے وسائل کورونا سے مقابلے اور اپنے لوگوں کی جان بچانے کے لئے بروئے کار لاسکیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو سنبھالا دے کر شرح نمو کو مستحکم کرسکیں۔

    کورونا وباءسے مل کر مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے میں ایس سی او کا اشتراک عمل ناگزیر ہے۔

    معزز حاضرین کرام

    کورونا وباءکے خلاف جنگ لڑتے ہوئے ہمیں خطے کی سلامتی کو لاحق دیگر خطرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔
    امریکہ اور طالبان میں امن معاہدہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جس سے افغانستان میں امن اور استحکام کی بحالی کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں جو دہائیوں سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔

    افغان قیادت کے لئے موقع ہے کہ وہ اس تاریخی مرحلے سے فائدہ اٹھائیں اور اجتماعی وجامع تصفیہ کے لئے مل کر کام کریں۔

    ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ کے ذریعے ایس سی او اس اہم مرحلے پر امن واستحکام کے فروغ میں اپنا نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    معزز حاضرین محفل

    فسطائیت، عسکریت اور متشدد قومیت پسندی کے خلاف فتح کی 75 ویں سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ دیگر قومیتوں سے بیزاری اور اسلام مخالف سوچ کو دنیا میں پنپنے نہ دیا جائے اور ان رجحانات کو دنیا مسترد کرے۔

    ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دہشگت گردی اور انتہاءپسندی کی ہر شکل سے نمٹنا ہماری اولین ترجیح رہنی چاہئے۔

    اس کے ساتھ ساتھ کسی کو یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کو سیاسی ہتھیار کے طورپر کسی دوسرے ملک، قوم یا مذہب کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرے۔

    غیرقانونی قبضہ کے شکار عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے اور ان کی مذمت کرنی چاہئے۔

    محترم حاضرین محفل

    ہم ایس سی او کے وباوں کی روک تھام میں تعاون کے مجوزہ معاہدے اور عالمی ادارہ صحت اور ایس سی او کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں اجتماعی کوششوں میں شرکت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    میں اس موقع پر درج ذیل سفارشات پیش کرنا چاہوں گا؛

    اول یہ کہ ہمیں عالمی قانون اور اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی مرکزیت کو بنیادی اصول کے طورپر تسلیم کرنا ہوگا اور معیار بنانا ہوگا۔
    کورونا وبا کے تناظر میں کسی طبقہ کے ساتھ مذہب، رنگ ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی کسی طبقہ کواس وباءکے لئے مورد الزام ٹھرایا یا نشانہ بنایاجائے۔

    دوم، یہ کہ بہترین طریقوں کو اختیارکیاجائے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے لئے صحت کی وزارتوں میں رابطوں کو بڑھایا جائے۔

    سوم، یہ کہ ہمیں ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہئے جہاں کورونا وائرس پر مشترکہ تحقیق کے لئے ہم سائنسی اور تکنیکی صلاحیت کو جمع کرسکیں تاکہ کورونا وباءکے علاج کے لئے ویکسین کی تیاری یا کسی شفا کے حصول کی راہ ہموار ہوسکے۔

    چہارم، یہ کہ ایس سی او ممالک کو نادار طبقات اور معاشروں کی معاشی مدد کے پہلو سے تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔ پاکستان کی اس ضمن میں تجویز ہوگی کہ ایس سی او کی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسداد غربت اور سینٹر آف ایکسیلنس تشکیل دیاجائے۔

    آخر میں میری تجویز ہوگی کہ ہمیں اپنے ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں تعاون مزید بڑھانا چاہئے اور ایس سی او ہسپتال الائنس کی تشکیل کے لئے کام کرنا چاہئے۔

    75 برس قبل جیسے متشدد قومیت پسندی کی قوتوں کے خلاف دنیا نے فتح حاصل کی تھی، آج کورونا وباءکے خلاف دنیا کو اسی اتحاد اور مقصدیت پر آنا ہوگا تاکہ اس چیلنج کے خلاف دنیا فتح حاصل کرے۔

    ایس سی او میں یہ کردکھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے

    سینٹ پٹرز برگ میں سربراہان مملک کی کونسل کے متوقع اجلاس کے حوالے سے ہم روسی پریذیڈنسی کی کامیابی کے لئے نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہیں۔

    میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

  • بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ  سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

    بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے کہا ہے کہ وہ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم بتادیں کہ کس نے آپ کو وزیراعظم بننے کا خواب دکھایا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صاحب ہمیں پتا ہے آپ نے اپنا سیاسی لوہا کیسے منوایا ہے۔ پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ ہمیں سب پتا ہے، وفاقی وزیر صاحب آپ نے ہماری جماعت کیوں چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اب بھی پی ٹی آئی یا عمران خان کا نہیں اپنا سیاسی لوہا منوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی وزیرنے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سے صوبائی تعصب کی بو آتی ہے، یہ سندھ کارڈ کھیلتے ہیں، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب میں جنوبی پنجاب اور بلوچستان کی پسماندگی کی بات کرتا ہوں تو مجھ پر بلوچستان اور جنوبی کارڈ کھیلنے کا الزام کیوں نہیں لگاتے؟

  • اسکول 6 ماہ تک بند رہ سکتے ہیں

    اسکول 6 ماہ تک بند رہ سکتے ہیں

    سندھ کے وزیرِ تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ شاید اسکول 6 ماہ تک نہ کھولے جا سکیں. کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مختلف ماڈلز پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اسکول یکم جون سے نہیں کھولے جا رہے جب کہ اسکول کھولنے کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی سے آٹھویں کلاس کے طلباء کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ بڑی کلاسوں کے طالب علموں کوبورڈز کے قوانین کے مطابق امتحانات کے بغیر پروموٹ نہیں کیا جا سکتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ طلبہ کو مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے، پہلی سے آٹھویں جماعت کے طالب علموں کو پروموٹ کرنے کے فیصلے میں بھی مسائل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بچوں کو پروموٹ کرنا ہے تو ان کی پچھلی جماعت کی کارکردگی کو دیکھنا ہو گا، کوئی کسی مضمون میں فیل ہے تو پھر اس مضمون کا امتحان اس سے حالات بہتر ہونے پر لیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ اسکولوں کو بند نہیں رکھا جا سکتا، بچوں کی تعلیم کو بھی دیکھنا ہے، کچھ دنوں میں آن لائن تعلیمی نظام کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

  • ڈاکٹر من موہن سنگھ  ہسپتال سے ڈسچارج

    ڈاکٹر من موہن سنگھ ہسپتال سے ڈسچارج

    بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کوبھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے.انہیں پیر کے روز اآئی سی یو سے پرائیویٹ وارڈمنتقل کر دیا گیا تھا.87 سالہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو اتوار کے روز سانس کی تکلیف کے باعث نئی دہلی کےآل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کارڈیالوجی وارڈ میں داخل کیا گیا تھا جہاں ان کے کورونا سمیت کئی ٹیسٹ کئے گئے تھے. کورونا کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں آج گھر جانے کی اجازت دے دی ہے تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے

  • فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش، زی نیوز کے ایڈیٹر ان چیف سدھیر چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج

    فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش، زی نیوز کے ایڈیٹر ان چیف سدھیر چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج

    بھارت میں کیرالا پولیس نے ہندی نیوزچینل زی نیوز کے ایڈیٹر ان چیف سدھیر چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔چودھری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ٹی وی شوڈی این اے میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی اور اسلام کی توہین کی ہے۔یہ ایف آئی آرکیرالاکے وکیل پی گاوس کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔ گاوس کمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکی ذیلی جماعت آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ریاستی سکریٹری بھی ہیں۔سدھیر چودھری پر آئی پی سی کی دفعہ 295اے کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ گاوس نے پولیس میں شکایت درج کرائی جس میں انہوں نے کہا کہ چودھری نے اپنے شو کے ذریعے مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایااور ایک متنازعہ چارٹ دکھایا۔ ان کامقصد فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹی وی شو آئین کے آرٹیکل 19(2) میں اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور یہ آئی پی سی کی دفعہ 153 اے، 153بی، 295اے، 502 اور 503 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ66اے کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ شکایت گزار نے کہا ہے کہ یہ ٹی وی پروگرام 2018 کے کیبل ٹی وی ریگولیشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔ گاوس نے اپنی شکایت میں نہ صرف چودھری کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے بلکہ زی نیوز کا لائسنس معطل کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔ کیرالاپولیس کے انسپکٹر بینو تھا مس نے کہاہم نے شکایت کی بنیاد پر معاملہ درج کیا ہے جب کہ مزید تحقیقات ابھی جاری ہے۔

  • کورونا کے نام پر مسلمانوں کو تنگ کرنے کا بھارتی حکومت کا سلسلہ

    کورونا کے نام پر مسلمانوں کو تنگ کرنے کا بھارتی حکومت کا سلسلہ

    بھارتی حکومت نے کورونا کے نام پر مسلمانوں کو تنگ کرنے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس حوالے سے دارالحکومت نئی دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کے دربار سے قرنطینہ سنٹر منتقل کئے گئے کئی افراد نے کھل کر احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔قرنطینہ کے نام پر تبلیغی جماعت کے اراکین کومارچ سے یہاں مختلف سنٹرز میں قید کررکھاگیا ہے۔ بھارتی شہر میرٹھ کے رہنے والے دو دوست محمد بابر اور محمدایاز 12ویں کا بورڈ امتحان دیکر تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل ہونے کے لیے 18 مارچ کو دہلی گئے تھے۔ان کی رہائش نظام الدین کے دربار پر ہی تھی جہاں کچھ ہی دن بعد کو رونا انفیکشن پھیلنے کاانکشاف ہوا اور جماعت کے دوسرے لوگوں کی طرح ان دونوں دوستوں کو بھی دہلی کے نریلا کورنٹائن سینٹر میں منتقل کر دیا گیا۔ انہیں یہاں آئے تقریباً 40 دن ہو گئے ہیں اور انہوں نے کورنٹائن میں رہنے کی مدت بھی پوری کر لی ہے، لیکن ابھی تک انہیں اپنے گھروں کو جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔بابر بتاتے ہیں کہ ان کا دو بار کو رونا کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور دونوں بار میری رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔اس کے باوجودا نہیں واپس نہیں جانے دیا جا رہا۔ جب انتظامیہ سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کب جانے دیں گے تو جواب ملتا ہے کہ بس کچھ دن اور رک جاؤ پھر چلے جانا۔یہ بے بسی صرف بابر کی ہی نہیں ہے، بلکہ یہاں لائے گئے جماعت کے کئی لوگوں نے الزام لگایاہے کہ ان کی ٹیسٹ رپورٹ نگیٹو آنے کے باوجود انہیں یہاں سے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔دہلی ڈویلپمنٹ تھارٹی کی اس 14 منزلہ عمارت کے فلیٹوں میں تبلیغی جماعت کے کل 932 لوگوں کو کورنٹائن کیا گیا ہے۔ ایک فلیٹ میں دو لوگ رہ رہے ہیں، جہاں دو کمرے اور ایک باتھ روم ہیں۔اس بلڈنگ کو تین بلاک اے، بی اور سی میں بانٹا گیا ہے، جہاں اے اور سی میں کورونانگیٹو لوگ ہیں اور بی بلاک میں پازیٹو، جن کی تعداد 472 ہے۔اٹھارہ سالہ بابر کہتے ہیں آپ ہی ذرا سوچئے کہ اگر ایک کمرے میں آپ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لیے بند کر دیا جائے تو کیا حالت ہوگی۔ ہمیں یہاں اخبار وغیرہ بھی نہیں ملتا ہے۔ ٹی وی بھی نہیں ہے۔ دین کی کتابوں کے سہارے دن کاٹ رہے ہیں۔بابر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کئی لوگوں کے فون آتے رہتے ہیں، وہ بڑی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ کن لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ہماری کیا غلطی ہے۔ مجھے پتہ بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، نہیں تو میں آتا ہی نہیں۔ اتراکھنڈ سے 34 لوگ جماعت کے اجتماع میں شامل ہونے آئے تھے۔ ان میں 31 سالہ محمد حسیب میکینکل انجینئر ہیں اور روڑکی کے بھگوان پور تحصیل میں ایک کوچنگ سینٹر چلاتے ہیں۔اس وقت وہ بھی نریلا کورنٹائن سینٹر میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں یہاں 31 مارچ کو لایا گیا تھا۔ میری کو رونا رپورٹ نگیٹو ہے۔ صرف میں ہی نہیں، میرے اس بلاک میں 280 لوگ ہیں اور سبھی کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔حسیب نے بتایا کہ ابھی صاف نہیں ہے کہ کب تک انہیں چھوڑا جائیگا۔وہ کہتے ہیں پہلے تو ہمیں یہاں یہ بول کر لایا گیا تھا کہ 14 دن رکھا جائیگا۔ بعد میں کہا کہ حکومت نے مدت بڑھاکر 28 دن کر دی ہے۔ اب وہ ٹائم بھی پورا ہو گیا ہے، تب بھی پتہ نہیں چل رہا کہ کب جانے دیں گے۔ اسٹاف کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ڈسچارج پیپر بنائے جا رہے ہیں، اس میں وقت لگے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اتنے دن بیت جانے کے بعد بھی انہیں نہ چھوڑنے کی وجہ سے ان کے گھر والے کافی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہاہم ایک بارقرنطینہ سنٹر کی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو کنٹرولر نے ڈانٹ دیا اور کہاکہ بند کرو اسے باہر نہیں دیکھنا ہے۔ اب کیا کریں، اسی حالت میں رہنا ہے یہاں۔ حسیب کا کہنا ہے کہ اسٹاف کاسلوک بھی اچھا رہا ہے۔ لیکن ان کی ٹیسٹنگ رپورٹ ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔ صرف بتا دیا گیا ہے کہ رپورٹ نگیٹو آئی۔تامل ناڈومیں ترچی کے رہنے والے 44 سالہ محمد حنیفہ کپڑے کے ایک دکان میں کام کرتے ہیں اور 19 مارچ کو اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ جماعت کے اجتماؑع میں شامل ہونے دہلی آئے تھے، لیکن مرکز میں کو رونا انفیکشن کی وجہ سے انہیں بھی کورنٹائن سینٹر آنا پڑا۔وہ بتاتے ہیں ہم سب کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔ گھر پر ان کی بیوی اور ایک بیٹا ہے بے حد پریشان ہیں۔اس سینٹر میں موجود دہلی حکومت کے ایک اہلکار نے نام نہ لکھنے کی شرط پر بتایایہاں کورنٹائن کئے گئے این آر آئی اور غیر ملکی لوگوں کو مدت ختم ہوتے ہی گھر بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن تبلیغی جماعت کے مسلمانوں کوابھی تک جانے نہیں دیا گیا ہے۔دہلی حکومت نے مارچ 2020 میں ڈی ڈی اے کی اس بلڈنگ کو کورنٹائن سینٹر میں بدل دیا تھا۔ شروع میں یہاں پر 250 غیر ملکی شہریوں کو رکھا گیا تھا۔ بعد میں اس کی صلاحیت بڑھائی گئی اور نظام الدین مرکز سے لائے گئے تقریباً 1000 لوگوں کو یہاں رکھا گیا۔دہلی میں تبلیغی جماعت کے کل 3013 ممبرکورنٹائن سینٹر میں رہ رہے ہیں۔ اس میں سے 567 غیر ملکی شہری اور 2446 بھارتی مسلمان ہیں۔کو روناانفیکشن کے معاملے سامنے آنے کے بعد حکومت نے نظام الدین مرکز کی بلڈنگ سے 2346 لوگوں کو نکالا تھا۔ اس میں سے 536 لوگوں کو اسپتال میں شفٹ کیا گیا اور باقی لوگوں کو کورنٹائن سینٹر بھیج دیا گیا تھا۔

  • سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سینے میں درد کے باعث ہسپتال داخل

    سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سینے میں درد کے باعث ہسپتال داخل

    بھارت کے سابق وزیر اعظم اور کانگریس کے اہم راہنما ڈاکٹر من موہن سنگھ کو طبیعت کی خرابی کے باعث نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے شعبہ کارڈیالوجی میں داخل کر دیا گیا ہے۔ انہیں سینے میں شدید تکلیف کے باعث نئی دہلی کی اس پریمئر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں فوری طور پر داخل کردیا۔ پروفیسر آف کارڈیالوجی ڈاکٹر نیتش نائیک نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کے اہم ٹیسٹ لے لئے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنے کے بعد صحیح صورتحال سامنے آئے گی۔ پاکستان کے شہر چکوال میں پیدا ہونے والے اوربھارتی ریاست راجستھان سے بھارتی راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر من موہن سنگھ 2010سے2014 تک بھارت کے وزیراعظم رہے۔ امرتسر میں سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹمپل میں سکھوں کے بڑی تعداد نے ڈاکٹر من موہن سنگھ کی جلد صحت یابی کے لئے پاٹھ شروع کر دیا ہے۔

  • کیا منفی 4 کے مقابلے میں منفی 1 چھوٹا ہوتا ہے؟ ریڈیو پاکستان نے بتا دیا

    کیا منفی 4 کے مقابلے میں منفی 1 چھوٹا ہوتا ہے؟ ریڈیو پاکستان نے بتا دیا

    بھارت کی طرف پاکستانی علاقوں گلگت بلتستان، میر پور اور مظفرآباد کے موسم کا حال آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر پیش کرنے کے اعلان کے بعد ریڈیو پاکستان نے بھی گلگت کے موسم کی رپورٹ پیش کرنا شروع کر دی ہے لیکن گزشتہ روز گلگت کےشہر لداخ موسم کا جو حال پیش کیا گیا اس نے تمام پڑھے لکھے افراد کو اپنے میتھ کی کتابیں کھولنے پر مجبور کر دیا۔ ریڈیو پاکستان نے ٹوئٹر پر لداخ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت منفی چار ڈگری بتایا جب کہ ریڈیو ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک ڈگری رہا۔ میتھ کے مطابق منفی کے ساتھ اگر عدد بڑھتا رہے تو وہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے جب کہ ریڈیو کے ارباب اختیار کا میتھ اس کے برعکس ہے۔ بھارتی میڈیا نے ریڈیو پاکستان کی اس جلد بازی کو فوری طور پر اپنی خبروں کی ہیڈ لائیز میں شامل کر لیا جس کے بعد ریڈیو پاکستان نے اپنے اس ٹویٹ کو ہٹا دیا۔

  • پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کیس کے حوالے سے بھارتی بیانات مسترد کر دیے۔

    پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کیس کے حوالے سے بھارتی بیانات مسترد کر دیے۔

    پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوش یادیو کیس میں بھارتی لیگل قونصل کے بیانات مسترد کر دیے۔اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بھارتی لیگل قونصل کے دوبارہ عالمی عدالت انصاف جانے کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی قونصل کے بیانات حقائق کے برعکس ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے بھارتی بیان میں کوئی حقیقت نہیں

  • نامور اداکارہ ماڈل اور گلوکارہ ہیر سنگھار  کا انتقال

    نامور اداکارہ ماڈل اور گلوکارہ ہیر سنگھار کا انتقال

    پاکستان کی نامور اداکارہ ماڈل اور گلوکارہ ہیر سنگھار طویل علالت کے بعد خان پور میں انتقال کر گئیں۔ہیر کافی عرصہ سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھیں اور کینسر سے جنگ لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئیں