[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]بھارتی فلمی صنعت کے ماضی کے کریکٹرایکٹر اور ڈانسر ممتاز علی کی 46ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔بھارتی فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں اداکارہ کا ڈانس کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا اس لئے تقریباً ہر فلم میں ایک مرد ڈانسر کا کردار ضرورشامل کیا جاتا تھا۔یہ سلسلہ تقسیم ہند کے بعد بھی جاری رہا۔ ممتاز علی کا شمار بھی ایسے ہی ڈانسروں میں ہوتا تھا جو فلم میں مزاحیہ گانوں پر ڈانس کرتے تھے۔ ممتاز علی 15مارچ1905کو مدراس میں پیدا ہوئے ابھی ان کی عمر 7سال ہی تھی کہ ایک حادثے میں ان کی ماں اور باپ دونوں انتقال کر گئے جس کے بعدوہ اور ان کی بہن 9سالہ کریم النساء بالکل اکیلے رہ گئے۔ ان کے پاس کھانے پینے کے لئے بھی پیسے نہ تھے۔دونوں بمبئی کی گلیوں میں پھرتے رہتے۔ اور اگر کچھ کھانے کو مل جاتا تو کھا لیتے ورنہ بھوکے ہی سو جاتے۔ انہیں گانا گانے کا بھی شوق تھا۔ اسی شوق کو پورا کرنے کے عوض انہیں لوگ کچھ پیسے اور کھانا وغیرہ دے دیتے تھے۔ بمبئی کی گلیوں میں ان کی ملاقات معروف برطانوی صحافی اورانڈین سنیما کے مقبول اخبار بمبئے کرونیکل کے پبلشربینجمن جی ہورنیمین سے ہوئی جو انہیں اپنے گھر لے گئے اور انہیں اپنا ملازم رکھ لیا۔ اس کے ساتھ وہ ان کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔1933میں بینجمن نے انہیں اپنے ایک دوست ہیمانشو رائے سے ملوایا جو اس وقت اپنی نئی فلم کمپنی بمبئے ٹاکیز بنا رہے تھے۔انہوں نے ممتاز علی کو نوکری دے دی اور یوں ممتاز علی بمبئے ٹاکیز کے پہلے ملازمیں میں شمار ہوئے۔ ممتاز بمبئے ٹاکیز کے بینر تلے بننے والی پہلی فلم جوانی کی ہوا کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ بن گئے۔ ہیمانشو رائے انہیں اپنی فلموں میں معولی سا رول دے دیتے تھے۔ ان کی پہلی فلم 1937میں بننے والی فلم جنم بھومی تھی۔ پریم کہانی، ساوتری، جیون پربھات، وچن، نرملا وغیرہ ان کی ابتدائی فلمیں تھیں۔1941میں انہوں نے فلم جھولا میں ایک گانا گایا اور اس کے ساتھ ڈانس بھی کیا۔ گانے کے بول تھے ‘میں تو دلی سے دلہن لایا رے’یہ گانا اس وقت برصغیر کی ہر شادی بیاہ میں بجایا جانے لگا۔اس دوران ہیمانشو رائے کے بھائیوں نے بمبئے ٹاکیز کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد 1941 میں ممتاز علی نے بمبئے ٹاکیز کو خیرباد کہہ دیا۔ ممتاز علی نے اپنی فلمی زندگی میں 28فلموں میں کام کیا جن میں ہماری بات، بسنت، شہنائی، کھڑکی، سنگیتا، نرالا،قافلہ وغیرہ بے حد مشہور ہوئیں۔ان کی آخری فلم 1974میں بننے والی فلم کنوارہ باپ تھی۔ ممتاز علی6مئی 1974کو69سال کی عمر میں بمبئی میں انتقال کر گئے.ممتاز علی نے اکتوبر 1929میں لطیف النساء سے شادی کی۔ ان کے ہاں آٹھ بچے پیدا ہوئے جن کے نام حسینی، محمود، خیرالنساء، عثمان، ملک النساء، زبیدہ، شوکت اور انور تھے۔ ان کا دوسرا بڑا بیٹا محمود بھارتی فلمی صنعت کا سب سے کامیاب کامیڈین بنا۔ محمود نے اپنی فنی زندگی کا آغاز 1943 کی شہرہ آفاق فلم قسمت سے کیا۔محمود نے اداکاہ مینا کماری کی بہن ماہ لقا سے شادی کی۔ ممتاز کی ایک بیٹی ملک النساء 1950کی دہائی کی معروف ڈانسر بنی۔ ان کا فلمی نام مینو ممتاز تھا۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

تین سو کے قریب بھارتی شہریوں کی اگلے ہفتے وطن واپسی کا امکان
بھارتی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث بھارت میں مکمل لاک ڈاؤن اور پاک بھارت سرحد اورفضائی و ٹرین راستے بند ہونے کے بعد پاکستان میں پھنسے ہوئے تین سو کے قریب بھارتی شہریوں کو بھارت واپس بلانے کی تیاری کر لی ہے۔نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں پاک بھارت واہگہ اٹاری سرحد ایک بار پھر ایک روز کے لئے خصوصی طور پر کھولی جائے گی جہاں سے ان بھارتی شہریوں کی وطن واپسی ممکن ہو سکے گی۔ ذرائع کے مطابق بھارتی شہریوں کی آئندہ ہفتے بھارت واپسی ہو سکتی ہے۔اس سلسلے میں بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم اپنے تمام شہریوں سے رابطے مکمل کر لئے ہیں۔ پاکستان میں پھنسے ان بھارتی شہریوں میں وہ طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں جن کے یا تو ویزے ختم ہو چکے ہیں یا پھر ان کی کلاسیں پوری ہو چکی ہیں۔ان میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے عزیزو اقارب سے ملنے پاکستان پہنچے تھے لیکن لاک ڈاؤن اور سرحدیں بند ہونے کے باعث بھارت واپس نہیں جا سکے۔ نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے ان تمام افراد کی فہرستیں مرتب کر لی ہیں اور اس سلسلے میں نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔بھارتی دفتر خارجہ اس معاملے میں اسلام آباد میں دفتر خارجہ کو ایک دو روز میں اپنی سفارشات بھیج دے گااوراپنے شہریوں کی واپسی کے لئے واہگہ بارڈرایک روز کے لئے خصوصی طور پر کھولنے کی درخواست کرے گا۔

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سینیئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی
بھارتی قابض افواج کی جانب سے ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کے حوالے سے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سینیئر سفارتکار مسٹر چیراکنگ ذیلیانگ کو آج دفتر خارجہ طلب کیا گیا. ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق پاکستان نے بھارتی سینیئر سفارتکار کو ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا.ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 4 مئی کو ایل او سی کے بگسر سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 45 سالہ وحید،55 سالہ ناظمہ بی بی، 12 سالہ عقیل، 50 سالہ زرینہ بیگم اور 30 سالہ شاہین بیگم شدید زخمی ہوئیں. ترجمان کے مطابق رواں برس بھارت اب تک جنگ بندی کی 957 مرتبہ خلاف ورزیاں کر چکا ہے جب کہ بھارتی فورسز ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر مسلسل معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں. جب کہ بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے.انہوں نے کہا کہ بھارت ایسی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا. بھارت اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے.شہری آباد کو نشانہ بنانا 2003 کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے. نہتے شہریوں کو بے گناہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے.جب کہ اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو ایل او سی کی معائنے کی اجازت دی جائے .

واہگہ بارڈر ایک بار پھر کھل گیا
لاہور: 193 پاکستانی واہگہ بارڈرکے راستے واپس وطن پہنچ گئے۔ مذکورہ پاکستانی بھارت کی مختلف ریاستوں سے پرائیویٹ گاڑیوں پر بھارتی سائیڈپراٹاری پہنچے جہاں سے وہ آج ساڑھے دس بجے سرحد عبور کر کے واہگہ پہنچے۔ متعدد پاکستانی گزشتہ رات ہی اٹاری بارڈرپہنچ گئے تھے لیکن بی ایس ایف نے انہیں واپس بھیج دیا تھا۔ اکثر پاکستانی شہری رات امرتسرمیں گزارنے کے بعد آج واپس پہنچے ہیں۔ واپس آنیوالے تمام پاکستانی شہریوں کو 72 گھنٹے کے لیے کورنٹائن میں رکھا جائیگا۔ سیکیورٹی ذرائع

"موسیقاراعظم” نوشاد علی کی 14ویں برسی آج منائی جارہی ہے
بھارتی فلمی صنعت کے معروف موسیقار نوشاد علی کی 14ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ نوشاد5مئی2006ء کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 86سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے تھے۔25دسمبر 1919ء لکھنؤ میں پیدا ہونے والے نوشاد کے والد ایک عدالت میں منشی تھے۔والدین کی مرضی کے برخلاف نوشاد کو بچپن سے ہی میوزک سیکھنے کا شوق تھا جب کہ انہیں اس وقت کی خاموش فلموں کو دیکھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔انہوں نے میوزک کے ایک جونیئر کلب میں شمولیت اختیارکی جہاں وہ اپنے طور پر طبلہ، ہارمونیم، وائلن، پیانو اور ستار بجایا کرتے تھے۔اس وقت کے ماہرین موسیقی استاد برکت علی خان، استاد یوسف علی خان اور استاد ببن ان کی موسیقی سیکھنے کی خواہش میں ان کی مدد کیا کرتے تھے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کیا کرتے تھے۔نوشاد نے وہاں سے پیانو سیکھ لیا۔1931ء میں جب پہلی بولتی فلم عالم آرا بنی تو اس وقت نوشاد کی عمر صرف 13سال تھی۔نوشاد اپنے والدین سے چھپ کر فلم دیکھنے چلے گئے لیکن ان کے والد کو ان کا فلم دیکھنے جانے کا علم ہو گیا۔ فلم دیکھ کر نوشاد گھر آئے تو ان کے والد نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ اگر میوزک سیکھنے اور فلم دیکھنے سے باز نہ آئے تو انہیں گھر سے نکال دیں گے۔ نوشاد نے فوری طور پر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور بمبئی چلے گئے۔بمبئی میں ان کے پاس رہنے کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور وہ فٹ پاتھوں پر رات کو سوتے جب کہ دن کو نوکری کی تلاش کرتے۔ نوشاد چونکہ پیانو جانتے تھے انہیں بمبئی میں فلموں کے لئے پیانو بجانے والے استاد مشتاق حسین کے آرکسٹرا میں نوکری مل گئی۔موسیقار کھیم چند پرکاش نے جب نوشاد علی کا پیانو سنا تو انہیں رنجیت اسٹوڈیو لے گئے جہاں فلم کنچن بن رہی تھی۔ کھیم چند پرکاش نے نوشاد کو اس فلم کیلئے60روپے ماہوار پر اپنا اسسٹنٹ بنا لیا۔بعد میں نوشاد نے ایک انٹرویو میں کھیم چند پرکاش کو اپنا گورو قرار دیا۔ 1939ء میں نوشاد نے پہلی بار پنجابی فلم مرزا صاحب میں بطور اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کام کیا۔1940ء میں نوشاد نے فلم پریم نگر کے لئے پہلی مرتبہ ایک الگ میوزک ڈائریکٹر کی حیثیت سے میوزک دیا جس کے اکثر گانے لوک دھنوں پر مشتمل تھے۔1941ء میں نوشاد نے درشن اور مالا فلموں کے لئے موسیقی دی جس کے بعد وہ بھارتی فلمی صنعت میں بطور میوزک ڈائریکٹر پہچانے جانے لگے جس کے بعد انہوں نے نئی دنیا، شاردا، قانون، اور سٹیشن ماسٹر، نمستے، سنجوگ، گیت، جیون اور پہلے آپ جیسی مشہور فلموں میں موسیقی ترتیب دی۔ 1944میں نوشاد نے شہرہ آفاق فلم رتن کی موسیقی ترتیب دی اس فلم کے گانوں نے پورے برصغیر میں دھوم مچادی۔ رتن کی کامیاب کے بعد نوشاد علی نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔فلم رتن کے مصنف راجیش سبرامنین نے فلم کی تکمیل پر اس وقت 75ہزار روپے خرچ کئے جب کہ نوشاد نے فلم میں صرف موسیقی دینے کے لئے ان سے 25ہزار روپے لئے۔ فلم کی ریلیزکے بعد راجیش کو صرف گانوں کے گراموفون ریکارڈ فروخت ہونے سے3لاکھ روپے اکٹھے ہوئے۔نوشاد نے اپنے فلمی کیرئیر میں صرف 65فلموں کے لئے موسیقی دی جن میں سے 26فلموں نے سلور جوبلی، 8نے گولڈن جوبلی اور 4نے ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ان کی مشہور فلموں میں انمول گھڑی، قیمت، شاہجہاں، درد، میلہ، انداز، دل لگی، چاندنی رات، دلاری، بابل، دیدار، آن، بیجو باورا، امر، شباب،مدر انڈیا، اڑن کھٹولہ، مغل اعظم وغیرہ شامل ہیں۔انہیں حکومت کی طرف سے موسیقار اعظم کا خطاب بھی ملا جب کہ انہیں بھارت کے سب سے بڑا دادا صاحب پھالیکے ایوارڈ سے بھی نوازاہ گیا.

مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں بھارتی ریزرو فورسز کے تین جوان جہنم واصل
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین نے دوسرے روز بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں. ضلع کپواڑہ کے علاقے ہنڈوارہ میں مجاہدین کے ہاتھوں بھارتی ریزرو فورسز کے تین جوان جہنم واصل ہو گئے. ہفتہ کے روز بھی اسی علاقے میں مجاہدین نے بھارتی فوج کے ایک کرنل اور ایک میجر سمیت پانچ فوجیوں کو موت کی نیندسلا دیا تھا.

ناموراداکار سہیل اصغرکے معدے کاکراچی میں آپریشن
کراچی: ماضی کے معروف فلم اورٹی وی اداکار سہیل اصغرکے معدے کا آپریشن کل مقامی ہسپتال میں ہو گا. ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے.انہیں دعاوں اور پیار پربے حد یقین ہے. انہوں نے اپنے مداحوں دوستوں اور چاہنے والوں سے دعاوں کی اپیل کی ہے.سہیل اصغرنے لاہور سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا. انہوں نے 1978 سے 1988 تک ریڈیو جوکی کے طور پر کام کیا . اس کے ساتھ ساتھ مقامی تھیٹر میں شوز کرتے رہے.پی ٹی وی کے پروڈیوسر نصرت ٹھاکر انہیں ٹی وی ڈرامہ میں لے کر آئے.انہوں نے اپنے ڈرامہ رات میں سہیل اصغر کو کام کرنے کا موقعہ دیا. گو کہ اس ڈرامہ میں انہوں نے مرکزی کردار ادا نہیں کیا لیکن ٹی وی ناظرین نے ان کے کردار کو بے حد سراہا. اس کے بعد انہوں نے ڈرامہ خواہش میں جو اداکاری کی اسے بے حد پذیرائی ملی. ان کے دیگر معروف ڈراموں میں لاگ، پیاس، چاندگرہن اور کاجل گھر شامل ہیں. 2003 میں انہوں فلم مراد میں کام کیا اور یوں انہوں نے چھوٹی اسکرین سے بڑی اسکرین پر پہلا قدم رکھا.2004 میں انہوں نے فلم ماہ نور میں اداکاری کے جوہر دکھائے.

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا نوٹس لے: وزیر اطلاعات آزاد کشمیر
مظفرآباد: آزاد کشمیرکے وزیر اطلاعات ،سیاحت ،سپورٹس و امور نوجوانان راجہ مشتاق احمد منہاس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کشمیریوں کا قتل عام کر رہی ہے اور تلاشی اور محاصرے کے نام پرکی جانے والی کارروائیوں کی آڑ میں انہیں مسلسل اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ختم کرانے کے لیے اپنا اہم کردار ادا کرے اور بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا نوٹس لے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو ختم کرانے کیلیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔انہوں نے کہا ہے کہ آر ایس ایس نظریات کی حامل شدت پسند ہندوستانی حکومت دنیابھر کے امن کیلیے خطرہ ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیریوں کا قاتل ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیری عوام پر ظلم کر رہا ہے اس کے نتیجہ میں پوراخطہ کسی بڑی کشیدگی سے دوچار ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نظریہ سفاکیت پر مبنی ہے۔ یہ تنظیم ہی بی جے پی کی بنیادی شکل ہے جس کی قیادت اب فاشٹ اور کشمیریوں کے قاتل مودی کے ہاتھوں میں ہے۔مشتاق مہناس نے کہا کہ گاندھی اور نہرو کی جانب سے کیا گیا بھارتی سیکولرزم کا دعوی فقط ایک ڈھونگ تھا بھارت صرف ایک نسل پرست ہندو ریاست کے طور پر ہی کام کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کے عفریت کا مستقبل قریب میں مزید پھلنے پھولنے کا امکان ہے۔ مودی اپنے ہندوتوا کے نظریے پر قائم رہے گا کیونکہ اس کے پاس دکھانے کو اور کچھ بھی نہیں ہے ایسے میں ہمیں اسکے عزائم سے باخبر رہتے ہوے اسے ناکام بنانے کیلیے موثر اقدامات کرنا ہونگے جس کے لئے اتحاد وقت کا اہم تقاضا ہے۔انہوں نے کہا ہم سب نے ملکر ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہے۔

بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار. بھارتی سپریم کورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ کی بحالی کی مخالفت کر دی
بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق دینے کے بیانات سے خود ہی منحرف ہو گئی. بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ میں تحریری طور پر مقبوضہ کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ کی بحالی کی مخالفت کر دی. بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز انٹرنیٹ کی فراہمی سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے بھارت کی قومی سلامتی خطرات کا شکار ہو جائے گی.بھارتی حکومت نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کو بنیاد بنا کر کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے سے ایسے واقعات بڑھ جائیں گے.سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت کا موقف سننے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ کی بحالی کے حوالے سے دی جانے والی درخواست کے بارے میں فیصلہ محفوظ کر لیا.
5 بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیاں
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی بڑی کارروائی کے دوران 5 اعلیٰ بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کئے جانے کے بعد لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیوں کا آغاز۔ رات کے اندھیرے میں کئی سو فوجیوں کو ایل او سی کے قریبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیاجب کہ رہائشی علاقوں میں فوج کا گشت بڑھا دیا گیا۔ فوج کی طرف سےمقبوضہ علاقے کے رہائشی مکینوں کو دوسری جگہوں پر منتقل ہونے کے احکامات جاری کر دئے گئے۔ بھارتی فوجی لاوڈاسپیکر پر لوگوں کو علاقہ خالی کرنے اور دوسری جگہوں پر منتقل ہونے کے اعلانات کر رہے ہیں۔ علاقے کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ لوگوں نے رمضان المبارک کی رات سحری کی تیاریوں کی بجائے اپنا سامان باندھنے میں گزاری۔ عوام اپنی قیمتی اشیا کو اپنے ساتھ رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماضی میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے گھروں میں تلاشی کے دوران اہم اور قیمتی سامان غائب ہوجاتے رہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ایک سینئر صحافی نے موجودہ تیاریوں کو آئندہ چند روز میں ایل او سی پر بھارت کی طرف سے بڑی کارروائی کا پیش خیمہ قرار دے دیا۔ صحافتی ذرائع کے مطابق ہنڈوارہ میں بھارت اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ گھر گھر تلاشی کا مقصد وہاں ایسے افراد کو گرفتار کرنا ہے جن کے بارے میں بھارت مبینہ طور پر الزام لگارہاہے کہ ان کا تعلق پاکستان کی مذہبی تنظیموں سے ہے۔ الزام کی آڑ میں بھارت پاکستانی علاقے میں کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر سکتا ہے۔ تاہم اس کی کوشش ہے کہ اس مرتبہ پاکستانی علاقے میں کارروائی کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں اور بھارت دنیا بھر میں اس بات کاڈھنڈورا پیٹ سکے کہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں میں ملوث افراد کاتعلق پاکستانی تنظیموں سے ہے۔ ماضی میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی کارروائیوں کی آڑ لے کر کئی مرتبہ پاکستانی علاقوں میں کارروائی کے بے بنیاد دعوے کئے لیکن وہ ان دعووں کے بارے میں نہ تو بھارتی عوام اور سیاستدانوں کو تسلی بخش ثبوت دے سکا اور نہ ہی دنیا کے دیگر ممالک کو ان کارروائیوں کی سچائی کے حوالے سے قائل کر سکا۔بھارت کبھی اس بات کوبھی ثابت نہیں کر سکا کی بھارت میں ہونے والی کسی بھی کارروائی کے پیچھے پاکستانی مذہبی تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ اسے اپنے ان دعووں کے حوالے سے شرمندگی کے سوا کبھی کچھ نہیں ملا.








